مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
حدیث نمبر: 17001
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ إِذَا أَصْبَحَ ، وَإِذَا أَمْسَى : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَجْأَةِ الْخَيْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فَجْأَةِ الشَّرِّ ، فَإِنَّ الْعَبْدَ لَا يَدْرِي مَا يَفْجَؤُهُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت یہ دعائیں مانگا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَجْأَةِ الْخَيْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فَجْأَةِ الشَّرِّ»
” اے اللہ ! میں تجھ سے اچانک آنے والی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اچانک آنے والے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
کیونکہ کوئی بندہ یہ نہیں جانتا کہ صبح یا شام کے وقت کون سی چیز اچانک اسے لاحق ہو جائے گی ؟
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔