حدیث نمبر: 16988
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَّمَهُ دُعَاءً ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ يَوْمٍ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ . اللَّهُمَّ مَا قَلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، مَا شِئْتَ كَانَ ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ ، إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا ، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ . أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ ، أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً ، أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ . اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَأُشْهِدُكَ - وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا - إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، لَكَ الْمُلْكُ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ ، وَعَوْرَةٍ ، وَذَنْبٍ ، وَخَطِيئَةٍ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَتُبْ عَلَيَّ ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَقِيَّةِ الْأَسَانِيدِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دعا کی تعلیم دی اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ روزانہ اپنے اہل خانہ کو یہ پڑھایا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھے : «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ ۔ اللَّهُمَّ مَا قَلْتُ مِنْ قَوْلٍ ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ ، أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، مَا شِئْتَ كَانَ ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۔ اللَّهُمَّ وَمَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتَ ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ ، إِنَّكَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا ، وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ۔ أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ ، وَبِرَدِّ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَعْتَدِيَ أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ ، أَوْ أَكْتَسِبَ خَطِيئَةً مُحْبِطَةً ، أَوْ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ ۔ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَأُشْهِدُكَ - وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا - إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، لَكَ الْمُلْكُ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ ، وَلِقَاءَكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَيْعَةٍ ، وَعَوْرَةٍ ، وَذَنْبٍ ، وَخَطِيئَةٍ ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ ; فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، وَتُبْ عَلَيَّ ; إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ»
” میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، تیری طرف سے ہے ، تیری مدد سے ہے ، تیری طرف لوٹتی ہے ، اے اللہ ! میں نے جو بھی بات کہی ہو ، یا جو بھی نذر مانی ہو ، یا جو بھی حلف اٹھایا ہو ، تو ( ہر معاملے میں ) تیری ہی مشیت پوری ہو گی ، جو تو چاہے گا وہ ہو گا ، اور جو تو نہیں چاہے گا وہ نہیں ہو گا ، اور تیری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، بے شک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ ! میں نے جو بھی دعائے رحمت کی تو اس کے لیے کی جس پر تو نے رحمت کی اور میں نے جو بھی لعنت کی تو اس پر کی جس پر تو نے لعنت کی ، بے شک تو دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے ، تو مجھے مسلمان ہونے کے عالم میں وفات دینا اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دینا ، میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! کہ میں تقدیر کے فیصلے پر راضی رہوں اور مرنے کے بعد ٹھنڈی زندگی ہو ، اور تیرے دیدار کی لذت ہو اور تیری بارگاہ میں حاضری کا شوق ہو ، اور یہ کسی بھی تکلیف کا سامنا کئے بغیر ، اور کسی گمراہ کرنے والے فتنے کا سامنا کئے بغیر ہو ، اے اللہ ! اس بات سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا میرے ساتھ ظلم کیا جائے ، یا میں زیادتی کروں یا میرے خلاف زیادتی کی جائے ، یا میں کسی گناہ کا ارتکاب کروں جو اعمال کو ضائع کر دے ، یا کوئی ایسا گناہ ہو جو معاف نہ ہو سکتا ہؤ ، اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ! جلال اور اکرام والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں ، تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں اور تجھے گواہ بناتا ہوں ، اور گواہ ہونے کے لیے تو ہی کافی ہے ( میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں ) کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف تو ہی معبود ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی تیرے لیے مخصوص ہے ، حمد تیرے لیے مخصوص ہے اور تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، جنت حق ہے ، قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے ، اور تو ان لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اگر تو مجھے میرے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو مجھے ضائع ہونے ، بے پردگی والے امور اور گناہوں اور خطاؤں کے حوالے کر دے گا ، تو میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتا ہوں ، تو میرے سارے گناہوں کی مغفرت کر دے ، ویسے گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے اور تو میری توبہ قبول کر لے ، بے شک تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور بقیہ اسانید میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4932 و 4803) اخرجه احمد فى المسند (191/5)»