حدیث نمبر: 17000
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ تَفْسِيرِ : ( لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ) فَقَالَ : " مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَبْلَكَ ، تَفْسِيرُهَا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ ، وَالظَّاهِرِ وَالْبَاطِنِ ، وَبِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَيُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ . ¤ مَنْ قَالَهَا إِذَا أَصْبَحَ عَشْرَ مَرَّاتٍ ; أُعْطِيَ عَشْرَ خِصَالٍ ، أَمَّا أُولَاهُنَّ : فَتُحَرِّزُ مِنْ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ . ¤ وَأَمَّا الثَّانِيَةُ : فَيُعْطَى قِنْطَارًا مِنَ الْأَجْرِ . ¤ وَأَمَّا الثَّالِثَةُ : فَيُرْفَعُ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ . ¤ وَأَمَّا الرَّابِعَةُ : فَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ . ¤ وَأَمَّا الْخَامِسَةُ : فَيَحْضُرُهَا اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ . ¤ وَأَمَّا السَّادِسَةُ : فَلَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَالزَّبُورَ . وَلَهُ مَعَ هَذَا يَا عُثْمَانُ ، كَمَنْ حَجَّ وَاعْتَمَرَ ، فَقُبِلَتْ حَجَّتُهُ وَعُمْرَتُهُ ، وَإِنْ مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ طُبِعَ بِطَابَعِ الشُّهَدَاءِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْأَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا : ” آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا ، اس کی تفصیل یہ ہے : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے اور حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، جو اول ہے ، آخر ہے ، ظاہر ہے ، باطن ہے ، ہر قسم کی بھلائی اُسی کے دست قدرت میں ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح کے وقت ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لے گا ، اُسے 10 خصوصیات عطا کی جائیں گی : پہلی خصوصیت یہ ہے کہ ابلیس اور اس کے لشکر سے اسے بچا لیا جائے گا ۔ دوسری یہ ہے کہ اسے اجر کا ایک قنطار عطا کیا جائے گا ۔ تیسری یہ ہے کہ جنت میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا ۔ چوتھی یہ ہے کہ حورعین کے ساتھ اس کی شادی کی جائے گی ۔ پانچویں یہ ہے کہ بارہ ہزار فرشتے اس ( کلمے ) کے پاس موجود ہوں گے ۔ چھٹی یہ ہے کہ اس شخص کو اتنا اجر ملے گا ، جیسے اس شخص کو ملتا ہے ، جس نے قرآن ، تورات ، انجیل اور زبور کو پڑھا ہو ۔ اور اس کے ہمراہ اسے عثمان ! اسے اس شخص کی مانند اجر ملے گا ، جس نے حج اور عمرہ کیا ہو ، اور اس کا حج اور عمرہ قبول ہوا ہو ۔ اور اگر وہ شخص اس دن میں انتقال کر جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی ۔ امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف