حدیث نمبر: 17015
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا ، وَمِنْ أَبِي بَكْرٍ مِرَارًا ، وَمِنْ عُمَرَ مِرَارًا ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِي ، وَأَنْتَ تَهْدِينِي ، وَأَنْتَ تُطْعِمُنِي ، وَأَنْتَ تَسْقِينِي ، وَأَنْتَ تُمِيتُنِي ، وَأَنْتَ تُحْيِينِي . لَمْ يَسَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . ¤ قَالَ : فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَقُلْتُ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا ، وَمِنْ أَبِي بَكْرٍ مِرَارًا ، وَمِنْ عُمَرَ مِرَارًا ؟ قَالَ : بَلَى . فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتُ كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَعْطَاهُنَّ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَكَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعَ مِرَارٍ ، فَلَا يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے ؟ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ پڑھے : «اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِي ، وَأَنْتَ تَهْدِينِي ، وَأَنْتَ تُطْعِمُنِي ، وَأَنْتَ تَسْقِينِي ، وَأَنْتَ تُمِيتُنِي ، وَأَنْتَ تُحْيِينِي»
” اے اللہ ! تو نے مجھے پیدا کیا ہے ، تو نے مجھے ہدایت دی ہے ، تو نے مجھے کھلایا ہے ، تو نے مجھے پلایا ہے ، تو مجھے موت دے گا ، تو مجھے دوبارہ زندہ کرے گا ۔ “
تو وہ شخص اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگے گا ، اللہ تعالیٰ وہ چیز عطا کر دے گا ۔
راوی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے کہا: کیا میں آپ کو ایک حدیث بیان نہ کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی مرتبہ سنی ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کئی مرتبہ سنی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کئی مرتبہ سنی ہے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی ، تو انہوں نے فرمایا : میرے ماں باپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو جائیں ، یہ وہ کلمات ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے تھے اور وہ روزانہ سات مرتبہ ان کے ذریعے دعا کرتے تھے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگتے تھے ، اللہ تعالیٰ وہ انہیں عطا کر دیتا تھا ۔ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17015
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1032)»