مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَسَاءُ فِي بَيْتِي : " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَالْحَوْلُ وَالْقُدْرَةُ وَالسُّلْطَانُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَكُلُّ شَيْءٍ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا ، وَبِكَ نَمُوتُ ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں ہوتے تھے اور شام کا وقت ہو جاتا تھا تو میں آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنتی تھی : «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَالْحَوْلُ وَالْقُدْرَةُ وَالسُّلْطَانُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَكُلُّ شَيْءٍ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا ، وَبِكَ أَمْسَيْنَا ، وَبِكَ نَحْيَا ، وَبِكَ نَمُوتُ ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ»
” ہم نے شام کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بھی شام ہو گئی ، ہمت ، طاقت ، قدرت اور آسمانوں اور زمین میں اور ہر چیز میں ، حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اے اللہ ! ہم تیری مدد سے صبح کرتے ہیں اور تیری مدد سے شام کرتے ہیں ، اور تیری مدد سے زندہ ہیں اور تیرے حکم سے اور تیری ہی طرف اٹھائے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ بن سعد ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔