مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى . باب: آدمی صبح کے وقت اور شام کے وقت کیا پڑھے
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى : " أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذَا الْيَوْمِ ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ غَسَّانَ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ ، وَكِلَاهُمَا الْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ ، وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ کلمات پڑھتے تھے : «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ ، وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذَا الْيَوْمِ ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ»
” ہماری صبح ہو گئی اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بھی صبح ہو گئی ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اے اللہ ! ہم اس دن کی بھلائی کا تجھ سے سوال کرتے ہیں اور اس کے بعد کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں ، ہم اس دن کے شر سے اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ، اے اللہ ! میں بڑی عمر ( یا تکبر ) کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے غسان بن ربیع کے حوالے سے ابواسرائیل ملائی سے نقل کی ہے اور ان دونوں پر ضعیف ہونا غالب ہے ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔