أبوهارون العبدی راوی کا تعارف

تالیف: حافظ محمد انور زاہد حفظ اللہ راوی حدیث ابو هارون العبدی کی سیرت کی جھلکیاں پیش خدمت ہیں، اس راوی ابوھارون کا پورا نام عمارہ بن جوین ہے ◈ ذہبی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ◈ حماد بن زید کہتے ہیں : کذاب ہے۔ ◈ شعبہ کہتے ہیں : اگر ہم کو دو باتوں کا اختیار دیا جائے یا قتل ہونا گوارا کر لو یا ابی هارون العبدی کی روایت بیان کرو تو ہم قتل ہونا پسند کر لیں گے مگر اس کی روایات بیان نہیں کریں گے۔ ◈ امام احمد کہتے ہیں : ليس بشي یہ کچھ نہیں ہے۔ ◈ یحییٰ بن معین کہتے ہیں : ضعیف ہے، اس کی روایات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ ◈ نسائی کہتے ہیں : متروک الحدیث ہے۔ ◈ دارقطنی کہتے ہیں : متلون المزاج تھا، کبھی خارجی بن جاتا تو کبھی رافضی۔ ◈…

Continue Readingأبوهارون العبدی راوی کا تعارف

ایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے کا بیان اوراس کے دلائل

تحریر: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ [یہ تحقیقی مقالہ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے شاگرد قاری اسامہ بن عبدالسلام حفظہ اللہ نے توحید ڈاٹ کام کو ارسال کیا ہے] دلیل نمبر ۱ سیدنا محمود بن لبیدؓ فرماتے ہیں رسولﷺ کو اطلاع ملی کہ ایک شخص نے بیک وقت اکھٹی تین طلاقیں دے دیں تو آپ غصہ سے کھڑے ہو گۓ اور فرمانے لگےمیری موجودگی میں اللہ تعالی کی کتاب سے کھیلا جارہا ہے۔ (نسائی ٣٤٣٠، الکبری النسائی٩٤۵۵) اس روایت سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ بیک وقت دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی شمار کی جائیں گی نبی کریم ﷺ کا غصہ کرنا اس بات پر دلیل ہے اگر بالفرض تین کو ایک ہی شمار کیا جاتا تو نبی کریم ﷺ غصہ کا اظہار نہ فرماتے بلکہ آپ اس شخص کو رجوع کا حکم فرماتے جیسا کہ…

Continue Readingایک مجلس کی تین طلاق کے تین ہونے کا بیان اوراس کے دلائل

حدیث کو قرآن پر پیش کرنا ! اشکالات اور اس کا ازالہ

تحریر : غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظ اللہ حدیث کو قرآن پر پیش کرنا ! اشکالات اور اس کا ازالہ ائمہ مسلمین کی متفقہ تصریحات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم وحی ہے، جو قرآن کی مراد اور تفسیر ہے۔ قرآن و حدیث ہرگز باہم معارض نہیں ہیں، لہٰذا حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ ❀ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ألا إني أوتيت الكتاب، ومثله معه ألا یوشک رجل شبعان على أريكته يقول: علیکم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فاحلوه، وما وجدتم فيه من حرام فحرموه، ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي، ولا كل ذي ناب من السبع، ولا لقطة معاھد .» ”خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے، ساتھ میں اس کی…

Continue Readingحدیث کو قرآن پر پیش کرنا ! اشکالات اور اس کا ازالہ

سند دین ہے

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

سند دین ہے۔ سند ہی کے ذریعے حدیث کے من الله ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ اسی کی بدولت حدیث رسول ہر قسم کی تحریف و تبدیلی اور ترمیم و اضافے سے محفوظ ہے۔ یہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں محدثین عظام کی کرامت اور لازوال اعزاز ہے۔ یہ قرآن و حدیث کی صداقت پر وہ روشن حجت اور دلیل ہے، جس سے دیگر مذاہب عالم کی قدیم و جدید کتابیں خالی ہیں۔ یہ پیغمبر اسلام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت عظمیٰ اہل حدیث کو بخشی ہے، وہی اس کے اہل اور قدر دان ہیں۔ جاہل، کاہل اور کج فطرت انسانوں کی گمراہی اور اخلاقی پستی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ یہ آج بھی اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ اہل اسلام کے پاس بطور دائمی نعمت محفوظ و موجود ہے۔

سند کی اہمیت سے انکار یا روگردانی یقیناً اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی اور احسان کی ناشکری ہے۔ ائمہ مسلمین نے اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے آج تک بے سند یا محدثین کرام کے اصولوں کے مطابق ’’ ضعیف “ و ’’ متروک “ راوی کی روایت کو دین نہیں بنایا۔ محدثین کرام اس میدان کے شہسوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر حقائق منکشف کیے تھے۔

◈ شیخ الاسلام ثانی، عالم ربانی، علامہ محمد بن ابوبکر، ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ان كل ما حكم به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهو مما أنزل الله، وهو ذكر من الله أنزله على رسوله، وقد تكفل سبحانه بحفظه، فلو جاز على حكمه الكذب، والغلط والسهو من الرواة، ولم يقم دليل على غلطه، وسهو ناقله : لسقط حكم ضمان الله، وكفالته لحفظه؛ وهذا من أعظم الباطل! ونحن لا ندعي عصمة الرواة، بل نقول: إن الراوي إذا كذب أو غلط، أو سها، فلا بد أن يقوم دليل على ذلك، ولا بد أن يكون فى الأمة من يعرف كذبه، وغلطه، ليتم حفظه لحججه وأدلته، ولا تلتبس بما ليس منها، فإنه من حكم الجاهلية . انتهى
’’ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی حکم فرمایا، وہ وحی الٰہی پر مبنی ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لیا۔ اگر یہ ممکن ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم میں راویوں کے جھوٹ، غلطیاں سہو شامل ہو جائیں، اور اس پر کوئی دلیل بھی قائم نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کی ضمانت اور حفاظت والی بات تو ساقط ہو جائے گی اور یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔ ہم راویوں کے معصوم عن الخطا ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے، لیکن یہ کہتے ہیں کہ راوی جب جھوٹ بولے، غلطی کرے یا بھول جائے توضرور اس پر کوئی دلیل قائم ہو جاتی ہے اور امت میں ضرور ایسے افراد موجود رہتے ہیں جو راویوں کے جھوٹ اور ان کی غلطیوں کو جان جاتے ہیں۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا اپنی نصوص و دلائل کی حفاظت کرنے کا وعدہ پورا ہوتا ہے اور اسی سے دین میں وہ بات شامل نہیں ہو پاتی جو اس کی تعلیمات کے منافی ہے۔ “ [مختصر الصواعق المرسلة على الجهمية والمعطلة، ص: 555]

◈ علامہ، ابراہیم بن موسیٰ، شاطبی، غرناطی رحمہ اللہ (م :790ھ) فرماتے ہیں :
ولو كان من شأن أهل الإسلام، الذابين عنه الأخذ من الأحاديث بكل ما جاء عن كل من جاء لم يكن لانتصابهم للتعديل والتجريح معنى، مع أنهم قد أجمعوا على ذلك، ولا كان لطلب الإسناد معنى يتحصل، فلذلك جعلوا الإسناد من الدين، ولا يعنون : حدثني فلان عن فلان مجردا، بل يريدون ذلك لما تضمنه من معرفة الرجال الذين يحدث عنهم، حتى لا يسند عن مجهول، ولا مجروح، ولا متهم، ولا عمن لا تحصل الثقة بروايته، لأن روح المسألة أن يغلب على الظن من غير ريبة أن ذلك الحديث قد قاله النبى صلى الله عليه وسلم، لنعتمد عليه فى الشريعة، ونسند إليه الأحكام، والأحاديث الضعيفة الإسناد، لا يغلب على الظن أن النبى صلى الله عليه وسلم قالها، فلا يمكن أن يسند إليها حكم فما ظنك بالأحاديث المعروفة الكذب؟ نعم الحامل على اعتمادها فى الغالب، انما هو ما تقدم، من الهوي المتبع.
’’ اگر دین کا دفاع کرنے والے اہل اسلام یہ رَوَش اپناتے کہ ہر شخص کی بیان کردہ ہر شخص کی حدیث قبول کرتے تو ان کی جرح و تعدیل کی طرف اتفاقی نسبت کیا معنی رکھتی ؟ نیز سند کا مطالبہ کرنا بھی بے فائدہ ہوتا۔ اسی بنا پر محدثین کرام نے سند کو دین کا حصہ قرار دیا اور سند کا مطلب صرف فلاں سے فلاں کی روایت نہیں، بلکہ محدثین کی مراد سند کے ضمن میں راویوں کی معرفت ہوتی ہے تاکہ کسی مجہول و نامعلوم، مجروح، متہم اور ایسے شخص سے حدیث نہ لی جائے جو ناقابل اعتماد ہے۔ سند کا مقصد تو یہ ہے کہ بغیر کسی شبہے کے ظن پر یہ چیز غالب ہو جائے کہ یہ حدیث رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودہ ہے تاکہ ہم شریعت میں اس پر اعتماد اور احکام میں اس سے استدلال کر سکیں۔ اس کے برعکس ضعیف احادیث سے یہ ظن غالب پیدا نہیں ہوتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو گا۔ لہٰذا ان میں کسی حکم کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ (جب ضعیف حدیث کا یہ حال ہے تو) ان احادیث کا کیا ہو گا جن کا جھوٹا ہونا مشہور و معروف ہے۔ ان پر اعتماد کا سبب تو خواہش نفس کی پیروی ہی ہو سکتا ہے۔ “ [الاعتصام : 125,124/1، وفي نسخة : 288,287/1 بتحقيق سليم الهلالي]
(more…)

Continue Readingسند دین ہے

صحیحین میں بدعتی راوی

تحریر: ابن الحسن المحمدی


ہم راوی کے صدق و عدالت اور حفظ وضبط کو دیکھتے ہیں۔ اس کا بدعتی، مثلاً مرجی، ناصبی، قدری، معتزلی، شیعی وغیرہ ہونا مصر نہیں ہوتا۔ صحیح قول کے مطابق کسی عادل و ضابط بدعتی راوی کا داعی الی البدعہ ہونا بھی مضر نہیں ہوتا اور اس کی وہ روایت بھی قابل قبول ہوتی ہے جو ظاہراً اس کی بدعت کو تقویت دے رہی ہو۔ 

بدعت کی اقسام : 
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں : 
(1) بدعت صغریٰ، (2) بدعت کبریٰ 
بدعت صغریٰ کی مثال انہوں نے تشیع سے دی ہے جبکہ بدعت کبریٰ کی مثال کامل رفض اور اس میں غلو سے دی ہے۔ 
(ميزان الاعتدال : 5/1، 6) 

انہوں نے ابان بن تغلب راوی کے بارے میں لکھا ہے : 
 شيعي جلد، لكنه صدوق، فلنا صدقه، وعليه بدعته . 
’’ یہ کٹر شیعہ لیکن سچا تھا۔ ہمیں اس کی سچائی سے سروکار ہے۔ اس کی بدعت کا وبال اسی پر ہو گا۔ “ (ميزان الاعتدال : 5/1) 

(more…)

Continue Readingصحیحین میں بدعتی راوی

کوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں

تحریر غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری اہل اسلام کے نزدیک حدیث بالاتفاق وحی ہے۔ کوئی صحیح حدیث قرآن کےمعارض و مخالف نہیں بلکہ حدیث قرآنِ کریم کی تشریح و توضیح کرتی ہے۔ اگر کسی کو کوئی صحیح حدیث قرآنِ کریم کے مخالف و معارض نظر آتی ہے تو اس کی اپنی سوچ سمجھ کا قصور ہوتا ہے جیسا کہ کئی قرآنی آیات بظاہر کسی کو ایک دوسرے کے معارض محسوس ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ مشہور تابعی امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ (۶۶۔ ۱۳۱ھ ) فرماتے ہیں : إذا حدثت الرجل بسنة، فقال : دعنا من ھذا و أجبنا عن القرآن، فاعلم أنه ضال. ’’جب آپ کسی شخص کے سامنے کوئی حدیث بیان کریں اور وہ کہہ دے کہ اسے چھوڑو، ہمیں قرآن سے جواب دو تو سمجھ لو کہ وہ شخص گمراہ ہے۔ “…

Continue Readingکوئی صحیح حدیث قرآن کے مخالف نہیں

صحیح حدیث اور اہلحدیث

تحریر: غلام مصطفے ظہیر امن پوری

صحیح حدیث دین ہے، صحیح حدیث کو اپنانا اہل حدیث کا شعار ہے، جیساکہ:

۱۔ امام مسلمؒ فرماتے ہیں:

[arabic-font]

واعلم۔ رحمک اللہ۔ أنّ صناعۃ الحدیث، ومعرفۃ أسبابہ من الصحیح والسقیم، إنّما ھی لأھل الحدیث خاصّۃ، لأنّھم الحفّاظ لروایات الناس، العارفین بھا دون غیرھم، إذ الأصل الذی یعتمدون لأدیانھم السنن والآثار المنقولۃ، من عصر إلی عصر، من لدن النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلّم إلی عصرنا ھذا۔

[/arabic-font]

اللہ آپ پر رحم کرے! جان لیں کہ فن حدیث اور اس کی صحت وسقم کے اسباب کی معرفت صرف اہل حدیث کا خاصہ ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی روایات کو یاد رکھنے والے اور وہی ان کو جاننے والے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مذاہب کی دلیل وہ سنن و آثار ہیں جو زمانہ بہ زمانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے دور تک نقل ہوتے آئے ہیں۔

(کتاب التمییز لامام مسلم: ص ۲۱۸)

۲۔امام ابن خزیمہؒ لکھتے ہیں: (more…)

Continue Readingصحیح حدیث اور اہلحدیث

اتباع رسول پر کتاب و سنت اور سلف کی تعلیمات

تحریر : غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ہم پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی فرض ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اللہ کا دین ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے یوں فرمایا : انّي قد تركت فيكم ما إن اعتصمتم به فلن يضلّوا ا أبدا : كتاب اللّه و سنّة نبيّه. ”یقیناً میں نے تم میں ایسی چیزیں چھوڑ دی ہیں کہ اگر تم ان کو تھام لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے اس کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔“ [المستدرك على الصحيحين الحاكم : 93/1، وسنده حسن] ↰ اس کا راوی عبداللہ بن اویس بن مالک جمہور کے نزدیک ”حسن الحدیث“ ہے۔ ◈ حافظ نووی رحمہ اللہ اس بارے میں لکھتے ہیں :…

Continue Readingاتباع رسول پر کتاب و سنت اور سلف کی تعلیمات

سند دین ہے!

تحریر: حافظ ابو یحییٰ نورپوری

سند دین ہے، دین اسلام کا دارومدار اور انحصار سند پرہے۔ سند ہی حدیث رسولﷺ تک پہنچنے کا واحد طریقہ ہے، نیز سند احکام شرعی کی معرفت کا واحد ذریعہ ہے۔ سند امت محمدیہ ﷺ کا خاصہ ہے، اہلحدیث اس کے وارث اور محافظ ہیں۔

اہل باطل ہمیشہ سند سے دور رہے ہیں ، ان کی کتابیں اس سے خالی ہیں۔ ان سے سند کا مطالبہ بجلی بن کر گرتا ہے۔ لہذا جب بھی کوئی بدعتی اور ملحد آپ کو کوئی روایت پیش کرے تو آپ فوراً اس سے معتبر کتب حدیث سے سند ، نیز راویوں کی تو ثیق ، اتصال سند، تدلیس اور اختلاط سے سند کے خالی ہونے کا مطالبہ کریں۔ وہ فَبُھِتَ الَّذِی کَفَرَ کا صحیح مصداق بن جاے گا۔

سند اور محدثین

امام یزید زریعؒ (م ۱۸۲ھ)فرماتے ہیں۔

[arabic-font]

لکل دین فرسان و فرسان ھذا الدین اصاب الا سانید۔ 

[/arabic-font]

‘‘ ہر دین کے شہسوار ہوتے ہیں اور اس دین کے شہسوار سندوں والے لوگ ہیں۔’’

(المدخل للحاکم:۱۲ شرف اصحاب الحدیث ۸۲وسندہ حسن)

اس قول کی تشریح کرتے ہوے امام ابن حبانؒ (م ۳۵۴ ھ) لکھتے ہیں۔

[arabic-font] (more…)

Continue Readingسند دین ہے!

حدیث کو قرآن پر پیش کرنا

تحریر : غلام مصطفے ٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ منکرین حدیث درحقیقت منکرین قرآن ہیں، ان کے عدم فہم و علم کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : يقرؤون القرآن، لايجاوز حلوقهم و حناجرهم، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية . ” وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے تجاوز نہیں کرے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ “ [ صحيح بخاري : 6931 ] ↰ یہ حدیث خوارج (منکرین حدیث و غیرہ ) کے عدم فہم و علم پر بین ثبوت ہے کیونکہ وہ قرآن و حدیث کی توہین اور مسلمانوں تکفیر کے مرتکب ہیں۔ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ورد الروايات الصحيحة و الطعن فى أئمة الحديث الضابطين مع امكان توجيه مارووا من الأمور…

Continue Readingحدیث کو قرآن پر پیش کرنا

بے سند جرح و تعدیل اور اوکاڑوی کلچر

تحریر : حافظ زبیر علی زئی سوال : امین اوکاڑوی لکھتے ہیں : ”آج کل راویوں کے حالات کا دارومدار تقریب التہذیب ، تہذیب التہذیب ، خلاصۃ التہذیب ، تذکرۃ الحفاظ ، میزان الاعتدال وغیرہ کی کتابوں پر ہے اور یہ سب کتابیں بے سند ہیں ۔ آٹھویں صدی کا آدمی پہلی صدی کے آدمی کو ثقہ اور ضعیف کہہ رہا ہے اور درمیان میں سات سو سال کی کوئی سند نہیں کیا ان کتابوں کا بھی انکار کردو گے ؟“ [مجموعه رسائل جديد ايڈيشن ۴۴۷/۲ ، اداره خدام احناف لاهور] سوال یہ ہے کہ کیا یہ کتابیں بے سند ہیں اور آٹھویں صدی کے آدمی پہلے صدی کے آدمی پر بغیر کسی سند کے جرح کرتے ہیں ؟ وضاحت فرمائیں ۔ اللہ آپ کی زندگی میں برکت دے ۔ آمین ۔ [ ابوجواد شيرزاده همدرد ، ڈو گدره ۔ دير بالا ۔…

Continue Readingبے سند جرح و تعدیل اور اوکاڑوی کلچر

صحیح حدیث حجت ہے ، چاہے خبرِ واحد ہو یا متواتر

تحریر : حافظ زبیر علی زئی ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ﴿مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ۚ ﴾ ” جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔“ [النسآء : ۸۰] اس آیتِ کریمہ و دیگر آیات سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا فرض ہونا ثابت ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ قُبا (مدینے) میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج کی رات قرآن نازل ہوا ہے اور کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آگیا ہے ۔ پس سارے نمازی جو شام کی طرف رخ کئے نماز پڑھ رہے تھے ، نماز ہی میں کعبہ کی طرف مڑ گئے ۔ [مؤطا امام مالك رواية ابن القاسم بتحقيقي :…

Continue Readingصحیح حدیث حجت ہے ، چاہے خبرِ واحد ہو یا متواتر

ہدایت کا راستہ

تحریر : فضیلہ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ الشیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی کتاب ”شرح حدیث جبریل“ سے انتخاب ہدایت کا راستہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع پر ہی منحصر ہے۔ اللہ کی عبادت صرف اسی طریقے پر ہو گی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے ہیں، اس کی اتباع کے بغیر کوئی ایسا رستہ نہیں ہے جو (بندوں کو) اللہ کے ساتھ ملا دے۔ (یعنی جو جنت میں داخلے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اطاعت ہے۔ ) کھانے پینے کی ضرورتوں سے زیادہ، مسلمان کی یہ ضرورت ہے کہ صراطِ مستقیم کی طرف اس کی راہنمائی ہو جائے۔ کھانا پینا تو دنیا کی زندگی کی ضرورت و زادِراہ ہے اور صراط…

Continue Readingہدایت کا راستہ

بہترین نمونہ کون؟؟؟؟؟

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ٭ وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَـذَا مَا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا ﴾ [الاحزاب : 22، 21 ] ” ( مسلمانو ! ) تمہارے لئے اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات )میں بہترین نمونہ ہے جو بھی ہے اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو اور جب مومنوں نے ان لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے : یہ تو وہی بات ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اس واقعے نے ان کے ایمان اور فرمانبرداری کو مزید بڑھا دیا۔ “ فقہ القرآن : ﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ . . . إلخ﴾ اس آیت کا تعلق شان نزول کے اعتبار سے…

Continue Readingبہترین نمونہ کون؟؟؟؟؟

End of content

No more pages to load