باب: پچھلی امتوں میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محمد ﷺ اور آپ کی امت کے لیے حلال کر دیا
حدیث 12706–12709
باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
حدیث 12710–12719
باب: مالِ غنیمت اور مالِ فے میں خمس (پانچویں حصے) کے وجوب کا بیان، اور اس شخص کا قول کہ جزیہ اور اس کے ہم معنی اموال میں خمس نہیں نکالا جائے گا
حدیث 12720–12723
باب: مال فئی کے خمس کے علاوہ باقی چار حصوں کے مصرف کا بیان
حدیث 12724–12727
باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
حدیث 12728–12745
باب: خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ مسلمانوں کے حکمران کے اختیار میں ہے جو اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کرے گا
حدیث 12746–12747
باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
حدیث 12748–12756
باب: دارالحرب میں مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
حدیث 12757–12758
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
حدیث 12759–12781
باب: مقتول کے سامان میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12782–12791
باب: نفل (زائد عطیے) کی دوسری صورت کا بیان
حدیث 12792–12805
باب: خمس نکالنے کے بعد نفل (زائد عطیہ) دینے کا بیان
حدیث 12806–12810
باب: خمس کے پانچویں حصے یعنی مصالحِ عامہ کے حصے میں سے نفل دینے کا بیان
حدیث 12811–12813
باب: جب کوئی ضرورت نہ ہو تو اس صورت سے نفل دینے کی کراہت کا بیان
حدیث 12814–12815
باب: نفل کی تیسری صورت کا بیان
حدیث 12816–12819
باب: تقسیم کے مختلف طریقوں کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ غنیمت میں حاصل ہونے والے مکان، زمین اور دیگر اموال یا اشیاء کی تقسیم کا بیان
حدیث 12820–12831
باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12832–12841
باب: دشمن کے مردوں کو اپنے قیدیوں کے تبادلے میں فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12842–12842
باب: دشمن کے مردوں کو مال کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12843–12852
باب: امام ان (قیدیوں) میں سے جسے مناسب سمجھے اسے قتل کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12853–12856
باب: قیدی کو غلام بنانے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12857–12857
باب: قیدی کا سامان چھیننے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12858–12859
باب: مثلہ (اعضاء کاٹنے یا بگاڑنے) کی ممانعت کا بیان
حدیث 12860–12860
باب: مالِ غنیمت کے اصل میں سے خمس نکالنے اور باقی ماندہ کو جنگ میں شریک ہونے والے بالغ اور آزاد مسلمان مردوں کے درمیان تقسیم کرنے کا بیان
حدیث 12861–12862
باب: پیدل اور سوار مجاہد کے حصے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12863–12881
باب: براذین، مقاریف اور ہجین (مختلف نسلوں کے گھوڑوں) کے حصے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12882–12885
باب: ایک سے زائد گھوڑے کا حصہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث 12886–12886
باب: دیگر سواری کے جانوروں کے بجائے صرف گھوڑے کا حصہ مقرر کرنے کا بیان
حدیث 12887–12893
باب: گھوڑوں میں سے جو ناپسندیدہ اور جو پسندیدہ ہیں ان کا بیان
حدیث 12894–12901
باب: گھوڑوں کے گلے میں تانت (کمان کی ڈوری) ڈالنے کی ممانعت کا بیان
حدیث 12902–12902
باب: گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کی دمیں کاٹنے کی ممانعت کا بیان
حدیث 12903–12903
باب: اس شخص کا بیان جو جہاد کی نیت سے شریک ہوا لیکن بیمار پڑ گیا یا اس نے قتال نہ کیا
حدیث 12904–12905
باب: اس شخص کا بیان جو مزدور بن کر شامل ہوا، خواہ اس کی نیت جہاد کی ہو یا نہ ہو
حدیث 12906–12906
باب: اس شخص کا بیان جو تجارت کی نیت سے شریک ہوا
حدیث 12907–12911
باب: غلام اور عورت کو مالِ غنیمت میں سے کچھ انعام دیا جائے گا لیکن ان کا باقاعدہ حصہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث 12912–12915
باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
حدیث 12916–12927
باب: دشمن کے علاقے میں لشکر سے روانہ ہونے والے دستے (سریہ) کا بیان
حدیث 12928–12930
باب: مالِ غنیمت کی تقسیم میں برابری کرنے اور لوگوں کے اپنا مالِ غنیمت ہبہ کر دینے کا بیان
حدیث 12931–12933
باب: نبی کریم ﷺ کا تالیفِ قلب کے لیے (نومسلموں) اور دیگر مہاجرین کو عطیات دینے کا بیان، اور اس بات کا استدلال کہ آپ ﷺ انہیں مالِ غنیمت کے بقیہ چار حصوں کے بجائے خمس (پانچویں حصے) سے عطا فرماتے تھے
حدیث 12934–12937
باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
حدیث 12938–12950
باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
حدیث 12951–12966
باب: بغیر لڑائی کے حاصل ہونے والے مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کی تقسیم کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث 12967–12968
باب: اس (مالِ فے) کو ضرورت و کفایت کے مطابق تقسیم کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 12969–12977
باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: عطیات میں غلاموں کا کوئی حق نہیں ہے
حدیث 12978–12980
باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: آزاد اور غلام دونوں کے لیے تقسیم کیا جائے گا
حدیث 12981–12985
باب: ان دیہاتیوں کا مالِ فے میں کوئی حصہ نہیں جو صدقہ (زکوٰۃ) کے مستحق ہیں
حدیث 12986–12986
باب: تقسیم میں لوگوں کے درمیان برابری کرنے کا بیان
حدیث 12987–12991
باب: اسلام میں پہل کرنے اور نسب کی بنیاد پر فضیلت (زیادہ حصہ) دینے کا بیان
حدیث 12992–12998
باب: بچوں کو مال دینے کا بیان
حدیث 12999–13001
باب: امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے متعلق جو مروی ہے: ”مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو“
حدیث 13002–13003
باب: اس بالغ شخص کے علاوہ جو جنگ کی طاقت رکھتا ہو کسی اور کا باقاعدہ وظیفہ مقرر نہیں کیا جائے گا
حدیث 13004–13005
باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 13006–13025
باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث 13026–13039
باب: اس شخص کا بیان جس نے حکمرانوں کے بدلنے پر وظائف مقرر کرنے اور انہیں مستحقین کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کو ناپسند کیا
حدیث 13040–13042
باب: وہ مال جس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے گئے (بغیر لڑائی کے ملا ہو)، اور جس نے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرنے کو ترجیح دی جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق وغیرہ کی زمین کے ساتھ کیا، یا تو وہ مالِ فے تھا تو اسے وقف چھوڑ دیا، یا وہ مالِ غنیمت تھا تو انہوں نے ان لوگوں کی خوشنودی حاصل کی جنہیں اس پر غلبہ حاصل ہوا تھا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں کی خوشنودی حاصل کی تھی
حدیث 13043–13044
باب: عرفاء (لوگوں کے نگرانوں) کے مقرر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 13045–13046
باب: اس شخص کے لیے نگرانی کے عہدے کی کراہت کے متعلق جو مروی ہے جو ظلم کرے، رشوت لے اور ہدایت کے راستے سے ہٹ جائے
حدیث 13047–13049
باب: قبائل کے شعار (پہچان کے لیے مخصوص علامتی الفاظ) اور ہر قبیلے کو اس کے شعار کے ساتھ پکارنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 13050–13056
باب: جھنڈے اور علم باندھنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 13057–13068
باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
حدیث 13069–13106
باب: دیوان (رجسٹر) کے مطابق مالِ فے عطا کرنے اور جس سے اس کی شروعات کی جائے گی اس کا بیان
حدیث 13107–13107
باب: مسلمانوں میں انصار کے مرتبے کی وجہ سے قریش کے بعد ان سے شروعات کرنے کا بیان
حدیث 13108–13108
باب: ان (لوگوں) کی ترتیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث 13109–13111
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔