کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نبی کریم ﷺ کا تالیفِ قلب کے لیے (نومسلموں) اور دیگر مہاجرین کو عطیات دینے کا بیان، اور اس بات کا استدلال کہ آپ ﷺ انہیں مالِ غنیمت کے بقیہ چار حصوں کے بجائے خمس (پانچویں حصے) سے عطا فرماتے تھے
حدیث نمبر: 12934
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرُعَاقُولِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فِيمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ لَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ " فَقَالَ لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللهُ لِرَسُولِ اللهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ؛ أَتَأَلَّفُهُمْ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللهِ، لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ ⦗٥٤٩⦘ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلَقَوَا اللهَ وَرَسُولَهُ عَلَى الْحَوْضِ ". قَالَ أَنَسٌ: إِذًا نَصْبِرُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِيهِ: " فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے آدمیوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہوازن کے اموال میں سے اللہ نے جو اپنے رسول ﷺ کو دیا ہے (اس میں) رسول اللہ ﷺ نے قریش کے آدمیوں کو ایک سو اونٹ دیے۔ انہوں نے کہا: اللہ رسول کو معاف کرے، آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواریں ان کے خون سے لت پت ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ سے ان کی بات بیان کی گئی۔ آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور چمڑے کے خیمے میں جمع کرلیا، کسی کو نہ چھوڑا۔ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے؟“ ان کے سمجھ دار لوگوں نے کہا: ہمارے معزز لوگوں نے کچھ نہیں کہا اور ہمارے نو عمر لوگ جو ہیں انہوں نے ایسی بات کہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ اپنے رسول کو معاف کرے کہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑتے ہیں اور ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ مال و دولت ساتھ لے جائیں اور تم نبی ﷺ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔“ انصار نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم راضی ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس وقت صبر کرنا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوضِ کوثر پر ملوں گا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم صبر کریں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12934
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 4331۔ مسلم 1059»
حدیث نمبر: 12935
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَوَاللهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ " وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " فَلَمْ نَصْبِرْ ".
حافظ ثناء اللہ
”اللہ کی قسم! تم جس چیز کو لے کر پلٹو گے وہ اس سے بہتر ہے جسے لے کر وہ پلٹیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12935
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 12936
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَاللهِ إِنَّ هَذَا هُوَ الْعَجَبُ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُقْسَمُ بَيْنَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ خَاصَّةً فَقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْكُمْ؟ " وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، فَقَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، فَقَالَ: " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ وَتَذْهَبُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟ " ثُمَّ قَالَ: " لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْحَسَنِ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ يَقُولُ الْقَائِلُ فِي خُمُسِ الْغَنِيمَةِ إِذَا مُيِّزَ مِنْهَا: نَحْنُ غَنِمْنَا هَذَا، وَيُرِيدُونَ أَنَّ سَبَبَ مِلْكِ ذَلِكَ بِهِمْ، وَذَلِكَ مَوْجُودٌ فِي كَلَامِ النَّاسِ، وَعَلَى ذَلِكَ كَلِمَةُ الْأَنْصَارِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُمُسِ: " هُوَ لِي، ثُمَّ هُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ"، فَلَمَّا أَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْعَدِينَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ الْأَنْصَارُ الَّذِينَ هُمْ أَوْلِيَاؤُهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الْأَقْرَعَ وَأَصْحَابَهُ مِنْ خُمُسِ الْخُمُسِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالتیاح کہتے ہیں: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو انصار نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ تعجب کی بات ہے کہ ہماری تلواریں قریش کے خون سے لت پت ہوئیں اور ہماری غنیمتیں ان میں تقسیم کی جاتی ہیں۔“ نبی ﷺ کو اس کا پتا چلا تو آپ ﷺ نے انصار کو خاص طور پر بلایا، آپ ﷺ نے کہا: ”تم سے ہمیں کیا بات پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم جھوٹ نہیں بولتے تھے، جو آپ کو پہنچا ہے وہ صحیح ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم راضی نہیں کہ لوگ غنیمتیں لے جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو لے اپنے گھروں میں جاؤ؟ اگر کسی وادی میں لوگ چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کے خمس کے بارے میں کہنے والے کہتے ہیں کہ جب اس میں تمیز کی جائے، ہم نے یہ غنیمت پائی اور وہ اس کی ملکیت کے سبب یہ ارادہ رکھتے تھے اور یہ انصار کے کلام میں موجود تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خمس میرے لیے ہے پھر تم میں لوٹا دیا جاتا ہے،“ جب رسول اللہ ﷺ نے دور والوں کو دیا تو انصار کے ان لوگوں نے انکار کیا جو آپ کے قریبی تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اقرع اور اس کے ساتھیوں کو خمس کا خمس دیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12936
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3146»
حدیث نمبر: 12937
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗٥٥٠⦘ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنَ الطَّائِفِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَكَيْفَ تَرَى؟ قَالَ: " اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ، فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَبْدَ اللهِ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَاسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، آپ ﷺ جعرانہ میں تھے، لوٹنے کے بعد عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک دن کا اعتکاف کروں گا، پس آپ کا کیا خیال ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے انھیں خمس سے ایک لونڈی دی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے عبداللہ (رضی اللہ عنہما)! جاؤ اس لونڈی کو بھی آزاد کر دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12937
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1656»