کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جو تجارت کی نیت سے شریک ہوا
حدیث نمبر: 12907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٥٣٩⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ بے شک آدمی کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہوئی، پس اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے اور جس کی ہجرت کی نیت دنیا ہوئی کہ وہ اسے پالے گا یا کسی عورت کی نیت سے ہجرت کی کہ اس سے شادی کرلے گا، پس اس کی ہجرت اس کے لیے ہے جس نیت سے اس نے ہجرت کی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12907
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري و مسلم»
حدیث نمبر: 12908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَزَا وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو جہاد کرے اور اس کی نیت جہاد کی نہ ہو بلکہ غنیمت کے مال کی ہو تو اس کی نیت جو ہوگی اسے وہی حاصل ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12908
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ احمد»
حدیث نمبر: 12909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَلْمَانَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ: لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْيِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَبْتَاعُونَ غَنَائِمَهُمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَهُ الْيَوْمَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي، قَالَ: " وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ؟ " قَالَ: مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلَاثَمِائَةَ أُوقِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ "، قَالَ: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کسی نے بیان کیا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو انہوں نے اپنی غنیمتیں، سامان اور قیدیوں وغیرہ سے لیں، پس لوگ اپنی غنیمتیں بیچنے لگے، ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج میں نے اتنا نفع پایا ہے کہ اس وادی میں مجھ سے زیادہ کسی نے نہ پایا ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے ہلاکت ہو، تو نے کیا نفع پایا ہے؟“ اس نے کہا: میں ہمیشہ بیچتا اور خریدتا رہا حتیٰ کہ تین سو اوقیہ نفع حاصل کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے اس آدمی کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے بہتر نفع پایا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کے بعد دو رکعتیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12909
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ أَوْ مَاتَ: قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّتَيْ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَبْتَغِي بِهِ الدُّنْيَا، أَوْ قَالَ: التِّجَارَةَ، فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوجعفاء سلمی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا تو کہا: ”دوسرے جن کو کہتے ہو کہ وہ قتل کیے گئے تمہارے غزووں میں یا وہ فوت ہوئے کہ فلاں شہید کیا گیا، شاید کہ اس نے یہ اقرار کیا ہو کہ اس کی سواری کے دو پالان سونے یا چاندی سے بھر جائیں اور وہ اس سے دنیا چاہتا ہو یا تجارت؛ پس تم ان کو یہ نہ کہو بلکہ تم کہو جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں شہید کیا گیا یا وہ فوت ہو گیا، وہ جنت میں جائے گا۔““
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12910
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ عبدالرزاق 10399»
حدیث نمبر: 12911
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَأُخْرَى مَا تَقُولُونَهُ: الرَّجُلُ يَخْرُجُ فَيُقَاتِلُ فَيَقُولُونَ: اسْتُشْهِدَ فُلَانٌ، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ خَرَجَ قَدْ مَلَأَ عَجُزَ دَابَّتِهِ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ لِلتِّجَارَةِ، فَلَا تَقُولُوا ذَلِكَ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، لَمْ يَذْكُرِ ابْنَهُ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جن کے بارے میں تم کہتے ہو کہ آدمی نکلا اور وہ لڑا، پھر تم کہتے ہو کہ فلاں شہید کر دیا گیا، حالانکہ شاید وہ اپنی سواری، تجارت کے دیناروں اور درہموں کے لیے نکلا ہو۔ پس تم یہ نہ کہو، بلکہ ویسے ہی کہو جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیا گیا، وہ جنتی ہے۔““
(35) «بَابُ الْمَمْلُوكِ وَالْمَرْأَةِ يُرْضَخُ لَهُمَا وَلَا يُسْهَمُ»
غلام اور عورتوں کو انعام ملے گا، ان کے لیے حصہ مقرر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12911
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ تقدم قبله»