کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خمس (پانچواں حصہ) تقسیم کرنے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مالِ فے اور مالِ غنیمت کے خمس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12938
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَدِّي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: " إِنَّمَا اسْتَفْتَحَ اللهُ الْكَلَامَ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ بِذِكْرِ نَفْسِهِ؛ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ الْكَسْبِ، وَإِنَّمَا يُنْسَبُ إِلَيْهِ كُلُّ شَيْءٍ يُشَرَّفُ وَيُعَظَّمُ، وَلَمْ يَنْسِبِ الصَّدَقَةَ إِلَى نَفْسِهِ؛ لِأَنَّهَا أَوْسَاخُ النَّاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فئی اور غنیمت میں کلام کی ابتدا اپنی طرف سے کی، اس لیے کہ وہ بہترین کمائی ہے اور اس کی طرف ہر عزت اور شرف والی چیز منسوب ہوتی ہے اور صدقہ اس کی طرف منسوب نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ وہ لوگوں کی میل ہے۔
حدیث نمبر: 12939
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١]، فَقَالَ: " هَذَا مِفْتَاحُ كَلَامِ: لِلَّهِ مَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حسن بن محمد رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ الٰہی ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ کے لیے کلام کی ابتدا ہے دنیا میں اور آخرت میں بھی۔
حدیث نمبر: 12940
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ قُلْتُ: كَمْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ؟ قَالَ: " خُمُسُ الْخُمُسِ ".
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن ابی عائشہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ بن جزار رحمہ اللہ سے سوال کیا، میں نے کہا: خمس سے رسول اللہ ﷺ کے لیے کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: خمس کا پانچواں حصہ۔
حدیث نمبر: 12941
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي قَوْلِهِ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا ⦗٥٥١⦘ غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١]، قَالَ: " يُقَسَّمُ الْخُمُسُ عَلَى خَمْسَةِ أَخْمَاسٍ، فَخُمُسُ اللهِ وَالرَّسُولِ وَاحِدٌ، وَيُقَسَّمُ مَا سِوَى ذَلِكَ عَلَى الْآخَرِينَ " وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ وَقَتَادَةَ كَذَلِكَ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: خُمْسُ اللهِ وَرَسُولِهِ وَاحِدٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] کے بارے میں منقول ہے، فرماتے ہیں: خمس پانچ حصوں میں تقسیم ہوتا تھا اور ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اور باقی دوسروں میں تقسیم ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 12942
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْمَشَّاطُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ، قَالَ: " خُمْسُ اللهِ وَالرَّسُولِ وَاحِدٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِيهِ مَا شَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] کے بارے میں منقول ہے کہ خمس اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے، نبی ﷺ جہاں چاہتے صرف کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12943
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبْسَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ: " وَلَا يَحِلُّ مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا، إِلَّا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَاضِيًا، وَصَلَّى اللهُ وَمَلَائِكَتُهُ عَلَيْهِ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا فِي سَهْمِهِ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يُرَدُّ عَلَى السُّهْمَانِ الَّتِي ذَكَرَهَا اللهُ مَعَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ الْإِمَامُ حَيْثُ رَأَى عَلَى الِاجْتِهَادِ لِلْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَضَعُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، وَالَّذِي أَخْتَارُ أَنْ يَضَعَهُ الْإِمَامُ فِي كُلِّ أَمْرٍ حُصِّنَ بِهِ الْإِسْلَامُ وَأَهْلُهُ، مِنْ سَدِّ ثَغْرٍ، أَوْ إِعْدَادِ كُرَاعٍ أَوْ سِلَاحٍ، أَوْ إِعْطَاءِ أَهْلِ الْبَلَاءِ فِي الْإِسْلَامِ نَفْلًا عِنْدَ الْحَرْبِ وَغَيْرِ الْحَرْبِ إِعْدَادًا لِلزِّيَادَةِ فِي تَعْزِيرِ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، عَلَى مَا صَنَعَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ، وَنَفَّلَ فِي الْحَرْبِ، وَأَعْطَى عَامَ خَيْبَرَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَهْلَ حَاجَةٍ وَفَضْلٍ، وَأَكْثَرُهُمْ أَهْلُ فَاقَةٍ، نَرَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ كُلَّهُ مِنْ سَهْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں غنیمت کے اونٹ کے پاس نماز پڑھائی، آپ ﷺ نے سلام کر کے اونٹ کے پہلو سے بال پکڑے، پھر فرمایا: ”تمہاری غنیمتوں سے اتنا بھی میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ گزر چکے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے اہل علم نے آپ ﷺ کے حصے کے بارے میں اختلاف کیا ہے؛ بعض نے کہا: اسے ان حصوں پر لوٹا دیا جائے گا جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا: امام کی مرضی سے صرف ہوگا جہاں وہ چاہے گا، اسلام اور اہل اسلام کے لیے اور بعض نے کہا: وہ اسے اسلحہ وغیرہ کے لیے رکھ لے گا اور مجھے پسند یہ ہے کہ امام اسے رکھ لے گا، اسلام کے معاملات کے لیے اور اہل اسلام کے لیے، اسلحہ وغیرہ کے لیے یا مصیبت زدوں کے لیے، جنگ میں ہوں یا حالتِ جنگ کے علاوہ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ نے صرف کیا تھا؛ رسول اللہ ﷺ نے تالیف کے لیے دیا، حرب میں دیا اور خیبر کے سال اپنے صحابہ کو دیا، مہاجرین اور انصار میں سے ضرورت مندوں اور جو ضرورت مند نہ تھے ان کو، اور ان میں اکثر ضرورت مند تھے، سب کو حصے سے دیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ تالیفِ قلب کے لیے بھی دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ گزر چکے ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور اللہ اور اس کے فرشتے آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ ہمارے اہل علم نے آپ ﷺ کے حصے کے بارے میں اختلاف کیا ہے؛ بعض نے کہا: اسے ان حصوں پر لوٹا دیا جائے گا جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا: امام کی مرضی سے صرف ہوگا جہاں وہ چاہے گا، اسلام اور اہل اسلام کے لیے اور بعض نے کہا: وہ اسے اسلحہ وغیرہ کے لیے رکھ لے گا اور مجھے پسند یہ ہے کہ امام اسے رکھ لے گا، اسلام کے معاملات کے لیے اور اہل اسلام کے لیے، اسلحہ وغیرہ کے لیے یا مصیبت زدوں کے لیے، جنگ میں ہوں یا حالتِ جنگ کے علاوہ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ نے صرف کیا تھا؛ رسول اللہ ﷺ نے تالیف کے لیے دیا، حرب میں دیا اور خیبر کے سال اپنے صحابہ کو دیا، مہاجرین اور انصار میں سے ضرورت مندوں اور جو ضرورت مند نہ تھے ان کو، اور ان میں اکثر ضرورت مند تھے، سب کو حصے سے دیا۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ تالیفِ قلب کے لیے بھی دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12944
َفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَا أَفَاءَ، قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يَقْسِمْ أَوْ لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ، أَوْ كَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي؟ وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي؟ وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي؟ " ⦗٥٥٢⦘ قَالَ: كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ: " مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا؟ "، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ: " لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللهِ إِلَى رِحَالِكُمْ؟ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً؛ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اللہ نے اپنے رسول کو حنین کے دن مال لوٹایا تو رسول اللہ ﷺ نے تالیفِ قلب کے لیے لوگوں میں تقسیم کیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ ان کو اس کا ملال ہوا کہ لوگوں کو جو دیا ہے، ہمیں نہیں دیا، آپ ﷺ نے ان کو خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! کیا میں نے تم کو گمراہ نہ پایا تھا؟ پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ہدایت دی اور تم علیحدہ علیحدہ تھے، پس اللہ نے تم کو میری وجہ سے ملا دیا اور تمہیں غنی کر دیا۔“ وہ آپ ﷺ کے ایک ایک جملے پر کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سب سے زیادہ احسان مند ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان باتوں کا جواب دینے میں تمہیں کیا چیز مانع رہی؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہم احسان مند ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے تو اس طرح بھی کہہ سکتے تھے، کیا تم راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی بن جاتا۔ اگر لوگ کسی گھاٹی یا وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار اس کپڑے کی طرح ہیں جو ہمیشہ جسم کے ساتھ رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر والے کپڑے کی طرح ہیں۔ تم کو میرے بعد دوسروں سے پیچھے چھوڑ دیا جائے گا، پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض پر مل لینا۔“
حدیث نمبر: 12945
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبِيَّةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ زَيْدٍ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَبَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي مُجَاشِعٍ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ "، فَجَاءَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، مُشْرَبُ الْوَجْنَتَيْنِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ يُطِعِ اللهَ إِذَا عَصَيْتُهُ؟ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟ " فَسَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ قَتْلَهُ، قَالَ: أُرَاهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَمَنَعَهُ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ لَقِيتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ وَالِدِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یمن سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے لیے سونا بھیجا، آپ ﷺ نے اسے چار آدمیوں: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن حصن، زید طائی (بنی نبہان سے) اور علقمہ بن علاثہ عامری (بنی کلاب سے) میں تقسیم کر دیا۔ پس قریش غصے میں آ گئے اور کہا: ”آپ نے اہل نجد کے سرداروں کو دے دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان کو تالیفِ قلب کے لیے دیا ہے۔“ پھر ایک آدمی آیا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، گال پھولے ہوئے، پیشانی ابھری ہوئی، داڑھی بہت گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اس نے کہا: ”اے محمد ﷺ! اللہ سے ڈرو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے زمین پر مجھے دیانت دار بنا کر بھیجا ہے، کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟“ اس شخص کی گستاخی پر ایک صحابی (راوی کہتے ہیں میرے خیال میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) نے اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی، آپ ﷺ نے انہیں اس سے روک دیا، پھر جب وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو زندہ چھوڑیں گے، اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو ایسے قتل کروں گا جیسے قومِ عاد کا قتل ہوا تھا۔“
حدیث نمبر: 12946
وَأَمَّا النَّفْلُ فَفِيمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ نجد کی طرف بھیجا، میں بھی اس میں گیا، ہمیں اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ہمارا حصہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گیا، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اور دیا۔
حدیث نمبر: 12947
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، ثنا الْحَكَمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُنَفِّلُ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ، يَعْنِي الْآيَةَ، فِي الْمَغْنَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ تَرَكَ النَّفْلَ الَّذِي كَانَ يُنَفِّلُ، فَصَارَ ذَلِكَ فِي خُمُسِ الْخُمُسِ، وَهُوَ سَهْمُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُعْطَوْنَ النَّفْلَ مِنَ الْخُمُسِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آیتِ غنیمت نازل ہونے سے پہلے لوگوں کو مال دیتے تھے، جب آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ جس طرح پہلے دیتے تھے، اس طرح دینا چھوڑ دیا۔ پس یہ خمس کا پانچواں ہوگیا اور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 12948
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، كَانَ مَعَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا، فَأَصَابُوا سَبْيًا، فَأَرَادَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ أَنْ يُعْطِيَ أَنَسًا مِنَ السَّبْيِ قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ، فَقَالَ أَنَسٌ: " لَا، وَلَكِنِ اقْسِمْ، ثُمَّ أَعْطِنِي مِنَ الْخُمُسِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک غزوہ میں عبیداللہ بن ابی بکرہ کے ساتھ تھے، پس ان کو قیدی ملے، عبیداللہ نے تقسیم سے پہلے ہی انس رضی اللہ عنہ کو ایک قیدی دینے کا ارادہ کیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں بلکہ پہلے تقسیم کرو، پھر خمس سے مجھے دینا۔“
حدیث نمبر: 12949
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ، وَكَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنَ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا، وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُنَّ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلًا بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونُ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا، وَمِنَ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا فَعَلْنَا، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ كَمَا هُوَ فَعَلْنَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ان کو برقرار رکھیں اس شرط پر کہ وہ نصف پر کام کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم کو برقرار رکھتا ہوں اس شرط پر جب تک ہماری مرضی ہوگی۔“ پس وہ اسی شرط پر تھے اور خیبر کے نصف پھل حصوں میں تقسیم ہوتے تھے اور رسول اللہ ﷺ اس میں سے خمس لیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کو خمس سے ایک سو وسق کھجور اور بیس وسق جَو دیتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو نکالنے کا ارادہ کیا تو ازواج مطہرات کی طرف پیغام بھیجا کہ تم میں سے جس کا جی چاہے میں اس کو اتنے درخت دے دوں، جن میں سے سو وسق کھجور اپنی اصل کے ساتھ اور پانی کے ساتھ دے دوں، اسی طرح کھیتی میں سے بیس وسق جَو کے برابر درخت بھی دے دوں اور جو چاہے گی کہ میں اس کے لیے خمس سے حصہ نکالا کروں گا۔
حدیث نمبر: 12950
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِهِ، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَذَكَرَا قِسْمَةَ خَيْبَرَ، قَالَا: " ثُمَّ قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسَهُ بَيْنَ أَهْلِ قَرَابَتِهِ وَبَيْنَ نِسَائِهِ وَبَيْنَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَعْطَاهُمْ مِنْهَا، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنَتِهِ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ مِائَتَيْ وَسْقٍ، وَلعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَةَ وَسْقٍ، وَلِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مِائَتَيْ وَسْقٍ، مِنْهَا خَمْسُونَ وَسْقًا نَوًى، وَلِعِيسَى بْنِ نُقِيمٍ مِائَتَيْ وَسْقٍ، وَلِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِائَتَيْ وَسْقٍ " فَذَكَرَا جَمَاعَةً مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ قَسَمَ لَهُمْ مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خیبر کی تقسیم کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خمس کو اپنے رشتہ داروں، اپنی بیویوں، آدمیوں اور مسلمان عورتوں میں تقسیم کیا اور اس میں سے ان کو دیا، پس اس میں سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دو سو وسق اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سو وسق، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے دو سو وسق، ان میں سے پچاس وسق گٹھلی والی کھجور کے اور عیسیٰ بن نقیم کو دو سو وسق اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی دو سو وسق دیے۔