کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مالِ غنیمت اور مالِ فے میں خمس (پانچویں حصے) کے وجوب کا بیان، اور اس شخص کا قول کہ جزیہ اور اس کے ہم معنی اموال میں خمس نہیں نکالا جائے گا
حدیث نمبر: 12720
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْغَنِيمَةُ وَالْفَيْءُ يَجْتَمِعَانِ فِي أَنَّ فِيهِمَا مَعًا الْخُمُسَ مِنْ جَمِيعِهِمَا لِمَنْ سَمَّاهُ اللهُ لَهُ فِي الْآيَتَيْنِ مَعًا وَقَالَ فِي الْقَدِيمِ: إِنَّمَا يُخَمَّسُ مَا أُوجِفَ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غنیمت اور فے دونوں اس بات میں یکساں ہیں کہ ان دونوں کے پورے مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) ان لوگوں کے لیے ہے جن کا نام اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیتوں میں ذکر فرمایا ہے۔“
اور انہوں نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”صرف اسی مال میں سے خمس نکالا جائے گا جس پر (گھوڑے اور اونٹ) دوڑا کر (یعنی جنگ کر کے) حاصل کیا گیا ہو۔“
اور انہوں نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”صرف اسی مال میں سے خمس نکالا جائے گا جس پر (گھوڑے اور اونٹ) دوڑا کر (یعنی جنگ کر کے) حاصل کیا گیا ہو۔“
حدیث نمبر: 12720
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ " قَالُوا: مِنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: " مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا، وَلَا النَّدَامَى "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَإِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ ⦗٤٨٢⦘ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّهُ يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحِيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللهِ وَحْدَهُ، أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللهِ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَالْمُقَيَّرِ، فَاحْفَظُوهُنَّ وَادْعُوا إِلَيْهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ شُعْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ..
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ربیعہ سے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مرحبا قوم کو بغیر کسی ندامت کے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم ربیعہ کے قبیلے سے ہیں، ہم آپ کے پاس بڑی مشقت کے بعد آئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار کا قبیلہ مضر حائل ہے، ہم آپ کے پاس صرف اشہرِ حرم میں پہنچ سکتے ہیں، پس ہمیں کوئی واضح حکم دے دیں، ہم اس کی طرف اپنے پچھلوں کو بھی دعوت دیں اور ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، میں تمہیں ایک اللہ پر ایمان کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو ایمان باللہ کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال سے خمس دو گے اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: «الدُّبَّاءُ» (کدو) سے، «الحَنْتَمُ» (سبز لاکھی برتن) سے، «النَّقِيرُ» (کریدی ہوئی لکڑی کے برتن) سے، «المُزَفَّتُ» (روغنی برتن) سے“—اور کبھی «المُقَيَّرُ» کا لفظ بولا—اور فرمایا: ”ان کو یاد رکھو اور اپنے پچھلوں کو بھی ان کی دعوت دو۔“
حدیث نمبر: 12721
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ نے اس (پچھلی حدیث) سند اور متن سے روایت بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 12722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَبَاهُ جَدَّ مُعَاوِيَةَ إِلَى رَجُلٍ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَخَمَّسَ مَالَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے والد، یعنی معاویہ کے دادا کو ایک آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کی تھی، اس نے اس کی گردن اتاری اور اس کے مال کا خمس لیا۔
حدیث نمبر: 12723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي فِيمَا حَدَّثَهُ ابْنٌ لِعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ " أَنَّ مَنْ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ الْفَيْءِ، فَهُوَ مَا حَكَمَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَآهُ الْمُؤْمِنُونَ عَدْلًا مُوَافِقًا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَعَلَ اللهُ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ "، فَرَضَ الْأُعْطِيَةَ وَعَقَدَ لِأَهْلِ الْأَدْيَانِ ذِمَّةً بِمَا فَرَضَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْجِزْيَةِ لَمْ يَضْرِبْ فِيهَا بِخُمُسٍ وَلَا مَغْنَمٍ " رِوَايَةُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا کہ جو شخص پوچھے کہ مالِ فئی کو کہاں کہاں صرف کرنا چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، پھر مسلمانوں نے اسے انصاف کے موافق اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے موافق سمجھا کہ ”اللہ تعالیٰ نے حق عمر کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے“۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطاؤں کو مقرر کیا اور سب دین والوں کا ذمہ لیا جزیے کے بدلے میں، نہ ان میں خمس مقرر کیا اور نہ اسے مالِ غنیمت کی مثل سمجھا۔