کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان (لوگوں) کی ترتیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13109
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَبَنُو سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " قَالَ: فَقِيلَ: فَضَّلَ عَلَيْنَا، قَالَ: فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ. وَقَالَ: " ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ " وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ سَعْد ٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَادَةَ: مَا أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا، فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”انصار کے بہترین گھر بنو نجار کے ہیں، پھر بنو عبدالاشہل کے ہیں، پھر بنو حارث کے ہیں اور بنو ساعدہ کے ہیں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔“ آپ ﷺ سے کہا گیا: ہم پر فضیلت دی گئی ہے۔ کہا گیا: ”تم کو اکثر پر فضیلت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13109
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2511»
حدیث نمبر: 13110
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُرُوجِهِ وَرُجُوعِهِ، قَالَ: حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ". فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْنَا آخِرَهَا دَارًا؟ فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرَهَا، فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے۔ (راوی نے) سب کچھ نکلنا اور لوٹنا بیان کیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”انصار کے بہترین گھر بنی نجار کے گھر ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے گھر ہیں، پھر بنی حارث کے گھر ہیں، پھر بنی ساعدہ کے گھر ہیں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔“ پس ہم سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو ملے۔ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے؟ پس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے ملے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم حسب کے اعتبار سے بہتر نہیں ہو؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13110
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1492»
حدیث نمبر: 13111
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: " مَنْ سَبَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ لَهُ فِي الْفَيْءِ حَقٌّ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ⦗٦٠٥⦘ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا} [الحشر: ٨] الْآيَةَ، هَؤُلَاءِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ} الْآيَةَ، هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ، ثُمَّ قَالَ {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ} "، قَالَ مَالِكٌ: " فَاسْتَثْنَى الله عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ {يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ} [الحشر: ١٠] الْآيَةَ، فَالْفَيْءُ لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ، فَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ هُوَ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ، وَلَا حَقَّ لَهُ فِي الْفَيْءِ ".
حافظ ثناء اللہ
معن بن عیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ جس نے اصحابِ رسول ﷺ کو گالی دی اس کا مالِ فئی میں کوئی حق نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا﴾ [سورة الحشر: 8]، یہ آیت اصحابِ رسول ﷺ کے بارے میں ہے، جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی، پھر فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 10]، مالک رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے استثنا کیا ہے، فرمایا: ﴿يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة الحشر: 10]، پس مالِ فئی ان تینوں کے لیے ہے، جس نے اصحابِ رسول ﷺ کو گالی دی وہ ان تینوں میں سے نہیں ہے اور نہ اس کا فئی میں حق ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13111
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»