کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ مسلمانوں کے حکمران کے اختیار میں ہے جو اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کرے گا
حدیث نمبر: 12746
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَهْلُهُ، قَالَتْ: فَمَا بَالُ الْخُمُسِ؟ فقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَطْعَمَ اللهُ نَبِيًّا طُعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ، كَانَتْ لِلَّذِي يَلِي بَعْدَهُ " فَلَمَّا وَلِيتُ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، قَالَتْ: أَنْتَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ، ثُمَّ رَجَعَتْ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہا: ”اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے وارث ہیں یا ان کے اہل؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلکہ ان کے اہل وارث ہیں۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”خمس کا کیا معاملہ ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ اپنے نبی کو کھلاتا ہے پھر اس کو فوت کر دے تو وہ کھانا (غلہ) اس کا ہوتا ہے جو اس کا والی ہے اس کے بعد۔“ پس جب میں والی بنا تو میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے مسلمانوں پر لوٹا دوں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ اور رسول اللہ ﷺ زیادہ جانتے ہیں“، پھر وہ لوٹ گئیں۔
حدیث نمبر: 12747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْكُمْ قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: مَرْدُودٌ فِي مَصَالِحِكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے خیبر کے دن اونٹ کے پہلو سے «وَبَرَةً» ”رونگٹا“ پکڑا اور فرمایا: ”اے لوگو! میرے لیے اس کے برابر بھی حلال نہیں اس میں سے جو اللہ نے تم پر لوٹایا ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر لوٹا دیا جاتا ہے۔“