کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِي، وَقَدْ شُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا: میری قوم جانتی ہے کہ میرا کاروبار میرے گھر والوں کی گزر بسر کے لیے کافی ہے اور اب میں مسلمانوں کا والی بنا دیا گیا ہوں، پس اب آلِ ابوبکر بھی اسی سے کھائیں گے اور ابوبکر مسلمانوں کا مالِ تجارت بڑھاتا رہے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13006
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2070»
حدیث نمبر: 13007
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ وَاحْتَرَفَ فِي مَالِ نَفْسِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، وہ اور ان کے گھر والے کھاتے تھے اور وہ اپنے مال میں کاروبار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13007
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13008
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ حُضِرَ: " انْظُرِي كُلَّ شَيْءٍ زَادَ فِي مَالِي مُنْذُ دَخَلْتُ فِي هَذِهِ الْإِمَارَةِ فَرُدِّيهِ إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِي "، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ نَظَرْنَا فَمَا وَجَدْنَا زَادَ فِي مَالِهِ إِلَّا نَاضِحًا كَانَ يَسْقِي بُسْتَانًا لَهُ، وَغُلَامًا نُوبِيًّا كَانَ يَحْمِلُ صَبِيًّا لَهُ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَتْ: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَكَى وَقَالَ: " رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ تَعَبًا شَدِيدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت کہا: میرے مال میں خلافت کے دوران ہر چیز کی زیادتی دیکھو، پس میرے بعد خلیفہ تک لوٹا دینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب وہ فوت ہو گئے، ہم نے دیکھا ان کے مال میں صرف ایک اونٹنی زائد پائی، جس سے باغ کو پانی دیتے تھے اور غلام جو بچوں کو اٹھاتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا۔ کہتی ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رونے لگے اور کہا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد بڑی سختی کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13008
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13009
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبِي، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التَّقْوَى، وَأَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ، أَلَا وَإِنَّ الصِّدْقَ عِنْدِي الْأَمَانَةُ، وَالْكَذِبَ الْخِيَانَةُ، أَلَا وَإِنَّ الْقَوِيَّ عِنْدِي ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ مِنْهُ الْحَقَّ، وَالضَّعِيفَ عِنْدِي قَوِيٌّ حَتَّى آخُذَ لَهُ الْحَقَّ، أَلَا وَإِنِّي قَدْ وُلِّيتُ عَلَيْكُمْ وَلَسْتُ بِأَخْيَرِكُمْ " قَالَ الْحَسَنُ: هُوَ وَاللهِ خَيْرُهُمْ غَيْرُ مُدَافَعٍ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ يَهْضِمُ نَفْسَهُ. ثُمَّ قَالَ: " وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَفَانِي هَذَا الْأَمْرَ أَحَدُكُمْ " - قَالَ الْحَسَنُ: صَدَقَ ⦗٥٧٥⦘ وَاللهِ - وَإِنْ أَنْتُمْ أَرَدْتُمُونِي عَلَى مَا كَانَ اللهُ يُقِيمُ نَبِيَّهُ مِنَ الْوَحْيِ مَا ذَلِكَ عِنْدِي، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَرَاعُونِي. فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى السُّوقِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيْنَ تُرِيدُ؟ " قَالَ: السُّوقَ. قَالَ: " قَدْ جَاءَكَ مَا يَشْغَلُكَ عَنِ السُّوقِ "، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ يَشْغَلُنِي عَنْ عِيَالِي. قَالَ: تُعْرِضُ بِالْمَعْرُوفِ، قَالَ: " وَيْحَ عُمَرَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يَسَعُنِي أَنْ آكُلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا " قَالَ: فَأَنْفِقْ فِي سَنَتَيْنِ وَبَعْضِ أُخْرَى ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ. فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: قَدْ كُنْتُ قُلْتُ لِعُمَرَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يَسَعَنِي أَنْ آكُلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا، فَغَلَبَنِي فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَخُذُوا مِنْ مَالِي ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَرُدُّوهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ. قَالَ: فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ، لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ تَعَبًا شَدِيدًا ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: عقلمندی تقویٰ ہے اور حماقت برائی ہے اور صدق میرے نزدیک امانت ہے اور جھوٹ میرے نزدیک خیانت ہے، خبردار! قوی میرے نزدیک ضعیف ہے، یہاں تک کہ اس سے حق لے لوں اور کمزور میرے نزدیک قوی ہے، یہاں تک کہ اس کا حق لے لوں۔ خبردار! میں تمہارا والی بنا ہوں اور میں تم میں بہتر نہیں ہوں۔ حسن رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ان میں بہتر تھے، لیکن مومن اپنے آپ کو کم تر سمجھتا ہے، پھر (ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں پسند کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی مجھے اس عہدے پر کافی ہو جائے۔ حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس نے سچ کہا، اللہ کی قسم! اور اگر تم ارادہ رکھتے ہو کہ جہاں اللہ نے نبی ﷺ کو قائم کیا تھا، وہ میرے پاس رہے تو میں ایک انسان ہوں۔ پس میرا خیال رکھنا، جب صبح ہوئی تو وہ بازار کی طرف گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بازار کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تحقیق آپ کے پاس ایسا معاملہ آگیا ہے جس نے آپ کو بازار سے مشغول کر دیا ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“، میرے گھر والوں سے بھی مشغول کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: معروف طریقے سے مال لے لو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں اس بیت المال سے نہ کھا لوں۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے دو سال اور چند مہینوں میں آٹھ ہزار درہم خرچ کیے۔ جب موت آئی تو کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ میں ڈرتا ہوں کہ بیت المال سے کھاؤں، پس وہ مجھ پر غلبہ پا گئے۔ پس جب میں فوت ہوں تو میرے مال سے آٹھ ہزار درہم لے لینا اور بیت المال میں لوٹا دینا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس وہ درہم لائے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، انہوں نے اپنے بعد والوں کے لیے شدید مشکل چھوڑی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13009
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13010
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِبَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَنْظُرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَنَا، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ، فَقُلْنَا: سُرِّيَّةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَمِعَتْ فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِسُرِّيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا أَحِلُّ لَهُ، إِنِّي لَمِنْ مَالِ اللهِ تَعَالَى، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَأَخْبَرَنَاهُ بِمَا قُلْنَا، وَبِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: " صَدَقَتْ، مَا تَحِلُّ لِي، وَمَا هِيَ لِي بِسُرِّيَّةٍ، وإِنَّهَا لَمِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَسَأُخْبِرُكُمْ بِمَا أَسْتَحِلُّ مِنْ هَذَا الْمَالِ، أَسْتَحِلُّ مِنْهُ حُلَّتَيْنِ: حُلَّةً لِلشِّتَاءِ، وَحُلَّةً لِلصَّيْفِ، وَمَا يَسَعُنِي لِحَجِّي وَعُمْرَتِي وَقُوتِي وَقُوتِ أَهْلِ بَيْتِي، وَسَهْمِي مَعَ الْمُسْلِمِينَ كَسَهْمِ رَجُلٍ، لَسْتُ بِأَرْفَعِهِمْ وَلَا أَوْضَعِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تھے کہ آپ ہمیں اجازت دیں، ایک لونڈی آئی، ہم نے کہا: امیر المومنین کی لونڈی ہو؟ اس نے سنا تو کہا: میں امیر المومنین کی لونڈی نہیں ہوں اور میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوں، بے شک میں اللہ کے مال میں سے ہوں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، وہ میرے لیے حلال نہیں ہے اور نہ وہ میری لونڈی ہے اور وہ اللہ کے مال میں سے ہے اور میں تم کو خبر دیتا ہوں میرے لیے اس میں سے کیا حلال ہے۔ میں نے اس سے اپنے لیے دو چادریں حلال کی ہیں؛ ایک گرمی کی اور ایک سردی کی اور میرے حج، عمرہ، میرے کھانے اور گھر والوں کا کھانا اور میرا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ان جیسے ایک آدمی کی طرح ہے، میں ان میں بلند و بالا نہیں ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13010
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13011
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْيَرْفَأِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِّي أَنْزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَالِ اللهِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، إِنِ احْتَجْتُ أَخَذْتُ مِنْهُ، فَإِذَا أَيْسَرْتُ رَدَدْتُهُ، وَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَعْفَفْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
یرفاء غلام کہتے ہیں: مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اپنے آپ کو بیت المال میں ایسے رکھا ہے جیسے یتیم کا والی ہوتا ہے، اگر میں حج کرتا ہوں تو اس سے لے لیتا ہوں۔ جب میں آسانی میں ہوتا ہوں تو لوٹا دیتا ہوں اور اگر میں اس سے بے پروا ہوں تو اس سے بچ جاتا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13011
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ اللَّاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ إِلَى الْكُوفَةِ، بَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَعَلَى الْجُيُوشِ، وَبَعَثَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَلى الْقَضَاءِ وَعَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مِسَاحَةِ الْأَرْضِ، جَعَلَ بَيْنَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، شَطْرُهَا وَسَوَاقِطُهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَالنِّصْفُ بَيْنَ هَذَيْنِ. قَالَ سَعِيدٌ: وَلَا ⦗٥٧٦⦘ أَحْفَظُ الطَّعَامَ، قَالَ: " نَزَلْتُكُمْ وَإِيَّايَ مِنْ هَذَا الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ، مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ، وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ، وَمَا أَرَى قَرْيَةً يُؤْخَذُ مِنْهَا كُلَّ يَوْمٍ شَاةً إِلَّا كَانَ ذَلِكَ سَرِيعًا فِي خَرَابِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
لاحق بن حمید فرماتے ہیں: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہم کو کوفہ بھیجا تو عمار کو نماز اور لشکر پر امیر مقرر کیا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضاء اور بیت المال کا نگران بنایا اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو زمین پر نگران بنایا۔ ان کے لیے ہر روز ایک بکری کا نصف مقرر کیا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے لیے اور نصف ان دونوں کے درمیان۔ سعید نے کہا: میں نے کھانا یاد نہیں رکھا۔ پھر کہا: میں نے بیت المال سے اس درجہ پر رکھا ہے، جس پر یتیم کا والی ہوتا ہے: ﴿وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] اور میں خیال نہیں کرتا کہ کسی بستی سے ہر روز ایک بکری لی جائے مگر یہ بہت جلد اسے خراب کر دے گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13012
حدیث نمبر: 13013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: " اسْتَعْمَلَنِي ابْنُ زِيَادٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، فَأَتَانِي رَجُلٌ مِنْهُ بَصَكٍّ فِيهِ: أَعْطِ صَاحِبَ الْمَطْبَخِ ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: مَكَانَكَ، وَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ زِيَادٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الْقَضَاءِ وَبَيْتِ الْمَالِ، وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مَا يَسْقِي الْفُرَاتُ، وَعَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَرَزَقَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، فَجَعَلَ نِصْفَهَا وَسَقَطَهَا وَأَكَارِعَهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَجَعَلَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رُبُعَهَا، وَجَعَلَ لِعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رُبُعَهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَالًا يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، إِنَّ ذَلِكَ فِيهِ لَسَرِيعٌ قَالَ ابْنُ زِيَادٍ: ضَعِ الْمِفْتَاحَ وَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابووائل کہتے ہیں: مجھے ابنِ زیاد نے بیت المال پر امیر مقرر کر دیا۔ میرے پاس ایک آدمی آیا، میں نے اسے («صَاحِبُ الْمَطْبَخِ» ”باورچی خانے کے نگران“) آٹھ سو درہم دے دیے۔ میں نے اس سے کہا: یہ تیرے مقام کی وجہ سے ہے۔ پھر میں ابنِ زیاد کے پاس گیا اور اسے بتایا۔ پھر میں نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضا اور بیت المال پر نگران بنایا اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو فرات سے سیراب ہونے والی زمین پر نگران مقرر کیا اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو نماز اور لشکروں پر مقرر کیا اور ہر روز ان کو ایک بکری دی؛ اس کا نصف عمار رضی اللہ عنہ کو، عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس کا چوتھائی اور عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا چوتھائی دیا۔ پھر کہا: مال اس سے لیا جاتا تھا۔ ہر روز ایک بکری، بیشک اس میں جلدی (تیزی ہے) ہے۔ ابنِ زیاد نے کہا: چابیاں رکھ دو اور جہاں مرضی جاؤ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13013
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13014
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، قَالَ: " خُذْ مَا أُعْطِيتَ؛ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَمَّلَنِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ اللَّيْثِ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اللہ کے لیے عامل بنا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تجھے دیا جا رہا ہے وہ لے لے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں کام کیا تھا، آپ نے مجھے عامل مقرر کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13014
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَكَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِالْخَيْرِ، وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَا تَفْعَلْ؛ فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً ⦗٥٧٧⦘ مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت میں آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا میں تمہیں بیان نہ کروں کہ تو لوگوں کے کاموں کا والی بن جا، پس جب تجھے اجرت دی جائے گی تو تو اسے ناپسند کرے گا؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرا ارادہ کیا ہوگا؟“ میں نے کہا: ”میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں بہتر حالت میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا نہ کر میں نے بھی یہ ارادہ کیا تھا، رسول اللہ ﷺ مجھے دیتے تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑ لو اور اس کے مالک بن جاؤ۔ پھر صدقہ کر دو اور جو مال اس طرح آئے کہ تجھے اس کی خواہش نہ تھی اور نہ تو اس کا طلب گار تھا تو اسے لے لینا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13015
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 7164»
حدیث نمبر: 13016
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ عَامِ الرَّمَادَاتِ وَأَجْدَبَتْ بِلَادُ الْعَرَبِ، كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: " مِنْ عَبْدِ اللهِ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: إِنَّكَ لَعَمْرِي مَا تُبَالِي إِذَا سَمُنْتَ وَمَنْ قِبَلَكَ أَنْ أَعْجَفَ أَنَا وَمَنْ قِبَلِي، وَيَا غَوْثَاهُ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَخَرَجَ فِي ذَلِكَ، فَلَمَّا رَجَعَ بَعَثَ إِلَيْهِ بِأَلْفِ دِينَارٍ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: إِنِّي لَمْ أَعْمَلْ لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، وَلَسْتُ آخِذٌ فِي ذَلِكَ شَيْئًا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَدْ أَعْطَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاءَ بَعَثَنَا لَهَا، فَكَرِهْنَا ذَلِكَ، فَأَبَى عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْبَلْهَا أَيُّهَا الرَّجُلُ فَاسْتَعِنْ بِهَا عَلَى دِينِكَ وَدُنْيَاكَ "، فَقَبِلَهَا أَبُو عُبَيْدَةَ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ کٹائی کا سال تھا اور عرب کے لوگ فصل کاٹ رہے تھے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”اللہ کے بندے امیر المومنین عمر کی طرف سے عمرو بن عاص کو۔“ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا، وہ نکلے، اس میں جب وہ لوٹے تو وہ ایک ہزار دینار لے کر آئے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے عمر رضی اللہ عنہ! میں نے اللہ کے لیے یہ کام کیا ہے اور میں کچھ نہیں لوں گا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہمیں رسول اللہ ﷺ دیتے تھے، جب ہمیں بھیجتے تھے۔ ہم نے یہ مکروہ سمجھا تو رسول اللہ ﷺ نے انکار کر دیا، ”وہ آدمی اسے قبول کر لیتا۔“ تو بھی اس سے مدد حاصل کر اپنے قرض پر اور دنیا میں۔“ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13016
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13017
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْفَقِيهُ بِمَكَّةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجَيْبِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. وَذَكَرَ مَا تُرِكَ مِنَ الْأَوَّلِ فَقَالَ: فَكَتَبَ عَمْرٌو: " السَّلَامُ، أَمَّا بَعْدُ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، أَتَتْكَ عِيرٌ أَوَّلُهَا عِنْدَكَ وَآخِرُهَا عِنْدِي، مَعَ أَنِّي أَرْجُو أَنْ أَجِدَ سَبِيلًا أَنْ أَحْمِلَ فِي الْبَحْرِ ". فَلَمَّا قَدِمَ أَوَّلُ عِيرٍ دَعَا الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " اخْرُجْ فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْعِيرِ فَاسْتَقْبِلْ بِهَا نَجْدًا، فَاحْمِلْ إِلِيَّ كُلَّ أَهْلِ بَيْتِ قَدَرْتَ أَنْ تَحْمِلَهُمْ إِلِيَّ، وَمَنْ لَمْ تَسْتَطِعْ حَمْلَهُ فَمُرْ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ بِبَعِيرٍ بِمَا عَلَيْهِ، وَمُرْهُمْ فَلْيَلْبَسُوا كِسَاءَيْنِ، وَلْيَنْحَرُوا الْبَعِيرَ فَيُجَمِّلُوا شَحْمَهُ، وَلْيُقَدِّدُوا لَحْمَهُ، وَلْيَحْتَذُوا جِلْدَهُ، ثُمَّ لِيَأْخُذُوا كُبَّةً مِنْ قَدِيدٍ وَكُبَّةً مِنْ شَحْمٍ وَجَفْنَةً مِنْ دَقِيقٍ، فَيَطْبُخُوا وَيَأْكُلُوا حَتَّى يَأْتِيَهُمُ اللهُ بِرِزْقٍ "، فَأَبَى الزُّبَيْرُ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَا تَجِدُ مِثْلَهَا حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا "، ثُمَّ دَعَا آخَرَ، أَظُنُّهُ طَلْحَةَ، فَأَبَى، ثُمَّ دَعَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَخَرَجَ فِي ذَلِكَ وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو رضی اللہ عنہ نے لکھا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”السلام علیکم“ اور «أَمَّا بَعْدُ» ”امابعد“! میں حاضر ہوں، آپ کے پاس اونٹ آ رہے ہیں، پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس اس امید کے ساتھ کہ میں سمندر میں راستہ پاؤں گا۔ جب پہلا اونٹ آیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا کہ اس پہلے اونٹ کو نجد کی طرف لے جاؤ اور تو میری طرف ہر اس گھر والے کو بھیج، جس پر تو میری طرف بھیجنے کی قوت رکھتا ہے۔ اگر تو اس کو بھیجنے کی طاقت نہیں رکھتا تو ہر گھر والے کو حکم دے کہ اس کے بدلے میں اونٹ دیں جو ان پر واجب ہے اور ان کو حکم دے کہ وہ دو لباس پہنیں اور وہ اونٹ ذبح نہ کریں اور اس کی چربی کو جمع کر لیں، اس کے گوشت کے ٹکڑے کر کے سکھا لیں اور اس کے چمڑے کے جوتے بنا لیں۔ پھر وہ گوشت کے ٹکڑوں کا ایک کوفتہ لیں اور چربی سے بھی اور آٹے کا ایک پیالہ لیں، پھر سالن پکائیں اور کھائیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاں رزق لے آئے۔ پس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا کہ وہ نکلیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تو اس جیسی (پیشکش) نہ پائے گا، یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جائے، پھر ایک دوسرا آدمی بلایا، میرا خیال ہے کہ وہ طلحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے بھی انکار کر دیا، پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا، پس وہ اس معاملے میں نکل گئے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13017
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا الْمُعَافَى، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ⦗٥٧٨⦘ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا ". قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہمارا عامل ہو، پس وہ بیوی (بیت المال کے خرچ پر) رکھ لے۔ اگر اس کے پاس خادم نہ ہو تو خادم بھی رکھ لے اور اگر اس کے پاس گھر نہ ہو تو گھر بھی رکھ لے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس کے علاوہ کچھ اور لے گا وہ چور ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13018
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13019
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمَرَانَ فَذَكَرَهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَأُخْبِرْتُ، لَمْ يَقُلْ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
معافی بن عمران رحمہ اللہ نے روایت بیان کی ہے، مگر یہ الفاظ نہیں، عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر رحمہ اللہ سے، انہوں نے مستورد رضی اللہ عنہ سے، حدیث کے آخر میں «أُخْبِرْتُ» ”مجھے خبر دی گئی“ کو ذکر کیا ہے، «قَالَ أَبُو بَكْرٍ» ”ابوبکر نے کہا“ نہیں کہا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13019
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداود 2560»
حدیث نمبر: 13020
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلَاعِبٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ وَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جسے ہم عامل مقرر کریں ہم اسے کھانا دیں گے، (خرچہ) جو اس کے بعد اور لے پس وہ خائن ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13020
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداود»
حدیث نمبر: 13021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " رَزَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ حِينَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فِي كُلِّ سَنَةٍ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُسْنَدًا.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو جب مکہ پر عامل مقرر کیا تو ہر سال چالیس اوقیہ مقرر کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13021
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13022
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا جَعْفَرٌ الْخَلَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحُصَيْنِ الرَّقِّيُّ ابْنُ بِنْتِ مَعْمَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْمَهْرَانِيُّ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبُعِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّسَوِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحُصَيْنِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَعْمَلَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ عَلَى مَكَّةَ، وَفَرَضَ لَهُ عُمَالَتَهُ أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً مِنْ فِضَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عتاب بن اسید کو مکہ پر عامل مقرر کیا اور اس کے لیے چالیس اوقیہ چاندی مقرر کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13022
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13023
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ، وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى بَيْتِ اللهِ، يَقُولُ: " وَاللهِ مَا أَصَبْتُ فِي عَمَلِي هَذَا الَّذِي وَلَّانِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ثَوْبَيْنِ مُعَقَّدَيْنِ كَسَوْتُهُمَا مَوْلَايَ كَيْسَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن ابی مقرب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ بیت اللہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا: مجھے جس کام پر رسول اللہ ﷺ نے والی بنایا ہے، میں نے اس سے صرف دو کپڑے حاصل کیے ہیں جو اپنے غلام کو پہنائے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13023
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13024
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أنا الزَّمْعِيُّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُرَاقَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْقُسَامَةَ"، قَالَ: فَقُلْنَا: وَمَا الْقُسَامَةُ؟ قَالَ: " الشَّيْءُ يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْتَقَصُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اجرت کی تقسیم سے بچو۔“ ہم نے کہا: ”قسامہ کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چیز کئی آدمیوں میں مشترک ہوتی ہے، پھر وہ کم ہوجاتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13024
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13025
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْقُسَامَةَ "، قَالُوا: وَمَا الْقُسَامَةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الرَّجُلُ يَكُونُ عَلَى الْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَأْخُذُ مِنْ حَظِّ هَذَا وَحَظِّ هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسامہ سے بچو۔“ انھوں نے پوچھا: قسامہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی لوگوں کی ایک جماعت میں ہو، پھر وہ ادھر سے بھی حصہ لے لے اور ادھر سے بھی لے لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13025
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»