أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: " وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِيقٍ يُقَالُ لَهُ الصَّفْرَاءُ خَرَجَ مِنْهُ إِلَى كَثِيبٍ يُقَالُ لَهُ سَيْرٌ عَلَى مَسِيرَةِ لَيْلَةٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْلَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى ذَلِكَ الْكَثِيبِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَنْ حَوْلَ سَيْرٍ وَأَهْلُهُ مُشْرِكُونَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْوَالَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَسَبْيَهُمْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي غَنِمَهَا فِيهِ، قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ عَنْهُ، وَمَا حَوْلَهُ كُلُّهُ بِلَادُ شِرْكٍ، وَأَكْثَرُ مَا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَرَاءُ سَرَايَاهُ مَا غَنِمُوا بِبِلَادِ أَهْلِ الْحَرْبِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق بن یسار کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ گزرے، جب مضیق سے نکلے جس کو صفراء کہا جاتا ہے تو اس سے نکل کر ایک ٹیلے کی طرف آئے جسے سَیر کہا جاتا ہے، جو بدر سے ایک رات کی مسافت پر ہے یا اس سے زیادہ، تو رسول اللہ ﷺ نے غنیمت کو مسلمانوں میں اس ٹیلے پر تقسیم کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سَیر کے اردگرد والے اور اس کے رہنے والے مشرک تھے اور شافعی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی مصطلق کے اموال اور ان کے قیدیوں کو تقسیم کیا اس جگہ پر جہاں یہ غنیمت حاصل ہوئی تھی، قبل اس سے کہ وہاں سے پھرتے اور اس کے اردگرد سارے مشرکوں کے گھر تھے اور اکثر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے امراء جو بھی غنیمت ملتی اسے اہل حرب کے شہروں میں ہی تقسیم کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سَیر کے اردگرد والے اور اس کے رہنے والے مشرک تھے اور شافعی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی مصطلق کے اموال اور ان کے قیدیوں کو تقسیم کیا اس جگہ پر جہاں یہ غنیمت حاصل ہوئی تھی، قبل اس سے کہ وہاں سے پھرتے اور اس کے اردگرد سارے مشرکوں کے گھر تھے اور اکثر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے امراء جو بھی غنیمت ملتی اسے اہل حرب کے شہروں میں ہی تقسیم کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ فَاحْمِلْهُمُ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ فَاكْسُهُمُ، اللهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ فَأَشْبِعْهُمْ " فَفَتَحَ اللهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا وَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ، وَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا. ⦗٤٩٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ أَعَادَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي كِتَابِ السِّيَرِ، وَنَحْنُ نَذْكُرُهَا بِتَمَامِهَا فِي مَوْضِعِهَا مِنْ كِتَابِ السِّيَرِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے دن نکلے اس حال میں کہ آپ ﷺ کی تعداد تین سو پندرہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! وہ ننگے پاؤں ہیں تو انہیں سواری عطا فرما، اے اللہ! وہ ننگے بدن ہیں تو ان کو پہنا دے، اے اللہ! وہ بھوکے ہیں تو ان کو سیر کر دے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بدر کے دن فتح عطا فرمائی۔ پس جب وہ لوٹے تو کوئی آدمی ایسا نہ تھا مگر جب لوٹا تو اونٹ کے ساتھ یا دو اونٹوں کے ساتھ اور وہ پہنے ہوئے تھے اور وہ سیر تھے۔