کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13026
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الْفَيْءُ يَقْسِمُهُ مَنْ يَوْمِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جب مالِ فئی آتا تو آپ ﷺ اسی دن تقسیم کر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13026
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 2356»
حدیث نمبر: 13027
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. زَادَ فِيهِ: فَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا، وَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ، فَدَعَانِي فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دَعَا عَمَّارًا فَأَعْطَاهُ حَظًّا وَاحِدًا.
حافظ ثناء اللہ
صفوان بن عمرو سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اکیلے کو ایک حصہ دیا اور اہل والے کو دو حصے دیے، آپ ﷺ نے مجھے بلایا، مجھے دو حصے دیے اور میرے گھر والے بھی تھے، پھر عمار رضی اللہ عنہ کو بلایا، اسے ایک حصہ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13027
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداود 2953»
حدیث نمبر: 13028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ: " انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ "، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلَّا أَعْطَاهُ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي؛ فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ "، فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: مُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلِيَّ، قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ، قَالَ: " لَا "، فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، ⦗٥٨٠⦘ قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْهِ عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بحرین سے مال لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مسجد میں پھینک دو“ اور اکثر جب بھی آپ کے پاس مال لایا جاتا تھا، آپ ﷺ نماز کے لیے نکلتے تھے اور آپ اس کی طرف نہ دیکھتے تھے، جب نماز پوری ہو جاتی تو اس کے پاس آکر بیٹھ جاتے۔ آپ ﷺ کسی کو نہ دیکھتے مگر اسے دے دیتے تھے۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی دیں، میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لے لو“، انہوں نے اپنا کپڑا پھیلایا، پھر اٹھانا چاہا لیکن نہ اٹھا سکے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کسی کو حکم دیجیے وہ اٹھوانے میں میری مدد کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ خود ہی اٹھوا دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں (میں بھی نہیں اٹھواؤں گا)“ پھر انہوں نے اس میں سے کچھ سامان نکال دیا، پھر اس کو اٹھا کر اپنی کمر پر ڈال لیا اور چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل انہیں اپنی نگاہ کے تعاقب میں دیکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ چھپ گئے (نظر نہیں آرہے تھے) اور آپ ﷺ ان کی حرص سے تعجب کر رہے تھے، جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی تھا، آپ ﷺ وہاں رہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13028
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 13029
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورٌ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ثنا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا يَوْمًا وَعُرْوَةُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضَةٍ مَرَضَهَا، وَكَانَتْ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ، قَالَ مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ: أَوْ سَبْعَةٌ، فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا، فَشَغَلَنِي وَجَعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللهُ، ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ: " أَكُنْتِ فَرَّقْتِ السِّتَّةَ أَوِ السَّبْعَةَ؟ " قَالَتْ: لَا وَاللهِ، شَغَلَنِي وَجَعُكَ، قَالَتْ: فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ فَرَّقَهَا فَقَالَ: " مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللهِ لَوْ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهِيَ عِنْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں اور عروہ ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم دونوں نبی ﷺ کو مرض میں دیکھ لیتے۔ اس وقت میرے پاس چھ دینار تھے۔ موسیٰ بن جبیر کہتے ہیں: یا سات کہا۔ مجھے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو تقسیم کر دوں، پس مجھے رسول اللہ ﷺ کی بیماری نے مشغول کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو آرام دیا، آپ ﷺ نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے چھ یا سات دینار تقسیم کر دیے ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، مجھے آپ کی بیماری نے مشغول کر دیا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے وہ منگوائے، پھر ان کو تقسیم کر دیا اور فرمایا: ”نبی ﷺ کا کیا گمان ہے کہ وہ اللہ سے ملیں اور ان کے پاس وہ ہوں؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13029
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ احمد 24212»
حدیث نمبر: 13030
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّقَّاءِ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ، قَالَتْ: فَحَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ؟ فَقَالَ: " مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ وَلَمْ نَقْسِمْهَا "، وَهِيَ فِي خَصْمِ الْفِرَاشِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ میرے پاس آئے، آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ اترا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ بیماری کی وجہ سے ایسے ہے۔ میں نے کہا: آپ کے چہرے کا رنگ کیوں بدلا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سات دیناروں کی وجہ سے جو کل آئے تھے اور ہم نے ان کو تقسیم نہیں کیا اور وہ بستر میں پڑے ہوئے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13030
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 13031
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَأنا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ: أَبُو عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَيِّتُ مَالًا، وَلَا يُقِيلُهُ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: إِنْ جَاءَهُ غُدْوَةً لَمْ يَنْتَصِفِ النَّهَارُ حَتَّى يَقْسِمَهُ، وَإِنْ جَاءَهُ عَشِيَّةً لَمْ يَبِتْ حَتَّى يَقْسِمَهُ هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بن محمد کہتے ہیں: نبی ﷺ مال کے ساتھ نہ رات گزارتے تھے اور نہ قیلولہ کرتے تھے۔ ابوعبید کہتے ہیں: اگر صبح کے وقت مال آتا دوپہر سے پہلے اسے تقسیم کر دیتے، اگر شام کے وقت آتا تو رات ہونے سے پہلے اسے تقسیم کر دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13031
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْحُرُّ بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: " اقْسِمْ بَيْتَ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، اقْسِمْ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً "، ثُمَّ قَالَ: " اقْسِمْ بَيْتَ الْمَالِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَبْقَيْتَ فِي مَالِ الْمُسْلِمِينَ بَقِيَّةً تَعُدُّهَا لِنَائِبَةٍ أَوْ صَوْتٍ، يَعْنِي خَارِجَةً، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلرَّجُلِ الَّذِي كَلَّمَهُ: " جَرَى الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكِ، لَقَّنَنِي اللهُ حُجَّتَهَا وَوَقَانِي شَرَّهَا، أَعُدُّ لَهَا مَا أَعَدَّ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاعَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ مسلمانوں کے بیت المال کو ہر مہینہ میں ایک مرتبہ تقسیم کرو، ہر جمعہ کو ایک دفعہ تقسیم کرو، ہر روز ایک دفعہ تقسیم کرو۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! اگر مال بچ جائے تو اسے حوادثات وغیرہ کے لیے لوٹا دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنے والے سے کہا: شیطان اس کی زبان پر چلا، اللہ نے مجھے اس کو روکنے کی تلقین کی ہے اور اس کے شر سے مجھے بچایا ہے، میں اسے وہاں لوٹاؤں گا جہاں رسول اللہ ﷺ نے لوٹایا، یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13032
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13033
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمْ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا أُصِيبَ مِنَ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ: أَنَا أُدْخِلُهُ بَيْتَ الْمَالِ، قَالَ: " لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، لَا يُؤْوَى تَحْتَ سَقْفِ بَيْتٍ حَتَّى أَقْسِمَهُ "، فَأَمَرَ بِهِ فَوُضِعَ فِي الْمَسْجِدِ، وَوُضِعَتْ عَلَيْهَا الْأَنْطَاعُ، وَحَرَسَهُ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا مَعَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، أَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، أَوْ أَحَدُهُمَا أَخَذَ يَدَهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ كَشَطُوا الْأَنْطَاعَ عَنِ الْأَمْوَالِ، فَرَأَى مَنْظَرًا لَمْ يَرَ مِثْلَهُ، رَأَى الذَّهَبَ فِيهِ وَالْيَاقُوتَ وَالزَّبَرْجَدَ وَاللُّؤْلُؤَ يَتَلَأْلَأُ، فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمَا: إِنَّهُ وَاللهِ مَا هُوَ بِيَوْمِ بُكَاءٍ، وَلَكِنَّهُ يَوْمُ شُكْرٍ وَسُرُورٍ، فَقَالَ: " إِنِّي وَاللهِ مَا ذَهَبْتُ حَيْثُ ذَهَبْتُ، وَلَكِنَّهُ وَاللهِ مَا كَثُرَ هَذَا فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا وَقَعَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ ". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَكُونَ مُسْتَدْرَجًا؛ فَإِنِّي أَسْمَعُكَ تَقُولُ {سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ} [الأعراف: ١٨٢] "، ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ؟ " فَأُتِيَ بِهِ أَشْعَرَ الذِّرَاعَيْنِ دَقِيقَهُمَا، فَأَعْطَاهُ سِوَارَيْ كِسْرَى فَقَالَ: " الْبَسْهُمَا "، فَفَعَلَ، فَقَالَ: " قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ "، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، قَالَ: " قُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَبَهُمَا مِنْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَأَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ "، وَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَعْضَ ذَلِكَ بَعْضًا، فَقَالَ: " إِنَّ الَّذِي أَدَّى هَذَا لَأَمِينٌ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَنَا أُخْبِرُكَ، أَنْتَ أَمِينُ اللهِ، وَهُمْ يُؤَدُّونَ إِلَيْكَ مَا أَدَّيْتَ إِلَى اللهِ، فَإِذَا رَتَعْتَ رَتَعُوا، قَالَ: " صَدَقْتَ "، ثُمَّ فَرَّقَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا أَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسُرَاقَةَ وَنَظَرَ إِلَى ذِرَاعَيْهِ: " كَأَنِّي بِكَ قَدْ لَبِسْتَ سُوَارَيْ كِسْرَى " قَالَ: وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ إِلَّا سِوَارَيْنِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: أَنْفَقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٥٨٢⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَهْلِ الرَّمَادَةِ حَتَّى وَقَعَ مَطَرٌ، فَتَرَحَّلُوا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَاكِبًا فَرَسًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَرَحَّلُونَ بِظَعَائِنِهِمْ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ خَصْفَةَ: أَشْهَدُ أَنَّهَا انْحَسَرَتْ عَنْكَ، وَلَسْتَ بِابْنِ أَمَةٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَيْلَكَ ذَلِكَ لَوْ كُنْتُ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِي أَوْ مِنْ مَالِ الْخَطَّابِ، إِنَّمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے مال لایا گیا تو بیت المال کے نگران نے کہا: میں اسے بیت المال میں داخل کر دوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رب کعبہ کی قسم! اسے بیت المال کی چھت کے نیچے پناہ نہ دی جائے گی حتیٰ کہ میں اسے تقسیم کر دوں۔ حکم دیا کہ وہ مال مسجد میں لایا جائے اور چمڑے مسجد میں رکھے گئے، مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے ان پر پہرہ دیا۔ جب صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عباس بن عبدالمطلب اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے آئے۔ انھوں نے مال سے چمڑوں کو ہٹایا، پس بے مثال منظر دیکھا، اس میں سونا، یاقوت، جواہرات اور موتی دیکھے اور رونے لگ گئے۔ ایک نے کہا: آج رونے کی کیا وجہ ہے؟ آج تو شکر اور خوشی کا دن ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو میں نے سوچا ہے تو نے وہ نہیں سوچا۔ اللہ کی قسم! یہ کسی قوم میں اسی وقت زیادہ ہوتا ہے جب ان میں لڑائی ہوتی ہے۔ پھر قبلہ رخ ہوئے، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہا: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں تجھے سنتا ہوں تو کہتا ہے: ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الأعراف: 182] ”ہم ان کو ایسے پکڑیں گے کہ ان کو علم بھی نہ ہوگا“، پھر کہا: سراقہ بن جعشم کہاں ہیں؟ ان کو لایا گیا، ان کو دو کنگن دیے گئے۔ کہا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو۔ پھر کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ کہو، جس نے ان کو کسریٰ بن ہرمز سے لیا اور سراقہ بن جعشم کو پہنایا، وہ بنی مدلج کے دیہاتی تھے۔ وہ ان کو پھیرنے لگے۔ پس کہا: جس نے یہ دیے ہیں وہ امین ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: میں تجھے خبر دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے امین ہو اور وہ آپ کو دیتے ہیں، جو تم اللہ کی طرف دیتے ہو۔ جب تو خوش حال ہوگا تو وہ بھی خوش حال ہوں گے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ نے سراقہ کو پہنائے، اس لیے کہ نبی ﷺ نے سراقہ سے کہا تھا اور اس کی کلائیوں کی طرف دیکھا: ”گویا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے کسریٰ کے کنگن پہنے ہیں“ اور ان کے لیے صرف وہی دو کنگن تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے خبر دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قحط والوں پر خرچ کیا، حتیٰ کہ بارش ہوئی تو وہ واپس گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف گئے، ان کی طرف دیکھا کہ وہ کوچ کر رہے ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بنی محارب کے ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، تجھے افسوس ہو رہا ہے اور تو لونڈی کا بیٹا تو نہیں ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میں نے اپنے مال سے یا خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا، تو میں نے تو ان پر اللہ کے مال سے خرچ کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13033
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَجَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَنَائِمَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَادِسِيَّةِ، فَجَعَلَ يَتَصَفَّحُهَا وَيَنْظُرُ إِلَيْهَا وَهُوَ يَبْكِي، وَمَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا يَوْمُ فَرَحٍ، وَهَذَا يَوْمُ سُرُورٍ، قَالَ: فَقَالَ: " " أَجَلْ، وَلَكِنْ لَمْ يُؤْتَ هَذَا قَوْمٌ قَطُّ إِلَّا أَوْرَثَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ " ".
حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس قادسیہ کی غنیمت آئی تو اسے دیکھ کر رونے لگے، ساتھ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ یہ دن خوشی کا دن ہے۔ کہا: ہاں، لیکن یہ کبھی بھی نہیں لایا گیا مگر دشمنی اور بغض ان میں ڈال دیتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13034
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13035
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: لَمَّا أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِكُنُوزِ كِسْرَى قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَرْقَمَ الزُّهْرِيُّ: أَلَا تَجْعَلُهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ يَعْنِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا نَجْعَلُهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ حَتَّى نَقْسِمَهَا "، وَبَكَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللهِ إِنَّ هَذَا لَيَوْمُ شُكْرٍ، وَيَوْمُ سُرُورٍ، وَيَوْمُ فَرِحٍ؟ فَقَالَ عُمَرُ: " إِنَّ هَذَا لَمْ يُعْطِهِ اللهُ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا أَلْقَى اللهُ بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کے خزانے لائے گئے تو سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسے بیت المال میں رکھ دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیت المال میں نہ رکھنا، ہم اسے تقسیم کر دیں گے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رونا شروع کر دیا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیوں رو رہے ہو؟ یہ دن تو شکر اور خوشی کا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ یہ جس قوم کو بھی دیتا ہے تو ان میں دشمنی اور بغض آ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13035
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13036
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّ يَدِي، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِفَرْوَةِ كِسْرَى فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَفِي الْقَوْمِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: فَأَلْقَى إِلَيْهِ سِوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فَجَعَلَهُمَا فِي يَدِهِ، فَبَلَغَا مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُمَا فِي يَدَيْ سُرَاقَةَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ، سُوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فِي يَدِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيٍّ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ "، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، وَزَوَيْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا "، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، فَزَويْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يَكُونَ هَذَا مَكْرًا ⦗٥٨٣⦘ مِنْكَ بِعُمَرَ ". ثُمَّ قَالَ: تَلَا {أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ} [المؤمنون: ٥٦].
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کے کنگن لائے گئے، وہ ہاتھوں میں رکھے گئے۔ قوم میں سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ پس ان کو کسریٰ بن ہرمز کے کنگن ڈال دیے تو ان دونوں کو اس کے ہاتھ میں ڈال دیا، وہ کندھوں تک پہنچ گئے۔ جب دونوں کو سراقہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیکھا تو کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کسریٰ بن ہرمز کے کنگن سراقہ بن مالک بنی مدلج کے دیہاتی کے ہاتھوں میں ہیں۔ پھر کہا: اے اللہ! میں جانتا ہوں، تیرے رسول ﷺ پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں اور تیرے بندوں پر اور تو نے ان کو اس سے ہٹا دیا اور بہتری کی، اے اللہ! میں جانتا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں، پس تو نے ان کو بھی ہٹا دیا اور بہتری کی۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ تیری طرف سے عمر کے ساتھ کوئی آزمائش نہ ہو۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ * نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 55-56]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13036
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13037
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: قَسَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا مَالًا، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا أَحْمَقَكُمْ لَوْ كَانَ هَذَا لِي مَا أَعْطَيْتُكُمْ دِرْهَمًا وَاحِدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن مال تقسیم کیا، وہ (لوگ) اس کی تعریف کرنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کتنے احمق ہو، اگر یہ میرا ہوتا تو میں تم کو ایک درہم بھی نہ دیتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13037
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ، وَمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ دَخَلَ، فَصَلَّى ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَجْلِسْ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ، بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكْوَى؟ قَالَ: " لَا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ "، قَالَ: فَجَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَسَ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَرْفَأُ فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ صَبْرَةٌ مِنَ الْمَالِ، عَلَى كُلِّ صَبْرَةٍ مِنْهَا كَثْفٌ، فَقَالَ: " إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَوَجَدْتُكُمَا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْتَسِمَاهُ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرُدَّاهُ ". فَأَمَّا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَثَا، وَأَمَّا أَنَا فَقُلْتُ: وَإِنْ نَقَصَ شَيْءٌ أَتْمَمْتَهُ لَنَا؟ قَالَ: " شِنْشِنَةٌ مِنْ أَخْزَمَ، أَمَا تَرَى هَذَا كَانَ عِنْدَ اللهِ، وَمُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ؟ " قَالَ: قُلْتُ: بَلَى وَاللهِ لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللهِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ، وَلَوْ فُتِحَ هَذَا عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ فَزِعَ مِنْهُ، فَقَالَ: " وَمَا كَانَ يَصْنَعُ؟ " قُلْتُ: لَأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، قَالَ: فَنَشَجَ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ وَقَالَ: " لَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا، لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھاتے تو بیٹھ جاتے، جس کسی کو کوئی ضرورت ہوتی وہ آپ سے بات کرتا، پس ایک دن آپ نے نماز پڑھائی اور نہ بیٹھے، میں گیا میں نے کہا: اے یرفاء! کیا امیر المؤمنین بیمار تو نہیں ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے وہ بھی بیٹھ گئے، تھوڑی ہی دیر بعد یرفاء آگیا اس نے کہا: اے ابن عفان اور اے ابن عباس (رضی اللہ عنہما)! کھڑے ہوجاؤ۔ پس ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور آپ کے پاس مال کا ڈھیر تھا، ہر ڈھیر میں سہارا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے اہل مدینہ میں اکثر خاندان والا تم دونوں کو پایا ہے۔ پس یہ مال لے جاؤ اور تقسیم کر دو، اگر کوئی چیز بچ جائے تو اسے لوٹا دینا، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شرمندہ ہوگئے، میں نے کہا: اگر کوئی چیز کم ہوئی تو دیں گے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عادت ہے برے اخلاق سے۔ کیا تم خیال کرتے ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد ﷺ اور ان کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے اور اگر یہ (مال) محمد ﷺ پر آتا تو وہ ایسا نہ کرتے جیسا تم کر رہے ہو، گویا وہ اس سے ڈر گئے اور کہا: وہ کیا کرتے؟ میں نے کہا: آپ ﷺ کھاتے اور ہمیں کھلاتے۔ وہ رونے لگ گئے، حتیٰ کہ ہچکی بندھ گئی اور کہا: میں چاہتا ہوں میں اس سے ایسے نکل جاؤں کہ میرے اوپر کوئی چیز نہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13038
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 13039
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ: " يَا أَبَا مُوسَى، أَيَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِهَادَنَا مَعَهُ، وَعَمَلَنَا مَعَهُ، كُلَّهُ بَرَدَ لَنَا، وَإِنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ، كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ " قَالَ: فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي: " وَاللهِ لَقَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا، وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا أُنَاسٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا نَرْجُو بِذَلِكَ "، قَالَ أَبِي: " ⦗٥٨٤⦘ وَلَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ "، فَقُلْتُ: وَاللهِ إِنَّ أَبَاكَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے تمہارے باپ سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تجھے پسند ہے کہ ہمارا اسلام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو اور ہمارا جہاد آپ ﷺ کے ساتھ ہو اور ہمارا ہر عمل آپ ﷺ کے ساتھ ہو اور آپ کے بعد ہم جو بھی عمل کریں، ہم بس نجات پا جائیں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہارے باپ نے میرے باپ سے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد جہاد کیا اور ہم نے نماز پڑھی اور ہم نے روزہ رکھا اور ہم نے بہت زیادہ اچھے اعمال کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت زیادہ لوگ اسلام لائے اور ہم اس کی امید کرتے ہیں۔ میرے باپ نے کہا: لیکن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا معاملہ آسان کر دے اور آپ ﷺ کے بعد جو ہم نے عمل کیا ہم بس اس کے ذریعے سے نجات پا جائیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے والد میرے والد سے بہتر تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13039
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3915»