کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: براذین، مقاریف اور ہجین (مختلف نسلوں کے گھوڑوں) کے حصے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12882
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: أَمَرَ اللهُ تَعَالَى أَنْ يَعُدُّوا لِعَدُوِّهِمْ مَا اسْتَطَاعُوا مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ، فَلَمْ يَخُصَّ عَرَبِيًّا دُونَ هَجِينٍ، وَأَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ، وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى الْهَجِينِ وَالْعَرَبِيِّ، وَقَالَ: " تَجَاوَزْنَا لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ "، وَقَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ، وَلَا فِي غُلَامِهِ، صَدَقَةٌ " فَجَعَلَ الْفَرَسَ مِنَ الْخَيْلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَضَّلَ الْعَرَبِيَّ عَلَى الْهَجِينِ، وَأَنَّ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ ⦗533⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ يَرْوِ ذَلِكَ إِلَّا مَكْحُولٌ مُرْسَلًا، وَالْمُرْسَلُ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ عِنْدَنَا حُجَّةٌ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ الْأَقْمَرِ مُرْسَلٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّبَ الْعَرَبِيَّ، وَهَجَّنَ الْهَجِينَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت ہو سکے اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھیں، تو اللہ تعالیٰ نے عربی (خالص النسل) گھوڑے کو دوغلے گھوڑے کے مقابلے میں خاص نہیں کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں کے گوشت (کھانے) کی اجازت دی اور یہ (اجازت) دوغلے اور عربی (دونوں) کو شامل تھی، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے تمہارے لیے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے۔“ اور فرمایا: ”مسلمان پر اس کے گھوڑے اور اس کے غلام میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔“ تو آپ ﷺ نے فرس (ایک گھوڑے) کو خیل (گھوڑوں کی جنس) ہی میں سے شمار کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے (غنیمت میں) عربی گھوڑے کو دوغلے پر فضیلت دی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اسے صرف مکحول نے مرسل روایت کیا ہے، اور ہمارے نزدیک اس جیسی مرسل روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی، اور اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی کلثوم بن اقمر سے مرسل ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں حماد بن خالد نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے ابو بشر سے اور انہوں نے مکحول سے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے عربی گھوڑے کو عربی قرار دیا اور دوغلے کو دوغلا قرار دیا (یعنی دونوں کے حصے میں فرق کیا)۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے (غنیمت میں) عربی گھوڑے کو دوغلے پر فضیلت دی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اسے صرف مکحول نے مرسل روایت کیا ہے، اور ہمارے نزدیک اس جیسی مرسل روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی، اور اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی کلثوم بن اقمر سے مرسل ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں حماد بن خالد نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے ابو بشر سے اور انہوں نے مکحول سے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے عربی گھوڑے کو عربی قرار دیا اور دوغلے کو دوغلا قرار دیا (یعنی دونوں کے حصے میں فرق کیا)۔“
حدیث نمبر: 12882
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَسَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: " عَرِّبُوا الْعَرَبِيَّ، وَهَجِّنُوا الْهَجِينَ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، سَكَنَ حِمْصَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ”عربی النسل گھوڑے کو برقرار رکھو اور دوغلی نسل کے گھوڑے کو بےوقعت کردو۔“
حدیث نمبر: 12883
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ. وَزَادَ فِي مَتْنِهِ: " لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ، وَلِلْهَجِينِ سَهْمٌ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا لَا يُوَصِّلُهُ غَيْرُ أَحْمَدَ، وَأَحَادِيثُهُ لَيْسَتْ بِمُسْتَقِيمَةٍ كَأَنَّهُ يَغْلَطُ فِيهَا.
حافظ ثناء اللہ
”گھوڑے کے لیے دو حصے ہیں اور دوغلی نسل کے گھوڑے کے لیے ایک حصہ ہے۔“
حدیث نمبر: 12884
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الشُّعَيْثِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ: " أَسْهَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِرَابِ سَهْمَيْنِ، وَلِلْهَجِينِ سَهْمًا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. وَهُوَ مُنْقَطِعٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
حافظ ثناء اللہ
خالد بن معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ”حصے مقرر کیے، عربی گھوڑوں کے لیے دو حصے اور دوغلی نسل کے لیے ایک حصہ۔“
حدیث نمبر: 12885
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ: أَغَارَتِ الْخَيْلُ بِالشَّامِ، فَأَدْرَكَتِ الْخَيْلُ مِنْ يَوْمِهَا، وَأَدْرَكَتِ الْكَوَادِنُ ضُحًى، وَعَلَى الْخَيْلِ الْمُنْذِرُ بْنُ أَبِي حِمَّصَةَ الْهَمْدَانِيُّ، فَفَضَّلَ الْخَيْلَ عَلَى الْكَوَادِنِ وَقَالَ: لَا أَجْعَلُ مَا أَدْرَكَ كَمَا لَمْ يُدْرِكْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " هَبِلَتِ الْوَادِعِيَّ أُمُّهُ؛ لَقَدْ أَذْكَرَتْ بِهِ، أَمْضُوهَا عَلَى مَا قَالَ " ⦗٥٣٤⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَوْ كُنَّا نُثْبِتُ مِثْلَ هَذَا مَا خَالَفْنَاهُ، وَقَالَ فِي الْقَدِيمِ: هَذَانِ خَبَرَانِ مُرْسَلَانِ، لَيْسَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا شَهِدَ مَا حَدَّثَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن القَمَر سے روایت ہے کہ گھڑ سواروں کی ایک جماعت نے شب خون مارا، گھڑ سواروں نے صبح سویرے اس کو فتح کیا اور خچر والوں نے چاشت کے وقت فتح کیا، گھڑ سواروں کے قائد منذر بن ابو حمنہ تھے۔ انہوں نے گھڑ سواروں کو خچر سواروں پر فضیلت دی اور کہا کہ میں جو ان گھڑ سواروں نے پایا اور خچر سوار حاصل نہ کر سکے دونوں کو ایک نہیں قرار دوں گا۔ یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: جانے والے کو اس کی ماں نے گم کر دیا اور وہ مر گیا۔ انہوں نے یہ بات انہیں یاد دلائی، تو جو انہوں نے کہا، انہوں نے اس کو جاری کر دیا۔