کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 12759
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَاجِشُونِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ: يَا عَمَّاهُ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، وَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَدُورُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُمَا: أَلَا إِنَّ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: " أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟ " فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟ " قَالَا: لَا، فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ: " كِلَاكُمَا قَتَلَهُ "، وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَكَانَا مُعَاذَ ابْنَ عَفْرَاءَ وَمُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا، میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو انصار کے دو نو عمر لڑکے تھے، میں نے خواہش کی کہ کاش میں کسی بڑی عمر والے آدمی کے ساتھ ہوتا، پس ان میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا اور کہا: اے چچا! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں اور اے بھتیجے! تجھے اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں نکالتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے علیحدہ نہیں ہوں گا، حتیٰ کہ ہم میں سے پہلے فوت ہونے والا فوت ہو جائے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا، اتنے میں دوسرے نے بھی ایسی ہی بات کہی، تھوڑی ہی دیر میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا، میں نے ان سے کہا: وہ ہے، جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے تھے، وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف دوڑے، ان دونوں نے اس کو مارا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے، آپ ﷺ کو خبر دی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”دونوں میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے؟“ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کرلی ہیں؟“ دونوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: ”دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے“ اور اس (ابوجہل) کے سلب کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا اور وہ دونوں معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہما تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12759
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3141۔ مسلم 1752»
حدیث نمبر: 12760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَالِاحْتِجَاجُ بِهَذَا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ غَيْرُ جَيِّدٍ؛ فَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِنَا هَذَا كَيْفَ كَانَتْ حَالُ الْغَنِيمَةِ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ، وَإِنَّمَا الْحُجَّةُ فِي إِعْطَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَاتِلِ السَّلَبَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
اس حدیث سے اس مسئلہ میں دلیل لینا صحیح نہیں ہے۔ بدر کے دن غنیمت کا جو حال تھا، اس بارے میں آیت نازل ہوئی، اس مسئلہ کی دلیل بدر کے بعد واقع ہوئی اور یہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں واضح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12760
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 12761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٩٩⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ ح وَأنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ "، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ " فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَاهَا اللهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ؛ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَنِيهِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: الْمَخْرَفُ: النَّخْلُ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کے دن نکلے، جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان شکست میں تھے، میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے (ایک) آدمی پر غلبہ پا رہا ہے، (قتادہ کہتے ہیں) میں واپس پھرا، میں اس کے پیچھے سے آیا، میں نے اس کی گردن پر ضرب لگائی، وہ میری طرف لپکا، اس نے مجھے دبوچ لیا، میں نے اس سے اپنی روح قبض ہوتی پائی، پھر وہ فوت ہو گیا، اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ملا، میں نے پوچھا: مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ والا معاملہ ہے، پھر لوگ فتح پر لوٹ آئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی قتل کرے پھر اس پر گواہ بنا لے تو اس کے لیے مقتول کا سامان ہے،“ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ کھڑا ہوا) تو میں بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے دوسری دفعہ پھر کہا، میں پھر کھڑا ہوا، میں نے کہا: کون میری گواہی دے گا؟ (جب کوئی نہ اٹھا) تو میں بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے پھر تیسری بار وہی بات کہی، میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوقتادہ! تجھے کیا ہے؟“ میں نے سارا قصہ بیان کیا، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے سچ کہا اور اس کا مال میرے پاس ہے، آپ قتادہ کو راضی کر دیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ہرگز ایسا نہ کریں گے، اللہ کے شیر کے بارے میں جو اللہ کی طرف سے لڑا ہے کہ تجھے اس کا سلب دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، پس تو وہ قتادہ کو دے دے،“ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (شخص) نے وہ سامان مجھے دے دیا، میں نے اس زرہ کو بیچ دیا، اس کی قیمت سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا، وہ میرا پہلا مال تھا جو مجھے اسلام میں حاصل ہوا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12761
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري، مسلم»
حدیث نمبر: 12762
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْكَجِّيُّ يَعْنِي أَبَا مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا؛ يُكْثِرُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ، فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عِبَادَ اللهِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ "، فَهَزَمَ اللهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يُضْرَبْ بِسَيْفٍ، وَلَمْ يُطْعَنْ بِرُمْحٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: " ⦗٥٠٠⦘ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ "، فَأَخَذَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ: فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ عَجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَ سَلَبَهُ، فَانْظُرْ مَعَ مَنْ فَأَعْطِنِيهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يُفِيئُهَا اللهُ تَعَالَى عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " صَدَقَ عُمَرُ "، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَبْعَجُ بَطْنَهُ، فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا الطُّلَقَاءَ، فَقَالَ: " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ " أَخْرَجَ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ آخِرَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن حنین کے دن عورتوں، بچوں، اونٹوں اور بکریوں کو لے آئے، انہوں نے سب کچھ صفوں میں کھڑا کر دیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں زیادہ تھے۔ مسلمانوں اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا، مسلمان واپس پلٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اے انصار کی جماعت! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور نہ تلوار چلائی گئی اور نہ کوئی نیزہ۔ نبی ﷺ نے اس دن فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سلب (مال) قاتل کا ہوگا، پس وہ اسے پکڑ لے“۔ ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا، پس بیس کا سلب لیا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے ایک آدمی کی گردن اتاری تھی، اس پر ایک درع تھی، میں نے جلدی کی کہ وہ درع لے لوں، دیکھو وہ کس کے پاس ہے، وہ مجھے دے دیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں نے اسے پکڑا ہے، پس آپ ﷺ اسے راضی کر دیں اور وہ مجھے دے دیں، آپ ﷺ خاموش رہے اور کوئی سوال نہ کیا تھا کہ اسے دے دیں۔ یہ خاموش ہی تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ اپنے شیروں میں سے کسی شیر کے سلب کو نہیں لوٹائیں گے کہ وہ تجھے دے دے، نبی ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”عمر نے سچ کہا ہے“۔ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے، ان کے پاس خنجر تھا، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام سلیم! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میرے قریب مشرکوں کا کوئی آدمی آیا تو اسے پیٹ میں ماروں گی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو یہ خبر دی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے علاوہ (جو بھاگنے والے ہیں) انہیں بھی قتل کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور اس نے ہم پر احسان کیا ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12762
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1809»
حدیث نمبر: 12763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی کو قتل کرے تو مقتول کا سامان قاتل کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12763
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 12764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَجَلَسَ فَتَحَدَّثَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ ". قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ زَادَ الْبِرْتِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں کا ایک جاسوس رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سفر میں تھے، وہ بیٹھ گیا، صحابہ سے باتیں کرنے لگا، پھر وہ بھاگ گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پکڑو اور قتل کر دو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سبقت لے گیا، میں نے اسے قتل کردیا اور میں نے اس کا سامان لے لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12764
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»
حدیث نمبر: 12765
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى، عَامَّتُنَا مُشَاةٌ فِينَا ضَعْفٌ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ؛ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ، ثُمَّ مَالَ إِلَى الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى ضَعْفَهُمْ أَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى ⦗٥٠١⦘ نَاقَةٍ وَرْقَاءَ مِنْ ظَهْرِ الْقَوْمِ، فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْبَعِيرِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ، فَلَمَّا صَارَتْ رُكْبَتُهُ بِالْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَأَضْرِبُهُ، فَنَدَرَ رَأْسُهُ، فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهُ، وَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ مُقْبِلًا فَقَالَ: " مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ " قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: " لَهُ السَّلَبُ أَجْمَعُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ہوازن کیا، ہم ناشتہ کر رہے تھے، ہم میں کمزور اور پیدل چلنے والے بھی تھے۔ ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر آیا۔ اس نے ایک تسمہ اونٹ کی کمر سے کھینچا۔ پھر اس سے اسے باندھ دیا۔ پھر قوم میں آیا، جب ان کی کمزوری کو دیکھا تو اونٹ کا تسمہ کھولا۔ پھر اسے بٹھایا اور اس پر سوار ہو کر بھاگ گیا، مسلمانوں کے ایک آدمی نے ایک خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا۔ میں بھی نکلا کہ اسے لوٹاؤں، پس میں نے اسے پا لیا اور میری اونٹنی اس کے اونٹ کے قریب پہنچ گئی، پھر میں آگے بڑھا۔ میں نے اس کے اونٹ کی لگام کو پکڑا اور اسے بٹھایا، جب اس کے گھٹنے زمین پر لگ گئے تو میں نے اپنی تلوار نکالی، اسے ماری اور اس کا سر علیحدہ کر دیا، پھر میں اس کی اونٹنی اور جو اس پر تھا لے آیا، رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا، آپ ﷺ نے کہا: ”کس نے قتل کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: سیدنا ابن اکوع رضی اللہ عنہما نے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے سارا سامان ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12765
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 12766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ وَمَا عَلَيْهَا وَسِلَاحَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن عمار نے حدیث ذکر کی کہ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس کی سواری اور جو اس پر اسلحہ وغیرہ تھا دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12766
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 12767
وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " لَقِينَا الْعَدُوَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَعَنْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَمْدُونَ الْأَعْمَشُ مِنْ أَصْلِهِ الْعَتِيقِ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ فَذَكَرَهُ. وَهَذَا غَرِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دشمن سے ملے، میں نے ایک آدمی کو نیزہ مارا اور میں نے اسے قتل کر دیا، پس رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس کا سامان دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12767
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 12768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " خَرَجْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَقِينَا الْعَدُوَّ، فَشَدَدْتُ عَلَى رَجُلٍ فَطَعَنْتُهُ فَقَطَرْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ، فَنَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں گیا، ہم دشمن سے ملے، میں نے ایک آدمی کو سختی سے پکڑا، اسے نیزہ مارا اور اس کا خون بہا دیا اور اس کا سامان لے لیا، رسول اللہ ﷺ نے وہ مجھے دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12768
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»
حدیث نمبر: 12769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَعْقِلِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ ⦗٥٠٢⦘ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: " أَلَا نَأْتِي نَدْعُو اللهَ " فَخَلَوْا فِي نَاحِيَةٍ، فَدَعَا سَعْدٌ قَالَ: يَا رَبِّ، إِذَا لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا، فَلَقِّنِي رَجُلًا شَدِيدًا بَأْسُهُ شَدِيدًا حَرْدُهُ؛ فَأُقَاتِلَهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ ارْزُقْنِي عَلَيْهِ الظَّفَرَ حَتَّى أَقْتُلَهُ وَآخُذَ سَلَبَهُ، فَأَمَّنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ ارْزُقْنِي غَدًا رَجُلًا شَدِيدًا حَرْدُهُ، شَدِيدًا بَأْسُهُ، أُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ يَأْخُذُنِي فَيَجْدَعُ أَنْفِي، فَإِذَا لَقِيتُكَ غَدًا قُلْتَ: يَا عَبْدَ اللهِ، فِيمَ جُدِعَ أَنْفُكَ وَأُذُنُكَ؟ فَأَقُولُ: فِيكَ وَفِي رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقُولُ: صَدَقْتَ "، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: يَا بُنِيَّ، كَانَتْ دَعْوَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ خَيْرًا مِنْ دَعْوَتِي، لَقَدْ رَأَيْتُهُ آخِرَ النَّهَارِ وَإِنَّ أُذُنَهُ وَأَنْفَهُ لَمُعَلَّقَانِ فِي خَيْطٍ.
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے احد کے دن کہا: ”آؤ اللہ کو پکار لیں“، پس ہم ایک کنارے پر چلے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی: ”اے میرے رب! جب کل ہم دشمن سے ملیں تو مجھے ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں اس سے تیری خاطر لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے۔ پھر مجھے اس پر کامیابی دینا حتیٰ کہ میں اس کو قتل کر دوں اور اس کا سامان لے لوں۔“ پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آمین کہا۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے کل ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں تیری خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے اور میرا ناک کاٹ دے، جب میں کل کو تجھ سے ملوں تو تو کہے: اے عبداللہ! تیرا ناک، کان کیوں کاٹے گئے؟ میں کہوں: تیری اور تیرے رسول ﷺ کی خاطر، تو تو کہے: تو نے سچ کہا۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے بیٹے! عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی، میں نے دن کے آخر میں دیکھا کہ ان کا کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12769
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ حاكم 530»
حدیث نمبر: 12770
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَبِيعَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَقُولُ: إِنَّهُ طَلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُحُدٍ وَهُوَ يَشْتَدُّ، وَفِي يَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ التُّرْسُ فِيهِ مَاءٌ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ وَجْهَهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَقَالَ لَهُ حَاطِبٌ: مَنْ فَعَلَ بِكَ هَذَا؟ قَالَ: " عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، هَشَّمَ وَجْهِيَ، وَدَقَّ رَبَاعِيَتِي بِحَجَرٍ رَمَانِي "، قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ صَائِحًا يَصِيحُ عَلَى الْجَبَلِ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَأَتَيْتُ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ رُوحِي، قُلْتُ: أَيْنَ تَوَجَّهَ عُتْبَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَى حَيْثُ تَوَجَّهَ، فَمَضَيْتُ حَتَّى ظَفَرْتُ بِهِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَطَرَحْتُ رَأْسَهُ فَهَبَطَتْ، فَأَخَذْتُ رَأْسَهُ وَسَلَبَهُ وَفَرَسَهُ وَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ ذَلِكَ إِلِيَّ وَدَعَا لِي فَقَالَ: " رَضِيَ اللهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللهُ عَنْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ احد کے دن میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ تکلیف میں تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا اور رسول اللہ ﷺ اس پانی سے اپنا چہرہ دھو رہے تھے، حاطب رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: آپ ﷺ کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عتبہ بن ابی وقاص نے میرے چہرے پر مارا اور پتھر کے ساتھ میرے دانت نکال دیے۔“ میں نے عرض کیا: میں نے پہاڑ پر یہ آواز سنی تھی کہ محمد ﷺ قتل کر دیے گئے ہیں اور میں اس حال میں آیا گویا کہ میری روح نکل رہی ہے، میں نے پوچھا: عتبہ کہاں ہے؟ آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا: ”فلاں طرف ہے۔“ میں اس کی طرف گیا یہاں تک کہ میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے اسے تلوار ماری، پس میں نے اس کا سر اتار دیا۔ پھر میں نے اس کا سر اور اس کا سامان اور اس کا گھوڑا پکڑا اور نبی ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے وہ مجھے دے دیا اور میرے لیے دعا فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ» ”اللہ تجھ سے راضی ہو، اللہ تجھ سے راضی ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12770
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
حدیث نمبر: 12771
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَعُثْمَانَ بْنِ يَهُوذَا، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالُوا: فَذَكَرَ قِصَّةَ الْخَنْدَقِ، وَقَتْلَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجْهُهُ يَتَهَلَّلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هَلَّا اسْتَلَبْتَ دِرْعَهُ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلْعَرَبِ دِرْعٌ خَيْرٌ مِنْهَا "، فَقَالَ: " ضَرَبْتُهُ فَاتَّقَانِي بِسَوَادِهِ فَاسْتَحْيَيْتُ ابْنَ عَمِّي أَنْ أَسْتَلِبَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب اور عثمان بن یہودا نے اپنی قوم کے لوگوں سے بیان کیا، انہوں نے کہا: پس خندق کا قصہ ذکر کیا اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا عمرو بن عبد کو مارنے کا، پھر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے اور ان کا چہرہ چمک رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے کیوں نہ اسے ہلاک کر کے اس کی زرہ لی، وہ عرب کی سب سے بہترین زرہ تھی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے مارا، وہ ڈر کر اپنے لشکر کی طرف گیا، مجھے شرم آئی کہ اس کی زرہ لے لوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12771
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12772
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي حِصْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ خَنْدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ صَفِيَّةُ: " فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مَنْ يَهُودَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ، فَقُلْتُ لِحَسَّانَ: إِنَّ هَذَا ⦗٥٠٣⦘ الْيَهُودِيَّ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ كَمَا تَرَى، وَلَا آمَنُهُ أَنْ يَدُلَّ عَلَى عَوْرَتِنَا، فَانْزِلْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ "، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لَكِ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَاللهِ لَقَدْ عَرَفْتِ مَا أَنَا بِصَاحِبِ هَذَا، قَالَتْ صَفِيَّةُ: " فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ احْتَجَزْتُ وَأَخَذْتُ عَمُودًا، ثُمَّ نَزَلْتُ مِنَ الْحِصْنِ إِلَيْهِ فَضَرَبْتُهُ بِالْعَمُودِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْحِصْنِ فَقُلْتُ: يَا حَسَّانُ، انْزِلْ فَاسْتَلِبْهُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَسْتَلِبَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَجُلٌ "، فَقَالَ: مَا لِي بِسَلَبِهِ مِنْ حَاجَةٍ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ میں تھیں، جب نبی ﷺ نے خندق کھودی تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس سے یہودیوں کا ایک آدمی گزرا، وہ قلعہ کے اردگرد گھوم رہا تھا، میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ یہودی قلعہ کے اردگرد گھوم رہا ہے، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اور مجھے اس سے امن نہیں ہے کہ وہ ہماری عورتوں کا پتہ بتائے گا، پس آپ اتریں اور اسے قتل کر دیں، حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبدالمطلب کی بیٹی! اللہ تجھے معاف کرے، اللہ کی قسم! تم نے (میرا حال) پہچان لیا ہے، لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب حسان رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو میں نے خود تیاری کی اور لکڑی پکڑی، پھر میں قلعہ سے (نکل کر) اس کی طرف بڑھی اور اسے مارتی رہی یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں واپس پلٹی اور میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور اس کا سامان لے آئیے، مجھے لانے سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ وہ ایک (نامحرم) آدمی ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنت عبدالمطلب! مجھے اس مال کی کوئی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12772
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ حاكم 6969»
حدیث نمبر: 12773
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، مِثْلَهُ. وَزَادَ فِيهِ قَالَ: هِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ قَتَلَتْ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ.
حافظ ثناء اللہ
اس روایت میں یہ زیادتی ہے کہ وہ پہلی عورت تھی جس نے مشرکوں کے آدمی کو قتل کیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12773
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12774
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ يَوْمَ قُرَيْظَةَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِمْ يَا زُبَيْرُ "، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاحِدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهُمَا عَلَا عَلَى صَاحِبِهِ قَتَلَهُ "، فَعَلَاهُ الزُّبَيْرُ فَقَتَلَهُ، فَنَفَّلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: قریظہ کے دن یہودی نے کہا: کون مقابلہ کرے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے زبیر! اٹھو۔“ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اکیلی رہ جاؤں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون دونوں میں سے اپنے مد مقابل کو قتل کرتا ہے؟“ پس زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر غلبہ پا لیا اور اسے قتل کر دیا، نبی ﷺ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کا سامان دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12774
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12775
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " أُصِيبَ بِهَا، يَعْنِي فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَغَنِمَ الْمُسْلِمُونَ بَعْضَ أَمْتِعَةِ الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ مِمَّا غَنِمُوا خَاتَمًا جَاءَ بِهِ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَتَلْتُ صَاحِبَهُ يَوْمَئِذٍ، فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مسلمانوں کو غزوہ موتہ میں تکلیف دی گئی اور مسلمانوں نے بعض مشرکوں کا سامان غنیمت بنایا تھا، اس میں سے ایک انگوٹھی تھی، جسے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا، اس نے کہا: میں نے اس کے صاحب کو قتل کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے وہ اسے دے دی۔
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں غزوہ موتہ میں حاضر ہوا۔ اس دن ان میں سے ایک آدمی نے مجھے دعوتِ مقابلہ دی، میں اسے پہنچا اور اس پر خود تھا، اس میں موتی لگے ہوئے تھے، پس موتیوں کی وجہ سے میں نے اسے پکڑ لیا، جب میں مدینہ واپس آیا میں وہ خود رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا، آپ ﷺ نے وہ مجھے عنایت فرما دی۔ میں نے اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں سو دینار میں بیچ دیا، پس میں نے اس سے باغ خریدا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12775
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا هِشَامٌ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " بَارَزَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ فَقَتَلَهُ، فَنَفَّلَهُ سَيْفَهُ وَتُرْسَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جنگِ موتہ میں ایک آدمی سے مبارزت کی، عقیل رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اس کا سامان، تلوار اور برتن وغیرہ دے دیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12776
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12777
قَالَ: وَحَدَّثَنَا تَمْتَامٌ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ النَّحَّاسُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَوْ هُوَ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ، قَالَ: " بَارَزَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ، فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ وَتُرْسَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ عقیل رضی اللہ عنہ نے موتہ میں ایک آدمی سے مبارزت کی، رسول اللہ ﷺ نے عقیل رضی اللہ عنہ کو اس کی تلوار اور برتن وغیرہ دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12777
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 12778
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَتَلَ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ فَأَصَابَ عَلَيْهِ خَاتَمًا فِيهِ فَصٌّ أَحْمَرُ فِيهِ تِمْثَالٌ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: " لَوْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ تِمْثَالٌ "، قَالَ: ثُمَّ نَفَّلَهُ إِيَّاهُ قَالَ: فَهُوَ عِنْدَنَا. هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ لَهُ أَصْلٌ، وَجَابِرٌ الَّذِي رَوَى عَنْهُ أَبُو خَيْثَمَةَ هُوَ الْحَنَفِيُّ، وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ عَقِيلٍ هُوَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَاخْتَلَفُوا فِي قَاتِلِ مَرْحَبٍ. مِنْهُمْ مَنْ قَالَ: قَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: قَتَلَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مجھے بنی ہاشم کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے موتہ میں ایک آدمی کو قتل کیا، انہیں اس کی انگوٹھی ملی جس میں سرخ رنگ کا نگینہ لگا ہوا تھا، اس میں صورت بنی ہوئی تھی، وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے اسے پکڑا اور دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش! اس میں صورت نہ ہوتی۔“ پھر آپ ﷺ نے اسے (عقیل) دے دی۔
شیخ فرماتے ہیں: مرحب کے قتل میں انہوں نے اختلاف کیا ہے، بعض نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اور بعض نے کہا: محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12778
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12779
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو هُوَ الْوَاقِدِيُّ قَالَ: وَقِيلَ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ ضَرَبَ سَاقَيْ مَرْحَبٍ فَقَطَعَهُمَا، فَقَالَ مَرْحَبٌ: أَجْهِزْ عَلَيَّ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: ذُقِ الْمَوْتَ كَمَا ذَاقَهُ أَخِي مَحْمُودٌ، وَجَاوَزَهُ، فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ وَأَخَذَ سَلَبَهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَلَبِهِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا قَطَعْتُ رِجْلَيْهِ وَتَرَكْتُهُ إِلَّا لِيَذُوقَ الْمَوْتَ، وَقَدْ كُنْتُ قَادِرًا أَنْ أُجْهِزَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: صَدَقَ، ضَرَبْتُ عُنُقَهُ بَعْدَ أَنْ قَطَعَ رِجْلَيْهِ، " فَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ سَيْفَهُ وَدِرْعَهُ وَمِغْفَرَهُ وَبَيْضَتَهُ " وَكَانَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ سَيْفُهُ، فِيهِ كِتَابٌ لَا يَدْرِي مَا هُوَ، حَتَّى قَرَأَهُ يَهُودِيٌّ مَنْ يَهُودِ تَيْمَاءَ، فَإِذَا فِيهِ: هَذَا سَيْفُ مَرْحَبٍ، مَنْ يَذُقْهُ يَعْطَبْ.
حافظ ثناء اللہ
واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کی پنڈلیوں پر ضرب لگائی، دونوں کو کاٹ دیا۔ مرحب نے کہا: ”اے محمد! مجھے جلدی قتل کر دو۔“ محمد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”موت کا ذائقہ چکھو جیسے میرے بھائی محمود نے چکھا تھا“ اور اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے گزرے، آپ نے اس کی گردن اتار دی اور اس کا سامان لے لیا، وہ دونوں (محمد اور علی رضی اللہ عنہما) اپنا سلب کا جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ محمد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں نے ٹانگیں کاٹ کر اس لیے چھوڑا تھا کہ وہ موت کا ذائقہ لے اور تحقیق میں اسے مکمل ختم کرنے پر بھی قادر تھا“، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس نے سچ کہا ہے، میں نے تو صرف اس کی گردن اتاری ہے اس کی ٹانگیں کاٹنے کے بعد۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو مرحب کی تلوار، درع، خود دیا اور آلِ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس وہ تلوار تھی اور اس پر کچھ لکھا ہوا تھا، لیکن کوئی نہ جانتا تھا کہ کیا لکھا ہے یہاں تک کہ تیماء کے ایک یہودی نے اسے پڑھا، اس میں لکھا تھا: ”یہ مرحب کی تلوار ہے جو اسے چھوئے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12779
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
حدیث نمبر: 12780
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ⦗٥٠٥⦘ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُمَرَ الْحَارِثِيُّ، عَنْ أَبِي عُفَيْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: لَمَّا تَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الشِّقِّ، يَعْنِي مِنْ خَيْبَرَ، خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَصَاحَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَبَرَزَ لَهُ أَبُو دُجَانَةَ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ حَمْرَاءَ فَوْقَ الْمِغْفَرِ، يَخْتَالُ فِي مِشْيَتِهِ، فَضَرَبَهُ فَقَطَعَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ دَفَفَ عَلَيْهِ وَأَخَذَ سَلَبَهُ؛ دِرْعَهُ وَسَيْفَهَ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ " هَذَا وَالَّذِي قَبْلَهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِي الْأَحَادِيثِ الْمَوْصُولَةِ كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سہل رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ خیبر سے واپس پلٹے تو یہود کا ایک آدمی نکلا، اس نے آواز لگائی: کون مقابلہ کرے گا؟ پس ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے مقابلہ کیا، انہوں نے سر پر سرخ پٹی باندھی ہوئی تھی خود کے اوپر، ان کے چلنے میں تکبر تھا، ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے اسے مارا، پس اس کی ٹانگیں کاٹ دیں، پھر اسے مار ڈالا اور اس کا سامان، زرہ اور تلوار لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، رسول اللہ ﷺ نے وہ انہیں دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12780
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 12781
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: ثنا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی کو قتل کرے اس کا سامان اس کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12781
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»