کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
حدیث نمبر: 12710
بَابُ بَيَانِ مَصْرِفِ الْغَنِيمَةِ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ وَأَنَّهَا كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُهَا فِيمَنْ يَرَاهُ مِمَّنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ وَمِمَّنْ لَمْ يَشْهَدْهَا، حَتَّى نَزَلَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ} [الأنفال: 41]، فَكَانَ الْخُمُسُ لِأَهْلِ الْخُمُسِ، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والوں اور شریک نہ ہونے والوں میں سے جسے مناسب سمجھتے دے دیتے تھے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان نازل ہوا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ ”اور جان لو کہ تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے، رسول کے لیے، (رسول کے) قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔“ [سورة الأنفال: 41]
چنانچہ خمس (پانچواں حصہ) اہلِ خمس کے لیے ہو گیا اور اس کے (باقی) چار حصے ان لوگوں کے لیے جو جنگ میں شریک ہوئے۔
چنانچہ خمس (پانچواں حصہ) اہلِ خمس کے لیے ہو گیا اور اس کے (باقی) چار حصے ان لوگوں کے لیے جو جنگ میں شریک ہوئے۔
حدیث نمبر: 12710
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ؛ أَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ: " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ "، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، فَقَالَ: " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَفِّلْنِيهِ، وَاجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ: " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ "، وَنَزَلَتْ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ: اجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں، مجھے بدر کے دن تلوار ملی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے دے دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں سے اٹھایا ہے وہاں رکھ دو“، میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے دے دیں، کیا میں اس شخص کی طرح رہوں گا جو نادار ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہاں رکھ جہاں سے لی ہے“، پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1]۔
حدیث نمبر: 12711
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ قَدْ شُفِيَ صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ، فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ "، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ: يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي، فَبَيْنَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ: " أَجِبْ "، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِي، فَجِئْتُ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ؛ فَإِنَّ اللهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي، فَهُوَ لَكَ "، ثُمَّ قَرَأَ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس بدر کے دن ایک تلوار لے کر آیا، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آج اللہ تعالیٰ نے دشمن سے میرے سینے کو ٹھنڈ پہنچائی ہے، پس یہ تلوار مجھے دے دیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تلوار میری ہے نہ تیری۔“ میں چلا گیا اور کہہ رہا تھا: ”آج یہ اس کو ملے گی جس کا امتحان میرے جیسا نہ ہوا ہوگا۔“ پس آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، میں نے سمجھا کہ میرے بارے میں کچھ نازل ہوا ہوگا، میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو نبی ﷺ نے مجھے کہا: ”تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا اور وہ نہ میری تھی نہ تیری، پس اللہ تعالیٰ نے میری کر دی اور وہ اب تیرے لیے ہے۔“ پھر آیت پڑھی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1]۔
حدیث نمبر: 12712
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: " مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ مِنَ النَّفْلِ كَذَا وَكَذَا "، قَالَ: فَتَقَدَّمَ الْفِتْيَانُ، وَلَزِمَ الْمَشْيَخَةُ الرَّايَاتِ فَلَمْ يَبْرَحُوهَا، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِمْ قَالَتِ الْمَشْيَخَةُ: كُنَّا رِدَاءً لَكُمْ، لَوِ انْهَزَمْتُمْ فِئْتُمْ إِلَيْنَا، فَلَا تَذْهَبُوا بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَى، فَأَبَى الْفِتْيَانُ وَقَالُوا: جَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] إِلَى قَوْلِهِ {كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ} [الأنفال: ٥]، يَقُولُ: فَكَانَ ذَلِكَ خَيْرًا لَهُمْ، وَكَذَلِكَ أَيْضًا فَأَطِيعُونِي فَإِنِّي أَعْلَمُ بِعَاقِبَةِ هَذَا مِنْكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: ”جو یہ کام کرے گا اس کے لیے یہ انعام ہے“ تو جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے نشانوں کے پاس رہے۔ پھر وہ وہیں جمے رہے، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا: ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے، اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری طرف پلٹتے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ غنیمت کا مال تم لے جاؤ اور ہم یوں ہی رہ جائیں۔ پس نوجوان نہ مانے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم کو دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] سے ﴿لَکَارِہُونَ﴾ [سورة الأنفال: 5] تک۔ ان کے لیے یہی بہتر تھا، پس تم میری اطاعت کرو میں انجام کار کو زیادہ جانتا ہوں۔
حدیث نمبر: 12713
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. زَادَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ بِالسَّوَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ ”آپ ﷺ نے ان میں برابر تقسیم کیا۔“
حدیث نمبر: 12714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ، قَالَ: " فِينَا أَصْحَابَ بَدْرٍ نَزَلَتْ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ الْتَقَى النَّاسُ بِبَدْرٍ نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ، وَكُنَّا أَثْلَاثًا؛ ثُلُثٌ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ وَيَأْسِرُونَ، وَثُلُثٌ يَجْمَعُونَ النَّفْلَ، وَثُلُثٌ قِيَامٌ دُونَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْشَوْنَ عَلَيْهِ كَرَّةَ الْعَدُوِّ حَرَسًا لَهُ، فَلَمَّا وَضَعَتِ الْحَرْبُ قَالَ الَّذِينَ أَصَابُوا النَّفْلَ: هُوَ لَنَا، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ كُلَّ امْرِئٍ مَا أَصَابَ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا يَقْتُلُونَ وَيَأْسِرُونَ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، لَنَحْنُ شَغَلْنَا عَنْكُمُ الْقَوْمَ، وَخَلَّيْنَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ النَّفْلِ، فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا يَحْرُسُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، لَقَدْ رَأَيْنَا أَنْ نَقْتُلَ الرِّجَالَ حِينَ مَنَحُونَا أَكْتَافَهُمْ، وَنَأْخُذَ النَّفْلَ لَيْسَ دُونَهُ أَحَدٌ يَمْنَعُهُ، وَلَكِنَّا خَشِينَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَّةَ الْعَدُوِّ، فَقُمْنَا دُونَهُ، فَمَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَاءَتْ أَخْلَاقُنَا انْتَزَعَهُ اللهُ مِنْ أَيْدِينَا فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهُ عَلَى النَّاسِ عَنْ بَوَاءٍ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ تَقْوَى اللهِ وَطَاعَتُهُ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] " وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ مَعَ تَقْصِيرٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَقَالَ: فَقَسَمَهُ عَلَى السَّوَاءِ، لَمْ يَكُنْ فِيهِ يَوْمَئِذٍ خُمُسٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم میں اصحابِ بدر تھے، ان کے بارے میں آیت نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ جب بدر کے دن لوگوں سے ملے تو ہر ایک کو حصہ دیا اور ہم تین گروہوں میں تھے، ایک تہائی دشمن سے لڑ رہے تھے اور انہیں قیدی بناتے تھے اور ایک تہائی غنیمت کا مال جمع کر رہے تھے اور ایک تہائی رسول اللہ ﷺ کا دفاع کر رہے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں دشمن آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا دے، یعنی وہ آپ کے لیے پہرہ دے رہے تھے۔ جب جنگ ختم ہو گئی تو جن لوگوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا تھا، وہ کہنے لگے: ”یہ ہمارا ہے اور تحقیق رسول اللہ ﷺ نے ہر آدمی کے لیے حصہ مقرر کیا، جس مال کو اس نے پایا۔“ اور جو قتال کر رہے تھے اور دشمنوں کو قیدی بنا رہے تھے انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ حق دار ہو۔ ہم دشمنوں کے ساتھ مصروف تھے۔ وہ (دشمن) تمہارے اور مال غنیمت کے درمیان حائل تھے، تو کیا تم اس (غنیمت) کے ہم سے زیادہ حق دار ہو؟“ اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے گرد پہرا دے رہے تھے، انہوں نے کہا: ”تم ہم سے زیادہ حق دار ہو۔ ہم نے یقیناً دشمن کے آدمیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا جبکہ وہ اپنے کندھے ہمیں ہبہ کر چکے تھے (یعنی ہمیں ان کو قتل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی)۔ ہم مال غنیمت اکٹھا کر سکتے تھے اور اس کام کے کرنے میں کوئی بھی حائل نہ تھا، لیکن ہم رسول اللہ ﷺ پر دشمن کے حملے سے ڈرتے (کہ کہیں دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا دے) تو ہم آپ ﷺ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہو گئے۔ تو کیا تم ہم سے زیادہ حق دار ہو؟“ جب ہم نے اختلاف کیا اور اخلاقیات کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے ہم سے وہ (مال غنیمت) چھین کر اپنے رسول ﷺ کے قبضے میں دے دیا تو اللہ کے رسول نے اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا تو یہ اللہ کے تقویٰ، اس کی اطاعت، اس کے رسول کی اطاعت اور لوگوں کی آپس کی اصلاح میں (درست) تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿یَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، پس تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں (ایک دوسرے کی) اصلاح کرو۔“
حدیث نمبر: 12715
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ بِالْعَسْكَرِ، فَلَمَّا كَفَى اللهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ قَتَلُوهُمْ قَالُوا: لَنَا النَّفْلُ؛ نَحْنُ قَتَلْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا، هُوَ لَنَا؛ نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَالُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ: وَاللهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا؛ نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَى الْعَسْكَرِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١] إِلَى قَوْلِهِ {إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: ٩١]، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ عَنْ فَوَاقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بدر کے دن نکلے، آپ ﷺ دشمن سے ملے۔ جب اللہ نے ان کو شکست دی تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کا پیچھا کیا، ان کو قتل کرنے لگے اور ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لے لیا اور ایک جماعت مال اکٹھا کرنے لگ گئی، جب اللہ تعالیٰ دشمن کو کافی ہو گئے اور جنہوں نے ان کو قتل کیا تھا وہ لوٹ آئے انہوں نے کہا: دشمن کو ہم نے قتل کیا لہٰذا ہمارے لیے غنیمت ہے اور ہماری وجہ سے اللہ نے ان کو شکست دی اور جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لیا تھا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو اس لیے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو گھیرے میں لیا تھا تاکہ دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے اور ان لوگوں نے کہا جو مال کی طرف گئے تھے کہ ہم اس کے حق دار ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے آیت ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] نازل کی۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ان میں مناسب طریقے سے تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 12716
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَشَيْبَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ: " أَمَّا قَوْلُكَ الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ: أَشَهِدَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَدْرًا؟ فَإِنَّهُ شُغِلَ بِابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی سے کہا: تیری یہ بات جو تو نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ کیا عثمان رضی اللہ عنہ بدر میں حاضر ہوئے تھے؟ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی تیمارداری میں مشغول تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا حصہ بھی نکالا۔
حدیث نمبر: 12717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ،.
حافظ ثناء اللہ
ابوالاسود رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 12718
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ تَخَلَّفَ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ وَجِعَةً، فَتَخَلَّفَ عَلَيْهَا حَتَّى تُوُفِّيَتْ يَوْمَ قَدِمَ أَهْلُ بَدْرٍ الْمَدِينَةَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ "، قَالَ: وَقَدِمَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ مِنَ الشَّامَ بَعْدَمَا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ: " لَكَ سَهْمُكَ "، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ "، وَقَدِمَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَقْدِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَدْرٍ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِهِ، فَقَالَ: " لَكَ سَهْمُكَ "، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَجْرُكَ " وَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَرَجَّعَهُ وَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرٍ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الصَّفْرَاءَ فَأَصَابَ سَاقَهُ حَجَرٌ، فَرَجَعَ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهُ فَرَجَعَ مِنَ الرَّوْحَاءِ، فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ لَفْظُ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَحَدِيثُ عُرْوَةَ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ: رَدَّهُ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابراہیم اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے رسول اللہ ﷺ کے غزوات کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، جو بدر میں حاضر ہوا اور جو پیچھے رہا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے حصہ رکھا۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیچھے رہے تھے اپنی بیوی رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ پر اور وہ بیمار تھیں، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں، جس دن اہل بدر مدینہ میں آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا حصہ نکالا۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اجر ہے“۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، رسول اللہ ﷺ کے بدر سے لوٹنے کے بعد۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے حصے کے بارے میں بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے بھی اجر ہے“۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ شام سے آئے رسول اللہ ﷺ کے بدر سے لوٹنے کے بعد، انہوں نے بھی کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا حصہ“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے حصہ ہے“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا اجر؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اجر بھی ہے“۔ ابولبابہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، بدر میں وہ لوٹ آئے تھے، ان کو مدینہ پر امیر مقرر کیا تھا، ان کے لیے بھی اصحابِ بدر کے ساتھ حصہ رکھا۔ خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تھے، یہاں تک کہ جب صفراء مقام پر پہنچے تو ان کی پنڈلی پر پتھر لگا وہ بھی لوٹ آئے، ان کے لیے بھی رسول اللہ ﷺ نے حصہ نکالا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، آپ ﷺ نے انہیں لوٹا دیا، اس کے لیے بھی حصہ رکھا۔ حارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے، روحاء کے مقام پر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ان کے لیے بھی رسول اللہ ﷺ نے حصہ رکھا۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ ﷺ کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول ﷺ کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ ﷺ کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 1] کے بارے میں منقول ہے کہ انفال: غنیمتیں جو خالصتاً رسول اللہ ﷺ کے لیے تھیں، کسی کے لیے اس میں سے کچھ نہ تھا، جو بھی غزوہ مسلمانوں کو پہنچتا، وہ وہاں سے غنیمتیں لاتے تھے، جو شخص اس میں سے کوئی چیز بھی روک لیتا تھا، پس وہ خیانت تھی۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ وہ ان کو دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ میرے لیے ہے، میں نے اس کو اپنے رسول ﷺ کے لیے بنا دیا ہے، تمہارے لیے اس میں کچھ نہیں ہے“۔ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرو“ الی قولہ ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41]
پھر یہ تقسیم کیا گیا کہ خمس رسول اللہ ﷺ کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، یتیموں اور مساکین اور مجاہدوں کے لیے اللہ کے راستے میں اور باقی چار حصے لوگوں کے لیے، لوگ اس میں برابر ہیں، گھوڑے کے لیے دو حصے، اس کے صاحب کے لیے ایک حصہ، پیدل چلنے والے، اسی طرح کتاب میں واقع ہے اور مجاہدین کا نام غلط ہے، بیشک وہ مسافر ہے۔
حدیث نمبر: 12719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَيُنَادِي فِي النَّاسِ، فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهَا وَيَقْسِمُهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ: " أَسَمِعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟ " فَاعْتَذَرَ، فَقَالَ: " كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَنْ أَقْبَلَهُ عَنْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب غنیمت کا مال آتا تھا تو رسول اللہ ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے تھے، وہ لوگوں میں اعلان کرتے، وہ اپنی غنیمتیں لاتے، وہ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے۔ ایک آدمی بعد میں بالوں کی لگام لے کر آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ ہمیں غنیمت سے ملا تھا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے بلال کی آواز سنی تھی، اس نے تین دفعہ بلایا تھا؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے یہ لے آنے سے کس نے روکا تھا؟“ اس نے معذرت کی یا عذر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے جا تو قیامت کے دن لے کر آئے گا، میں اب تجھ سے قبول نہ کروں گا۔“