کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْأَزْدِيُّ ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ حَدَّثَهُ قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ، فَقَالَ: فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رُمَالِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ لِي: يَا مَالُ، إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ، فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ: لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي، قَالَ: خُذْهُ يَا مَالُ، قَالَ: فَجَاءَ يَرْفَأُ فَقَالَ: هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ؟ قَالَ عُمَرُ: نَعَمْ، فَائْذَنْ لَهُمْ، فَدَخَلُوا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمَا، قَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ، قَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ: فخيل إِلِيَّ أَنَّهُمْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، وَإِنَّ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، وَإِنَّ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَانَ خَصَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاصَّةٍ لَمْ يَخُصَّ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ، قَالَ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى} [الحشر: ٧]، مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لَا، قَالَ: فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَكُمُ النَّضِيرَ، فَوَاللهِ مَا ⦗٤٨٦⦘ اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ، وَلَا أَخَذَهَا دُونَكُمْ، حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ. ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ: أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُمَا، تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنِّي صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، فَوَلِيتُهَا، ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ، وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا، فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللهِ أَنْ تَعْمَلَا فِيهِ بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ، فَقَالَ: أَكَذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ. ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا، وَلَا وَاللهِ لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلِيَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيِّ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا، میں دن کے وقت ان کے پاس آیا، میں نے ان کو ایک تخت پر بیٹھے ہوئے پایا بغیر بچھونے کے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے، آپ نے مجھ سے فرمایا: ”اے مالک! کچھ لوگ تمہاری قوم والوں کے میرے پاس آئے تھے اور میں نے ان کو کچھ دینے کا حکم دیا ہے، پس تم ان میں تقسیم کر دو،“ میں نے عرض کیا: ”کاش آپ اس کام کے لیے کسی اور کو کہتے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تم لے لو۔“ اسی دوران یرفاء غلام آیا اور کہا: ”عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم دروازے پر ہیں اور اجازت چاہتے ہیں، اگر اجازت ہو تو ان کو آنے دیں؟“ آپ نے اجازت دی، جب وہ داخل ہوئے تو یرفاء پھر آیا اور کہا: ”عباس اور علی رضی اللہ عنہما بھی آئے ہیں،“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! میرے اور اس جھوٹے، گنہگار، دھوکے باز، خائن کے درمیان فیصلہ کریں،“ لوگوں میں سے بھی بعض نے کہا: ”ہاں امیر المؤمنین ان میں فیصلہ کریں۔“ سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خیال آیا کہ انھوں نے ہی عثمان وغیرہ کو پہلے بھیجا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تم کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے“؟“ انھوں نے ہاں میں جواب دیا، پھر عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے“؟“ دونوں نے کہا: ”ہاں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خاص کیا تھا اور کسی کو خاص نہ کیا تھا، فرمایا: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى﴾ [سورة الحشر: 7]“ میں نہیں جانتا کہ اس سے پہلے آیت پڑھی تھی یا نہیں، ”پس رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے مال کو تمہارے درمیان تقسیم کر دیا اور تم پر کسی کو ترجیح نہ دی اور نہ تمہارے علاوہ کسی اور نے لیا تھا، اور جو مال بچ گیا رسول اللہ ﷺ اس سے اپنے لیے سال بھر کا خرچ لیتے تھے اور جو بچتا وہ باقی مالوں کے برابر ہوتا تھا،“ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم کو کہا: ”میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم یہ جانتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں۔“ پھر سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو قسم دے کر پوچھا جیسے قوم کو قسم دی تھی: ”کیا تم دونوں یہ جانتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہاں۔“ پھر فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا ولی ہوں، پس تم دونوں آئے تم نے اپنے بھائی کے بیٹے سے میراث طلب کی اور بیوی کی میراث اس کے باپ سے طلب کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے،“ پس تم دونوں نے اسے جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز، خائن خیال کیا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک، حق کے تابع تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر کا ولی ہوں، پس تم دونوں نے مجھے جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز، خائن سمجھا اور اللہ جانتا ہے میں سچا، نیک، اچھا اور حق کے تابع ہوں، پس میں اس کا والی تھا، پھر تم دونوں اکٹھے میرے پاس آئے تمہارا معاملہ ایک ہی تھا، تم دونوں نے کہا: وہ ہمیں دے دو، میں نے کہا: میں اس شرط پر دوں گا کہ تم پر اللہ کا وعدہ ہے کہ اس میں کام کرو گے جیسے رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، پس تم نے اسے لے لیا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا ایسے ہی ہے؟“ دونوں نے کہا: ”ہاں،“ پھر دونوں میرے پاس آئے ہو تاکہ میں تمہارے لیے فیصلہ کر دوں اور اللہ کی قسم! میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے۔ اگر تم دونوں عاجز آ گئے ہو تو میری طرف لوٹا دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ فِي الْمَدِينَةِ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أَمَرْنَا لَهُمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مُرْ بِهِ غَيْرِي، قَالَ: اقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْهِ مَوْلَاهُ يَرْفَأُ فَقَالَ: هَذَا عُثْمَانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةَ أَمْ لَا، يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ، قَالَ: ائْذَنْ لَهُمْ. ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً فَقَالَ: هَذَا الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمَا، فَدَخَلَا، قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ؛ فَإِنَّهُمَا قَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا، قَالَ: وَهُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، قَالَ الْقَوْمُ: أَجَلِ اقْضِ بَيْنَهُمَا، وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " فَقَالَ الْقَوْمُ: نَعَمْ، قَدْ قَالَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَقَالَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْمَالِ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ، قَالَ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى ⦗٤٨٧⦘ رَسُولِهِ مِنْهُمْ} [الحشر: ٦]، الْآيَةَ قَالَ: وَاللهِ مَا حَازَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ قَسَمَهَا فِيكُمْ وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَتَهُ. وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا كَانَ يَعْمَلُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثُمَّ قَالَ: وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ وَلِيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي، فَفَعَلْتُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّي فِيهَا ظَالِمٌ، وَاللهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي، جَاءَنِي هَذَا، يَعْنِي الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَسْأَلُنِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ، وَجَاءَنِي هَذَا، يُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ لَكُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ "، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْكُمَا، فَأَخَذْتُ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللهِ وَمِيثَاقَهُ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَأَيَّامَ وَلِيتُهَا، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا عَلَى ذَلِكَ، فَتُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ هَذَا؟ وَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيهَا بِقَضَاءٍ غَيْرِ هَذَا، إِنْ كُنْتُمَا عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلِيَّ. قَالَ: فَغَلَبَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهَا، فَكَانَتْ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنٍ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنٍ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ. قَالَ مَعْمَرٌ: ثُمَّ كَانَتْ بِيَدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَسَنٍ حَتَّى وَلِيَ، يَعْنِي بَنِي الْعَبَّاسِ، فَقَبَضُوهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نمائندہ بلانے آیا۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مدینہ میں تمہاری قوم کے کچھ لوگ آئے تھے اور تحقیق ہم نے ان کے لیے کچھ مال کا حکم دیا ہے، اسے پکڑو اور ان میں تقسیم کر دو۔ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے پکڑو۔ اسی دوران ان کا غلام یرفاء آیا۔ اس نے کہا: سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن، سیدنا زبیر، سیدنا سعد اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہم (میں نہیں جانتا کہ اس نے نام لیا یا نہ لیا) وہ اجازت طلب کر رہے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کو اجازت دے دو، پھر تھوڑی دیر ٹھہرے۔ اس نے کہا: سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما بھی اجازت مانگ رہے ہیں، ان دونوں کو بھی اجازت دی گئی۔ وہ بھی آ گئے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دیں۔ قوم کے لوگوں (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ) نے کہا: ان میں فیصلہ کر دیں اور ایک کو دوسرے سے آرام پہنچائیں، دونوں کی گفتگو لمبی ہو گئی اور وہ دونوں اس وقت بنو نضیر کے ان اموال کے بارے میں جو رسول اللہ ﷺ کو دیے گئے تھے جھگڑا کر رہے تھے، قوم نے کہا: ان دونوں میں فیصلہ کر دیں اور ہر ایک کو دوسرے سے آرام پہنچائیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے بھی ہاں میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اس مال کے بارے میں خبر دیتا ہوں، بے شک اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو کسی چیز میں خاص کیا اور وہ کسی اور کو نہیں دی تھی، فرمایا: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ﴾ [سورة الحشر: 6] پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تمہارے علاوہ کسی اور کو اس کے لیے خاص نہ کیا اور نہ تم پر کسی کو ترجیح دی اور اس کو تم میں تقسیم کر دیا، جو باقی بچا اس میں سے سال بھر آپ ﷺ اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے، معمر رحمہ اللہ نے کہا: گھر کے کھانے کے لیے سال بھر کے لیے روک لیتے تھے۔ پھر باقی اللہ کے مال میں شامل کر دیتے تھے، جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین (ولی) ہوں، میں اس میں کام کروں گا، وہ اس میں کام کرتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم خیال کرتے ہو وہ اس میں ظلم کرنے والے تھے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک اور حق کے تابع تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں اس کا والی بنا، اپنی خلافت کے دو سال میں نے اس میں کام کیا جیسے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کام کیا اور تمہارے خیال میں میں نے ظلم کیا ہے اور اللہ جانتا ہے میں سچا ہوں، نیک ہوں، حق کے تابع ہوں، پھر تم میرے پاس آئے، یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اپنے بھتیجے کی میراث کا سوال کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اپنی بیوی کے باپ سے وراثت کا سوال کیا۔ میں نے تم سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم کسی چیز کے وارث نہیں بنائے جاتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے“۔ پھر میرے لیے ظاہر ہوا کہ میں وہ تم کو دے دوں، میں نے تم سے اللہ کا عہد لیا اور اس شرط پر دیا کہ تم اس میں اس طرح کام کرو گے جیسے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کام کیا، تم دونوں نے کہا: ہمیں دے دو۔ پس اب تم مجھ سے اس کے علاوہ کسی اور فیصلے کی امید رکھتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہ کروں گا، اگر تم دونوں اس سے عاجز آ گئے ہو تو مجھے دے دو، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب آ گئے، پس وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ، پھر سیدنا حسن بن علی رحمہ اللہ، پھر سیدنا زید بن حسن رحمہ اللہ کے پاس رہا۔ معمر رحمہ اللہ نے کہا: پھر سیدنا عبداللہ بن حسن رحمہ اللہ کے پاس رہا یہاں تک کہ بنو عباس والی (حکمران) بن گئے، انہوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَاهُ بَعْدَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رُمَالِ سَرِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرُّمَالِ فِرَاشٌ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: يَا مَالِكُ، إِنَّهُ قَدْ قَدِمَ مِنْ قَوْمِكَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ حَضَرُوا الْمَدِينَةَ قَدْ أَمَرْتُ لَهُمْ بِرَضْخٍ، فَاقْبِضْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَمَرْتَ بِذَلِكَ غَيْرِي، فَقَالَ: اقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ. فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ جَاءَ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ فَأَدْخِلْهُمْ، فَلَبِثَ قَلِيلًا ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ يَسْتَأْذِنَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمَا، فَلَمَّا دَخَلَا قَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، لِعَلِيٍّ، وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِي انْصِرَافِ الَّذِي أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، فَقَالَ الرَّهْطُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ، فَقَالَ عُمَرُ ⦗٤٨٨⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اتَّئِدُوا، أُنَاشِدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، يُرِيدُ نَفْسَهُ؟ قَالُوا: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، إِنَّ اللهَ كَانَ خَصَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَقَالَ اللهُ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [الحشر: ٦]، وَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلِ مَالِ اللهِ، فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَهُ أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذْكُرَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ كَمَا تَقُولَانِ، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهِ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تَوَفَّى اللهُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَبَضْتُهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي، أَعْمَلُ فِيهِ بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَا عَمِلَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذْكُرَانِ أَنِّي فِيهِ كَمَا تَقُولَانِ، وَاللهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهِ لَصَادِقٌ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي كِلَاكُمَا وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، فَجِئْتَنِي، يَعْنِي عَبَّاسًا، فَقُلْتُ لَكُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، فَلَمَّا بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدًا لِلَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهِ بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبِمَا عَمِلْتُ بِهِ فِيهِ مُنْذُ وَلِيتُهُ، وَإِلَّا فَلَا تُكَلِّمَانِ، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهُ إِلَيْنَا بِذَلِكَ، فَدَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ، أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَوَاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي فِيهِ بِقَضَاءٍ غَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهُ فَادْفَعَاهُ إِلِيَّ؛ فَأَنَا أَكْفِيكُمَا. قَالَ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: صَدَقَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ، أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَرْسَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا أَرُدُّهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لَهُنَّ: أَلَا تَتَّقِينَ اللهَ، أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ " يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، " إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ "؟ فَانْتَهَتْ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا اخْتَرْتُهُنَّ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي شَيْئًا، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَطَالَتْ فِيهِ خُصُومَتُهُمَا، فَأَبَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَقْسِمَهَا بَيْنَهُمَا حَتَّى أَعْرَضَ عَنْهَا عَبَّاسٌ، ثُمَّ كَانَتْ بَعْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ⦗٤٨٩⦘ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، كِلَاهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
مالک بن اوس کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے دن چڑھنے کے بعد بلایا، میں گیا اور آپ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، درمیان میں کوئی بچھونا نہ تھا، تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، کہا: ”اے مالک! تیری قوم کے کچھ لوگ مدینہ آئے تھے۔ میں نے ان کے لیے کچھ مال کا حکم دیا ہے، اسے پکڑو اور ان میں تقسیم کر دو۔“ میں نے کہا: اے امیر المومنین! کاش! آپ میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے لو۔“ اسی دوران ان کا دربان یرفاء آیا۔ اس نے کہا: عثمان، عبدالرحمن، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم آئے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان کو آنے دو۔“ تھوڑی دیر بعد وہ پھر آیا اور کہا: علی اور عباس رضی اللہ عنہما بھی آئے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان کو بھی اجازت دے دو۔“ وہ دونوں آئے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دو، وہ بنی نضیر کے اموال کے بارے میں لڑ رہے تھے، جو اللہ نے نبی ﷺ کو دیا تھا۔ جماعت (عثمان وغیرہ رضی اللہ عنہم) نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور ایک کو دوسرے سے آرام پہنچاؤ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں، جس کے حکم سے آسمان زمین قائم ہے، کیا تم جانتے ہو کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“، آپ ﷺ نے اپنے آپ کا ارادہ کیا تھا؟“ انھوں نے کہا: ایسے ہی کہا تھا، پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا ایسے ہی ہے؟“ دونوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: ”میں اس بارے تمہیں بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے مالِ فئی کو خاص کیا تھا، اور اس میں سے کسی اور کو کچھ نہ دیا تھا، اللہ نے فرمایا: ﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ﴾ [سورة الحشر: 7] اور یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھا، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے اس کو تمہارے علاوہ کسی اور کے لیے خاص نہ کیا تھا اور نہ تم پر کسی کو ترجیح دی تھی، آپ ﷺ نے وہ تم کو دیا تھا، باقی مال سے رسول اللہ ﷺ اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے سال بھر کا خرچ۔ پھر رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا والی ہوں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور اس میں کام کیا، جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور تم وہاں تھے۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”تم کو یاد ہے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو تم نے کہا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک، اچھے اور حق کے تابع تھے۔ پھر اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فوت کر دیا۔ میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا والی ہوں، میں نے قبضہ کر لیا، دو سال میری امارت کے دوران میں نے اس میں کام کیا جیسے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کام کیا اور تم اس وقت وہاں تھے“، پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”تم کو یاد ہے اس بارے میں جو تم نے کہا اور اللہ جانتا ہے میں اس میں سچا ہوں، اچھا اور حق کے تابع ہوں، پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تمہاری بات ایک تھی اور تمہارا معاملہ ایک ہی تھا، میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“ پھر جب ظاہر ہوا میرے لیے تو میں نے وہ تم کو دے دیا اور میں نے کہا: میں تم کو اس شرط پر دوں گا کہ تم اس میں اللہ کے وعدے کے مطابق کام کرو گے جیسے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور میں نے کام کیا۔ تم نے کوئی بات نہ کی۔ تم نے کہا: ہمیں اس شرط پر دے دو۔ پس میں نے تم کو دے دیا، کیا اب تم میری طرف سے کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے! میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہ کروں گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے، اگر تم اس سے عاجز آ گئے ہو تو مجھے دے دو، میں تم دونوں سے اسے کافی ہو جاؤں گا۔“ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں مالک نے سچ کہا ہے، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ کی بیویوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ مالِ فئی سے ثمن کا سوال کر رہی ہیں، میں نے کہا: میں ان کو اس سے روکوں گی۔ میں نے ان سے کہا: کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتیں؟ کیا تم جانتی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے“، آپ ﷺ کا اپنے بارے میں ارادہ تھا، ”ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور آلِ محمد ﷺ اس سے کھا سکتی ہے“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ باتیں آپ کی بیویوں کو کہیں، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، وہ فرماتے تھے: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میری وراثت تقسیم نہ کرنا ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے“، پس وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس صدقہ تھا۔ ان کا جھگڑا لمبا ہو گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے تقسیم کرنے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے اعراض کر لیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کے بعد حسن بن علی پھر حسین بن علی پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن (رضی اللہ عنہم) دونوں کے پاس رہا۔ پھر زید بن حسن (رحمہ اللہ) کے پاس تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کا صدقہ تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَجُلٍ فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ: اكْتُبْهُ لِي، فَأَتَى بِهِ مَكْتُوبًا مُزَبَّرًا: دَخَلَ الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ عُمَرُ لِطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَالِ النَّبِيِّ صَدَقَةٌ، إِلَّا مَا أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ وَكَسَاهُمْ، إِنَّا لَا نُورَثُ "؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ عَلَى أَهْلِهِ وَيَتَصَدَّقُ بِفَضْلِهِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، فَكَانَ يَصْنَعُ الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. لَفْظُ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ، إِلَى آخِرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے حدیث سنی، مجھے تعجب ہوا۔ میں نے اسے کہا: مجھے لکھ دو۔ وہ لکھا ہوا ٹکڑا لایا، اتنے میں عباس اور علی رضی اللہ عنہما بھی آگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اور ان کے پاس طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ وہ دونوں جھگڑ رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہر نبی کا مال صدقہ ہوتا ہے مگر جو وہ اپنے اہل کو کھلا دے یا ان کو پہنا دے اور ہم وارث نہیں بنائے جاتے۔“ انہوں نے کہا: ہاں ایسے ہی ہے، پس رسول اللہ ﷺ اپنے مال سے اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے اور زائد مال کا صدقہ کردیتے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ فوت ہوگئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے والی بنے دو سال تک۔ وہ بھی اسی طرح کرتے تھے جس طرح رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ؛ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ " وَاللهِ إِنِّي لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ بَعْدُ إِلَّا صَنَعْتُهُ، قَالَ: فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ، فَدَفَنَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَكَانَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا انْصَرَفَ وُجُوهُ النَّاسِ عَنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ. قَالَ مَعْمَرٌ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: كَمْ مَكَثَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَقَالَ رَجُلٌ لِلزُّهْرِيِّ: فَلَمْ يُبَايِعْهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى مَاتَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا؟ قَالَ: وَلَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ⦗٤٩٠⦘ وَقَوْلُ الزُّهْرِيِّ فِي قُعُودِ عَلِيٍّ عَنْ بَيْعَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مُنْقَطِعٌ، وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مُبَايَعَتِهِ إِيَّاهُ حِينَ بُويِعَ بَيْعَةَ الْعَامَّةِ بَعْدَ السَّقِيفَةِ أَصَحُّ، وَلَعَلَّ الزُّهْرِيَّ أَرَادَ قُعُودَهُ عَنْهَا بَعْدَ الْبَيْعَةِ ثُمَّ نُهُوضَهُ إِلَيْهَا ثَانِيًا وَقِيَامَهُ بِوَاجِبَاتِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ اور عباس رضی اللہ عنہما، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی میراث تلاش کر رہے تھے اور اس وقت دونوں فدک کی زمین اور خیبر سے حصہ طلب کر رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے، جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور اس مال سے آلِ محمد کھا سکتے ہیں“ اور میں بھی وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا غصے میں آ گئیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر چلی گئیں، پھر فوت ہونے تک ان سے بات نہ کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے رات کو ان کو دفن کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہ بتایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگوں کے پاس علی رضی اللہ عنہ کے لیے کوئی وجہ تھی، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں تو لوگوں کی وجوہات دور ہو گئیں۔ معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے زہری رحمہ اللہ سے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے بعد کتنی دیر زندہ رہی تھیں؟ انہوں نے بتایا: چھ ماہ۔ ایک آدمی نے زہری رحمہ اللہ سے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہ کی تھی، حتیٰ کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں، انہوں نے کہا: اور نہ ہی بنی ہاشم کے کسی آدمی نے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْيَمَانِ: أَخْبَرَكَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَاطِمَةُ حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ؛ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، يَعْنِي مَالَ اللهِ، لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ "، وَإِنِّي وَاللهِ لَا أُغَيِّرُ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلِيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، فَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَإِنِّي لَا آلُو فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَتْرُكَ فِيهَا أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی وراثت کا سوال کیا، اس میں سے جو اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر لوٹایا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت نبی ﷺ کا صدقہ طلب کر رہی تھیں، مدینہ اور فدک کا اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے، جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، اس سے آلِ محمد ﷺ کھا سکتے ہیں، یعنی اللہ کا مال نہیں ہے ان کے لیے کہ وہ کھانا زیادہ کریں“ اور اللہ کی قسم! میں نبی ﷺ کے صدقات کو اس کے حال سے بدل نہیں سکتا جس پہ نبی ﷺ کے دور میں تھے اور میں ان میں اسی طرح کام کروں گا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس طرح پایا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کے قرابت دار میرے نزدیک زیادہ محبوب ہیں کہ میں ان کو اپنے رشتہ داروں سے ملاؤں اور وہ شجر جو میرے اور تمہارے درمیان صدقات کا ہے، میں خیر سے پیچھے نہ رہوں گا اور اس کام کو نہیں چھوڑوں گا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَةً لَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، قَالَ: فَكَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهَا ذَلِكَ، قَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ؛ فَإِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ. فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ، فَغَلَبَ عَلِيٌّ عَلَيْهَا، وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا ⦗٤٩١⦘ عُمَرُ وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ، وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى وَلِيِّ الْأَمْرِ، فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سوال کیا کہ وہ ان کے لیے میراث تقسیم کریں، جو اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس ترکہ میں سے دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے، جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا غصہ میں آگئیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر چلی گئیں، وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں، یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہی تھیں۔ پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے ترکہ سے حصہ طلب کیا تھا، خیبر، فدک اور مدینہ کے صدقات کا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کر دیا اور کہا: میں کوئی ایسا کام نہ چھوڑوں گا جسے رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے مگر میں بھی وہی کروں گا، میں ڈرتا ہوں کہ میں کوئی کام چھوڑ دوں کہ میں حق سے پھر جاؤں گا۔ رہا آپ ﷺ کا مدینہ کا صدقہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کو دے دیا تھا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب آگئے اور فدک اور خیبر کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے روک رکھا تھا اور فرمایا: وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کا صدقہ ہیں، اس کے حق دار حوادثات ہیں اور ان دونوں کا معاملہ میری طرف ہے، وہ دونوں آج تک ایسے ہی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِيُّ بِنَيْسَابُورَ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا مَرِضَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا فَاطِمَةُ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ، فَقَالَتْ: أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَتْ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا وَقَالَ: " وَاللهِ مَا تَرَكْتُ الدَّارَ وَالْمَالَ وَالْأَهْلَ وَالْعَشِيرَةَ إِلَّا ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللهِ وَمَرْضَاةِ رَسُولِهِ وَمَرْضَاتِكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ "، ثُمَّ تَرَضَّاهَا حَتَّى رَضِيَتْ هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ انہوں نے اجازت مانگی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فاطمہ! ابوبکر آئے ہیں، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ (میں انہیں) اجازت دے دوں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی۔ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہیں راضی کیا اور کہا: میں نے اپنا گھر، مال، اہل اور خاندان نہیں چھوڑا مگر صرف اللہ کی رضا کے لیے، رسول اللہ ﷺ کی رضا کے لیے اور تم اہل بیت کی رضا کے لیے۔ پھر انہیں راضی کیا، وہ راضی ہو گئیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكٌ، وَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ، وَيُزَوِّجُ فِيهِ أَيِّمَهُمْ " وَإِنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا، فَأَبَى، فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانَ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ لَيْسَ لِي بِحَقٍّ، وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ، يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا أُقْطِعَ مَرْوَانُ فَدَكًا فِي أَيَّامِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَأَنَّهُ تَأَوَّلَ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَطْعَمَ اللهُ نَبِيًّا طُعْمَةً فَهِيَ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ، وَكَانَ مُسْتَغْنِيًا عَنْهَا بِمَالِهِ فَجَعَلَهَا لِأَقْرِبَائِهِ، وَوَصَلَ بِهَا رَحِمَهُمْ "، وَكَذَلِكَ تَأْوِيلُهُ عِنْدَ كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ. وَذَهَبَ آخَرُونَ إِلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِذَلِكَ التَّوْلِيَةُ وَقَطْعُ جَرَيَانِ الْإِرْثِ فِيهِ، ثُمَّ تُصْرَفُ فِي مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ، كَمَا كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِ، وَكَمَا رَآهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ رَدَّ الْأَمْرَ فِي فَدَكٍ إِلَى مَا كَانَ. وَاحْتَجَّ مَنْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا بِمَا رَوَيْنَا فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهمَا ⦗٤٩٢⦘ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى وَلِيِّ الْأَمْرِ، فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْآنَ.
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جمع کیا جب وہ خلیفہ بنائے گئے اور کہا: ”رسول اللہ ﷺ کے لیے فدک تھا، آپ ﷺ اس سے خرچ کرتے تھے اور بنی ہاشم کے چھوٹوں پر لوٹاتے تھے اور ان کی بیواؤں کی شادی کرتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ اسے دے دیا جائے۔ آپ ﷺ نے انکار کر دیا، وہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اسی طرح تھا، یہاں تک کہ وہ گزر گئے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ والی بنے، انہوں نے بھی اسی طرح کیا، جس طرح رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، اپنی زندگی میں وہ بھی فوت ہو گئے۔ جب عمر رضی اللہ عنہ والی بنے تو انہوں نے بھی ویسا ہی کیا، جیسا ان سے پہلے دو نے کیا وہ بھی گزر گئے، پھر مروان کو دے دیا گیا، پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا بن گیا۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہ دیا تھا، میرے لیے بھی اس میں کوئی حق نہیں ہے اور میں تم کو گواہ بناتا ہوں۔ میں نے اسے اسی طرح لوٹا دیا ہے جیسے وہ پہلے تھا، یعنی رسول اللہ ﷺ کے دور میں۔“
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مروان کو فدک دیا گیا اور گویا کہ انہوں نے اس کی تاویل کی ہے، جو نبی ﷺ سے بیان کیا گیا ہے: ”جب اللہ نبی کو کچھ کھلاتا ہے تو وہ اس کے بعد اسی کا ہوتا ہے، جو اس کی جگہ پر ہو“ اور وہ اپنے مال کی وجہ سے اس سے بے پروا تھے، پس اسے اقرباء کے لیے بنا دیا اور رشتہ داروں کو بھی ساتھ شامل کیا، اسی طرح اکثر اہل علم نے اس کی تاویل کی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مروان کو فدک دیا گیا اور گویا کہ انہوں نے اس کی تاویل کی ہے، جو نبی ﷺ سے بیان کیا گیا ہے: ”جب اللہ نبی کو کچھ کھلاتا ہے تو وہ اس کے بعد اسی کا ہوتا ہے، جو اس کی جگہ پر ہو“ اور وہ اپنے مال کی وجہ سے اس سے بے پروا تھے، پس اسے اقرباء کے لیے بنا دیا اور رشتہ داروں کو بھی ساتھ شامل کیا، اسی طرح اکثر اہل علم نے اس کی تاویل کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ "؟ وَفِي رِوَايَةِ الْقَعْنَبِيِّ: فَيَسْأَلْنَهُ حَقَّهُنَّ، فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب نبی ﷺ فوت ہو گئے تو آپ کی ازواج نے ارادہ کیا کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، وہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی میراث لینا چاہتی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا اللہ کے رسول ﷺ نے نہیں کہا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. قُلْتُ: أَلَا تَتَّقِينَ اللهَ، أَلَمْ تَسْمَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ؛ إِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِآلِ مُحَمَّدٍ لِنَائِبَتِهِمْ وَلِضَيْفِهِمْ، فَإِذَا مِتُّ فَهُوَ إِلَى وَلِيِّ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي "؟.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کی سند سے ہے کہ میں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے۔ ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، یہ مال آلِ محمد (ﷺ) کا ہے، ان کے حوادثات کے لیے، ان کے مہمانوں کے لیے، جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے بعد میرے والی کے لیے ہو گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری وراثت دیناروں میں تقسیم نہ کی جائے۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی امانت کے علاوہ جو چھوڑا وہ صدقہ ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي ⦗٤٩٣⦘ هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں اور اپنی وراثت مانگی، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے، ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَاءَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ؟ قَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي، قَالَتْ: فَمَا لِي لَا أَرِثُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّا لَا نُورَثُ " وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہا: ”تمہارا وارث کون ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرے اہل اور اولاد۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میرے لیے کیا ہے؟ میں نبی ﷺ کی وارث کیوں نہیں بن سکتی؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور لیکن میں ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں جن کی نبی ﷺ دیکھ بھال کرتے تھے اور ان پر خرچ کرتا ہوں جن پر نبی ﷺ خرچ کرتے تھے۔““
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ، ثنا يُوسُفُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک فاطمہ رضی اللہ عنہا ۔۔۔ باقی حدیث اسی طرح روایت کی لیکن اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ " وَقَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: " إِنَّا لَا نُورَثُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نبی وارث نہیں بناتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ: " أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ مَكَانَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَحَكَمْتُ بِمِثْلِ مَا حَكَمَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي فَدَكٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن علی رحمہ اللہ نے کہا: اگر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جگہ ہوتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک کے بارے میں کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ح قَالَ: وَأنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَدِمَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " قَالَ: فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قُدِمَ بِمَالِ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ؟ فَلْيَقُمْ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَدَنِي: " إِذَا قَدِمَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، يَعْنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، قَالَ: فَخُذْ، فَحَثَوْتُ، فَقَالَ عُدَّهَا، فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ، قَالَ: فَخُذْ بِعَدَدِهَا مَرَّتَيْنِ. زَادَ فِيهِ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: أَتَيْتُهُ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، مَرَّةً فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ⦗٤٩٤⦘ الثَّانِيَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ: قَدْ سَأَلْتُكَ مَرَّتَيْنِ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تُبَخَّلَ، قَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي مَرَّةً إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ، فَأِيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟ قَالَ إِسْحَاقُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ أَوْ نَحْوَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بحرین کا مال آئے گا میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا (تین دفعہ فرمایا) دوں گا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بحرین کا مال نہ آیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے، پھر جب بحرین کا مال آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس کسی کا نبی ﷺ پر قرض وغیرہ ہے، پس وہ کھڑا ہوجائے۔“ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ”جب بحرین کا مال آئے گا میں تمہیں یہ یہ دوں گا“، یعنی تین مٹھیاں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پکڑ لو۔“ میں نے مٹھی بھری تو انہوں (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”ان کو شمار کرو“، تو وہ پانچ سو تھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”دو مرتبہ اس تعداد کو (مزید) پکڑو۔“ ابن منکدر نے زیادتی کی ہے: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دفعہ آیا، پس میں نے ان سے سوال کیا لیکن انہوں نے نہ دیا، پھر میں دوسری مرتبہ آیا اور میں نے سوال کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے نہ دیا، میں نے کہا: میں نے آپ سے دو دفعہ سوال کیا ہے آپ نے مجھے دیا نہیں، یا تو آپ مجھے دے دیں یا آپ بخل کر رہے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تو پہلی دفعہ میرے پاس آیا تھا میرا ارادہ تھا کہ تمہیں دے دوں گا، بخل والی کیا بات ہے۔“