کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: عطیات میں غلاموں کا کوئی حق نہیں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٦٥⦘ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا أَحَدٌ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ أُعْطِيَهُ أَوْ مُنِعَهُ، إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " هَذَا هُوَ الْمَعْرُوفُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
مالک بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی بھی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو، خواہ اسے دیا جائے یا اس سے روک لیا جائے، سوائے غلاموں کے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہی (روایت) معروف ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہی (روایت) معروف ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَخْلَدٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ ثَلَاثَةَ مَمْلُوكِينَ شَهِدُوا بَدْرًا، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ كُلَّ سَنَةٍ ثَلَاثَةَ آلَافٍ ثَلَاثَةَ آلَافٍ " فَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ خَصَّهُمْ بِذَلِكَ لِشَرَفِهِمْ بِشُهُودِهِمْ بَدْرًا، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ يُعْطِيهِمْ بَعْدَمَا عُتِقُوا وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ فِيهِ: مِنْ غِفَارَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
مخلد غفاری سے روایت ہے کہ تین غلام بدر میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان میں سے ہر آدمی کو ہر سال تین تین ہزار دیتے تھے۔
اس میں احتمال ہے کہ ان کو ان کے شرف کی وجہ سے خاص کیا ہو یعنی بدر میں حاضر ہونے کی وجہ سے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کو آزادی کے بعد دیا ہو۔
اس میں احتمال ہے کہ ان کو ان کے شرف کی وجہ سے خاص کیا ہو یعنی بدر میں حاضر ہونے کی وجہ سے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کو آزادی کے بعد دیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَهُ. قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: أُرَاهُ بَعْدَمَا عُتِقُوا.
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے خیال میں ان کو آزاد کرنے کے بعد ایسا کیا تھا۔