کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: امانتیں ادا کرنے کی ترغیب کے متعلق جو مروی ہے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ". قَالَ: فَسَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَالرَّجُلُ فِي مَالِ ابْنِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " لَفْظُ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا، امام ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آدمی اپنے اہل کے بارے میں ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اسے اس بارے میں پوچھا جائے گا اور خادم اپنے آقا کے مال کے بارے میں ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا اور میرے خیال میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے بیٹے کے مال کا بھی ذمہ دار ہے اور اسے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور تم میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داری کے بارے میں جوابدہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12686
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2409۔ مسلم 1829»
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَنَفِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنا أَبُو عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں جس شخص میں پائی گئیں وہ منافق ہے اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب امانت دی جائے تو خیانت کرے اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12687
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَأَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نَصْرٍ التَّمَّارِ، وَعَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12688
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا نَافِعُ بْنُ ⦗٤٧١⦘ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت پکڑائی جائے تو خیانت کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12689
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کم ہی ایسا ہوا ہوگا کہ ہمیں نبی ﷺ نے خطبہ دیا ہو اور یہ نہ کہا ہو: ”جو امانت کا خیال نہ کرے اس کا ایمان نہیں ہے اور جو عہد کی پاسداری نہ کرے اس کا دین نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12690
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ، وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ، وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب امانت دی جائے تو اسے ادا کرو اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو اور اپنی نگاہ نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12691
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللهِ يُكَفِّرُ كُلَّ ذَنْبٍ، إِلَّا الْأَمَانَةَ، يُؤْتَى بِصَاحِبِهَا وَإِنْ كَانَ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيُقَالُ لَهُ: أَدِّ أَمَانَتَكَ، فَيَقُولُ: رَبِّ، ذَهَبَتِ الدُّنْيَا فَمِنْ أَيْنَ أُؤَدِّيهَا؟ فَيَقُولُ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى الْهَاوِيَةِ، حَتَّى إِذَا أُتِيَ بِهِ إِلَى قَرَارِ الْهَاوِيَةِ مُثِّلَ لَهُ أَمَانَتُهُ كَيَوْمِ دُفِعَتْ إِلَيْهِ، فَيَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ يَصْعَدُ بِهَا فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا هَوَتْ وَهَوَى فِي إِثْرِهَا أَبَدَ الْآبِدِينَ، وَقَرَأَ عَبْدُ اللهِ {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} [النساء: ٥٨] ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا ہر گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے، سوائے امانت کے۔ امانت والے کو لایا جائے گا، اگرچہ وہ اللہ کے راستے میں قتل کیا گیا ہو، تو اسے کہا جائے گا: ’اپنی امانت ادا کرو۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! دنیا ختم ہو گئی، اب کہاں سے ادا کروں؟‘ اللہ فرمائے گا: ’اسے ہاویہ کی طرف لے جاؤ۔‘ یہاں تک کہ جب اسے ہاویہ کی تہہ میں لایا جائے گا تو اس کی امانت اسی طرح اس کے سامنے لائی جائے گی جیسے اس دن تھی جب اس کے سپرد کی گئی تھی، وہ اسے اپنی گردن پر اٹھا کر آگ میں اوپر چڑھے گا، یہاں تک کہ جب وہ سمجھے گا کہ وہ اس سے نکل آیا ہے تو وہ (امانت) گر پڑے گی اور وہ بھی اس کے پیچھے گر جائے گا، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 58]۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12692
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تَنْظُرُوا إِلَى صَلَاةِ أَحَدٍ، وَلَا إِلَى صِيَامِهِ، وَلَكِنِ انْظُرُوا إِلَى مَنْ إِذَا حَدَّثَ صَدَقَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ أَدَّى، وَإِذَا أَشْفَى وَرِعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی کی نماز اور روزہ کی طرف نہ دیکھو، لیکن دیکھو جب وہ بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے، جب امانت دی جاتی ہے تو ادا کرتا ہے اور جب (کسی برائی کے) قریب پہنچتا ہے تو پرہیزگاری سے رک جاتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12693
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا يَغُرَّنَّكَ صَلَاةُ رَجُلٍ، وَلَا صِيَامُهُ، مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ صَلَّى، وَلَكِنْ لَا دِينَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی آدمی کی نماز اور روزہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے، لیکن جو امانت کا خیال نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12694
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كِلَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ: " لَا يُعْجِبَنَّكُمْ مِنَ الرَّجُلِ طَنْطَنَتُهُ، وَلَكِنَّهُ مَنْ أَدَّى الْأَمَانَةَ، وَكَفَّ عَنْ أَعْرَاضِ النَّاسِ، فَهُوَ الرَّجُلُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید بن ابی کلاب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ خطبہ دے رہے تھے کہ تم کو کسی کی آہ و زاری تعجب میں نہ ڈال دے، لیکن جو شخص امانت ادا کرے اور لوگوں کی عزت (پامال) کرنے سے اعراض کرے وہ آدمی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12695
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ الصَّلَاةُ، وَسَيُصَلِّي أَقْوَامٌ لَا دِينَ لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پہلی چیز جو تم اپنے دین سے گم پاتے ہو وہ امانت ہے اور آخری چیز جو تم گم کردیتے ہو وہ نماز ہے اور عنقریب لوگ نمازیں پڑھیں گے لیکن ان کا دین نہ ہوگا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ہجرت کے بارے میں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ میں رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی امانتوں کو واپس کریں جو لوگوں کی آپ ﷺ کے پاس تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12696
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالُ قَوْمِي مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ: " فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَلَاثَ لَيَالٍ وَأَيَّامَهَا؛ حَتَّى أَدَّى عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَدَائِعَ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَهُ لِلنَّاسِ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا لَحِقَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَهَذَا فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ أَخْبَرَهُمْ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا زِيَادٌ فَذَكَرَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن عویم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کے لیے نکلے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ تین دن اور راتیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ لوگوں کی امانتیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس تھیں وہ لوٹائیں، جب فارغ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ سے مل گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوديعة / حدیث: 12697
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»