کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو جہاد کی نیت سے شریک ہوا لیکن بیمار پڑ گیا یا اس نے قتال نہ کیا
حدیث نمبر: 12904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: رَأَى سَعْدٌ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَنْصُرُ اللهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضُعَفَائِهِمْ، بِصَلَاتِهِمْ وَدَعْوَتِهِمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ.
حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے ان کے کمزوروں کی وجہ سے اور ان کی نمازوں اور ان کی دعاؤں کی وجہ سے۔“
حدیث نمبر: 12905
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْغُونِي الضُّعَفَاءَ؛ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنے ضعفاء میں تلاش کرو، پس تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے تمہارے کمزوروں کی وجہ سے۔“