کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دشمن کے علاقے میں لشکر سے روانہ ہونے والے دستے (سریہ) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَبِي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ ⦗٥٤٦⦘ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: " لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشِ أَوْطَاسَ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقُتِلَ دُرَيْدٌ، وَهَزَمَ اللهُ أَصْحَابَهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر رضی اللہ عنہ کو اوطاس کے لشکر پر بھیجا، پس وہ درید بن صمہ کو ملے، درید قتل کر دیا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دے دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، يَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدَتِهِمْ " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال خطبہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کا جاہلیت میں کوئی عہد و پیمان تھا، پس اسلام اس کو اور مضبوط کرتا ہے اور اسلام میں کوئی (غلط) عہد و پیمان نہیں ہے اور مسلمان اپنے علاوہ دوسروں کے خلاف جماعت اور قوت ہیں، ان کے قریبی ان کی ذمہ داریوں کو ادا کریں گے، دور والے ان کے مددگار ہوں گے اور ان کے سرایا قیام پذیروں کا دفاع کریں گے۔“ لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ" غَزَا الرُّومَ، فَأَخَذُوا رَجُلًا فَاتَّهَمُوهُ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ عَيْنٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلِكُ الرُّومِ فِي النَّاسِ وَرَاءَ هَذَا الْجَبَلِ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَشِيرُوا عَلَيَّ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَرَى أَنْ تُقِيمَ حَتَّى يَلْحَقَ بِكَ النَّاسُ، وَكَانُوا مُنْقَطِعِينَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ إِلَى فِئَتِكَ وَلَا تَقْدُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ؛ فَإِنَّهُ لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِمْ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُعْطِي اللهَ عَهْدًا لَا أَخِيسُ بِهِ، لَأُخَالِطَنَّهُمْ. فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ إِذَا هُوَ بِهِمْ قَدْ مَلَئُوا الْأَرْضَ، فَحَمَلَ وَحَمَلَ أَصْحَابُهُ، فَانْهَزَمَ الْعَدُوُّ وَأَصَابُوا غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَلَحِقَ النَّاسُ الَّذِينَ لَمْ يَحْضُرُوا الْقِتَالَ وَقَالُوا: نَحْنُ شُرَكَاؤُكُمْ فِي الْغَنِيمَةِ، وَقَالَ الَّذِينَ شَهِدُوا الْقِتَالَ: لَيْسَ لَكُمْ نَصِيبٌ؛ لَمْ تَحْضُرُوا الْقِتَالَ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ مِمَّنْ حَضَرَ مَعَ حَبِيبٍ: لَيْسَ لَكُمْ نَصِيبٌ، فَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَكَتَبَ أَنِ اقْسِمْ بَيْنَهُمْ كُلِّهِمْ، قَالَ: وَأَظُنُّ مُعَاوِيَةَ كَانَ كَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ بِذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَقَالَ الشَّاعِرُ:.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے روم کا غزوہ لڑا، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا اور اس پر (جاسوسی کا) شبہ کیا، اس نے خبر دی کہ وہ جاسوس ہے اور بتایا کہ روم کا بادشاہ لشکر کے ساتھ اس پہاڑ کے پیچھے ہے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم مجھے کوئی مشورہ دو، بعض نے کہا: ہم آپ کے لیے یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ یہاں ٹھہرے رہیں یہاں تک کہ باقی لوگ آپ سے آ ملیں، اور بعض نے کہا کہ آپ اپنی جماعت کی طرف لوٹ جائیں اور ان کی طرف نہ بڑھیں کیونکہ ہمیں ان کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں ہے، انہوں نے کہا: میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ میں اپنا پیمان نہیں توڑوں گا بلکہ میں انہی کے درمیان رہوں گا، جب دن چڑھا تو وہ (رومی) زمین پر پھیل گئے، پس انہوں نے خود بھی حملہ کیا اور اپنے ساتھیوں کو بھی ابھارا، چنانچہ دشمن کو شکست ہوئی اور انہیں غنیمتیں ملیں، پھر وہ لوگ آ ملے جو قتال میں حاضر نہ ہوئے تھے، انہوں نے کہا: ہم بھی غنیمت میں تمہارے شریک ہیں، مگر جو قتال میں حاضر ہوئے تھے انہوں نے کہا: تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ تم قتال میں حاضر نہیں ہوئے تھے، اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو لوگ حاضر ہوئے وہ حبیب کے ساتھ تھے، تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے یہ معاملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا تو انہوں نے لکھا کہ مالِ غنیمت سب میں تقسیم کر دو، راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا تھا۔