کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دشمن کے مردوں کو مال کے بدلے فدیہ لے کر چھوڑنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12843
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، وَعَلِيُّ، وَعُمَرُ، مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ، أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً؛ فَتَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ " قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ، نَسِيبٍ لِعُمَرَ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ. فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا ⦗٥٢٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ، فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ بِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ "، شَجَرَةٌ قُرَيْبَةٌ مِنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال: ٦٧] إِلَى قَوْلِهِ {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩]، فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یوم بدر کا قصہ بیان کیا کہ جب صحابہ نے ان (مشرکین) کو قیدی بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر، علی اور عمر (رضی اللہ عنہم) تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے دیتے ہو؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! وہ چچوں اور خاندان کے لوگ ہیں، میرے خیال میں آپ ان سے فدیہ لے لیں، ہمیں کفار پر قوت بھی مل جائے گی، پس قریب ہے کہ اللہ ان کو اسلام کی طرف ہدایت دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تیرا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں ابوبکر کی رائے نہیں رکھتا، میری رائے ہے کہ آپ ہمیں مقرر کریں کہ ہم ان کی گردنیں اتار دیں، علی رضی اللہ عنہ کو عقیل پر مقرر کیا جائے، وہ اس کی گردن اتارے اور مجھے میرے فلاں رشتہ دار کی گردن اتارنے دی جائے، یہ کفر کے امام ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ کو ابوبکر کی بات پسند آئی اور میری بات پسند نہ آئی، جب اگلے دن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں رو رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بتائیں کیوں آپ اور ابوبکر رو رہے ہیں؟ اگر رونے والی بات ہو تو میں بھی رونا شروع کر دوں، ورنہ آپ کو بھی رونے سے روکوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھ پر تیرے ساتھیوں نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا تھا، ان کا عذاب میرے اوپر اس درخت سے بھی قریب پیش کیا گیا۔“ (درخت جو نبی ﷺ کے قریب تھا)۔ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة الأنفال: 67] «إِلَىٰ قَوْلِهِ» ”اللہ کے اس قول تک“ ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 69]، پس اللہ نے ان کے لیے غنیمت کو حلال کردیا۔
حدیث نمبر: 12844
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَوْمُكَ وَأَصْلُكَ، اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَتِبْهُمْ؛ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ، قَدِّمْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْتَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ فَأَضْرِمِ الْوَادِي عَلَيْهِمْ نَارًا، ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ، فَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ، وَقَالَ نَاسٌ: يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ. ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ، وَإِنَّ اللهَ لَيُشَدِّدُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ {وَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى قَالَ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: ١١٨]، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ مَثَلُ مُوسَى قَالَ {رَبَّنَا اطْمِسَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوَا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ} [يونس: ٨٨]، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ قَالَ {رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا} [نوح: ٢٦]، أَنْتُمْ عَالَةٌ؛ فَلَا يَنْفَلِتَنَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ "، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ مِنِّي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، حَتَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى} [الأنفال: ٦٧]، إِلَى آخِرِ الثَّلَاثِ الْآيَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی قوم اور آپ کی اصل ہیں۔ ان کو باقی رکھیں اور ان سے توبہ کروائیں۔ شاید اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کو نکالا؛ ان کو پیش کریں اور ان کی گردنیں اتاریں۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ زیادہ لکڑیوں والی وادی میں ہیں، آپ وادی میں آگ جلائیں اور ان کو اس میں ڈال دیں۔ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، کوئی جواب نہ دیا، پھر کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کر لیں اور بعض نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کر لیں اور بعض نے کہا: ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کی بات پر عمل کر لیں، پھر رسول اللہ ﷺ ان پر نکلے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بعض آدمیوں کے دلوں کو اس بارے میں نرم رکھا ہے حتیٰ کہ دودھ سے بھی نرم اور بعض کے دلوں کو سخت رکھا ہے، حتیٰ کہ پتھر سے بھی زیادہ سخت؛ اور اے ابوبکر! تیری مثال ابراہیم علیہ السلام کی سی ہے، انہوں نے کہا تھا: ﴿مَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة إبراهيم: 36] اور اے ابوبکر! تیری مثال عیسیٰ علیہ السلام کی سی ہے، انہوں نے کہا: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 118] اور اے عمر! تیری مثال موسیٰ علیہ السلام کی ہے، انہوں نے کہا: ﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ﴾ [سورة يونس: 88] اور اے عمر! تیری مثال نوح علیہ السلام کی سی ہے، انہوں نے کہا: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ [سورة نوح: 26] تم اس پر نگران ہو، پس کسی کو نہ چھوڑنا مگر فدیے سے یا قتل کر دینا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مگر سہیل بن بیضاء! میں نے سنا ہے وہ اسلام کا تذکرہ کرتا ہے، پس رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ میں نے اس دن سے زیادہ خوف والا دن اپنے اوپر نہ دیکھا تھا، جیسے مجھ پر آسمان سے پتھر گر رہا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مگر سہیل بن بیضاء“، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى﴾ [سورة الأنفال: 67]۔
حدیث نمبر: 12845
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٥٢٣⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ: " إِنْ شِئْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَادَيْتُمُوهُمْ وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِالْفِدَاءِ وَاسْتُشْهِدَ مِنْكُمْ بِعِدَّتِهِمْ " فَكَانَ آخِرَ السَّبْعِينَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، اسْتُشْهِدَ بِالْيَمَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر تم چاہو تو ان کو قتل کر دو اور اگر تم چاہو تو فدیے میں دے دو اور فدیہ سے فائدہ اٹھا لو اور تم میں سے ان کی تعداد کے برابر شہید کیے جائیں گے“ اور ستر کے آخری شہید ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں جو یمامہ میں شہید ہوئے۔
حدیث نمبر: 12846
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ فِدَاءَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعَمِائَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل جاہلیت کے لیے بدر کے دن چار سو فدیہ مقرر کیا۔
حدیث نمبر: 12847
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ لَيْسَ لَهُمْ فِدَاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ "، قَالَ: " فَجَاءَ غُلَامٌ مِنْ أَوْلَادِ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ، وَاللهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس فدیہ کے لیے کچھ نہ تھا، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کا فدیہ مقرر کر دیا کہ وہ انصار کے بچوں کو لکھنا سکھا دیں، پس انصار کا ایک بچہ اپنے باپ کے پاس گیا، اس نے پوچھا: ”کیا معاملہ ہے؟“ بچے نے کہا: ”میرے معلم نے مجھے مارا ہے۔“ باپ نے کہا: ”وہ خبیث بدر کا بدلہ چاہتا ہے، اللہ کی قسم! اب تو اس کے پاس نہ جانا۔“
حدیث نمبر: 12848
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارَزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: ائْذَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَلْنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا الْعَبَّاسِ فِدَاءَهُ، فَقَالَ: " لَا وَاللهِ لَا تَذَرُونَ دِرْهَمًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے آدمیوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی کہ اے اللہ کے رسول! ہمیں اجازت دے دیں ہم اپنی بہن کے بیٹے عباس کا فدیہ چھوڑ دیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔“
حدیث نمبر: 12849
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ كَانَتْ خَدِيجَةُ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا. فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ: " إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا "، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. ⦗٥٢٤⦘ فاَطْلَقُوه وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا. وَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُ أَعْلَمُ بِإِسْلَامِكَ، فَإِنْ يَكُنْ كَمَا تَقُولُ فَاللهُ يَجْزِيكَ، فَافْدِ نَفْسَكَ وَابْنَيْ أَخَوَيْكَ نَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَحْدَمٍ، أَخُو بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ "، فَقَالَ: مَا ذَاكَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي دَفَنْتَ أَنْتَ وَأُمُّ الْفَضْلِ فَقُلْتَ لَهَا: إِنْ أُصِبْتُ فَهَذَا الْمَالُ لِبَنِيَّ الْفَضْلِ وَعَبْدِ اللهِ وَقُثَمَ؟ "، فَقَالَ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُهُ، إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا عَلِمَهُ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ أُمِّ الْفَضْلِ، فَاحْتَسِبْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَصَبْتُمْ مِنْ عِشْرِينَ أُوقِيَّةٍ مِنْ مَالٍ كَانَ مَعِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْعَلُ " فَفَدَى الْعَبَّاسُ نَفْسَهُ وَابْنَيْ أَخَوَيْهِ وَحَلِيفَهُ، وَأَنْزَلَ اللهُ فِيهَا {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى إِنْ يَعْلَمِ اللهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [الأنفال: ٧٠]، وَأَعْطَانِي اللهُ مَكَانَ الْعِشْرِينَ الْأُوقِيَّةِ فِي الْإِسْلَامِ عِشْرِينَ عَبْدًا، كُلُّهُمْ فِي يَدِهِ مَالٌ يَضْرِبُ بِهِ، مَعَ مَا أَرْجُو مِنْ مَغْفِرَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَا فِيمَا حَدَّثَنَا بِهِ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو زینب بنت رسول اللہ ﷺ نے ابوالعاص کے فدیے میں وہ ہار بھیجا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے زینب کو ابوالعاص سے شادی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ پر رقت طاری ہوگئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو زینب کے قیدی کو چھوڑ دو اور اس کا فدیہ بھی لوٹا دو۔“ انھوں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! پس انھوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کا فدیہ لوٹا دیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مسلمان ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تیرے اسلام کو بہتر جانتا ہے۔ اگر واقعی ایسے ہی ہے تو اللہ تجھے اس کی جزا دے گا، پس اپنا اور اپنے دو بھتیجوں نوفل بن حارث اور عقیل بن ابی طالب اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو بن حارث کے بھائی کا فدیہ دو۔“ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مال کہاں جائے گا، جو تو اور ام فضل رضی اللہ عنہا نے دفن کیا تھا اور تو نے اسے کہا تھا: اگر میں مرجاؤں تو یہ مال فضل کے بیٹوں عبداللہ اور قثم کا ہے؟“ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں جان چکا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ ایسی چیز تھی جسے میرے اور ام فضل رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا، پس میرا فدیہ لیں، اے اللہ کے رسول! جو بیس اوقیہ بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں لیتا ہوں۔“ پس عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا، دو بھتیجوں اور اپنے حلیف کا فدیہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ قُل لِّمَن فِی أَیْدِیکُم مِّنَ الْأَسْرَىٰ إِن یَعْلَمِ اللَّهُ فِی قُلُوبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِیمٌ﴾ [سورة الأنفال: 70] پس اللہ نے مجھے بیس اوقیہ کے بدلے بیس غلام دیے اسلام میں، سب پر ان کی ملکیت تھی جن سے وہ اللہ سے مغفرت کی امید کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12850
وَقَدْ أَخْبَرَنَا فِي مَغَازِي ابْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ زَيْنَبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ثُمَّ بَعْدَ أَوْرَاقٍ يَقُولُ يُونُسُ: ثُمَّ رَجَعَ ابْنُ إِسْحَاقَ إِلَى الْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ فَذَكَرَ بِعْثَةَ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ، فَفَدَى كُلُّ قَوْمٍ أَسِيرَهُمْ بِمَا رَضُوا، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ الْعَبَّاسِ، هَذَا وَإِنَّمَا أَرَادَ يُونُسُ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ رِوَايَتَهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَغَيْرُهُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا، فَبَعْضُهُمْ قَدْ حَدَّثَ بِمَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ بَعْضٌ، وَقَدِ اجْتَمَعَ حَدِيثُهُمْ فِيمَا ذَكَرْتُ لَكَ مَنْ يَوْمِ بَدْرٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ ثُمَّ جَعَلَ يُدْخِلُ فِيمَا بَيْنَهُمَا بِغَيْرِ هَذَا الْإِسْنَادِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
احادیث کی اسناد پر بحث ہے۔
حدیث نمبر: 12851
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنِي ضَبَّةُ بْنُ مِحْصَنٍ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبُو مُوسَى اصْطَفَى أَرْبَعِينَ مِنْ أَبْنَاءِ الْأَسَاوِرَةِ لِنَفْسِهِ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى فَقَالَ: " مَا بَالُ أَرْبَعِينَ اصْطَفَيْتَهُمْ لِنَفْسِكَ مِنْ أَبْنَاءِ الْأَسَاوِرَةِ؟ " فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اصْطَفَيْتُهُمْ وَخَشِيتُ أَنْ يُخْدَعَ عَنْهُمُ الْجُنْدُ، فَفَادَيْتُهُمْ وَاجْتَهَدْتُ فِي فِدَائِهِمْ، ثُمَّ خَمَّسْتُ وَقَسَمْتُ، فَقَالَ ضَبَّةُ: فَصَادِقٌ وَاللهِ، فَمَا كَذَبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا كَذَّبْتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ضبہ بن محصن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے قیدیوں کے بیٹوں میں سے چالیس کو اپنے لیے منتخب کر لیا۔ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا کیا معاملہ ہے، تو نے چالیس بیٹوں کو چن لیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے ان کو چن لیا ہے، مجھے ڈر لاحق ہوا کہ لشکر ان کو دھوکا دے گا، پس میں نے ان کا فدیہ دیا اور ان کے فدیے میں کوشش کی، پھر میں نے ان کو تقسیم کر لیا۔ ضبہ رحمہ اللہ نے کہا: سچ ہے اللہ کی قسم! نہ امیر المؤمنین نے جھوٹ بولا اور نہ میں نے ان سے جھوٹ بولا۔
حدیث نمبر: 12852
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنا أَبُو الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ⦗٥٢٥⦘ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ النَّخَعِيِّ، حَدَّثَنِي أَشْيَاخُنَا قَالُوا: صَارَ فِي قِسْمَةِ النَّخَعِ رَجُلٌ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُلُوكِ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ، فَأَرَادَ سَعْدٌ أَنْ يَأْخُذَهُ مِنْهُمْ، فَعَدَوْا عَلَيْهِ بِسِيَاطِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ: إِنِّي كَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالُوا: قَدْ رَضِينَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: " إِنَّا لَا نُخَمِّسُ أَبْنَاءَ الْمُلُوكِ "، فَأَخَذَهُ مِنْهُمْ سَعْدٌ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: لِأَنَّ فِدَاءَهُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے شیوخ نے بیان کیا کہ قادسیہ کے دن بادشاہوں کے بیٹوں میں سے ایک آدمی تقسیم ہو گیا، سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینے کا ارادہ کیا۔ وہ صبح کے وقت آئے، اس نے ان کو پیغام دیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم راضی ہیں، پس عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف لکھا کہ ہم بادشاہوں کے بیٹوں سے خمس نہیں لیتے۔ پس سعد رضی اللہ عنہ نے اسے ان سے لے لیا۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کا فدیہ اس سے زیادہ تھا۔