کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دار الحرب کے بالغ مردوں میں سے امام کا جسے مناسب سمجھے احسان کر کے چھوڑ دینے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا فَأَعْتَقَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ} [الفتح: ٢٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ کے اسی آدمی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب پر جبلِ تنعیم سے فجر کی نماز کے وقت اترے تاکہ آپ کو قتل کر دیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کو پکڑ لیا اور قیدی بنا لیا، پھر ان کو آزاد کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ﴾ [سورة الفتح: 24] ”اللہ وہ ذات ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے۔“
حدیث نمبر: 12833
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ، فَثَارُوا فِي وُجُوهِنَا، فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ اللهُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُمْنَا إِلَيْهِمْ فَأَخَذْنَاهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ، وَهَلْ جَعَلَ لَكُمْ أَحَدٌ أَمَانًا؟ " قَالُوا: اللهُمَّ لَا، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ، وَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا} [الفتح: ٢٤].
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ اسی دوران تیس نوجوان اسلحہ کے ساتھ ہم پر چڑھ آئے۔ نبی ﷺ نے ان کے لیے بددعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی ختم کردی، پھر ہم نے ان کو پکڑ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: ”کیا تم کسی عہد میں آئے ہو یا کسی نے تم کو امان دی ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾ [سورة الفتح: 24]۔
حدیث نمبر: 12834
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي ⦗٥١٩⦘ سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ فِيهَا سَيْفَهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، فَأَجَبْنَاهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَقَالَ ثَانِيَةً: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللهُ، فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ "، فَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّغَانِيِّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس ہوئے تو وہ بھی ساتھ تھے، ایک دن ایک خاردار درختوں والی وادی میں قیلولہ کا وقت آگیا۔ رسول اللہ ﷺ اترے اور لوگ بھی درختوں کے سایہ میں پھیل گئے اور رسول اللہ ﷺ بھی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے۔ آپ ﷺ نے اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم سو گئے، جب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بلایا تو ہم نے جواب دیا (گئے) تو دیکھا آپ ﷺ کے پاس ایک دیہاتی کھڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے میری تلوار مجھ پر ہی سونت ڈالی ہے، میں اٹھا ہوں تو وہ اس کے ہاتھ میں ہے بغیر میان کے۔ اس نے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ! اس نے دوسری دفعہ کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔“ پس اس نے تلوار میان میں رکھ دی اور بیٹھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے بدلہ نہ لیا۔
حدیث نمبر: 12835
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ لَهُ: " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " قَالَ: قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ". فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلِيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ. فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَوْتَ يَا ثُمَامَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی سعید نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قافلہ نجد کی طرف بھیجا، وہ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے، جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا، اہل یمامہ کا سردار، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا، رسول اللہ ﷺ اس کی طرف آئے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ثمامہ! تیرا کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: اے محمد ﷺ! بہتری ہے، اگر تم مجھے قتل کرو گے تو خون والے کو قتل کرو گے (جس کا بدلہ لیا جاتا ہے) اور اگر تم احسان کرو گے تو ایک قدر دان پر احسان کرو گے اور اگر آپ مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو سوال کریں، جتنا آپ چاہیں گے آپ کو دیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ چلے گئے، اگلے دن پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثمامہ! کیسے ہو؟“ اس نے کہا: میں نے آپ سے کہا تھا، اگر احسان کرو گے تو احسان کا بدلہ دیا جائے گا اور اگر قتل کر دو گے تو تمہیں بھی قتل کیا جائے گا، اگر مال چاہیے تو جتنا مانگو گے اتنا ہی دیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثمامہ کو چھوڑ دو۔“ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گیا، اس نے غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور کہا: اے محمد ﷺ! اللہ کی قسم! میرے نزدیک آپ کی زمین سے زیادہ بغض والی کوئی زمین نہ تھی، پس آپ کا شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے اور میرے نزدیک زمین کا کوئی چہرہ اتنا بغض والا نہ تھا جتنا آپ ﷺ کا تھا، لیکن آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا اور اللہ کی قسم! کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ بغض والا نہ تھا، لیکن آپ کا دین سب سے زیادہ محبوب بن گیا اور جب آپ کے لشکر نے مجھے پکڑا تو میرا ارادہ عمرہ کرنے کا تھا پس آپ کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کا حکم دیا، جب وہ مکہ میں آیا تو ایک کہنے والے نے کہا: اے ثمامہ! تو بے دین ہو گیا ہے؟ ثمامہ نے کہا: نہیں، بلکہ میں مسلمان ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! اب تمہارے پاس (یمامہ سے) ایک دانہ بھی نہ آئے گا جب تک رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دے دیں۔
حدیث نمبر: 12836
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، أَخْبَرَكَ أَبُوكَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: حَتَّى كَانَ بَعْدُ الْغَدِ قَالَ: " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " فَذَكَرَ مِثْلَ كَلَامِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
شعیب بن لیث کے والد سے پچھلی حدیث کی طرح منقول ہے، صرف یہ الفاظ زائد ہیں: یہاں تک کہ آپ ﷺ نے صبح کے بعد کہا: ”اے ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟“
حدیث نمبر: 12837
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُسَارَى بَدْرٍ: " لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَخَلَّيْتُهُمْ لَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن جبیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا: ”اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان بدبوداروں کی بات کرتا تو میں ان کو آزاد کر دیتا۔“
حدیث نمبر: 12838
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فِي هَؤُلَاءِ لَأَطْلَقْتُهُمْ لَهُ " يَعْنِي أُسَارَى بَدْرٍ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَتْ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدٌ، وَكَانَ أَجْزَى النَّاسِ بِالْيَدِ.
حافظ ثناء اللہ
اس روایت میں الفاظ ہیں کہ ”ان کے بارے میں گفتگو کرتا تو میں ان کو چھوڑ دیتا“ یعنی بدر کے قیدیوں کو۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: نبی ﷺ پر اس کا احسان تھا اور آپ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ احسان کی جزا دینے والے تھے۔
حدیث نمبر: 12839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الشَّامِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو عَزَّةَ يَوْمَ بَدْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْتَ أَعْرَفُ النَّاسِ بِفَاقَتِي وَعِيَالِي، وَإِنِّي ذُو بَنَاتٍ، قَالَ: فَرَقَّ لَهُ وَمَنَّ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ، وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ بِلَا فِدَاءٍ، فَلَمَّا أَتَى مَكَّةَ هَجَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَرَّضَ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُسِرَ يَوْمَ أُحُدٍ، أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ " هَذَا إِسْنَادٌ فِيهِ ضِعْفٌ، وَهُوَ مَشْهُورٌ عِنْدَ أَهْلِ الْمَغَازِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ نے بدر کے دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں میرا فاقہ، تنگدستی اور میری بیٹیاں ہیں، آپ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا اور اس پر احسان کیا اور اس سے درگزر کیا، وہ مکہ بغیر فدیہ کے چلا گیا، جب مکہ گیا تو اس نے نبی ﷺ کی توہین کی اور مشرکوں کو رسول اللہ ﷺ پر ابھارا، پس احد کے دن پھر اسے قیدی بنا لیا گیا، جب آپ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔“
حدیث نمبر: 12840
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: " وَكَانَ مِمَّنْ تَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُسَارَى بَدْرٍ بِغَيْرِ فِدَاءٍ الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيُّ، وَكَانَ مُحْتَاجًا، فَلَمْ يُفَادَ، فَمَنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو عَزَّةَ الْجُمَحِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَنَاتِي فَرَحِمَهُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، وَصَيْفِيُّ بْنُ عَابِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، أَخَذَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں میں سے جسے رسول اللہ ﷺ نے بغیر فدیہ کے چھوڑا ان میں مطلب بن حنطب مخزومی تھا اور وہ محتاج تھا، اس نے فدیہ نہ دیا، رسول اللہ ﷺ نے اس پر احسان کیا اور ابو العزہ الجمحی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری بیٹیاں ہیں“ آپ ﷺ نے اس پر شفقت کی اور احسان کیا اور صیفی بن عائز مخزومی سے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ لیا لیکن اس نے پورا نہ کیا۔
حدیث نمبر: 12841
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ أَبُو عَزَّةَ الْجُمَحِيُّ أُسِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّنِي ذُو بَنَاتٍ وَحَاجَةٍ، وَلَيْسَ بِمَكَّةَ أَحَدٌ يَفْدِينِي، وَقَدْ عَرَفْتَ حَاجَتِي، فَحَقَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهُ وَأَعْتَقَهُ، وَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَعَاهَدَهُ أَنْ لَا يُعِينَ عَلَيْهِ بِيَدٍ وَلَا لِسَانٍ، وَامْتَدَحَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَفَا عَنْهُ. فَذَكَرَ الشِّعْرَ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهُ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ، وَإِشَارَةَ صَفْوَانَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ مَعَهُ فِي حَرْبِ أُحُدٍ وَتَكَفُّلَهُ بَنَاتِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَطَاعَهُ، فَخَرَجَ فِي الْأَحَابِيشِ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، قَالَ: فَأُسِرَ أَبُو ⦗٥٢١⦘ عَزَّةَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنْعِمْ عَلَيَّ، خَلِّ سَبِيلِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَحَدَّثُ أَهْلُ مَكَّةَ أَنَّكَ لَعِبْتَ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ "، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو عزہ الجہمی بدر میں قیدی بنایا گیا تھا، اس نے نبی ﷺ سے کہا: ”اے محمد ﷺ! میں بیٹیوں والا ہوں اور محتاج ہوں اور مکہ میں میرا کوئی ایسا نہیں جو میرا فدیہ دے اور آپ ﷺ میری حالت پہچانتے ہیں۔“ نبی ﷺ نے اس کا خون محفوظ کیا اور اسے آزاد کر دیا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وعدہ لیا کہ وہ ہاتھ اور زبان سے نبی ﷺ کے خلاف مدد نہیں کرے گا اور اس نے نبی ﷺ کی تعریف کی جب آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔ پھر اس نے صفوان بن امیہ کو سارا قصہ بتایا اور اس نے احد کی جگہ میں حصہ لینے کا اشارہ کیا اور اس کی بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ لیا اور وہ ہمیشہ کہتا رہا یہاں تک کہ ابو عزہ بنی کنانہ کے پاس لایا گیا، اس نے کہا: ”میرے اوپر انعام کریں، میرا راستہ چھوڑ دیں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تاکہ مکہ والے باتیں نہ کریں کہ تو محمد ( ﷺ ) کے ساتھ دو دفعہ کھیلا ہے۔“ آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔