کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مقتول کے سامان میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12782
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي السَّلَبِ لِلْقَاتِلِ، وَلَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عوف بن مالک اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلب کا فیصلہ کیا کہ ”وہ قاتل کا ہے“ اور اس میں خمس نہ رکھا۔
حدیث نمبر: 12783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُ سَيْفِهِ، فَجَزَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا، فَسَأَلَهُ الْمَدَدِيُّ طَائِفَةً مِنْ جِلْدِهِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَاتَّخَذَهُ كَهَيْئَةِ الدَّرَقِ، وَمَضَيْنَا فَلَقِينَا جُمُوعَ الرُّومِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ، عَلَيْهِ سَرْجٌ مُذَهَّبٌ، وَسِلَاحٌ مُذَهَّبٌ، فَجَعَلَ الرُّومِيُّ يَفْرِي بِالْمُسْلِمِينَ، وَقَعَدَ لَهُ الْمَدَدِيُّ خَلْفَ صَخْرَةٍ، فَمَرَّ بِهِ الرُّومِيُّ، فَعَرْقَبَ فَرَسَهُ فَخَّرَّ، وَعَلَاهُ فَقَتَلَهُ وَحَازَ فَرَسَهُ وَسِلَاحَهُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُسْلِمِينَ بَعَثَ إِلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَخَذَ مِنَ السَّلَبِ، قَالَ عَوْفٌ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا خَالِدُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ، قُلْتُ: لَتَرُدَّنَّهُ إِلَيْهِ أَوْ لَأُعَرِّفَنَّكَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ، قَالَ عَوْفٌ: فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَّةَ الْمَدَدِيِّ وَمَا فَعَلَ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا خَالِدُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قََالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَكْثَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا خَالِد، رُدَّ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ "، قَالَ عَوْفٌ: فَقُلْتُ: دُونَكَ يَا خَالِدُ، أَلَمْ أَفِ لَكَ؟ فَقَالَ ⦗٥٠٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا خَالِدُ، لَا تَرُدَّ عَلَيْهِ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي أُمَرَائِي، لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ، وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ..
حافظ ثناء اللہ
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا اور یمن والوں کی طرف سے بھی میری مدد آچکی تھی۔ اس میں تلوار کے علاوہ کوئی نہ تھا، مسلمانوں کے ایک آدمی نے اونٹ ذبح کیا، مدد کرنے والی جماعت نے اس کے چمڑے کا سوال کیا، اس نے دے دیا، اس نے اسے خول کے طور پر پکڑا۔ پس ہم چلے اور روم کے لشکروں کو ملے، ان میں ایک گہرے زرد گھوڑے پر سونے کا چمکدار ٹکڑا اور سونے کے اسلحہ سے لیس تھا، پس وہ رومی مسلمانوں پر حملے کرنا شروع ہوا اور مددی رومی کے پیچھے ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔ پس جب رومی وہاں سے گزرا، اس نے اس کے گھوڑے کو گرایا اور اس پر غلبہ پا کر اسے (رومی کو) قتل کر دیا اور اس کا گھوڑا اور اسلحہ جمع کر لیا۔ جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس سے «سَلَب» منگوایا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آیا، میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تو جانتا نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا ہے؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، لیکن میں اسے زیادہ خیال کرتا ہوں۔ میں نے کہا: تو اسے لوٹا دے یا میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا ذکر کروں گا، خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کر دیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے۔ میں نے آپ ﷺ پر مددی کا قصہ بیان کیا اور جو خالد رضی اللہ عنہ نے کیا، وہ بھی بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! تو نے ایسا کیوں کیا؟“ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے زیادہ خیال کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! اسے لوٹا دو جو تم نے اس سے لیا ہے۔“ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے خالد! میں نے ایسے ہی کہا تھا ناں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ میں نے آپ ﷺ کو خبر دی تو رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! نہ اس پر لوٹانا، کیا تم میرے امراء کے لیے ناپسندیدہ باتیں اور اپنے لیے صاف معاملات چھوڑ رہے ہو۔“
حدیث نمبر: 12784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا الْوَلِيدُ قَالَ: سَأَلْتُ ثَوْرًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، نَحْوَهُ..
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 12785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَأَنَّ مَدَدِيًّا كَانَ رَفِيقًا لَهُمْ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ «السَّلَبِ» سے «الْخُمُسَ» نہ نکالتے تھے اور خالد رضی اللہ عنہ غزوہ موتہ میں ان (مسلمانوں) کے ساتھ تھے۔
حدیث نمبر: 12786
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَوَّلَ سَلَبٍ خُمِّسَ فِي الْإِسْلَامِ سَلَبُ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ، كَانَ حَمَلَ عَلَى الْمَرْزُبَانِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ، وَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ إِلَيْهِ فَأَخَذَ مِنْطَقَتَهُ وَسِوَارَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَ مَشَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، " إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ مَالٌ، وَأَنَا خَامِسُهُ " فَقَوَّمُوا الْمِنْطَقَةَ وَالسِّوَارَيْنِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اسلام میں پہلا سلب جس سے خمس لیا گیا تھا وہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کا سلب تھا، وہ مرزبان پر حملہ آور ہوئے تھے، اسے زخمی کیا، پھر اسے قتل کر دیا اور اس کے ساتھی اس سے علیحدہ ہو گئے، براء اس کی طرف گئے، اس کی کمر پیٹی اور کنگن پکڑ لیے، جب وہ آئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس چل کر آئے اور کہا: اے ابو طلحہ! ہم خمس نہیں لیتے سلب سے اور براء کا سلب تو مال ہے اور میں اس سے خمس نکالنے والا ہوں، پس انہوں نے کمر پیٹی اور کنگن کی تیس ہزار قیمت لگائی۔
حدیث نمبر: 12787
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْبَرَاءَ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ بَارَزَ مَرْزُبَانَ الزَّارَةِ فَحَمَلَ عَلَيْهِ بِالرُّمْحِ فَدَقَّ صُلْبَهُ وَأَخَذَ سِوَارَيْهِ وَأَخَذَ مِنْطَقَتَهُ، فَصَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا صَلَاةً ثُمَّ قَالَ: " أَثَمَّ أَبُو طَلْحَةَ؟ إِنَّا كُنَّا نُنَفِّلُ الرَّجُلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَلَبَ رَجُلٍ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا قَتَلَهُ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا، وَلَا أَرَانِي إِلَّا خَامِسَهُ، فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: فَخَمَّسَهُ؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ خَمَّسَهُ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مرزبان سے مقابلہ کیا، اس پر نیزے کا وار کیا، اسے اس کی پشت میں گھونپ دیا اور اس کے دو کنگن اور اس کی کمر پٹی کو پکڑ لیا۔ اس دن عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، پھر کہا: کیا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں؟ ہم مسلمانوں کے آدمی کو کافروں کے آدمی کا سلب دینے لگے ہیں، کیونکہ مسلمان نے اسے قتل کیا ہے اور براء کا سلب مال کو پہنچ چکا ہے اور میں اس میں سے خمس لینا چاہتا ہوں، پس محمد رحمہ اللہ سے کہا گیا: کیا اس سے خمس نکالا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 12788
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ ⦗٥٠٧⦘ مَالِكٍ قَتَلَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِائَةَ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلًا مُبَارَزَةً، وَإِنَّهُمْ لَمَّا غَزَوَا الزَّارَةَ خَرَجَ دِهْقَانُ الزَّارَةِ فَقَالَ: رَجُلٌ وَرَجُلٌ، فَبَرَزَ إِلَيْهِ الْبَرَاءُ، فَاخْتَلَفَا بِسَيْفَيْهِمَا ثُمَّ اعْتَنَقَا، فَتَوَرَّكَهُ الْبَرَاءُ فَقَعَدَ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ أَخَذَ السَّيْفَ فَذَبَحَهُ، وَأَخَذَ سِلَاحَهُ وَمِنْطَقَتَهُ وَأَتَى بِهِ عُمَرَ، فَنَفَّلَهُ السِّلَاحَ وَقَوَّمَ الْمِنْطَقَةَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَخَمَّسَهَا وَقَالَ: " إِنَّهَا مَالٌ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذِهِ الرِّوَايَةُ مِنْ خَمْسِ السَّلَبَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْسَتْ مِنْ رِوَايَتِنَا، وَلَهُ رِوَايَةٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تُخَالِفُهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے سو آدمیوں کو قتل کیا تھا، مگر ایک آدمی نے مبارزت کی۔ براء رضی اللہ عنہ نے اس کا مقابلہ کیا، دونوں کی تلواریں ٹکرا گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کی گردنیں اتارنا چاہیں۔ براء رضی اللہ عنہ اس کی کمر پر بیٹھ گئے اور تلوار نکال کر اسے ذبح کر دیا اور اس کا اسلحہ اور کمر پٹی لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلحہ براء رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور کمر پٹی کی قیمت تیس ہزار لگائی اور اس میں سے خمس نکالا اور فرمایا: ”وہ مال ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلب سے خمس والی روایات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہماری نہیں ہیں اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کی مخالفت کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلب سے خمس والی روایات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہماری نہیں ہیں اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کی مخالفت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12789
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: شِبْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قَالَ: " بَارَزْتُ رَجُلًا يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ فَقَتَلْتُهُ، فَبَلَغَ سَلَبُهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَنَفَّلَنِيهِ سَعْدٌ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَاثْنَا عَشَرَ أَلْفًا كَثِيرٌ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بن قیس اپنی قوم کے آدمی سے، جسے شبر بن علقمہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، نقل فرماتے ہیں کہ میں نے قادسیہ کے دن ایک آدمی سے مبارزت کی، میں نے اسے قتل کر دیا۔ اس کا سلب بارہ ہزار کو پہنچا۔ پس سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے دے دیا۔
حدیث نمبر: 12790
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مِيكَائِيلَ، أنا عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الطَّائِيُّ، ثنا عَمُّ أَبِي زَحْرِ بْنِ حِصْنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي حُمَيْدُ بْنُ مَنْهَبٍ قَالَ: قَالَ خُرَيْمُ بْنُ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ: " لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ أَقْبَلَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ، فَلَقِيَنَا هُرْمُزُ بِكَاظِمَةَ فِي جَمْعٍ عَظِيمٍ، فَبَرَزَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَدَعَا إِلَى الْبِرَازِ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ، فَقَتَلَهُ خَالِدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ، فَبَلَغَتْ قَلَنْسُوَةُ هُرْمُزَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَكَانَتِ الْفُرْسُ إِذَا شَرَّفُوا فِيهِمُ الرَّحُلَ، جَعَلُوا قَلَنْسُوَتَهُ بِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عرب کا دشمن ہرمز سے زیادہ کوئی نہ تھا، جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو وہ بصرہ کے ایک کونے میں آیا، ہم کاظمہ مقام پر ہرمز سے ملے، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے دعوتِ مبارزت دی، ہرمز نے بھی مقابلہ کیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ لکھا، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا سلب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور ہرمز کی ٹوپی کی قیمت ایک سو ہزار درہم تھی اور جب گھوڑوں میں آدمی بلند ہوتا تو اس کی ایک سو ہزار درہم کے ساتھ رکھی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 12791
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٥٠٨⦘ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " السَّلَبُ مِنَ النَّفَلِ، وَالنَّفَلُ مِنَ الْخُمُسِ " كَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالْأَحَادِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّلَبِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُخْرَجُ مِنْ رَأْسِ الْغَنِيمَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِذَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، شَيْءٌ لَمْ يَجُزْ تَرْكُهُ، قَالَ: وَلَمْ يَسْتَثْنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلِيلَ السَّلَبِ وَلَا كَثِيرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: سلب غنیمت سے ہے اور غنیمت سے خمس ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی ﷺ سے روایت دلالت کرتی ہے کہ ”سلب اصل مالِ غنیمت سے نکالا جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: اور جب نبی ﷺ سے ثابت ہے (میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں) تو اس کا چھوڑنا جائز نہیں ہے اور نبی ﷺ نے تھوڑے سلب اور زیادہ میں فرق نہ کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: اور جب نبی ﷺ سے ثابت ہے (میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں) تو اس کا چھوڑنا جائز نہیں ہے اور نبی ﷺ نے تھوڑے سلب اور زیادہ میں فرق نہ کیا تھا۔