أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبُوا لِي مَنْ لَفِظَ الْإِسْلَامَ مِنَ النَّاسِ " فَكُتِبَ لَهُ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةِ رَجُلٍ، فَقُلْتُ: أَنَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةِ رَجُلٍ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا يُصَلِّي وَحْدَهُ خَائِفًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيِّ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ: عَنِ الْأَعْمَشِ: فَوَجَدْنَاهُمْ خَمْسَمِائَةٍ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: مَا بَيْنَ السِّتِمِائَةِ إِلَى سَبْعِمِائَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے ان کے نام لکھو، جنہوں نے اسلام قبول کیا“ تو آپ ﷺ کے لیے پندرہ سو آدمیوں کے نام لکھے گئے، تو میں نے کہا: ہم پندرہ سو ہونے کے باوجود ڈرتے ہیں؟ تو میں نے اپنے آپ کو دیکھا، ہم آزمائے گئے یہاں تک کہ اکیلا آدمی نماز پڑھتے ہوئے ڈرتا تھا۔ (ب) اعمش سے مروی ہے کہ ہم نے انہیں پانچ سو پایا۔
(ج) ابومعاویہ کہتے ہیں: وہ چھ سو سے سات سو کے درمیان تھے۔
(٦١) باب: «إِعْطَاءُ الْفَيْءِ عَلَى الدِّيوَانِ وَمَنْ تَقَعُ بِهِ الْبِدَايَةُ» ”مالِ فئی رجسٹرڈ کر کے دینا اور ابتدا کس سے ہو؟“
(ج) ابومعاویہ کہتے ہیں: وہ چھ سو سے سات سو کے درمیان تھے۔
(٦١) باب: «إِعْطَاءُ الْفَيْءِ عَلَى الدِّيوَانِ وَمَنْ تَقَعُ بِهِ الْبِدَايَةُ» ”مالِ فئی رجسٹرڈ کر کے دینا اور ابتدا کس سے ہو؟“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ عِنْدِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ بِثَمَانِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ لِي: " بِمَاذَا قَدِمْتَ؟ " قُلْتُ: قَدِمْتُ بِثَمَانِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: " إِنَّمَا قَدِمْتَ بِثَمَانِينَ أَلْفِ دِرْهَمٍ "، قُلْتُ: بَلْ قَدِمْتُ بِثَمَانِمِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، قَالَ: " أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ يَمَانٍ أَحْمَقُ، إِنَّمَا قَدِمْتَ بِثَمَانِينَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَكَمْ ثَمَانُمِائَةِ أَلْفٍ؟ " فَعَدَدْتُ مِائَةَ أَلْفٍ وَمِائَةَ أَلْفٍ حَتَّى عَدَدْتُ ثَمَانَمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: " أَطَيِّبٌ؟ وَيْلَكَ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَبَاتَ عُمَرُ لَيْلَتَهُ أَرِقًا، حَتَّى إِذَا نُودِيَ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا نِمْتَ اللَّيْلَة، قَالَ: كَيْفَ يَنَامُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَدْ جَاءَ النَّاسَ مَا لَمْ يَكُنْ يَأْتِيهِمْ مِثْلُهُ مُنْذُ كَانَ الْإِسْلَامُ، فَمَا يُؤْمِنُ عُمَرَ لَوْ هَلَكَ وَذَلِكَ الْمَالُ عِنْدَهُ فَلَمْ يَضَعْهُ فِي حَقِّهِ. فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: " إِنَّهُ قَدْ جَاءَ النَّاسَ اللَّيْلَةَ مَا لَمْ يَكُنْ يَأْتِيهِمْ مُنْذُ كَانَ الْإِسْلَامُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَأْيًا فَأَشِيرُوا عَلَيَّ، رَأَيْتُ أَنْ أَكِيلَ لِلنَّاسِ بِالْمِكْيَالِ "، فَقَالُوا: لَا تَفْعَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؛ إِنَّ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي الْإِسْلَامِ وَيَكْثُرُ الْمَالُ، وَلَكِنْ أَعْطِهِمْ عَلَى كِتَابٍ، فَكُلَّمَا كَثُرَ النَّاسُ وكَثُرَ الْمَالُ أَعْطَيْتَهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ: " فَأَشِيرُوا عَلَيَّ بِمَنْ أَبْدَأُ مِنْهُمْ "، قَالُوا: بِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؛ إِنَّكَ وَلِيُّ ⦗٥٩٢⦘ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ، قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ أَبْدَأُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ الْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ إِلَيْهِ ". فَوَضَعَ الدِّيوَانَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: بَدَأَ بِهَاشِمٍ وَالْمُطَّلِبِ فَأَعْطَاهُمْ جَمِيعًا، ثُمَّ أَعْطَى بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، ثُمَّ بَنِي نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَإِنَّمَا بَدَأَ بِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ؛ أَنَّهُ كَانَ أَخَا هَاشِمٍ لِأُمِّهِ. قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: أَوَّلُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فِي الدَّعْوَةِ عَبْدُ الْمَلِكِ، فَذَكَرَ فِي ذَلِكَ قِصَّةً.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبد اللہ بن موہب فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آٹھ سو ہزار درہم لے کر آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: کیا لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: آٹھ سو ہزار درہم، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آٹھ ہزار درہم لائے ہو؟ میں نے کہا: بلکہ آٹھ سو ہزار درہم لایا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تجھے کہا نہیں کہ تو یمنی احمق ہے، تو اسی ہزار درہم لایا ہے، پس آٹھ سو ہزار کتنے ہوتے ہیں؟ پس میں نے ایک سو ہزار کر کے گنوایا حتیٰ کہ میں نے پورے کر دیے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا واقعی ایسے ہی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رات بڑی رقت میں گزاری حتیٰ کہ صبح کی نماز کے لیے بلایا گیا تو ان کی زوجہ نے کہا: اے امیر المومنین! رات آپ سوئے نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا: عمر کیسے سوتا اور تحقیق ایسا مال آیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہ آیا تھا، پس عمر مومن نہ ہوتا اگر وہ فوت ہو جاتا اور اس کے پاس مال ہوتا اور اس نے اسے اس کے مصرف میں نہ لگایا ہوتا۔ جب صبح کی نماز پڑھائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت ان کے پاس جمع ہو گئی۔ ان سے کہا: رات ایسا مال آیا ہے کہ اس سے پہلے اسلام میں کبھی نہ آیا تھا اور میں نے ایک رائے دیکھی ہے، پس مجھے بتلاؤ، میں نے دیکھا ہے کہ میں لوگوں کو وزن کر کے دے رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! ایسا نہ کریں، لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور مال زیادہ ہے، لیکن آپ کتاب کے مطابق دیں، جب لوگ زیادہ ہوں اور مال بھی زیادہ ہو تو ان کو دے دینا، انہوں نے کہا: پس تم مجھے بتاؤ کس سے ابتدا کروں؟ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! اپنے آپ سے ابتدا کریں آپ خلیفہ ہیں اور بعض نے کہا: امیر المومنین بہتر جانتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں رسول اللہ ﷺ سے ابتدا کرتا ہوں، پھر جو قریبی ہوں ان سے۔ پس رجسٹر (دیوان) رکھا گیا، عبید اللہ نے کہا: ہاشم اور مطلب سے ابتدا کریں۔ ان سب کو دیں، پھر بنی عبد شمس کو دیں، پھر بنی نوفل کو اور انہوں نے بنی عبد شمس سے ابتدا کی؛ کیونکہ وہ بنی ہاشم کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ عبید اللہ نے کہا: پہلے جس نے بنی ہاشم اور بنی مطلب میں فرق کیا وہ عبد الملک ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا دَوَّنَ الدَّوَاوِينَ، فَقَالَ: " بِمَنْ تَرَوْنَ أَنْ أَبْدَأَ؟ " فَقِيلَ لَهُ: ابْدَأْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ بِكَ، قَالَ: " بَلْ أَبْدَأُ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن علی سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جب رجسٹر مرتب کیا تو کہا: کس سے تمہارے خیال میں ابتدا کروں؟ کہا گیا: اپنے قریبی سے ابتدا کرو، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے قریبی سے ابتدا کرتا ہوں۔
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالصِّدْقِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ وَمِنْ غَيْرِهِمْ، وَكَانَ بَعْضُهُمْ أَحْسَنَ اقْتِصَاصًا لِلْحَدِيثِ مِنْ بَعْضٍ، وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْحَدِيثِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا دَوَّنَ الدَّوَاوِينَ قَالَ: " أَبْدَأُ بِبَنِي هَاشِمٍ "، ثُمَّ قَالَ: " حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَإِذَا كَانَ الْمُسِنُّ فِي الْهَاشِمِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْمُطَّلِبِيِّ، وَإِذَا كَانَ فِي الْمُطَّلِبِيِّ قَدَّمَهُ عَلَى الْهَاشِمِيِّ. فَوَضَعَ الدِّيوَانَ عَلَى ذَلِكَ، وَأَعْطَاهُمْ عَطَاءَ الْقَبِيلَةِ الْوَاحِدَةِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ فِي جِذْمِ النَّسَبِ "، فَقَالَ: " عَبْدُ شَمْسٍ إِخْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ نَوْفَلٍ "، فَقَدَّمَهُمْ، ثُمَّ دَعَا بَنِي نَوْفَلٍ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَعَبْدُ الدَّارِ، فَقَالَ فِي بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى: " أَصْهَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِيهِمْ: " إِنَّهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ "، وَقَالَ: بَعْضُهُمُ: هُمْ حِلْفٌ مِنَ الْفُضُولِ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ انْفَرَدَتْ لَهُ زُهْرَةُ، فَدَعَاهَا تِلْوَ عَبْدِ الدَّارِ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ تَيْمٌ وَمَخْزُومٌ، فَقَالَ فِي بَنِي تَيْمٍ: " إِنَّهُمْ مِنْ حِلْفِ الْفُضُولِ وَالْمُطَيِّبِينَ، وَفِيهِمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَقِيلَ: ذَكَرَ سَابِقَةً، وَقِيلَ: ذَكَرَ صِهْرًا، فَقَدَّمَهُمْ عَلَى مَخْزُومٍ، ثُمَّ دَعَا مَخْزُومًا يَتْلُونَهُمْ، ثُمَّ اسْتَوَتْ لَهُ سَهْمٌ وَجُمَحٌ وَعَدِيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقِيلَ لَهُ: ابْدَأْ بَعَدِيٍّ، فَقَالَ: " بَلْ أُقِرُّ نَفْسِي حَيْثُ كُنْتُ؛ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ دَخَلَ وَأَمْرُنَا وَأَمْرُ بَنِي سَهْمٍ وَاحِدٌ، وَلَكِنِ انْظُرُوا بَنِي جُمَحٍ وَسَهْمٍ "، فَقِيلَ قَدَّمَ بَنِي جُمَحٍ، ثُمَّ دَعَا بَنِي سَهْمٍ، وَكَانَ دِيوَانُ عَدِيٍّ وَسَهْمٍ مُخْتَلِطًا كَالدَّعْوَةِ الْوَاحِدَةِ، فَلَمَّا خَلَصَتْ إِلَيْهِ دَعْوَتُهُ كَبَّرَ تَكْبِيرَةً عَالِيَةً ثُمَّ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْصَلَ إِلِيَّ حَظِّيَ مِنْ رَسُولِهِ "، ثُمَّ دَعَا بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ أَبَا ⦗٥٩٣⦘ عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بن الْجَرَّاحَ الْفِهْرِيَّ لَمَّا رَأَى مَنْ تَقَدَّمَ عَلَيْهِ قَالَ: أَكُلَّ هَؤُلَاءِ تَدْعُو أَمَامِي؟ فَقَالَ: يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، اصْبِرْ كَمَا صَبَرْتَ، أَوْ كَلِّمْ قَوْمَكَ، فَمَنْ قَدَّمَكَ مِنْهُمْ عَلَى نَفْسِهِ لَمْ أَمْنَعْهُ، فَأَمَّا أَنَا وَبَنُو عَدِيٍّ فَنُقَدِّمُكَ إِنْ أَحْبَبْتَ عَلَى أَنْفُسِنَا. قَالَ: فَقَدَّمَ مُعَاوِيَةُ بَعْدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، فَصَلَ بِهِمْ بَيْنَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَشَجَرَ بَيْنَ بَنِي سَهْمٍ وَعَدِيٍّ شَيْءٌ فِي زَمَانِ الْمَهْدِيِّ فَافْتَرَقُوا، فَأَمَرَ الْمَهْدِيُّ بِبَنِي عَدِيٍّ فَقُدِّمُوا عَلَى سَهْمٍ وَجُمَحٍ لِلسَّابِقَةِ فِيهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ کو اہل مدینہ، مکہ اور قبائلِ قریش میں سے کسی نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجسٹر تیار کروائے اور کہا: ”میں بنو ہاشم سے ابتدا کرتا ہوں“، پھر کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جب آپ ﷺ ہاشمیوں میں ہوتے تو مطلبیوں پر ان کو مقدم کرتے۔ جب بنو مطلب میں ہوتے تو انھیں بنو ہاشم پر مقدم کرتے“، تو انھوں نے اسی طرز پر رجسٹر مرتب کیا اور انھیں ایک قبیلہ سمجھ کر مال دیا۔ پھر عبد شمس اور نوفل کو ایک قبیلہ شمار کیا تو عبد شمس نے کہا کہ وہ نبی ﷺ کے حقیقی بھائی ہیں، نوفل کے علاوہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں مقدم کیا، پھر بنو نوفل کو بلایا اور وہ ان کے پیچھے پیچھے آئے۔ پھر آپ کے پاس عبدالعزیٰ اور عبدالدار کی باری آئی تو انھوں نے بنو اسد بن عبدالعزیٰ کے بارے میں کہا کہ وہ نبی ﷺ کے ازواجی رشتہ دار ہیں اور ان میں بنو مطلب بھی ہیں اور کہا: بعض ان میں حلف الفضول والے ہیں اور ان دونوں میں رسول اللہ ﷺ شامل تھے، ایک قول ہے کہ انھوں نے مسابقت کا ذکر کیا تو انھیں بنوعبدالدار پر مقدم کیا۔ پھر بنو عبدالدار کو بلایا، وہ ان کے بعد آئے، پھر زہرہ اکیلی رہ گئیں تو عبدالدار کے بعد انھیں بلایا۔ پھر تیم اور مخزوم قبیلے والوں کی باری آئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تیم والوں کے بارے میں کہا کہ وہ حلیف الفضول اور مطلب سے ہیں اور ان دونوں کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے ہے، ایک قول ہے کہ مسابقت کا ذکر کیا گیا۔ ایک قول کہ ازدواجی رشتے کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے انھیں مخزوم پر مقدم کیا، پھر مخزوم کو بلایا، وہ ان کے بعد آئے۔ پھر سہم، جمع اور عدی بن کعب کی باری آئی، ان سے کہا گیا: عدی سے ابتدا کرو، انھوں نے کہا: ”میں اپنے آپ کو اپنے قول پر پکا رکھتا ہوں۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہمارا اور بنو سہم کا ایک معاملہ ہے۔ لیکن بنو جمع اور سہم کی طرف دیکھو“، تو کہا گیا: بنو جمع کو مقدم کرو۔ پھر بنو سہم کو بلایا۔ بنو عدی اور بنو سہم کا ایک رجسٹر تھا۔ جیسے ان کی دعوت ایک ہی ہو۔ جب وہ اس کام سے فارغ ہو گئے تو بلند آواز سے تکبیر کہی پھر کہا: ”تمام تعریف اللہ کے لیے جس نے اپنے رسول ﷺ سے میرا حصہ عطا کیا“، پھر بنو عامر بن لوئی کو بلایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض کہتے ہیں کہ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ کن کن کو ان پر مقدم کر رہے ہیں، کہا: ”کیا ان سب کو مجھ سے پہلے بلا رہے ہو؟“ تو انھوں نے کہا: ”صبر کر جیسے میں نے صبر کیا یا اپنی قوم سے بات کرو۔ جس نے آپ کو ان میں سے ان پر مقدم کیا، میں نے منع نہیں کیا۔ اگر آپ پسند کریں تو میں اور بنو عدی تجھ کو اپنے پر مقدم کرتے ہیں۔“ کیا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بنو حارث بن مغیرہ کے بعد مقدم کیا۔ ان کے ساتھ بنو عبد مناف اور بنو اسد بن عبدالعزیٰ میں فصل کیا۔ بنو سہم اور عدی میں کسی چیز کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا اور وہ علیحدہ ہو گئے۔ عدی نے بنی عدی کو حکم دیا تو وہ حصے میں مقدم ہو گئے اور جمع ان میں مسابقت کیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض کہتے ہیں کہ ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ کن کن کو ان پر مقدم کر رہے ہیں، کہا: ”کیا ان سب کو مجھ سے پہلے بلا رہے ہو؟“ تو انھوں نے کہا: ”صبر کر جیسے میں نے صبر کیا یا اپنی قوم سے بات کرو۔ جس نے آپ کو ان میں سے ان پر مقدم کیا، میں نے منع نہیں کیا۔ اگر آپ پسند کریں تو میں اور بنو عدی تجھ کو اپنے پر مقدم کرتے ہیں۔“ کیا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بنو حارث بن مغیرہ کے بعد مقدم کیا۔ ان کے ساتھ بنو عبد مناف اور بنو اسد بن عبدالعزیٰ میں فصل کیا۔ بنو سہم اور عدی میں کسی چیز کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا اور وہ علیحدہ ہو گئے۔ عدی نے بنی عدی کو حکم دیا تو وہ حصے میں مقدم ہو گئے اور جمع ان میں مسابقت کیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى بَنِي كِنَانَةَ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَالْبِدَايَةُ فِي الْعَطَاءِ إِنَّمَا وَقَعَتْ بِبَنِي هَاشِمٍ لِقُرْبِهِمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فَإِنَّهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصِيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤِيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَ بْنِ أَدَّ بْنِ الْمُقَوِّمِ بْنِ نَاحُورَ بْنِ تَارِحِ بْنِ يَعْرُبَ بْنِ يَشْجُبَ بْنِ نَابِتِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ آزَرَ، وَهُوَ فِي التَّوْرَاةِ تَارِحُ بْنُ نَاحُورَ بْنِ أَرْعُوَا بْنِ شَارِخِ بْنِ فَالِخِ بْنِ عَابِرِ بْنِ شَالِخِ بْنِ أَرْفَخْشَذَ بْنِ سَامِ بْنِ نُوحِ بْنِ لَمْكَ بْنِ مِتُوشَلْخَ بْنِ أَخْنُوخَ بْنِ بُرْدَ بْنِ مِهْلَائِيَلَ بْنِ قَمْعَانَ بْنِ قَوْشِ بْنِ شِيثِ بْنِ آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَنْبِيَاءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ..
حافظ ثناء اللہ
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بنی کنانہ کو بنی اسماعیل سے چنا اور بنی کنانہ سے قریش کو چنا اور قریش سے بنی ہاشم کو اور مجھے بنی ہاشم سے چن لیا۔“
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَ هَذَا النَّسَبَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِهْرُ بْنُ مَالِكٍ أَصْلُ قُرَيْشٍ فِي أَقَاوِيلِ أَكْثَرِهِمْ فَبَنُو هَاشِمٍ يَجْمَعُهُمْ أَبُو رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثُ، وَسَائِرُ قُرَيْشٍ يَجْمَعُ بَعْضَهُمُ الْأَبُ الرَّابِعُ عَبْدُ مَنَافٍ، وَبَعْضَهُمُ الْأَبُ الْخَامِسُ قُصَيٌّ، وَهَكَذَا إِلَى فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ؛ فَلِذَلِكَ وَقَعَتِ الْبِدَايَةُ بِبَنِي هَاشِمٍ، وَإِنَّمَا جَمَعَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ ابْنَيْ عَبْدِ مَنَافٍ فِي الْعَطِيَّةِ لِمَا رَوَيْنَا فِيمَا تَقَدَّمَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذَوِي الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ مَشَيْتُ أَنَا ⦗٥٩٤⦘ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللهُ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ "، ثُمَّ شَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا فِي الْأُخْرَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر سے رشتہ داروں، یعنی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو حصہ دیا تو میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے بھائی بنو ہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، لیکن بنی مطلب سے ہمارے بھائیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا اور ہم اور وہ آپ سے ایک ہی درجہ میں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہ ہم سے جاہلیت میں علیحدہ تھے اور نہ اسلام میں اور بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں“، پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَاشِمٌ، وَالْمُطَّلِبُ كَهَاتَيْنِ - وَضَمَّ أَصَابِعَهُ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ - لَعَنَ اللهُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، رَبَّوْنَا صِغَارًا، وَحَمَلْنَاهُمْ كِبَارًا " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ عُثْمَانُ وَجُبَيْرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؛ لِأَنَّ عُثْمَانَ هُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَجُبَيْرٌ هُوَ ابْنُ مُطْعِمِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَهَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ وَعَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ كَانُوا إِخْوَةً، فَأَعْطَى سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ دُونَ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ وَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَإِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ " وَفِي الرِّوَايَةِ الْمُرْسَلَةِ: " رَبَّوْنَا صِغَارًا، وَحَمَلْنَاهُمْ " أَوْ قَالَ: " وَحَمَلُونَا كِبَارًا " وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ؛ لِأَنَّ هَاشِمَ بْنَ عَبْدِ مَنَافٍ تَزَوَّجَ سَلْمَى بِنْتَ عَمْرِو بْنِ لَبِيدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ بِالْمَدِينَةِ، فَوَلَدَتْ لَهُ شَيْبَةَ الْحَمْدِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ هَاشِمٌ وَهُوَ مَعَهَا، فَلَمَّا أَيْفَعَ وَتَرَعْرَعَ خَرَجَ إِلَيْهِ عَمُّهُ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ مَنَافٍ فَأَخَذَهُ مِنْ أُمِّهِ وَقَدِمَ بِهِ مَكَّةَ، وَهُوَ مُرْدِفُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَقِيلَ: عَبْدٌ مَلَكَهُ الْمُطَّلِبُ، فَغَلَبَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الِاسْمُ، فَقِيلَ: عَبْدُ الْمُطَّلِبِ، وَحِينَ بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرِّسَالَةِ آذَاهُ قَوْمُهُ وَهَمُّوا بِهِ، فَقَامَتْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ؛ مُسْلِمُهُمْ وَكَافِرُهُمْ، دُونَهُ، وَأَبَوْا أَنْ يُسْلِمُوهُ، فَلَمَّا عَرَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا سَبِيلَ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَكْتُبُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنْكِحُوهُمْ وَلَا يُنْكِحُوا إِلَيْهِمْ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يَبْتَاعُوا مِنْهُمْ، وَعَمَدَ أَبُو طَالِبٍ فَأَدْخَلَهُمُ الشِّعْبَ شِعْبَ أَبِي طَالِبٍ فِي نَاحِيَةٍ مِنْ مَكَّةَ، وَأَقَامَتْ قُرَيْشٌ عَلَى ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ فِي بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، حَتَّى جَهِدُوا جَهْدًا شَدِيدًا، ثُمَّ إِنَّ اللهَ تَعَالَى بِرَحْمَتِهِ أَرْسَلَ عَلَى صَحِيفَةِ قُرَيْشٍ الْأَرَضَةَ فَلَمْ تَدَعْ فِيهَا اسْمًا لِلَّهِ إِلَّا أَكَلَتْهُ، وَبَقِيَ فِيهَا الظُّلْمُ وَالْقَطِيعَةُ وَالْبُهْتَانُ، وَأَخْبَرَ بِذَلِكَ رَسُولَهُ، وَأَخْبَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَالِبٍ، وَاسْتَنْصَرَ بِهِ ⦗٥٩٥⦘ أَبُو طَالِبٍ عَلَى قَوْمِهِ، وَقَامَ هِشَامُ بْنُ عَمْرِو بْنِ رَبِيعَةَ فِي جَمَاعَةٍ ذَكَرَهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ فِي الْمَغَازِي بِنَقْضِ مَا فِي الصَّحِيفَةِ وَشَقِّهَا؛ فَلِذَلِكَ جَمَعَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَائِرِ الْعَطِيَّةِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَدَّمَهُمَا عَلَى بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نَوْفَلٍ، وَإِنَّمَا وَقَعَتِ الْبِدَايَةُ بِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ قَبْلَ نَوْفَلٍ؛ لِأَنَّ هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ وَعَبْدَ شَمْسٍ كَانُوا إِخْوَةً لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَأُمُّهُمْ عَاتِكَةُ بِنْتُ مُرَّةَ، وَنَوْفَلٌ كَانَ أَخَاهُمْ لِأَبِيهِمْ، وَأُمُّهُ وَاقِدَةُ بِنْتُ حَرْمَلٍ، وَعَبْدُ مَنَافٍ وَعَبْدُ الْعُزَّى وَعَبْدُ الدَّارِ بَنُو قُصَيٍّ كَانُوا إِخْوَةً، وَالْبِدَايَةُ بَعْدَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنَّمَا وَقَعَتْ بِبَنِي عَبْدِ الْعُزَّى؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ قَبِيلَةَ خَدِيجَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهَا بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، قَالَ: وَفِيهِمْ: " إِنَّهُمْ مِنَ الْمُطَيَّبِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاشم اور مطلب ایسے ہیں“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔ ”اللہ لعنت کرے اس پر جو ان میں فرق کرے، انہوں نے بچپن میں ہماری پرورش کی اور ہم نے ان کو بڑے ہو کر اٹھایا۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں سیدنا عثمان اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہما نے کلام کیا ہے، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یوں ہے: عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف، ہاشم، مطلب، عبدشمس اور نوفل بھائی تھے تو انہوں نے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو دیا۔ عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا اور یہ بات کہی کہ وہ جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار میں مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ایک ہی ہیں۔ مرسل روایت میں ہے: ”بچپن میں میری تربیت کی اور ہم نے ان کا بوجھ اٹھایا“ یا کہا: ”انہوں نے ہمیں بڑی عمر میں اٹھایا۔“ (یعنی ہمارا بوجھ اٹھایا) اور انہوں نے کہا: واللہ اعلم
اس لیے کہ ہاشم بن عبد مناف نے سلمی بنت عمرو بن لبید بن حرام سے مدینہ میں شادی کی اور ان کا تعلق بنو نجار سے تھا۔ اس سے بچہ شبیہ الحمد پیدا ہوا۔ پھر ہاشم فوت ہو گئے اور وہ ان کی بیوی تھیں، جب وہ (بچہ) بڑا ہو گیا اور نشو و نما پا گیا تو ان کے چچا عبدالمطلب بن عبد مناف نے ان کو ان کی ماں سے لیا اور مکہ لے آئے۔ وہ ان کے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ کہا گیا ہے کہ بچہ جیسا کہ مالک مطلب تو یہ نام غالب آ گیا، یعنی یہ ان کا نام پڑ گیا۔ ایک قول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے رسالت کا اعلان کیا تو آپ ﷺ کی قوم نے آپ ﷺ کو تکلیف دی اور آپ ﷺ کے ساتھ برا ارادہ سوچا، تب عبدالمطلب، بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، خواہ ان میں سے مسلمان تھے یا کافر۔ انہوں نے آپ ﷺ کو ان کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب قریش کو علم ہو گیا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے ساتھ نکاح نہ کریں اور نہ ان کی طرف رشتہ بھیجیں، نہ ان سے کوئی خریدیں نہ بیچیں تو ابو طالب نے مکہ کے کونے میں شعب ابی طالب نامی گھاٹی کا ارادہ کیا اور وہاں چلے گئے۔ لیکن قریش بنو ہاشم اور عبدالمطلب کے متعلق دو سال یا تین سال اپنے معاہدے پر قائم رہے، یہاں تک کہ بنو ہاشم اور عبدالمطلب کو سخت اذیتیں اٹھانا پڑیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حشرات الارض (دیمک) کو اپنی رحمت کے ساتھ صحیفہ قریش پر بھیجا، وہ اللہ کے نام کے سوا ہر چیز کھا گئی۔ جبرائیل امین نے آپ ﷺ کو خبر دی اور رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کو خبر دی اور ابو طالب نے اپنی قوم سے مدد مانگی۔ ہشام بن عمرو بن ربیعہ اپنی جماعت میں کھڑا ہوا۔ ابن اسحاق نے منذری میں صحیفہ کا نقص اور اس کے پھاڑنے کا ذکر کیا ہے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تمام عطیات میں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو اکٹھا دیا، انہیں بنو عبدشمس اور بنو نوفل پر مقدم کیا اور شروع میں بنو عبدشمس کو بنو نوفل سے پہلے دیا؛ کیونکہ ہاشم، عبدالمطلب اور عبدشمس حقیقی بھائی تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بنت مرہ ہے۔ نوفل ان کے علاتی بھائی تھے، ان کی والدہ کا نام واقدہ بنت حرمل تھا۔ عبد مناف، عبدالعزیٰ اور عبدالدار حقیقی بیٹے تھے اور بھائی تھے۔ ان کی ابتدا بنی عبدمناف کے بعد ہے اور وہ بنی عبدالعزیٰ میں واقع ہوئے ہیں؛ کیونکہ وہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہیں۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں۔ کہا گیا ہے کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں سیدنا عثمان اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہما نے کلام کیا ہے، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یوں ہے: عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف اور سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف، ہاشم، مطلب، عبدشمس اور نوفل بھائی تھے تو انہوں نے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو دیا۔ عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا اور یہ بات کہی کہ وہ جاہلیت اور اسلام دونوں ادوار میں مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ایک ہی ہیں۔ مرسل روایت میں ہے: ”بچپن میں میری تربیت کی اور ہم نے ان کا بوجھ اٹھایا“ یا کہا: ”انہوں نے ہمیں بڑی عمر میں اٹھایا۔“ (یعنی ہمارا بوجھ اٹھایا) اور انہوں نے کہا: واللہ اعلم
اس لیے کہ ہاشم بن عبد مناف نے سلمی بنت عمرو بن لبید بن حرام سے مدینہ میں شادی کی اور ان کا تعلق بنو نجار سے تھا۔ اس سے بچہ شبیہ الحمد پیدا ہوا۔ پھر ہاشم فوت ہو گئے اور وہ ان کی بیوی تھیں، جب وہ (بچہ) بڑا ہو گیا اور نشو و نما پا گیا تو ان کے چچا عبدالمطلب بن عبد مناف نے ان کو ان کی ماں سے لیا اور مکہ لے آئے۔ وہ ان کے پیچھے سواری پر سوار تھے۔ کہا گیا ہے کہ بچہ جیسا کہ مالک مطلب تو یہ نام غالب آ گیا، یعنی یہ ان کا نام پڑ گیا۔ ایک قول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے رسالت کا اعلان کیا تو آپ ﷺ کی قوم نے آپ ﷺ کو تکلیف دی اور آپ ﷺ کے ساتھ برا ارادہ سوچا، تب عبدالمطلب، بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، خواہ ان میں سے مسلمان تھے یا کافر۔ انہوں نے آپ ﷺ کو ان کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب قریش کو علم ہو گیا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے ساتھ نکاح نہ کریں اور نہ ان کی طرف رشتہ بھیجیں، نہ ان سے کوئی خریدیں نہ بیچیں تو ابو طالب نے مکہ کے کونے میں شعب ابی طالب نامی گھاٹی کا ارادہ کیا اور وہاں چلے گئے۔ لیکن قریش بنو ہاشم اور عبدالمطلب کے متعلق دو سال یا تین سال اپنے معاہدے پر قائم رہے، یہاں تک کہ بنو ہاشم اور عبدالمطلب کو سخت اذیتیں اٹھانا پڑیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حشرات الارض (دیمک) کو اپنی رحمت کے ساتھ صحیفہ قریش پر بھیجا، وہ اللہ کے نام کے سوا ہر چیز کھا گئی۔ جبرائیل امین نے آپ ﷺ کو خبر دی اور رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کو خبر دی اور ابو طالب نے اپنی قوم سے مدد مانگی۔ ہشام بن عمرو بن ربیعہ اپنی جماعت میں کھڑا ہوا۔ ابن اسحاق نے منذری میں صحیفہ کا نقص اور اس کے پھاڑنے کا ذکر کیا ہے۔ اسی لیے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تمام عطیات میں بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو اکٹھا دیا، انہیں بنو عبدشمس اور بنو نوفل پر مقدم کیا اور شروع میں بنو عبدشمس کو بنو نوفل سے پہلے دیا؛ کیونکہ ہاشم، عبدالمطلب اور عبدشمس حقیقی بھائی تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بنت مرہ ہے۔ نوفل ان کے علاتی بھائی تھے، ان کی والدہ کا نام واقدہ بنت حرمل تھا۔ عبد مناف، عبدالعزیٰ اور عبدالدار حقیقی بیٹے تھے اور بھائی تھے۔ ان کی ابتدا بنی عبدمناف کے بعد ہے اور وہ بنی عبدالعزیٰ میں واقع ہوئے ہیں؛ کیونکہ وہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہیں۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں۔ کہا گیا ہے کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، أنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَهِدْتُ غُلَامًا حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ، فَمَا أُحِبُّ أَنْ أَنْكُثَهُ وَإِنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بچپن میں ایک پاکیزہ معاہدے میں شریک ہوا ہوں، میں نہیں پسند کرتا کہ میں اس سے پیچھے ہٹوں، اگرچہ میرے لیے سرخ اونٹ ہی کیوں نہ ہوں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَدِيبُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " شَهِدْتُ مَعَ عُمُومَتِي ".
حافظ ثناء اللہ
ایک سند میں ہے، میں اپنے چچوں کے ساتھ حاضر ہوا تھا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا شَهِدْتُ حِلْفًا إِلَّا حِلْفَ قُرَيْشٍ مِنْ حِلْفِ الْمُطَيَّبِينَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي كُنْتُ نَقَضْتُهُ " وَالْمُطَيَّبُونَ: هَاشِمٌ، وَأُمَيَّةُ، وَزُهْرَةُ، وَمَخْزُومٌ. قَالَ الشَّيْخُ: لَا أَدْرِي هَذَا التَّفْسِيرَ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ مَنْ دُونَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ إِنَّمَا قِيلَ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّهُمْ غَمَسُوا أَيْدِيَهِمْ فِي طِيبٍ يَوْمَ تَحَالَفُوا وَتَصَافَقُوا بِإِيمَانِهِمْ، وَذَلِكَ حِينَ وَقَعَ التَّنَازُعُ بَيْنَ عَبْدِ مَنَافٍ وَبَنِي عَبْدِ الدَّارِ فِيمَا كَانَ بِأَيْدِيهِمْ مِنَ السِّقَايَةِ وَالْحِجَابَةِ وَالرِّفَادَةِ وَاللِّوَاءِ وَالنَّدْوَةِ، فَكَانَ بَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى فِي جَمَاعَةٍ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ تَبَعًا لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، فَكَانَ لَهُمْ بِذَلِكَ شَرَفٌ وَفَضِيلَةٌ وَصَنِيعَةٌ فِي بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ. وَقَدْ سَمَّاهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فَقَالَ: الْمُطَيَّبُونَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ: بَنُو ⦗٥٩٦⦘ عَبْدِ مَنَافٍ؛ هَاشِمٌ، وَالْمُطَّلِبُ، وَعَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ، وَبَنُو زُهْرَةَ وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَبَنُو تَيْمٍ، وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، خَمْسُ قَبَائِلَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُمْ حِلفٌ مِنَ الْفُضُولِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں قریش کے ایک پاکیزہ معاہدے میں شریک ہوا ہوں اور میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے سرخ اونٹ بھی ہوں تو اسے توڑ دوں اور «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ ہاشم، امیہ، زہرہ اور مخزوم ہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے ہے یا اس کے علاوہ سے اسے «حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ» ”حلف المطیبین“ کہا گیا؛ اس لیے کہ جس دن انہوں نے معاہدہ کیا تھا، اس دن انہوں نے اپنے ہاتھ خوشبو میں ڈبوئے تھے اور انہوں نے قسمیں کھائی تھیں اور یہ اس وقت ہوا تھا جب بنی عبدمناف اور بنی عبدالدار کے درمیان تنازع تھا، جو ان میں گھاٹ، جھنڈا، ندوہ اور دیگر ذمہ داریوں کے بارے میں ہوا تھا، پس قریش کے قبائل میں سے بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنی عبد مناف کے تابع تھے۔ ان کے لیے اس وجہ سے بنی عبد مناف میں شرف اور فضیلت تھی اور تحقیق محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان کا نام لیا، پس کہا: «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ قریش کے قبائل تھے؛ بنو عبدمناف سے ہاشم اور عبدالمطلب، عبدشمس، نوفل، بنو زہرہ، بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنو تیم اور بنو حارث بن فہر پانچ قبائل تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: بعض نے کہا کہ وہ حلف الفضول والا معاہدہ تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے ہے یا اس کے علاوہ سے اسے «حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ» ”حلف المطیبین“ کہا گیا؛ اس لیے کہ جس دن انہوں نے معاہدہ کیا تھا، اس دن انہوں نے اپنے ہاتھ خوشبو میں ڈبوئے تھے اور انہوں نے قسمیں کھائی تھیں اور یہ اس وقت ہوا تھا جب بنی عبدمناف اور بنی عبدالدار کے درمیان تنازع تھا، جو ان میں گھاٹ، جھنڈا، ندوہ اور دیگر ذمہ داریوں کے بارے میں ہوا تھا، پس قریش کے قبائل میں سے بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنی عبد مناف کے تابع تھے۔ ان کے لیے اس وجہ سے بنی عبد مناف میں شرف اور فضیلت تھی اور تحقیق محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان کا نام لیا، پس کہا: «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ قریش کے قبائل تھے؛ بنو عبدمناف سے ہاشم اور عبدالمطلب، عبدشمس، نوفل، بنو زہرہ، بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنو تیم اور بنو حارث بن فہر پانچ قبائل تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: بعض نے کہا کہ وہ حلف الفضول والا معاہدہ تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ، وَلَوْ أُدْعَى بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ " قَالَ الْقُتَيْبِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: وَكَانَ سَبَبُ الْحِلْفِ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَتَظَالَمُ بِالْحَرَمِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جُدْعَانَ وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَعَاهُمْ إِلَى التَّحَالُفِ عَلَى التَّنَاصُرِ، وَالْأَخْذِ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ، فَأَجَابَهُمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَعْضُ الْقَبَائِلِ مِنْ قُرَيْشٍ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ سَمَّاهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بْنُو هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَبَنُو زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ، وَبَنُو تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: فَتَحَالَفُوا فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ، فَسَمَّوْا ذَلِكَ الْحِلْفَ حِلْفَ الْفُضُولِ تَشْبِيهًا لَهُ بِحِلْفٍ كَانَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ جُرْهُمٍ عَلَى التَّنَاصُفِ وَالْأَخْذِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ، وَلِلْغَرِيبِ مِنَ الْقَاطِنِ، قَامَ بِهِ رِجَالٌ مِنْ جُرْهُمٍ يُقَالُ لَهُمُ: الْفَضْلُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلُ بْنُ وَدَاعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ فَضَالَةَ، فَقِيلَ حِلْفُ الْفُضُولِ جَمْعًا لِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ. قَالَ غَيْرُ الْقُتَيْبِيِّ فِي أَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ: فَضْلٌ وَفَضَالٌ وَفُضَيْلٌ وَفَضَالَةُ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: وَالْفُضُولُ جَمْعُ فَضْلٍ، كَمَا يُقَالُ: سَعْدٌ وَسُعُودٌ، وَزَيْدٌ وَزُيُودٌ، وَالَّذِي فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: أَحْسِبُهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ؛ لِلْحَدِيثِ الْآخَرِ، وَلِأَنَّ الْمُطَيَّبِينَ هُمُ الَّذِينَ عَقَدُوا حِلْفَ الْفُضُولِ. قَالَ: وَأِيُّ فَضْلٍ يَكُونُ فِي مِثْلِ التَّحَالُفِ الْأَوَّلِ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنْ أَنْكُثَهُ وَأَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ " وَلَكِنَّهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ الَّذِي عَقَدَهُ الْمُطَيَّبُونَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالسِّيَرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ: إِنَّ قَوْلَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ، غَلَطٌ، إِنَّمَا هُوَ حِلْفُ الْفُضُولِ؛ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُدْرِكْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَدِيمًا قَبْلَ أَنْ يُولَدَ بِزَمَانٍ، ⦗٥٩٧⦘ وَأَمَّا السَّابِقَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا فَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهَا سَابِقَةَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى الْإِسْلَامِ؛ فَإِنَّهَا أَوَّلُ امْرَأَةٍ أَسْلَمَتْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ بن عبداللہ بن جدعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حلف میں (معاہدے میں) شریک ہوا، اگر مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی دیے جائیں تو میں انہیں پسند نہ کرتا، اگر مجھے اسلام کی موجودگی میں بھی بلایا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔“ قتیبی کہتے ہیں: حلف کا سبب قریشیوں کا حرم میں ایک دوسرے پر ظلم کرنا تھا۔ عبداللہ بن جدعان اور زبیر بن عبدالمطلب اس ظلم کے خلاف مدد کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور ظالم کے ظلم کو جو وہ مظلوم پر کرتے تھے، روکنے کے لیے کھڑے ہوئے، ان دونوں کی مدد کے لیے بنو ہاشم اور قریش کے بعض قبائل شریک ہوئے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا نام ابن اسحاق ہے، کہتے ہیں: اس معاہدے میں یہ قبائل شامل تھے: بنی ہاشم بن عبدمناف، بنی مطلب بن عبدمناف، بنی اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، بنی زہرہ بن کلاب اور بنی تمیم بن مرہ۔
قتیبی کہتے ہیں: ان سب (قبائل) نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حلف اٹھایا اور اس کا نام حلف الفضول رکھا۔ ان دنوں مکہ میں جرہم قبیلے کی حکومت تھی، جو عدل و انصاف کرتے تھے، طاقت ور سے غریب کا حق لے کر دیتے تھے اور غریب کے لیے رہائش کا اہتمام کرتے تھے، ان ناداروں کے لیے جرہم قبیلے سے کچھ اشخاص کھڑے ہوئے جن کا نام فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضیل بن فضالہ تھا، کہا گیا ہے کہ حلف الفضول ان تمام لوگوں کے ناموں کا مجموعہ ہے۔ قتیبی کے علاوہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے نام فضل، فضال، فضیل اور فضالہ تھے۔ قتیبی کہتے ہیں: فضول فضل کی جمع ہے جیسے کہا جاتا ہے: سعد اور سعود، زید اور زیود۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حلف المطلبیین ہے، قتیبی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کی مراد حلف الفضول ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے، چونکہ مطلبیین وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلف الفضول کا معاہدہ کیا، پہلے معاہدوں میں سے کون سا اس سے افضل ہے؟ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مجھے پسند نہیں کہ میں اس معاہدے کو توڑوں، اگرچہ مجھے سرخ اونٹ دیے جائیں۔“ لیکن ان کی مراد حلف الفضول ہے جسے مطلبیوں نے طے کیا۔ محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ، بعض سیرت نگار اور تاریخ دان کہتے ہیں: ان کا اس حدیث میں کہنا کہ وہ معاہدہ (یعنی اس کا نام) حلف المطلبیین تھا، غلط ہے، وہ معاہدہ حلف الفضول ہی ہے، یہ اس لیے کہ نبی ﷺ نے حلف المطلبیین کا دور نہیں پایا اور وہ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے تھا، اس حدیث میں جو مسابقت کا ذکر ہے وہ ممکن ہے کہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی مسابقتِ اسلام ہے، چونکہ وہ عورتوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا نام ابن اسحاق ہے، کہتے ہیں: اس معاہدے میں یہ قبائل شامل تھے: بنی ہاشم بن عبدمناف، بنی مطلب بن عبدمناف، بنی اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، بنی زہرہ بن کلاب اور بنی تمیم بن مرہ۔
قتیبی کہتے ہیں: ان سب (قبائل) نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں حلف اٹھایا اور اس کا نام حلف الفضول رکھا۔ ان دنوں مکہ میں جرہم قبیلے کی حکومت تھی، جو عدل و انصاف کرتے تھے، طاقت ور سے غریب کا حق لے کر دیتے تھے اور غریب کے لیے رہائش کا اہتمام کرتے تھے، ان ناداروں کے لیے جرہم قبیلے سے کچھ اشخاص کھڑے ہوئے جن کا نام فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضیل بن فضالہ تھا، کہا گیا ہے کہ حلف الفضول ان تمام لوگوں کے ناموں کا مجموعہ ہے۔ قتیبی کے علاوہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے نام فضل، فضال، فضیل اور فضالہ تھے۔ قتیبی کہتے ہیں: فضول فضل کی جمع ہے جیسے کہا جاتا ہے: سعد اور سعود، زید اور زیود۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حلف المطلبیین ہے، قتیبی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کی مراد حلف الفضول ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے، چونکہ مطلبیین وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلف الفضول کا معاہدہ کیا، پہلے معاہدوں میں سے کون سا اس سے افضل ہے؟ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”مجھے پسند نہیں کہ میں اس معاہدے کو توڑوں، اگرچہ مجھے سرخ اونٹ دیے جائیں۔“ لیکن ان کی مراد حلف الفضول ہے جسے مطلبیوں نے طے کیا۔ محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ، بعض سیرت نگار اور تاریخ دان کہتے ہیں: ان کا اس حدیث میں کہنا کہ وہ معاہدہ (یعنی اس کا نام) حلف المطلبیین تھا، غلط ہے، وہ معاہدہ حلف الفضول ہی ہے، یہ اس لیے کہ نبی ﷺ نے حلف المطلبیین کا دور نہیں پایا اور وہ آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے تھا، اس حدیث میں جو مسابقت کا ذکر ہے وہ ممکن ہے کہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی مسابقتِ اسلام ہے، چونکہ وہ عورتوں میں سب سے پہلے مسلمان ہوئیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " كَانَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوَّلَ مَنْ آمَنَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
زہری سے روایت ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں سے پہلی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنا صَدَقَةُ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ " " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيِّ عَنْ عَبْدَةَ. وَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِالسَّابِقَةِ سَابِقَةَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ؛ فَإِنَّهُ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، مِمَّنْ تَقَدَّمَ إِسْلَامُهُ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں میں سے بہترین مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد ہیں۔“
حَدَّثَنَا بِهَذَا النَّسَبِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
یہ روایت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ. قَالَ عُرْوَةُ: وَنُفِخَتْ نَفْخَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخِذَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ، وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَعَهُ السَّيْفُ، فَمَنْ رَآهُ مِمَّنْ لَا يَعْرِفُهُ قَالَ: الْغُلَامُ مَعَهُ السَّيْفُ، حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ يَا زُبَيْرُ؟ " قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّكَ أُخِذْتَ، قَالَ: " فَكُنْتَ صَانِعًا مَاذَا؟ " قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ بِهِ مَنْ أَخَذَكَ، قَالَ: فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِسَيْفِهِ وَكَانَ أَوَّلَ سَيْفٍ سُلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اسلام لائے، وہ آٹھ برس کے تھے، عروہ رحمہ اللہ نے کہا: شیطان نے مشہور کردیا کہ رسول اللہ ﷺ پکڑ لیے گئے ہیں، پس سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نکلے اور وہ بارہ برس کے تھے، ان کے پاس تلوار تھی جو بھی دیکھتا، پہچانتا نہ تھا اور کہتا: بچے کے پاس تلوار ہے یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے زبیر! تجھے کیا ہے؟“ عرض کیا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کو پکڑ لیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تو کیا کرے گا؟“ عرض کیا: میں اس کی گردن اتار دوں گا، جس نے آپ کو پکڑا ہے، پس رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے اور ان کی تلوار کے لیے دعا کی اور وہ پہلی تلوار تھی جو اسلام میں سونتی گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قُتَيْبَةَ الْغَنَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الْحَمَّارُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ يَأْتِينِي ⦗٥٩٨⦘ بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ " فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيِّيَ الزُّبَيْرُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي وَحَوَارِيِّيَ مِنْ أَهْلِي ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے دن کہا: ”کون میرے پاس قوم کی خبر لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ ﷺ نے پھر کہا: ”کون میرے پاس قوم کی خبر لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ ﷺ نے پھر کہا: ”کون میرے پاس قوم کی خبر لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“
(ب) جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زبیر میری پھوپھی کے بیٹے اور میرے اہل میں میرے حواری ہیں۔“
(ب) جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زبیر میری پھوپھی کے بیٹے اور میرے اہل میں میرے حواری ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ. وَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهَذِهِ السَّابِقَةِ صَبْرَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَمُبَايَعَتَهُمْ إِيَّاهُ عَلَى الْمَوْتِ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام سے روایت ہے کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی جماعت کے ساتھ رکنے کی متابعت ہے، نبی ﷺ کے اصحاب میں سے نبی ﷺ کے ساتھ احد کے دن اور ان کی آپ ﷺ کے ساتھ موت پر بیعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " يَا بُنِيَّ، إِنَّ أَبَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بیٹے! تیرا باپ (زبیر رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا ان کو مصیبت پہنچنے کے بعد جواب دیا ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [سورة آل عمران: 172]۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ أَبَوَاكَ، تَعْنِي الزُّبَيْرَ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ، قَالَتْ: لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ أُحُدٍ وَأَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ مَا أَصَابَهُمْ، خَافَ أَنْ يَرْجِعُوا، فَقَالَ: " مَنْ يَنْتَدِبُ لِهَؤُلَاءِ فِي آثَارِهِمْ حَتَّى يَعْلَمُوا أَنَّ بِنَا قُوَّةً؟ " قَالَ: فَانْتَدَبَ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ فِي سَبْعِينَ، فَخَرَجُوا فِي آثَارِ الْقَوْمِ فَسَمِعُوا بِهِمْ، وَانْصَرَفُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ، قَالَتْ: لَمْ يَلْقَوْا عَدُوًّا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ. وَأَمَّا زُهْرَةُ فَإِنَّهُ كَانَ أَخًا لِقُصِيِّ بْنِ كِلَابٍ، وَمِنْ أَوْلَادِهِ مِنَ الْعَشَرَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: ”اے میری بہن کے بیٹے! تیرے دونوں باپ زبیر اور ابوبکر رضی اللہ عنہما ﴿ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مصیبت کے وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ساتھ دیا تھا﴾ [سورة آل عمران: 172]۔“ کہا: جب احد کے دن مشرکین پھر کٹے اور نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کو جو تکلیفیں پہنچیں، آپ ﷺ ڈرے کہ وہ پھر نہ لوٹ آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون کون ان کا پیچھا کرنے کی تیاری کرے گا، حتیٰ کہ وہ جان لیں کہ ہمارے پاس قوت ہے؟“ پس ابوبکر اور زبیر رضی اللہ عنہما ان ستر آدمیوں میں تھے جو ان کے پیچھے گئے۔ انہوں نے سنا کہ وہ اللہ کے فضل اور نعمت سے لوٹے ہیں۔ کہا: وہ دشمن کو نہیں ملے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ: " عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ زُهْرَةَ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصِ بْنِ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو نبی ﷺ کے ساتھ بدر میں حاضر ہوئے وہ بنی زہرہ بن کلاب بن مرہ، عبدالرحمن بن عوف بن عبد عوف بن الحارث بن زہرہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ رضی اللہ عنہ تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: جَاءَ سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، مَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ " وَأَمَّا تَيْمٌ فَإِنَّهُ كَانَ أَخًا لِكِلَابٍ، وَأَمَّا مَخْزُومٌ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَخًا لَهُمْ، وَإِنَّمَا هُوَ مَخْزُومُ بْنُ يَقَظَةَ بْنِ مُرَّةَ، إِلَّا أَنَّ الْقَبِيلَةَ اشْتُهِرَتْ بِمَخْزُومٍ فَنُسِبَتْ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا قَدَّمَ بَنِي تَيْمٍ عَلَى بَنِي مَخْزُومٍ؛ لِأَنَّهُمْ كَانُوا مِنْ حِلْفِ الْفُضُولِ وَالْمُطَيَّبِينَ..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کون ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سعد بن مالک بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ، جس نے اس کے علاوہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو۔“ رہے تیم تو وہ کلاب کے بھائی ہیں اور مخزوم کا کوئی بھائی نہیں ہے اور وہ مخزوم بن یقظہ بن مرہ ہیں مگر قبیلہ مخزوم مشہور ہو گیا، پس وہ اسی سے منسوب ہو گیا اور بنی تیم بنو مخزوم پر مقدم ہے اس لیے کہ وہ حلف الفضول اور مطیبین میں تھے۔
وَقِيلَ ذَكَرَ سَابِقَةً، يُرِيدُ سَابِقَةَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ فَإِنَّهُ أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤِيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک قول ہے کہ جو مسابقت کا ذکر ہے، وہ مسابقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے؛ ابوبکر عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَ هَذَا النَّسَبَ..
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ نے اس نسب کو ذکر کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَتِيقٌ بَدَلَ عَبْدِ اللهِ، ثُمَّ قَالَ: وَعَتِيقٌ لَقَبٌ، وَاسْمُهُ عَبْدُ اللهِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ الْأَحْرَارِ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ «عَتِیق» عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بدل ہے، پھر کہا: «عَتِیق» لقب ہے اور «عَبْدُ اللہ» نام ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ آزاد آدمیوں میں سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ آزاد آدمیوں میں سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ: " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ کے ساتھ پانچ غلام، دو عورتیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ، فَذَكَرَ دُخُولَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: " أُدْعَى نَبِيًّا "، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: " أَرْسَلَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى "، فَقُلْتُ: بِأِيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ؟، فَقَالَ: " أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ لَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ "، قُلْتُ لَهُ: فَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ "، قَالَ: وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس مکہ میں آئے، میں نے کہا: آپ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے نبی کہتے ہیں“، میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے“۔ میں نے کہا: کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے صلہ رحمی، بتوں کو توڑنے اور یہ کہ توحید کا اقرار کیا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے“۔ میں نے کہا: کس کے ساتھ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد اور غلام کے ساتھ“۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ ﷺ کے ساتھ اس دن سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما تھے جو آپ پر ایمان لائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ؟ فَقَالَ: "" أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ حَسَّانَ:.
حافظ ثناء اللہ
مالک بن مغول ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا، پہلے کون ایمان لایا تھا؟ انھوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ کیا تو نے حسان کا قول سنا ہے:
جب تو میرے بااعتماد بھائی سے غم کو یاد کرے تو اپنے بھائی ابوبکر کے ان کارناموں کو یاد کر جو اس نے سر انجام دیے۔
مخلوق میں سب سے بہترین نبی ﷺ کے بعد سب سے زیادہ وفادار، عادل اور بوجھ کا سب سے زیادہ لائق جو اس نے اٹھایا وہ یارِ غار تھے یعنی ایسی جگہ پر حاضر تھے جس کی تعریف کی گئی ہے اور لوگوں میں سے سب سے پہلا جس نے رسولوں کی تصدیق کی اللہ کے امر کی تعریف کرتے ہوئے اور گزرنے والے دوست کی سیرت اور فرامین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ بات ایسے معلوم ہوتی ہے کہ بنی تیم میں مسابقت سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ بھی تیمی ہیں، ان کا نسب نامہ طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔
جب تو میرے بااعتماد بھائی سے غم کو یاد کرے تو اپنے بھائی ابوبکر کے ان کارناموں کو یاد کر جو اس نے سر انجام دیے۔
مخلوق میں سب سے بہترین نبی ﷺ کے بعد سب سے زیادہ وفادار، عادل اور بوجھ کا سب سے زیادہ لائق جو اس نے اٹھایا وہ یارِ غار تھے یعنی ایسی جگہ پر حاضر تھے جس کی تعریف کی گئی ہے اور لوگوں میں سے سب سے پہلا جس نے رسولوں کی تصدیق کی اللہ کے امر کی تعریف کرتے ہوئے اور گزرنے والے دوست کی سیرت اور فرامین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ بات ایسے معلوم ہوتی ہے کہ بنی تیم میں مسابقت سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ بھی تیمی ہیں، ان کا نسب نامہ طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔
حَدَّثَنَا بِهَذَا النَّسَبِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَهُ. وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ الزُّهْرِيُّ وَغَيْرُهُ. صَبَرَ طَلْحَةُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَرَمَى مَالِكُ بْنُ زُهَيْرٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَاتَّقَى طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بِيَدِهِ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ خِنْصَرَهُ فَشَلَّتْ. ذَكَرَهُ الْوَاقِدِيُّ بِإِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ کے ساتھ احد میں صبر کرنا ذکر کیا اور اس دن رسول اللہ ﷺ کو مالک بن زہیر کا پتھر مارنا۔ پس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر رکھا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی انگلی کو پتھر لگا وہ شل ہو گئی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ ⦗٦٠١⦘ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: " رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَلَّتْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں: میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دیکھا، جس نے نبی ﷺ کو بچایا تھا، وہ شل ہو چکا تھا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَهَبَ لِيَنْهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهَا، فَجَلَسَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ تَحْتَهُ فَنَهَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْجَبَ طَلْحَةُ " وَذَكَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَنَّ طَلْحَةَ مِنَ الثَّمَانِيَةِ الَّذِينَ سَبَقُوا النَّاسَ بِالْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْمُصَاهَرَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا فِي بَنِي تَيْمٍ فَهِيَ مِنْ جِهَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَبِيبَةِ حَبِيبِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، جب آپ ﷺ چٹان کی طرف اٹھنے کے لیے گئے اور نبی ﷺ پر اس دن دو زرہیں تھیں، آپ ﷺ اٹھنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ پس سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے نیچے بیٹھ گئے۔ پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اٹھایا یہاں تک کہ برابر ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلحہ نے «أَوْجَبَ» ”واجب کر لیا“۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أِيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: " عَائِشَةُ "، فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا "، فَقُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ "، قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ. وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟ " قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: " فَأَحِبِّي هَذِهِ "، يُرِيدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: " لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ؛ فَإِنَّهُ وَاللهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا ". وَأَمَّا عَدِيُّ بْنُ كَعْبٍ فَإِنَّهُ كَانَ أَخًا لِمُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، وَأَمَّا سَهْمٌ وَجُمَحٌ فَإِنَّهُمَا ابْنَا عَمْرِو بْنِ هُصَيْصِ بْنِ كَعْبٍ، إِلَّا أَنَّ الْقَبِيلَةَ اشْتُهِرَتْ بِهِمَا فَنُسِبَتْ إِلَيْهِمَا. ⦗٦٠٢⦘ وَإِنَّمَا قَدَّمَ بَنِي جُمَحٍ، قِيلَ: لِأَجْلِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ وَمَا كَانَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنْ إِعَارَةِ السِّلَاحِ، وَقَوْلِهِ حِينَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَكَلَدَةُ مَا قَالَا: فَضَّ اللهُ فَاكَ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسْلَمَ وَهَاجَرَ، وَقِيلَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَصْدًا إِلَى تَأْخِيرِ حَقِّهِ، فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤِيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر میں بھیجا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ۔“ میں نے عرض کیا: ”مردوں میں سے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے والد۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کون؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔“ آپ ﷺ نے متعدد نام لیے۔
(ب) نبی ﷺ سے روایت ہے، آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”کیوں نہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے محبت کرو۔“ یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے عائشہ کے بارے میں اذیت نہ دو، اللہ کی قسم! جب بھی وحی نازل ہوئی، میں اس کے علاوہ تم میں سے کسی بیوی کے بستر میں نہیں ہوتا تھا۔“ اور عدی بن کعب، مرہ بن کعب کے بھائی تھے۔
(ب) نبی ﷺ سے روایت ہے، آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”کیوں نہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے محبت کرو۔“ یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے عائشہ کے بارے میں اذیت نہ دو، اللہ کی قسم! جب بھی وحی نازل ہوئی، میں اس کے علاوہ تم میں سے کسی بیوی کے بستر میں نہیں ہوتا تھا۔“ اور عدی بن کعب، مرہ بن کعب کے بھائی تھے۔
حَدَّثَنَا بِهَذَا النَّسَبِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ. فَآثَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَبِيلَتِهِ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْمَهْدِيِّ أَمَرَ الْمَهْدِيُّ بَنِي عَدِيٍّ فَقُدِّمُوا عَلَى سَهْمٍ وَجُمَحٍ لِلسَّابِقَةِ فِيهِمْ، وَهِيَ سَابِقَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " اللهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کے قبیلہ پر ترجیح دی، جب مہدی کا زمانہ آیا تو مہدی نے بنی عدی کو حکم دیا، پس ان کو حصے پر مقدم کیا گیا اور نبی ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» ”اے اللہ! اسلام کو عزت عطا فرما عمر رضی اللہ عنہ کے ذریعے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ذریعے عزت عطا فرما۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ سے پچھلی حدیث کی طرح منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، وَأنا أَبُو زَكَرِيَّا، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدٍ قَالَا:.
حافظ ثناء اللہ
اس روایت میں جعفر اور محمد کہتے ہیں:
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: " مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَأَمَّا قَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَإِنَّ الْإِسْلَامَ دَخَلَ وَأَمْرُنَا وَأَمْرُ بَنِي سَهْمٍ وَاحِدٌ فَهُوَ لِأَنَّ ⦗٦٠٣⦘ بَنِي سَهْمٍ كَانُوا مُظَاهِرِينَ لِبَنِي عَدِيٍّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَاجْتَمَعَتْ بَنُو جُمَحٍ عَلَى بَنِي عَدِيٍّ لِنَاثِرَةٍ بَيْنَهُمْ، فَقَامَتْ دُونَهُمْ سَهْمٌ إِخْوَةُ جُمَحٍ فَقَالُوا: إِنَّ عَدِيًّا أَقَلُّ مِنْكُمْ عَدَدًا، فَإِنْ شِئْتُمْ فَأَخْرِجُوا إِلَيْهِمْ أَعْدَادَهُمْ مِنْكُمْ، وَنُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ وَفَّيْنَاهُمْ مِنَّا حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَكُمْ، فَتَحَاجَزُوا. قَالَهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، وَأَمَّا أَبُو عُبَيْدَةَ فَإِنَّهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَهْيَبَ بْنِ ضَبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، جب سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ہیں عزت ملنا شروع ہوگئی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: جب اسلام آیا تو بنی سہم اور ہمارا معاملہ ایک ہی تھا۔ چونکہ بنی سہم جاہلیت میں بنی عدی کے مددگار تھے۔ بنو جمع، بنی عدی پر غالب ہونے کے لیے جمع ہوئے تو بنی جمع کے بھائی بنی سہم ان کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا: بنی عدی تعداد میں تم سے تھوڑے ہیں، اگر تم چاہو تو تیاری کر کے ان پر خروج (حملہ) کرو، ہم تمہارے اور ان کے درمیان حائل ہوں گے اور اگر تم چاہو تو ہم انہیں اپنی طرف سے ادا کردیں۔ وہ تمہارے جیسے ہوجائیں تو وہ ایک دوسرے سے رک گئے۔ یہ بات زبیر بن بکار رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: عامر بن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر بن مالک ہے۔ یہ قول محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: جب اسلام آیا تو بنی سہم اور ہمارا معاملہ ایک ہی تھا۔ چونکہ بنی سہم جاہلیت میں بنی عدی کے مددگار تھے۔ بنو جمع، بنی عدی پر غالب ہونے کے لیے جمع ہوئے تو بنی جمع کے بھائی بنی سہم ان کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا: بنی عدی تعداد میں تم سے تھوڑے ہیں، اگر تم چاہو تو تیاری کر کے ان پر خروج (حملہ) کرو، ہم تمہارے اور ان کے درمیان حائل ہوں گے اور اگر تم چاہو تو ہم انہیں اپنی طرف سے ادا کردیں۔ وہ تمہارے جیسے ہوجائیں تو وہ ایک دوسرے سے رک گئے۔ یہ بات زبیر بن بکار رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ: عامر بن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر بن مالک ہے۔ یہ قول محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَأَبِي خَيْثَمَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ خَالِدٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا تَأَخَّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فِي الْعَطَاءِ لِبُعْدِ نَسَبِهِ، لَا لِنُقْصَانِ شَرَفِهِ، وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضِ مَنْ تَقَدَّمَهُ مَعَ كَوْنِهِ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ جُمْلَةِ الْأَقْرَبِينَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: ابوعبیدہ عطاء میں مؤخر ہے، نسب کی دوری کی وجہ سے نہ کہ شرف کی وجہ سے۔ وہ بعض قریبی قریشیوں سے افضل ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ابوعبیدہ عطاء میں مؤخر ہے، نسب کی دوری کی وجہ سے نہ کہ شرف کی وجہ سے۔ وہ بعض قریبی قریشیوں سے افضل ہے۔