کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غلام اور عورت کو مالِ غنیمت میں سے کچھ انعام دیا جائے گا لیکن ان کا باقاعدہ حصہ مقرر نہیں کیا جائے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، أنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي سُؤَالِهِ وَفِي جَوَابِهِ قَالَ: وَسَأَلْتُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ: هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرَا الْبَأْسَ؟ قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْعَدُوِّ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ يَزِيدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: " وَأَمَّا السَّهْمُ، فَلَمْ يُضْرَبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال تحریر کر کے بھیجا، اس نے اس کے سوال اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب ذکر کیے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تو نے سوال کیا ہے عورت اور غلام کے بارے میں کہ کیا ان کے لیے حصہ ہے جب وہ لڑائی میں شریک ہوں؟ ان کے لیے مقررہ حصہ نہیں ہے مگر ان کو دشمن کی غنیمت سے کچھ انعام دیا جائے گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ حَاتِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہرمز نے قصہ بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی طرف لکھا کہ تو نے مجھ سے سوال کیا ہے کیا عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں جاتی تھیں؟ تحقیق وہ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں، مریضوں کو دوا دیتی تھیں اور ان کو غنیمت سے انعام دیا جاتا تھا اور ان کے لیے مقرر حصہ نہ تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْهِمْ لِي، فَأَعْطَانِي سَيْفًا فَقَالَ: " تَقَلَّدْ هَذَا السَّيْفَ "، وَأَعْطَانِي خُرْثِيَّ مَتَاعٍ، وَلَمْ يُسْهِمْ لِي ⦗٥٤١⦘ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدِيثًا آخَرَ فِي الزَّكَاةِ، وَهَذَا الْمَتْنُ أَيْضًا صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابی اللحم کے غلام عمیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں خیبر میں حاضر ہوا اور میں غلام تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے بھی حصہ دیں۔ پس آپ ﷺ نے مجھے تلوار دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس تلوار کو لٹکاؤ“ اور آپ ﷺ نے مجھے ردی سامان دے دیا اور مجھے حصہ نہ دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: أنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا، فَجِئْنَا فَرَأَيْنَا فِيهِ الْغَضَبَ، فَقَالَ: " مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعْرَ، وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَعَنَا دَوَاءٌ لِلْجَرْحَى، وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ، وَنَسْقِي السَّوِيقَ، فَقَالَ: " أَقِمْنَ ". حَتَّى إِذَا فَتْحَ اللهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ أَسْهَمَ لَنَا كَمَا أَسْهَمَ لِلرِّجَالِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: يَا جَدَّةُ، وَمَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: تَمْرًا قَالَ الشَّيْخُ: إِخْبَارُهَا عَنْ عَيْنِ مَا أَعْطَاهُنَّ دَلَالَةٌ عَلَى كَوْنِهِ رَضْخًا. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمْ يُضْرَبْ لَهُنَّ سَهْمٌ، بَيَانُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَرُوِيَ عَنْ مَكْحُولٍ وغَيْرِهِ فِي الْإِسْهَامِ لَهُنَّ بِخَيْبَرَ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حشرج بن زیاد اپنی دادی رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں گئیں۔ یہ چھ عورتوں میں چھٹی تھیں، رسول اللہ ﷺ کو علم ہوا تو آپ ﷺ نے ہماری طرف پیغام بھیجا کہ ان کو بلاؤ۔ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آئیں، ہم نے آپ ﷺ پر غصہ دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کس کے ساتھ نکلی ہو اور کس کی اجازت سے نکلی ہو؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نکلیں تاکہ ہم سوت کاتیں اور اس کے ساتھ اللہ کے راستے میں مدد کریں، ہمارے پاس زخموں کے لیے دوا ہے، ہم تیر پکڑائیں گی اور ستو پلائیں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ٹھہری رہو۔“ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر پر فتح عطا فرمائی، آپ ﷺ نے ہمیں بھی حصہ دیا جیسے مردوں کو دیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دادی سے پوچھا: اے دادی! وہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کھجوریں۔
شیخ فرماتے ہیں: اس خبر میں جو آپ ﷺ نے ان کو دیا وہ بطور انعام تھا، ان کے لیے حصہ نہ نکالا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس خبر میں جو آپ ﷺ نے ان کو دیا وہ بطور انعام تھا، ان کے لیے حصہ نہ نکالا۔