حدیث نمبر: 12987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ بِالسَّوِيَّةِ، فَقِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ لَوْ فَضَّلْتَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ، فَقَالَ: " أَشْتَرِي مِنْهُمْ شِرًى، فَأَمَّا هَذَا الْمَعَاشُ فَالْأُسْوَةُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْأَثَرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ والی بنے، آپ نے لوگوں میں برابری سے تقسیم کی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اے خلیفہ رسول اللہ ﷺ! اگر آپ مہاجرین اور انصار کو فضیلت دیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے فضل کو جانتا ہوں، پس رہا یہ معاش تو اس میں اسوہ ترجیح سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 12988
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى غُفْرَةَ قَالَ: قَسَمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوَّلَ مَا قَسَمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَضِّلِ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ وَأَهْلَ السَّابِقَةِ " فَقَالَ: " أَشْتَرِي مِنْهُمْ سَابِقَتَهُمْ؟ " فَقَسَمَ فَسَوَّى قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَسَوَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ النَّاسِ وَهَذَا الَّذِي أَخْتَارُ، وَأَسْأَلُ اللهَ التَّوْفِيقَ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبد اللہ مولیٰ غفرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلی تقسیم کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مہاجرین اور اسلام میں سبقت لے جانے والوں کو فضیلت دیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان میں سے سبقت لے جانے والوں کے (اجر و فضل) کو جانتا ہوں، پس آپ رضی اللہ عنہ نے برابر تقسیم کیا۔
حدیث نمبر: 12989
وَأَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صُبَيْحٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ سَمِعَهُ مِنْهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَتَاهُ مَالٌ مِنْ أَصْبَهَانَ، فَقَسَمَهُ بِسَبْعَةِ أَسْبَاعٍ، فَفَضَلَ رَغِيفٌ، فَكَسَرَهُ بِسَبْعِ كِسَرٍ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ جُزْءٍ كِسْرَةً، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَ النَّاسِ أَيُّهُمْ يَأْخُذُ أَوَّلَ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے سنا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس اصبہان سے مال آیا، انہوں نے اسے سات حصوں میں تقسیم کیا، پس روٹی کا ٹکڑا بچ گیا، آپ نے اسے سات ٹکڑوں میں کیا، پس ہر جز پر ایک ٹکڑا رکھ دیا، پھر لوگوں میں قرعہ ڈالا کہ کون پہلا حصہ لے گا۔
حدیث نمبر: 12990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّغْشِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ قُرَيْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَتْ عَلِيًّا امْرَأَتَانِ تَسْأَلَانِهِ؛ عَرَبِيَّةٌ وَمَوْلَاةٌ لَهَا، فَأَمَرَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِكُرٍّ مِنْ طَعَامٍ وَأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا، فَأَخَذَتِ الْمَوْلَاةُ الَّذِي أُعْطِيَتْ وَذَهَبَتْ، وَقَالَتِ الْعَرَبِيَّةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تُعْطِينِي مِثْلَ الَّذِي أَعْطَيْتَ هَذِهِ، وَأَنَا عَرَبِيَّةٌ وَهِيَ مَوْلَاةٌ؟ قَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِّي نَظَرْتُ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ أَرَ فِيهِ فَضْلًا لِوَلَدِ إِسْمَاعِيلَ عَلَى وَلَدِ إِسْحَاقَ ".
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس دو عورتیں آئیں، انہوں نے سوال کیا کہ ایک عربیہ تھی اور دوسری اس کی لونڈی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک کُر (پیمانہ) کھانے اور چالیس درہم کا حکم دیا، پس لونڈی کو چالیس درہم دیے گئے اور وہ لے کر چلی گئی۔ عربیہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے بھی وہی دیں جو اسے دیا ہے، میں عربیہ ہوں اور وہ لونڈی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں نے اللہ کی کتاب پر غور کیا ہے، لیکن میں نے ولد اسماعیل کو ولد اسحاق پر کوئی فضیلت نہیں دیکھی۔
حدیث نمبر: 12991
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ⦗٥٦٨⦘ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا جَاءَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ لَهُ: حَاجَتِي عَطَاءُ الْمُحَرَّرِينَ؛ فَإِنِّي " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ شَيْءٌ لَمْ يَبْدَأْ بِأَوَّلَ مِنْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب مدینہ حج کرنے آئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ کی کوئی ضرورت ہے؟“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: ”میری ضرورت لکھنے والوں کو دینا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب کوئی چیز آتی تو ابتدا ان سے کرتے تھے۔“