کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مالِ غنیمت کے اصل میں سے خمس نکالنے اور باقی ماندہ کو جنگ میں شریک ہونے والے بالغ اور آزاد مسلمان مردوں کے درمیان تقسیم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12861
رَوَيْنَا فِيمَا مَضَى عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ، فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ، فَيُخِمِّسُهَا وَيُقَسِّمُهَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس غنیمت کا مال آتا تو آپ ﷺ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے، وہ لوگوں میں اعلان کرتے، پس وہ اپنی غنیمتیں لے کر آتے، آپ ﷺ اس میں سے خمس نکالتے اور اس کو تقسیم کر دیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12861
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 12862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَخَالِدٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ يَعْرِضُ فَرَسًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَقُولُ فِي الْغَنِيمَةِ؟ قَالَ: " لِلَّهِ خُمُسُهَا، وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ لِلْجَيْشِ ". قُلْتُ: فَمَا أَحَدٌ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: " لَا، وَلَا السَّهْمُ تَسْتَخْرِجُهُ مِنْ جَنْبِكَ لَيْسَ أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ وادی القریٰ میں گھوڑے پر تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غنیمت کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے اس کا خمس ہے اور باقی چار حصے لشکر کے ہیں۔“ میں نے کہا: کون ایک سے زیادہ حق دار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں اور نہ کوئی حصہ جسے تو اپنی طرف سے نکالے تو اس کا اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12862
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»