کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا: آزاد اور غلام دونوں کے لیے تقسیم کیا جائے گا
حدیث نمبر: 12981
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِظَبْيَةِ خَرَزٍ، فَقَسَمَهَا لِلْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ " كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بکری کی ریڑھ کی ہڈی لائی گئی۔ آپ ﷺ نے اسے آزاد اور لونڈی میں بانٹ دیا۔
حدیث نمبر: 12982
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " أَتَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةِ خَرَزٍ، فَقَسَمْتُهَا لِلْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ "، قَالَتْ: " وَكَانَ أَبِي يَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے پاس رسول اللہ ﷺ بکری کی ریڑھ کی ہڈی کا گوشت لائے، میں نے اسے آزاد اور لونڈی میں بانٹ دیا اور کہا: میرے والد بھی آزاد اور غلام میں تقسیم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 12983
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٥٦٦⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَلِيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السَّنَةَ الْأُولَى، فَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ بِالسَّوِيَّةِ، فَأَصَابَ كُلَّ إِنْسَانِ عَشْرَةُ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قَسَمَ السَّنَةَ الثَّانِيَةَ، فَأَصَابَهُمْ عِشْرُونَ دِرْهَمًا، وَفَضَلَتْ عِنْدَهُ دُرَيْهِمَاتٌ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ فَضَلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ دُرَيْهَمَاتٌ، وَلَكُمْ خَدَمٌ يُعَالِجُونَ لَكُمْ، وَيَعْمَلُونَ أَعْمَالَكُمْ، فَإِنْ شِئْتُمْ رَضَخْنَا لَهُمْ ". فَقَالُوا: افْعَلْ، فَأَعْطَاهُمْ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ إِنْ صَحَّتْ بَيَانُ الْوَجْهِ الَّذِي قَسَمَ لِأَجْلِهِ لِلْعَبِيدِ، وَأَنَّ ذَلِكَ كَانَ رَضْخًا بِإِذْنِ سَادَاتِهِمْ، فَكَأَنَّهُ أَعْطَاهُ سَادَاتِهِمْ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے سال والی بنے، پس آپ نے لوگوں میں برابر تقسیم کی۔ ہر انسان کو دس درہم ملے۔ پھر دوسرے سال تقسیم کی، ان کو بیس بیس درہم ملے اور آپ کے پاس چند درہم بچ گئے۔ آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! مال میں سے چند درہم بچ گئے ہیں۔ تمہارے خادم ہیں جو تمہارا علاج کرتے ہیں اور وہ تمہارے کام کرتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو ہم ان کو بطور انعام دے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: آپ ان کو دے دیں، پانچ درہم۔ اگر یہ روایات صحیح ہیں تو ظاہر ہوا کہ آپ نے غلاموں کے لیے تقسیم کیا اور یہ انعام تھا، ان کے سرداروں کی اجازت سے گویا کہ ان کو ان کے سرداروں نے دیا۔
حدیث نمبر: 12984
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ فَأَبْصَرَ وُهَيْبًا يُعِينُهُمْ، فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " فَقَالَ: مَمْلُوكٌ لِي، فَقَالَ: " أَرَاهُ يُعِينُهُمْ افْرِضُ لَهُ أَلْفَيْنِ ". قَالَ: فَفَرَضَ لَهُ أَلْفًا، أَوْ قَالَ: أَلْفَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
وہیب سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بیت المال کے نگران تھے، عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور دیکھا کہ وہیب ان کی مدد کر رہے ہیں، پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا: میرا غلام ہے، عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں وہ ان کی مدد کرتا ہے اس کے لیے دو ہزار مقرر کر دو تو زید رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے ایک ہزار یا دو ہزار مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 12985
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " يَرْزُقَانِ أَرِقَّاءَ النَّاسِ " وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَا يُعْطِيَانَ سَادَاتِهِمْ كِفَايَاتِهِمْ وَكِفَايَاتِ أَرِقَّائِهِمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَغْنُونَ عَنْهُمْ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَأَعْطَى مَمْلُوكَ زَيْدٍ بِالْمَعُونَةِ الَّتِي كَانَتْ مِنْهُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
ہارون بن نمرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا۔ وہ دونوں لوگوں کے غلاموں کو بھی حصہ دیتے تھے۔
اس میں احتمال ہے کہ وہ دونوں ان کے سرداروں یا ان کو پالنے والوں کو دیتے ہوں، ان لوگوں کو جو ان سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور زید کے غلام کو محنت کی وجہ سے دیا گیا تھا۔
اس میں احتمال ہے کہ وہ دونوں ان کے سرداروں یا ان کو پالنے والوں کو دیتے ہوں، ان لوگوں کو جو ان سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور زید کے غلام کو محنت کی وجہ سے دیا گیا تھا۔