حدیث نمبر: 12999
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے اور جو قرض یا بال بچے چھوڑے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔“
حدیث نمبر: 13000
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلِيَّ وَعَلَيَّ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”میں مومنوں کے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، جو مال چھوڑے تو وہ اس کے اہل کے لیے ہے اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے تو وہ میری طرف ہیں اور میرے ذمہ ہیں۔“
حدیث نمبر: 13001
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا يَوْمًا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَا ابْنَةُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ، شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: " نَسَبٌ قَرِيبٌ "، قَالَتْ: تَرَكْتُ بَنِيَّ وَمَا يُنْضِجُ أَكْبَرُهُمُ الْكُرَاعَ، فَأَمَرَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِحِمْلِ مُوْقِرٍ طَعَامًا وَكِسْوَةً، فَقَالَ رَجُلٌ: أَكْثَرْتَ لَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: " شَهِدَ أَبُوهَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَعَلَّهُ قَدْ شَهِدَ فَتْحَ مَدِينَةِ كَذَا، وَفَتَحَ مَدِينَةِ كَذَا، فَحَظُّهُ فِيهَا، وَنَحْنُ نَجْبِيهَا، أَفَلَا أُعْطِيهَا مِنْ ذَلِكَ؟ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ ایک دیہاتی عورت آئی، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہما کی بیٹی ہوں، میرے باپ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نسب قریبی ہے، اس نے کہا: میری چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں اور ان میں سے بڑی بکری کے پائے پکانے کی طاقت بھی نہیں رکھتی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے ایک اونٹ، کھانے اور پہننے کی چیزوں کا حکم دیا۔ ایک آدمی نے کہا: آپ نے اسے زیادہ دے دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کا باپ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا اور شاید وہ شہر کی فتح میں بھی شامل ہوں، اس کا حصہ بھی اس میں ہے اور ہم اسے فضل و کمال میں اپنے جیسا سمجھتے ہیں، کیا میں اس کو یہ نہ دوں؟