کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: پچھلی امتوں میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محمد ﷺ اور آپ کی امت کے لیے حلال کر دیا
حدیث نمبر: 12706
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِمَنْ كَانَ قَبْلَنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمتیں حلال نہ تھیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا اور ان کو ہمارے لیے پاکیزہ بنا دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12706
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3124»
حدیث نمبر: 12707
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ كَانَ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا، وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بِنَاءً لَهُ وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا، فَغَدَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَةٌ، وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ فَلَصَقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْيُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ، فَلَصِقَ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، قَالَ: فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کا ارادہ کیا، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ جائے جس نے نئی شادی کی ہو اور وہ اپنی بیوی سے رات گزارنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی تک اس نے رات نہ گزاری ہو، اور وہ آدمی جس نے نیا گھر بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت نہ پاٹی ہو، اور نہ وہ آدمی جس نے حاملہ بکری یا اونٹنی خریدی ہو اور اس کے بچے جننے کا انتظار کر رہا ہو، پس انہوں نے جہاد کیا اور بستی کے قریب پہنچ گئے یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا یا اس کے قریب، تو ان نبی نے سورج سے کہا: «إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ» ”تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں“، «اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! اسے ہم پر روک دے“، پس وہ روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا فرمائی، پھر انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا، آگ اسے کھانے کے لیے آئی لیکن اس نے اسے کھانے سے انکار کر دیا، اس نبی نے کہا: تم میں کوئی چوری کرنے والا ہے، پس ہر قبیلے کا ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے، انہوں نے بیعت کی تو ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا، اس نبی نے کہا: تمہارے قبیلے میں چور ہے، پس تمہارے قبیلے کا ہر فرد بیعت کرے، اس قبیلے نے بیعت کی تو دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گئے، انہوں نے کہا: تم نے چوری کی ہے، پس انہوں نے گائے کے سر کی مانند سونے کی چیز نکالی اور اسے مال میں شامل کر دیا، پھر آگ آئی اور اس نے اسے کھا لیا، پس ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا اور ہمارے لیے اسے حلال قرار دیا۔“ [صحیح]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12707
حدیث نمبر: 12708
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا الْأَعْمَشُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ ⦗٤٧٦⦘ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ، كَانَتْ تُجْمَعُ فَتَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨] {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩] " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَاضِرٍ: " وَأَنّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أَغَارُوا فِيهَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ لَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ". وَزَادَ فِي آخِرِهِ: " فَأُحِلَّتْ لَهُمْ "، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غنیمتیں تم سے پہلے لمبے لمبے سروں والی قوم کے لیے حلال نہ تھیں، مال غنیمت جمع کیا جاتا تھا، آسمان سے آگ نازل ہوتی تھی، وہ اسے کھا لیتی تھی، جب غزوہ بدر ہوا، لوگوں نے غنیمت میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے نازل کر دیا: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۝ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 68-69]۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12708
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12709
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طِيبًا وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ هُشَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ ہر نبی ایک قوم خاص کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے، اور میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں، اور میرے لیے زمین پاکیزہ اور مسجد بنا دی گئی ہے، آدمی جہاں نماز کا وقت پا لے وہیں نماز پڑھ لے، اور رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے ایک مہینہ کی مسافت سے، اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12709
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 335۔ مسلم 521»