کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خمس میں سے قریبی رشتہ داروں (اہلِ بیت) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 12951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا بَنُو الْمُطَّلِبٍ وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَابْنِ يُوسُفَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، وَزَادَ قَالَ: وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اور عثمان بن عفان رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے بنی مطلب کو دیا اور ہم کو چھوڑ دیا اور ہم اور وہ ایک جیسے ہی ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی مطلب اور بنی ہاشم ایک ہی چیز ہیں۔“
حدیث نمبر: 12952
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ لَمَّا قَسَمَ فَيْءَ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا، وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَاشِمٌ وَالْمُطَّلِبُ شَيْءٌ وَاحِدٌ " وَقَالَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: لَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ الْكِتَابِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ جُبَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے پاس بات کرنے آئے، جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر کا مال بنی ہاشم اور بنی مطلب میں تقسیم کیا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنی عبدالمطلب میں تقسیم کر دیا ہے اور ہمیں اور ہمارے رشتہ داروں کو کچھ نہیں دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: «إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ» ”ہاشم اور مطلب ایک ہی چیز ہیں۔“
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس خمس میں سے بنی عبدِ شمس اور بنی نوفل کو کچھ نہ دیا، جیسے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو دیا تھا۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس خمس میں سے بنی عبدِ شمس اور بنی نوفل کو کچھ نہ دیا، جیسے بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو دیا تھا۔
حدیث نمبر: 12953
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُكَ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللهُ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ ⦗٥٥٥⦘ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ "، ثُمَّ شَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا فِي الْأُخْرَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر سے بنی ہاشم اور بنی مطلب میں رشتہ داروں کو حصہ دیا تو میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنی ہاشم سے آپ کے بھائی ہیں۔ ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے، اس مقام کی وجہ سے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے، لیکن عبدالمطلب میں سے ہمارے بھائیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، آپ نے ان کو دے دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے اور ہم اور وہ ایک ہی طرح کے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں نہیں چھوڑا۔ جاہلیت میں اور اسلام میں بے شک بنی ہاشم اور بنی مطلب ایک ہی چیز ہیں“، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔
حدیث نمبر: 12954
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ. إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " لَمْ يُفَارِقُونَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ " فَقَالَ: " إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ هَكَذَا "، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. ثُمَّ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ حَدِيثَ يُونُسَ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنَاهُ مَعْمَرٌ كَمَا وَصَفْتَ، فَلَعَلَّ ابْنَ شِهَابٍ رَوَاهُ عَنْهُمَا مَعًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے رشتہ داروں میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو حصہ دیا تو میں اور عثمان رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے پاس آئے۔ پھر اسی معنی کی حدیث بیان کی اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں جاہلیت اور اسلام میں نہیں چھوڑا“ اور فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں“، اسی طرح آپ ﷺ نے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔
حدیث نمبر: 12955
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَفُلَانٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ إِلَيْكَ بِمَنْزِلٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ " إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَمُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ ضَعِيفَانِ، وَفِي رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ جُبَيْرٍ كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور فلاں آدمی نبی ﷺ کے پاس گئے، ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے بنو مطلب کو دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے، حالانکہ وہ اور ہم آپ کے نزدیک ایک ہی درجے میں ہیں“، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں“۔
حدیث نمبر: 12956
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبِ بْنِ فُضَيْلٍ التَّاجِرُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ ⦗٥٥٦⦘ يَوْمَ بَدْرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينُ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي، فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفِيَّ مَتَاعًا مِنَ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحَبَائِلِ، وَشَارِفَايَ مُنَاخَتَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرَجَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ ما جَمَعْتُ وَإِذَا شَارِفَايَ قَدِ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا، وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا، وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنِي حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا، فَقُلْتُ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ فَقَالُوا: فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا:.
حافظ ثناء اللہ
حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جنگ بدر کی غنیمت میں سے مجھے ایک اونٹنی ملی تھی اسی جنگ کی غنیمت میں سے۔ خمس سے بھی آپ ﷺ نے مجھے ایک اونٹنی دی تھی، جب میرا ارادہ ہوا آپ ﷺ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا تو میں نے ایک سنار سے جو بنی قینقاع کا تھا، اس سے بات کی کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اذخر لائیں تاکہ اس گھاس کو سناروں کے ہاتھ بیچ دوں اور اس کی قیمت ولیمہ کی دعوت میں لگاؤں گا، میں ابھی اپنی اونٹنی کے پالان، ٹوکرے اور رسیاں جمع کر رہا تھا، اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے حجرے کے قریب بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں انتظام پورا کر کے جب آیا تو دیکھا کہ ان کی کوہان کسی نے کاٹ دیے ہیں اور کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں اپنے آنسوؤں کو نہ روک سکا۔ میں نے پوچھا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ ابھی اسی حجرے میں انصار کے ساتھ شراب نوشی میں شریک تھے، ان کے پاس ایک گانے والی ہے اور ان کے دوست احباب ہیں، گانے والی نے جب یہ مصرع پڑھا، ہاں اے حمزہ! یہ عمدہ اور فربہ اونٹنیاں ہیں اور وہ صحن میں باندھی ہوئی ہیں تو حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار تھامی اور ان دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نبی ﷺ کے پاس آیا، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی نبی ﷺ کے پاس تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے میرے چہرے سے پریشانی کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج جیسی تکلیف کی بات کبھی پیش نہ آئی تھی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں کو پکڑ کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے ہیں اور ان کی کوکھ چیر ڈالی ہے اور وہ وہیں ایک گھر میں شراب کی مجلس میں ہیں، آپ ﷺ نے اپنی چادر منگوائی اور اوڑھ کر چل پڑے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ جب اس گھر کے قریب آپ ﷺ تشریف لے گئے اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کیا تھا اس پر تنبیہ کی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ شراب کے نشے میں مست تھے اور ان کی آنکھیں سرخ تھیں، انہوں نے حضور ﷺ کی طرف نظر اٹھائی۔ پھر ذرا اور اوپر اٹھائی اور آپ کے گھٹنوں پر دیکھنے لگے۔ پھر نظر اٹھائی اور آپ کے چہرے پر دیکھنے لگے، پھر کہنے لگے: تم سب میرے ماں باپ کے غلام ہو۔ حضور ﷺ سمجھ گئے کہ وہ بے ہوش ہے، اس لیے آپ ﷺ فوراً الٹے پاؤں اس گھر سے باہر نکل آئے، ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔
حدیث نمبر: 12957
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، وَثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ، فَأَخَذَ منهِ جَارِيَةً، فَأَصْبَحَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، قَالَ خَالِدٌ لِبُرَيْدَةَ: أَلَا تَرَى مَا يَصْنَعُ هَذَا؟ قَالَ: وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا بُرَيْدَةُ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَأَحِبَّهُ؛ فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ " ⦗٥٥٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ بُنْدَارٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ. هَذَا مَا بَلَغَنَا عَنْ سَيِّدِنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى، فَأَمَّا الْإِمَامَانِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ عَنْهُمَا فِي ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تاکہ خمس لائیں۔ انہوں نے اس سے ایک لونڈی لی۔ صبح ہوئی تو علی رضی اللہ عنہ کے سر سے قطرے گر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے بریدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے دیکھا ہے اس نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: میں علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہوں، میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بریدہ! کیا تو علی سے بغض رکھتا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی سے محبت کرو، اس کے لیے خمس میں اس سے بھی زیادہ ہے۔“
حدیث نمبر: 12958
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ح وَثنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ قَالَ: أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ، أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنَ الْخُمُسِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا وقرابتهم وَاحِدَةٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُوُ الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ " قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمْ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ. قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ مِنْهُ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِيهِمْ مِنْهُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات کرنے آئے جو آپ ﷺ نے خمس میں سے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے بنی مطلب سے ہمارے بھائیوں کو حصہ دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہمارے رشتہ دار اور ان کے رشتہ دار ایک ہی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا: ”بنی ہاشم اور بنی مطلب ایک ہی چیز ہیں۔“ جبیر کہتے ہیں: آپ ﷺ نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو خمس سے کچھ نہ دیا جیسا کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ ﷺ کی طرح خمس تقسیم کرتے تھے، اس کے علاوہ وہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کو نہ دیتے تھے جنہیں نبی ﷺ خمس سے دیتے تھے، اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12959
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: " اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَائِلُونَ: سَهْمُ ذَوِي الْقُرْبَى لِقَرَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ قَائِلُونَ: لِقَرَابَةِ الْخَلِيفَةِ، وَقَالَ قَائِلُونَ: سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ فِي الْخَيْلِ وَالْعُدَّةِ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَكَانَا عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بن محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان دو حصوں میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد لوگوں میں اختلاف ہو گیا، بعض نے کہا: رشتہ داروں والا حصہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کا ہے اور بعض نے کہا: خلیفہ کے رشتہ داروں کا ہے، اور بعض نے کہا آپ ﷺ کے بعد آپ کا حصہ خلیفہ کا ہے، ان کی رائے اس پر جمع ہوئی کہ دونوں حصوں کو اللہ کے راستے میں صرف کر دیں، دونوں خلافتِ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما میں اسی پر صرف ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 12960
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَعْنِي الْبَاقِرَ: كَيْفَ صَنَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى؟ قَالَ: " سَلَكَ بِهِ طَرِيقَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ". قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ وَأَنْتُمْ ⦗٥٥٨⦘ تَقُولُونَ مَا تَقُولُونَ؟ قَالَ: " أَمَا وَاللهِ مَا كَانُوا يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَعَلَّقَ عَلَيْهِ خِلَافُ أَبِي بَكْرِ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ الْوَهْبِيِّ قَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا كَانَ أَهْلُ بَيْتِهِ يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ، وَلَكِنْ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُدَّعَى عَلَيْهِ خِلَافُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ ضَعَّفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ رَأَى غَيْرَ رَأْيِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَنْ لَمْ يَجْعَلْ لِلْعَبِيدِ فِي الْقِسْمَةِ شَيْئًا، وَرَأَى غَيْرَ رَأْيِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّسْوِيَةِ بَيْنَ النَّاسِ، وَفِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَخَالَفَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْجَدِّ، وَقَوْلُهُ: سَلَكَ بِهِ طَرِيقَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، جُمْلَةٌ تَحْتَمِلُ مَعَانِيَ، قَالَ: وَقَدْ أُخْبِرْنَا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ حَسَنًا وَحُسَيْنًا وَابْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ سَأَلُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَصِيبَهُمْ مِنَ الْخُمُسِ، فَقَالَ: هُوَ لَكُمْ حَقٌّ، وَلَكِنِّي مُحَارِبٌ مُعَاوِيَةَ، فَإِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَأَخْبَرْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: صَدَقَ، هَكَذَا كَانَ جَعْفَرٌ يُحَدِّثُهُ، فَمَا حَدَّثَكَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: مَا أَحْسِبُهُ إِلَّا عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: وَجَعْفَرٌ أَوْثَقُ وَأَعْرَفُ بِحَدِيثِ أَبِيهِ مِنِ ابْنِ إِسْحَاقَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مُرْسَلٌ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ مُرْسَلَةٌ، وَأَمَّا رِوَايَةُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَمْ أَعْلَمْ بَعْدُ أَنَّ الَّذِي جُعِلَ فِي آخِرِهَا مِنْ قَوْلِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ فَيَكُونُ مَوْصُولًا، أَوْ مِنْ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَوِ الزُّهْرِيِّ فَيَكُونُ مُرْسَلًا. وَقَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يُونُسَ، فَمَيَّزَ فِعْلَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، فَهُوَ إِذًا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِثْلُ قَوْلِنَا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں نے ابوجعفر (یعنی باقر) سے سوال کیا کہ رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: علی، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما والے طریقے پر چلے تھے، میں نے کہا: تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: وہ اپنی رائے سے کام کرتے تھے لیکن وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف چلیں۔
حدیث نمبر: 12961
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ ⦗٥٥٩⦘ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " وَلَّانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسَ الْخُمُسِ، فَوَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ، وَحَيَاةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " زَادَ الرُّوذْبَارِيُّ فِي حَدِيثِهِ: فَأُتِيَ بِمَالٍ، فَدَعَانِي فَقَالَ: " خُذْهُ "، فَقُلْتُ: لَا أُرِيدُهُ، قَالَ: " خُذْهُ؛ فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ "، قُلْتُ: قَدِ اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ، فَجَعَلَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: مجھے رسول اللہ ﷺ نے خمس الخمس دیا تھا، میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی زندگی میں بھی اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بھی اسی جگہ پر رکھا۔ ایک حدیث میں ہے: مال لایا گیا، آپ ﷺ نے مجھے بلایا، آپ ﷺ نے کہا: ”اس کو پکڑ لو۔“ میں نے کہا: میں اس کا ارادہ نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے پھر کہا: ”اس کو پکڑ لو تم اس کے زیادہ حق دار ہو۔“ میں نے کہا: ہم اس سے بے پروا ہیں، پس آپ نے اسے بیت المال میں داخل کر دیا۔
حدیث نمبر: 12962
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا هَاشِمُ بْنُ بُرَيْدٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: اجْتَمَعْتُ أَنَا وَالْعَبَّاسُ وَفَاطِمَةُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَبِرَ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَرَكِبَتْنِي مُؤْنَةٌ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَنِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا مِنْكَ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي قَدْ عَلِمْتَ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا أَعِيشُ فِيهَا، ثُمَّ قَبَضْتَهَا مِنِّي، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ، قُلْتُ أَنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي حَقَّنَا مِنَ الْخُمُسِ فِي كِتَابِ اللهِ فَأَقْسِمَهُ حَيَاتَكَ كَيْلَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَافْعَلْ، قَالَ: فَفَعَلَ ذَاكَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَقَالَ: " يَا أَبَا الْفَضْلِ، أَلَا تَسْأَلُنِي الَّذِي سَأَلَهُ ابْنُ أَخِيكَ؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، انْتَهَتْ مَسْأَلَتِي إِلَى الَّذِي سَأَلْتُكَ، قَالَ: فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَسَمْتُهُ حَيَاةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِيِّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ، فَعَزَلَ حَقَّنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَقَالَ: هذا: مَالُكُمْ، فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ حَيْثُ كُنْتَ تَقْسِمُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بِنَا عَنْهُ الْعَامَ غِنًى، وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَيْهِ حَاجَةٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِمْ تِلْكَ السَّنَةَ، ثُمَّ لَمْ يَدْعُنَا إِلَيْهِ أَحَدٌ بَعْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى قُمْتُ مَقَامِيَ هَذَا. فَلَقِيتُ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَمَا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ، لَقَدْ حَرَمْتَنَا الْغَدَاةَ شَيْئًا لَا يُرَدُّ عَلَيْنَا أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَكَانَ رَجُلًا دَاهِيًا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: رُوَاتُهُ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ. ⦗٥٦٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں، عباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع تھے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری عمر زیادہ ہو چکی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں اور مجھے مشقت نے آ لیا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے اتنے وسق کھانے کا حکم دے دیں، پس رسول اللہ ﷺ نے اس کا حکم دے دیا، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں جس جگہ پر ہوں، آپ میری حالت کو جانتے ہیں، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنے چچا کی طرح مجھے بھی کچھ دے دیں، آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی دے دیا۔ پھر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے مجھے رہنے کے لیے زمین دی تھی، پھر آپ نے مجھ سے لے لی تھی، آپ اگر مجھ پر واپس لوٹا دیں تو آپ ﷺ نے واپس لوٹا دی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آپ خمس میں سے مجھے میرے حق کا والی بنا دیں، تاکہ آپ کے بعد کوئی اس کا جھگڑا نہ کرے، آپ ﷺ نے ایسا بھی کر دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوالفضل! جو علی نے مجھ سے سوال کیا ہے تو نے نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے سوال کی انتہا ہو چکی ہے اس کے ساتھ جو آپ سے مانگ لیا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ نے والی بنا دیا، میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تقسیم کر دیا اور مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے والی بنایا۔ میں نے اس کو بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں تقسیم کر دیا، پھر مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے والی بنایا، میں نے اس کو بھی عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی تقسیم کر دیا۔ یہاں تک کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری برس تھے، ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے ہمارا حق علیحدہ کیا۔ پھر میری طرف پیغام بھیجا، کہا: یہ تمہارا مال ہے، اسے لے لو جہاں چاہو تقسیم کر دو، میں نے کہا: اے امیر المومنین! اس سال ہم اس سے بے پروا ہیں اور مسلمانوں کی ضرورتوں میں صرف کر دو۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے بعد ہمیں کسی نے نہ بلایا، یہاں تک کہ میں خلیفہ بن گیا۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آنے کے بعد عباس رضی اللہ عنہ کو ملا۔ انہوں نے کہا: اے علی! تو نے صبح ہم پر چیز حرام ٹھہرائی ہے، وہ ہم تک قیامت تک واپس نہیں لوٹ سکے گی اور وہ معاملہ فہم انسان تھے۔
حدیث نمبر: 12963
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ وَرَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي حَقِّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْخُمُسِ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَّا أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللهُ فَلَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِهِ أَخْمَاسٌ، وَمَا كَانَ فَقَدْ أَوْفَانَاهُ، وَأَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعْطِينَاهُ حَتَّى جَاءَهُ مَالُ السُّوسِ وَالْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: الْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: فَارِسَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا أَشُكُّ، فَقَالَ فِي حَدِيثِ مَطَرٍ، أَوْ حَدِيثِ الْآخَرِ، فَقَالَ: فِي الْمُسْلِمِينَ خَلَّةٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ فَجَعَلْنَاهُ فِي خَلَّةِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَأْتِيَنَا مَالٌ فَأُوَفِّيَكُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تُطْمِعْهُ فِي حَقِّنَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، أَلَسْنَا أَحَقَّ مَنْ أَجَابَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَفَعَ خَلَّةَ الْمُسْلِمِينَ؟، فَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَالٌ فَيَقْضِيَنَاهُ. وَقَالَ الْحَكَمُ: فِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَالْآخَرِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَكُمْ حَقٌّ، وَلَا يَبْلُغُ عِلْمِي إِذَا كَثُرَ أَنْ يَكُونَ لَكُمْ كُلُّهُ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَرَى لَكُمْ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ إِلَّا كُلَّهُ، فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَنَا كُلَّهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِيمَا لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي زَكَرِيَّا، وَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرِيبًا مِنْ هَذَا الْمَعْنَى، وَذَكَرَهُ فِي الْقَدِيمِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں علی رضی اللہ عنہ سے ریت کے پتھروں کے پاس ملا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے خمس کا اہل بیت کے بارے میں کیا کیا ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں خمس نہیں تھا، جو تھا انہوں نے ہمیں پورا دیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ ہمیں ہمیشہ دیتے تھے، یہاں تک کہ سوس اور اہواز کا مال آیا یا فارس کا، انہوں نے کہا: مسلمانوں کو ضرورت ہے، اگر تم پسند کرو تو اپنا حق چھوڑ دو، پس ہم اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کر دیں گے یہاں تک کہ مال آئے گا تو میں تم کو تمہارا حق پورا دوں گا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارا حق نہ دینا۔ میں نے کہا: اے ابوالفضل! کیا ہم حق نہیں رکھتے کہ امیر المؤمنین کی بات مان لیں اور مسلمانوں کی مدد کریں؟ پس عمر رضی اللہ عنہ مال کے آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ کیا اب ہم اس کا تقاضا کریں؟
حدیث نمبر: 12964
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ حَجَّ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى وَيَقُولُ: لِمَنْ تَرَاهُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " ⦗٥٦١⦘ لِقُرْبَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَهُ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ عَرْضًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا، فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہرمز نے بیان کیا کہ نجدہ حروری نے فتنہ ابن زبیر میں حج کیا تو اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کسی کو بھیجا، رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں سوال پوچھا اور کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کے لیے خود آپ نے ان کو حصہ دیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں دیا اور ہم نے خیال کیا کہ وہ ہمارے حق کے علاوہ ہے، ہم نے اسے رد کر دیا اور ہم نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔“
حدیث نمبر: 12965
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الزَّاهِدُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ، أَحْسِبُهُ قَالَ: وَالزُّهْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ يَعْنِي الْحَرُورِيَّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ؟ قَالَ: " كَتَبْتَ إِلِيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ؟ فَهُوَ لَنَا، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَانَا إِلَى أَنْ يُنْكِحَ مِنْهُ أَيِّمَنَا، وَيُخْدِمَ مِنْهُ عَائِلَنَا، وَيَقْضِيَ مِنْهُ عَنْ غَارِمِنَا، فَأَبَيْنَا إِلَّا أَنْ يُسْلِمَهُ لَنَا، وَأَبَى أَنْ يَفْعَلَ، فَتَرَكْنَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے رشتہ داروں کے حصے کے متعلق سوال کیا کہ وہ کس کے لیے ہے؟ انہوں نے کہا: ”تو نے مجھے لکھا ہے اور اقرباء کے حصے کے متعلق پوچھا ہے کہ وہ کس کے لیے ہے، وہ ہمارے لیے ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں اس بات کی طرف دعوت دیتے تھے کہ وہ نکاح کروا دیں ان میں سے بعض کا رنڈوے مردوں یا عورتوں کے ساتھ اور ہمارے محتاجوں کو ان میں سے خادم دے دیں، وہ ہمارے قرض داروں کا قرض ادا کر دیں گے تو ہم نے انکار کر دیا۔ صرف اس بات پر اڑ گئے کہ انہیں ہمارے سپرد کر دو، انہوں نے انکار کر دیا تو ہم نے بھی اس کو چھوڑ دیا۔“
حدیث نمبر: 12966
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذِي الْقُرْبَى: مَنْ هُمْ؟ وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ: هَلْ لَهُمَا مِنَ الْمَغْنَمِ شَيْءٌ؟ وَكَتَبَ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، فَقَالَ: " اكْتُبْ يَا يَزِيدُ، لَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، سَأَلْتَ عَنْ ذِي الْقُرْبَى: مَنْ هُمْ؟ فَزَعَمْنَا أَنَّا نَحْنُ هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْوِلْدَانِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ، وَأَنْتَ لَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ، وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ، وَيَنْقَضِي يُتْمُهُ إِذَا أُونِسَ مِنْهُ الرُّشْدُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنَى بِقَوْلِهِ: " فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا "، غَيْرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ وَأَهْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رشتہ داروں کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون ہیں اور غلام اور عورت کے بارے میں سوال کیا جو غنیمت کی جگہ حاضر ہوں تو کیا ان کو غنیمت میں سے کچھ دیا جائے؟ اور بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا، پس انہوں نے کہا: ”اے یزید! لکھو، اگر بے وقوفی والا کام نہ ہوا ہوتا تو میں نہ لکھتا۔ تو نے رشتہ داروں کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کون ہیں، ہمارے خیال میں وہ ہم ہی ہیں، پس اس پر ہماری قوم نے انکار کیا اور تو نے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھا ہے، جو غنیمت کے وقت حاضر ہوں تو ان کے لیے کوئی مقرر حصہ نہیں مگر ان کو بطور انعام کچھ دے دیا جائے اور بچوں کے قتل کے بارے میں تو نے سوال کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ان کو قتل نہ کرتے تھے، پس تو بھی نہ کر مگر یہ کہ تو ان میں سے جان لے جیسے موسیٰ کے ساتھی نے جان لیا تھا اور تو نے یتیم کے بارے میں سوال کیا ہے کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوگی اور اس کی یتیمی اس وقت ختم ہوگی جب وہ رشد و ہدایت تک پہنچ جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جائز ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے مراد یہ ہو ”ہم پر ہماری قوم نے انکار کیا“، جو نبی ﷺ کے اصحاب کے علاوہ ہوں یزید بن معاویہ اور اس کے اہل۔ [صحیح]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جائز ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے مراد یہ ہو ”ہم پر ہماری قوم نے انکار کیا“، جو نبی ﷺ کے اصحاب کے علاوہ ہوں یزید بن معاویہ اور اس کے اہل۔ [صحیح]