کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا ⦗٤٩٥⦘ الْحِيُّ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، أَوْ قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا مِنْ قَوْمِنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللهُ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ سَهْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّفِيَّ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ بِذِكْرِ الصَّفِيِّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کا یہ قبیلہ (حائل) ہے، اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں پہنچ سکتے ہیں، یا کہا: رجب میں، پس ہمیں کوئی ایسا حکم دیجیے جسے ہم اختیار کریں اور اپنی قوم کے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور مالِ غنیمت میں سے اللہ عزوجل کا حصہ اور «صَفِيّ» (وہ چیز جو امام اپنے لیے چن لیتا ہے) دو، اور میں تمہیں «الدُّبَّاءِ» (کدو) سے، «الْحَنْتَمِ» (سبز لاکھی برتن) سے، «الْمُزَفَّتِ» (روغنی برتن) سے اور «النَّقِيرِ» (کریدی ہوئی لکڑی کے برتن) سے روکتا ہوں۔“
اس میں «صَفِيّ» کا ذکر کرنے میں ابو ہلال راسبی منفرد ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12748
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ جُلُوسًا، وَأُرَانِي أَحْدَثَ الْقَوْمِ، أَوْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: فَأَتَى عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا رَجُلٌ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ؟ قَالَ: أَجَلْ، فَإِذَا مَعَهُ كِتَابٌ فِي قِطْعَةِ أَدَمٍ، وَرُبَّمَا قَالَ: فِي قِطْعَةِ جِرَابٍ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، وَهُمْ حَيٌّ مِنْ عُكْلٍ، إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَعْطَيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، ثُمَّ سَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ، وَرُبَّمَا قَالَ: صَفِيَّةً، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ ". قَالُوا: هَاتِ، حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللهُ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ تُذْهِبُ كَثِيرًا مِنْ وَحَرِ الصَّدْرِ ". قَالَ قُرَّةُ: فَقُلْتُ لَهُ: وَغْرِ الصَّدْرِ؟ فَقَالَ: وَحَرِ الصَّدْرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بِهِ؟ فَأَهْوَى إِلَى صَحِيفَةٍ فَأَخَذَهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ مُسْرِعًا ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَرَاكُمْ تَخَافُونَ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا الْيَوْمَ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن عبداللہ بن شِخِّیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم مِربد میں بیٹھے ہوئے تھے، وہ مجھے لوگوں میں نو عمر خیال کرتے تھے۔ ہمارے پاس دیہات کا ایک آدمی آیا، جب ہم نے اسے دیکھا تو ہم نے کہا: لگتا ہے یہ آدمی اس شہر کا نہیں ہے۔ اس نے کہا: ہاں۔ اس کے پاس چمڑے وغیرہ کا لکھا ہوا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یہ ٹکڑا میرے لیے رسول اللہ ﷺ نے لکھا تھا۔ پس اس میں لکھا تھا:
«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، نبی محمد ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے اور وہ عُکل کے قبیلے سے ہیں، بیشک اگر تم نماز پڑھو، زکوۃ ادا کرو اور مشرکوں سے علیحدہ ہو جاؤ اور غنیمتوں سے خمس دو، پھر نبی ﷺ کا حصہ اور صفی (منتخب مال) دو تو تم اللہ کی امان میں ہو اور اس کے رسول ﷺ کی امان میں ہو۔ انہوں نے کہا: لاؤ، ہمیں بیان کرو، اللہ تیری اصلاح کرے، جو تو نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے سے تین روزے سینے کے کینہ کو اکثر ختم کر دیتے ہیں۔“ قرہ کہتے ہیں: میں نے اسے کہا: «وَغَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کی تپش“، اس نے کہا: «وَحَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کا کینہ“۔ قوم نے کہا: کیا تو نے واقعی اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ وہ اپنے صحیفے کی طرف لپکا اور اسے لے کر جلدی سے چلا گیا، پھر کہا: خبردار! میں تم کو خیال کرتا ہوں کہ تم ڈرتے ہو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، اللہ کی قسم! آج میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12749
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " تَنَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن اپنی تلوار ذوالفقار غنیمت میں سے زائد حصے (نفل) کے طور پر لی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12750
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمٌ يُدْعَى سَهْمَ الصَّفِيِّ، إِنْ شَاءَ عَبْدًا، وَإِنْ شَاءَ أَمَةً، وَإِنْ شَاءَ فَرَسًا، يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی ﷺ کے لیے حصہ ہوتا تھا جسے «الصَّفِيُّ» ”صفی“ کہتے تھے، اگر غلام، لونڈی، گھوڑا چاہتے تو اسے خمس سے پہلے پسند کر لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12751
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَزْهَرُ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ، قَالَ: " ⦗٤٩٦⦘ كَانَ يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ لَمْ يَشْهَدْ، وَالصَّفِيُّ يُؤْخَذُ لَهُ رَأْسٌ مِنَ الْخُمُسِ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے محمد رحمہ اللہ سے نبی ﷺ کے حصہ اور «صَفِيّ» کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ کا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا اگرچہ حاضر نہ ہوتے اور «صَفِيّ» میں آپ ﷺ کے لیے خمس میں سے ایک راس (غلام یا جانور) ہر چیز سے پہلے لیا جاتا تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12752
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه السجستاني 2994»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السَّهْمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بََشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا كَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِكَ السَّهْمِ، وَكَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يَخْتَرْ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اسی حصہ میں سے تھیں اور جب آپ خود لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ کے لیے الگ کیا جاتا مگر آپ کو اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کرلیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12753
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ السجستاني 2993»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، صفیہ رضی اللہ عنہا «الصَّفِيُّ» ”منتخب حصے“ میں سے تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12754
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ". ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَئْذِنْ مَنْ حَوْلَكَ "، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ "، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ " لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ أَيْضًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے، یہاں تک کہ میں خیبر کی طرف نکل جاؤں۔“ پس حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر ردیف بنا کر لے گئے اور میں بلوغت کے قریب تھا، پس میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا، جب آپ ﷺ اترتے تھے، میں آپ ﷺ سے اکثر یہ دعا سنتا تھا، آپ ﷺ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم اور عاجزی سے، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے۔“
پھر ہم خیبر آئے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قلعہ پر فتح عطا فرمائی تو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا اور تحقیق ان کا خاوند قتل ہو چکا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ ﷺ انہیں لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم مقام صہباء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے حیس (حلوہ) تیار کرا کر چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھے حکم دیا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی رسول اللہ ﷺ کا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا، آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے اپنی چادر سے پردہ کیا ہوا تھا، جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہونے لگتیں تو آپ ﷺ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوتیں، اسی طرح ہم چلتے رہے، اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدان کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا، اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12755
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1365»
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بُطْحَا، ⦗٤٩٧⦘ قَالُوا: ثنا عفَّانُ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، قَالَ: " فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا " قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: " تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا، وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَفَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دحیہ کے حصہ میں ایک لونڈی آئی، تو عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! دحیہ کے حصہ میں خوبصورت لونڈی آئی ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اسے سات شخصوں کے بدلے میں خرید لیا اور پھر ام سلیم (رضی اللہ عنہا) کے سپرد کر دیا کہ انہیں تیار کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں لونڈی نے ان کے گھر عدت گزاری تھی اور وہ صفیہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12756
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»