کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: صفی (مالِ غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے خاص حصے) کا بیان
حدیث نمبر: 12748
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا ⦗٤٩٥⦘ الْحِيُّ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، أَوْ قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا مِنْ قَوْمِنَا، قَالَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللهُ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ سَهْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّفِيَّ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ بِذِكْرِ الصَّفِيِّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ربیعہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى» ”مرحبا اس قوم کو، بغیر کسی رسوائی اور ندامت کے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ربیعہ کے قبیلے سے ہیں، ہم آپ کے پاس بڑی مشقت کے بعد آئے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا قبیلہ ہے، ہم آپ کے پاس صرف اشہرِ حرم میں پہنچ سکتے ہیں، پس ہمیں کوئی واضح حکم دے دیں، ہم اس کی خبر اپنے پچھلوں کو بھی دیں اور ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے روکتا ہوں، میں تمہیں ایک اللہ پر ایمان کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو ایمان باللہ کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت کے مال سے خمس دو گے اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں: «الدُّبَّاءِ» (کدو) سے، «الْحَنْتَمِ» (سبز لاکھی برتن) سے، «النَّقِيرِ» (کریدی لکڑی کے برتن) سے، «الْمُزَفَّتِ» (روغنی برتن) سے۔“ اور کبھی «النَّقِيرِ» کا لفظ بولا اور فرمایا: ”ان کو یاد رکھو اور اپنے پچھلوں کو بھی ان کی خبر دو۔“
حدیث نمبر: 12749
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ جُلُوسًا، وَأُرَانِي أَحْدَثَ الْقَوْمِ، أَوْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، قَالَ: فَأَتَى عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا رَجُلٌ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ؟ قَالَ: أَجَلْ، فَإِذَا مَعَهُ كِتَابٌ فِي قِطْعَةِ أَدَمٍ، وَرُبَّمَا قَالَ: فِي قِطْعَةِ جِرَابٍ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، وَهُمْ حَيٌّ مِنْ عُكْلٍ، إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ، وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَعْطَيْتُمُ الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، ثُمَّ سَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ، وَرُبَّمَا قَالَ: صَفِيَّةً، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ ". قَالُوا: هَاتِ، حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللهُ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ تُذْهِبُ كَثِيرًا مِنْ وَحَرِ الصَّدْرِ ". قَالَ قُرَّةُ: فَقُلْتُ لَهُ: وَغْرِ الصَّدْرِ؟ فَقَالَ: وَحَرِ الصَّدْرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بِهِ؟ فَأَهْوَى إِلَى صَحِيفَةٍ فَأَخَذَهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ مُسْرِعًا ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَرَاكُمْ تَخَافُونَ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا الْيَوْمَ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن عبداللہ بن شِخِّیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم مِربد میں بیٹھے ہوئے تھے، وہ مجھے لوگوں میں نو عمر خیال کرتے تھے۔ ہمارے پاس دیہات کا ایک آدمی آیا، جب ہم نے اسے دیکھا تو ہم نے کہا: لگتا ہے یہ آدمی اس شہر کا نہیں ہے۔ اس نے کہا: ہاں۔ اس کے پاس چمڑے وغیرہ کا لکھا ہوا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یہ ٹکڑا میرے لیے رسول اللہ ﷺ نے لکھا تھا۔ پس اس میں لکھا تھا:
«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، نبی محمد ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے اور وہ عُکل کے قبیلے سے ہیں، بیشک اگر تم نماز پڑھو، زکوۃ ادا کرو اور مشرکوں سے علیحدہ ہو جاؤ اور غنیمتوں سے خمس دو، پھر نبی ﷺ کا حصہ اور صفی (منتخب مال) تقسیم سے پہلے دو تو تم اللہ کی امان میں ہو اور اس کے رسول ﷺ کی امان میں ہو۔ انہوں نے کہا: لاؤ ہم بیان کریں، اللہ تیری اصلاح کرے جو تو نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے سے تین روزے سینے کے کینہ کو اکثر ختم کر دیتے ہیں۔“ قرہ کہتے ہیں: میں نے اسے کہا: «وَغَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کی تپش“، اس نے کہا: «وَحَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کا کینہ“۔ قوم نے کہا: کیا تو نے واقعی اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ وہ اپنے صحیفے کی طرف لپکا اور اسے لے کر جلدی سے چلا گیا، پھر کہا: خبردار! میں تم کو خیال کرتا ہوں کہ تم ڈرتے ہو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، اللہ کی قسم! آج کے بعد میں تمہیں حدیث نہیں بیان کروں گا۔
«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، نبی محمد ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے ہے اور وہ عُکل کے قبیلے سے ہیں، بیشک اگر تم نماز پڑھو، زکوۃ ادا کرو اور مشرکوں سے علیحدہ ہو جاؤ اور غنیمتوں سے خمس دو، پھر نبی ﷺ کا حصہ اور صفی (منتخب مال) تقسیم سے پہلے دو تو تم اللہ کی امان میں ہو اور اس کے رسول ﷺ کی امان میں ہو۔ انہوں نے کہا: لاؤ ہم بیان کریں، اللہ تیری اصلاح کرے جو تو نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے سے تین روزے سینے کے کینہ کو اکثر ختم کر دیتے ہیں۔“ قرہ کہتے ہیں: میں نے اسے کہا: «وَغَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کی تپش“، اس نے کہا: «وَحَرُ الصَّدْرِ» ”سینے کا کینہ“۔ قوم نے کہا: کیا تو نے واقعی اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ وہ اپنے صحیفے کی طرف لپکا اور اسے لے کر جلدی سے چلا گیا، پھر کہا: خبردار! میں تم کو خیال کرتا ہوں کہ تم ڈرتے ہو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، اللہ کی قسم! آج کے بعد میں تمہیں حدیث نہیں بیان کروں گا۔
حدیث نمبر: 12750
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " تَنَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن اپنی تلوار ذوالفقار غنیمت کے طور پر دے دی۔
حدیث نمبر: 12751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمٌ يُدْعَى سَهْمَ الصَّفِيِّ، إِنْ شَاءَ عَبْدًا، وَإِنْ شَاءَ أَمَةً، وَإِنْ شَاءَ فَرَسًا، يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی ﷺ کے لیے حصہ ہوتا تھا جسے «الصَّفِيُّ» ”صفی“ کہتے تھے، اگر غلام، لونڈی، گھوڑا چاہتے تو اسے خمس سے پہلے پسند کر لیتے۔
حدیث نمبر: 12752
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَزْهَرُ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ، قَالَ: " ⦗٤٩٦⦘ كَانَ يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ لَمْ يَشْهَدْ، وَالصَّفِيُّ يُؤْخَذُ لَهُ رَأْسٌ مِنَ الْخُمُسِ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے محمد رحمہ اللہ سے نبی ﷺ کے حصہ اور «صَفِيّ» کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ”آپ ﷺ کا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا اگرچہ حاضر نہ ہوتے اور «صَفِيّ» ہر چیز سے پہلے لیا جاتا تھا۔“
حدیث نمبر: 12753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السَّهْمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بََشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا كَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِكَ السَّهْمِ، وَكَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يَخْتَرْ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے۔ جو جنگ خیبر میں آپ کو ملیں، اسی حصہ میں آئیں اور جب آپ خود لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ کے لیے الگ کیا جاتا مگر آپ کو اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کرلیں۔
حدیث نمبر: 12754
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، صفیہ رضی اللہ عنہا «الصَّفِيُّ» ”منتخب حصے“ میں سے تھیں۔
حدیث نمبر: 12755
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ". ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَئْذِنْ مَنْ حَوْلَكَ "، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ "، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ " لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ أَيْضًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے غلاموں میں سے کوئی غلام تلاش کرو جو میری خدمت کرے، یہاں تک کہ میں خیبر کی طرف نکل جاؤں۔“ پس حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر ردیف بنا کر لے گئے اور میں بلوغت کے قریب تھا، پس میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتا تھا، جب آپ ﷺ اترتے تھے، میں آپ ﷺ سے اکثر یہ دعا سنتا تھا، آپ ﷺ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم اور عاجزی سے، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے۔“
پھر ہم خیبر آئے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قلعہ پر فتح عطا فرمائی تو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا اور تحقیق ان کا خاوند قتل ہو چکا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ ﷺ انہیں لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم مقام صہباء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے حیس (حلوہ) تیار کرا کر چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھے حکم دیا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی رسول اللہ ﷺ کا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا، آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے اپنی چادر سے پردہ کیا ہوا تھا، جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہونے لگتیں تو آپ ﷺ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوتیں، اسی طرح ہم چلتے رہے، اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدان کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا، اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“
پھر ہم خیبر آئے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قلعہ پر فتح عطا فرمائی تو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا اور تحقیق ان کا خاوند قتل ہو چکا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ ﷺ انہیں لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم مقام صہباء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی، اس کے بعد آپ ﷺ نے حیس (حلوہ) تیار کرا کر چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھے حکم دیا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی رسول اللہ ﷺ کا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا، آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے اپنی چادر سے پردہ کیا ہوا تھا، جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہونے لگتیں تو آپ ﷺ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوتیں، اسی طرح ہم چلتے رہے، اور جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدان کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا، اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“
حدیث نمبر: 12756
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بُطْحَا، ⦗٤٩٧⦘ قَالُوا: ثنا عفَّانُ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، قَالَ: " فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا " قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: " تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا، وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَفَّانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دحیہ کے حصہ میں ایک لونڈی آئی، تو عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! دحیہ کے حصہ میں خوبصورت لونڈی آئی ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اسے سات شخصوں کے بدلے میں خرید لیا اور پھر ام سلیم (رضی اللہ عنہا) کے سپرد کر دیا کہ انہیں تیار کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں لونڈی نے ان کے گھر عدت گزاری تھی اور وہ صفیہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صفیہ (رضی اللہ عنہا) دحیہ کے حصہ میں آئیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کی تعریفیں کرنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے: ”ہم نے اس جیسی قیدی نہیں دیکھی“، آپ ﷺ نے دحیہ کو بلایا اور اس کے بدلے (کچھ اور) دحیہ کو دیا۔ پھر صفیہ (رضی اللہ عنہا) کو میری ماں کو دے دیا اور فرمایا: ”اسے تیار کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معاملہ جس میں ہمارے نزدیک علم میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا اور ہم نے ہمیشہ ان کے قول کی حفاظت کی ہے، وہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے لیے غنیمت کے مال سے چن لینا تھا، وہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں تھا۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صفیہ (رضی اللہ عنہا) دحیہ کے حصہ میں آئیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کی تعریفیں کرنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے: ”ہم نے اس جیسی قیدی نہیں دیکھی“، آپ ﷺ نے دحیہ کو بلایا اور اس کے بدلے (کچھ اور) دحیہ کو دیا۔ پھر صفیہ (رضی اللہ عنہا) کو میری ماں کو دے دیا اور فرمایا: ”اسے تیار کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معاملہ جس میں ہمارے نزدیک علم میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا اور ہم نے ہمیشہ ان کے قول کی حفاظت کی ہے، وہ یہ ہے کہ جو رسول اللہ ﷺ کے لیے غنیمت کے مال سے چن لینا تھا، وہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں تھا۔