کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس (مالِ فے) کو ضرورت و کفایت کے مطابق تقسیم کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12969
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ ⦗٥٦٣⦘ الْحَافِظُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَهُ فَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ، فَأَعْطَى ذَا الْأَهْلِ حَظَّيْنِ، وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا ".
حافظ ثناء اللہ
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب فئی آتا تو آپ اسی دن ہی تقسیم کر دیتے تھے، آپ اہل والے کو دو حصے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12970
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَأَعْطَى الْأَعْزَبَ حَظًّا زَادَ: فَدُعِينَا، وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارٍ، فَدُعِيتُ، فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا.
حافظ ثناء اللہ
صفوان بن عمرو سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اکیلے کو ایک حصہ دیا، پس ہمیں بھی بلایا گیا اور مجھے عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا گیا، مجھے آپ ﷺ نے دو حصے دیے اور میرے اہل بھی تھے، پھر میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، پس انہیں ایک حصہ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 12971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِكُرَيْبِ بْنِ أَبْرَهَةَ: أَحَضَرْتَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْجَابِيَةِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْهَا؟ قَالَ كُرَيْبٌ: إِنْ بَعَثْتَ إِلَى سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ حَدَّثَكَ عَنْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: حَدِّثْنِي عَنْ خُطْبَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَابِيَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّهُ لَمَّا اجْتَمَعَ الْفَيْءُ أَرْسَلَ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَقْدَمَ بِنَفْسِهِ، فَقَدِمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فإِنَّ هَذَا الْمَالَ نَقْسِمُهُ عَلَى مَنْ أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ بِالْعَدْلِ، إِلَّا هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، فَلَا حَقَّ لَهُمْ فِيهِ ". فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو حُدَيْرٍ الْأَجْذَمِيُّ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللهَ يَا عُمَرُ فِي الْعَدْلِ. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْعَدْلَ أُرِيدُ، أَنْ أَجْعَلَ أَقْوَامًا مَا أَنْفَقُوا فِي الظَّهْرِ، وَشَدُّوا الْغَرَضَ، وَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ، مِثْلَ قَوْمٍ مُقِيمِينَ فِي بِلَادِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ الْهِجْرَةَ كَانَتْ بِصَنْعَاءَ أَوْ بِعَدَنَ مَا هَاجَرَ إِلَيْهَا مِنْ لَخْمٍ وَلَا جُذَامٍ أَحَدٌ "، فَقَامَ أَبُو حُدَيْرٍ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ وَضَعَنَا مِنْ بِلَادِهِ حَيْثُ يَشَاءُ، وَسَاقَ إِلَيْنَا الْهِجْرَةَ فِي بِلَادِنَا، فَقَبِلْنَاهَا وَنَصَرْنَاهَا، أَفَذَلِكَ يَقْطَعُ حَقَّنَا يَا عُمَرُ؟ ثُمَّ قَالَ: " لَكُمْ حَقُّكُمْ مَعَ الْمُسْلِمِينَ "، ثُمَّ قَسَمَ، فَكَانَ لِلرَّجُلِ نِصْفُ دِينَارٍ، فَإِذَا كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ أَعْطَاهُ دِينَارًا، ثُمَّ دَعَا ابْنَ قَاطُورَا صَاحِبَ الْأَرْضِ فَقَالَ: " أَخْبِرْنِي مَا يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُوتِ فِي الشَّهْرِ وَالْيَوْمِ "، فَأَتَى بِالْمُدْيِ وَالْقِسْطِ فَقَالَ: يَكْفِيهِ هَذَا؛ الْمُدْيَانِ فِي الشَّهْرِ، وَقِسْطُ زَيْتٍ، وَقِسْطُ خَلٍّ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمُدْيَيْنِ مِنْ قَمْحٍ فَطُحِنَا، ثُمَّ عُجِنَا ثُمَّ خُبِزَا، ثُمَّ أَدَمَهُمَا بِقِسْطَيْنِ زَيْتًا، ثُمَّ أَجْلَسَ عَلَيْهِمَا ثَلَاثِينَ رَجُلًا، فَكَانَ كَفَافَ شِبْعِهِمْ، ثُمَّ أَخَذَ عُمَرُ الْمُدْيَ بِيَمِينِهِ وَالْقِسْطَ بِيَسَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُنْقِصَهُمَا بَعْدِي، اللهُمَّ فَمَنْ نَقَصَهُمَا فَانْقُصْ مِنْ عُمْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن مروان نے کریب بن ابرہہ سے کہا: ”کیا تم جابیہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ (عبدالعزیز نے) کہا: ”ہمیں اس بارے میں کون بیان کرے گا؟“ کریب نے کہا: ”اگر آپ سفیان بن وہب خولانی کو بلائیں تو وہ بیان کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے انہیں بلایا اور کہا: ”مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جابیہ والا خطبہ بیان کرو۔“ سفیان نے کہا: جب مالِ فئی جمع ہوا تو اجناد (لشکروں) کے امراء نے عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ خود تشریف لائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ آئے، اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تعریف کی۔ پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”بیشک یہ مال ہم عدل کے ساتھ تقسیم کریں گے، مگر یہ دو قبیلے لخم اور جذام، ان کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے عمر رضی اللہ عنہ! ہم آپ کو عدل کے بارے میں قسم دیتے ہیں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عدل سے میرا ارادہ یہ ہے کہ (مال) ایسی قوم کو دوں گا جو اپنا سامان اور گھر بنائیں اور اپنے شہر میں رہیں، ایسی قوم کی طرح جو اپنے گھروں میں مقیم ہے، اور اگر ہجرت صنعاء یا عدن تک ہوتی تو لخم اور جذام ہجرت نہ کرتے۔“ ابوحدیرہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ملک میں جہاں چاہا رکھا اور لوگوں کو ہماری طرف ہجرت کرا دی، ہم نے اسے قبول کیا اور ان کی مدد کی۔ اے عمر! کیا اس وجہ سے ہمارا حق ختم ہو گیا؟“ پھر (عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ”تمہارے لیے تمہارا حق مسلمانوں کے ساتھ ہے،“ پھر (مال) تقسیم کیا۔ پس ایک آدمی کے لیے نصف دینار تھا، اور جب اس کے ساتھ اس کی بیوی ہوتی تو اسے ایک دینار دیتے تھے۔ پھر ابن قاطور نے زمین کے مالک کو بلایا اور کہا: ”مجھے بتاؤ! مہینہ اور دن میں آدمی کو کتنا کھانا کافی ہوتا ہے؟“ وہ ایک پیمانہ اور ترازو لے کر آیا اور اس نے کہا: ”یہ (پیمانہ) مہینہ بھر کھانے کے لیے کافی ہے اور یہ ترازو (کا وزن) زیتون اور سرکہ کا دن بھر کے لیے کافی ہے۔“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، تو دو مُد گندم کا آٹا بنایا گیا، پھر اسے گوندھا گیا اور روٹی پکائی گئی۔ پھر دو قِسط زیتون کا سالن بنایا گیا۔ پھر اس پر تیس آدمیوں کو بٹھایا گیا، پس وہ ان کی بھوک مٹانے کے لیے کافی ہو گیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مُد اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور بائیں ہاتھ میں قِسط پکڑا، پھر (دعا کرتے ہوئے) کہا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُصَهُمَا بَعْدِي، اللَّهُمَّ مَنْ نَقَصَهُمَا فَانْقُصْ عُمُرَهُ» ”اے اللہ! کسی کے لیے حلال نہیں کہ ان دونوں میں سے کسی کو میرے بعد کم کرے۔ اے اللہ! جو انہیں کم کرے تو اس کی عمر کم کر دینا۔“
حدیث نمبر: 12972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْفَيْءِ فَقَالَ: " مَا أَنَا أَحَقُّ بِهَذَا الْفَيْءِ مِنْكُمْ، وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ، إِلَّا أَنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَقِسْمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالرَّجُلُ وَقِدَمُهُ، وَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ، وَالرَّجُلُ وَعِيَالُهُ، وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
مالک بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے مال فئی کا ذکر کیا، کہا: ”میں اس مال کا تم سے زیادہ حق دار نہیں ہوں اور ہم میں سے کوئی بھی اس کا حق دار نہیں ہے مگر ہم کتاب اللہ اور جسے رسول اللہ ﷺ تقسیم کرتے تھے ویسے کریں گے۔ آدمی اور اس کا آنا، آدمی اور اس کی ضرورت، آدمی اور اس کے گھر والے اور آدمی اور اس کی حاجت۔“
حدیث نمبر: 12973
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَمْ تَرَى الرَّجُلَ يَكْفِيهِ مِنْ عَطَائِهِ؟ " قَالَ: قُلْتُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " لَئِنْ بَقِيتُ لَأَجْعَلَنَّ عَطَاءَ الرَّجُلِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ؛ أَلْفٌ لِسِلَاحِهِ، وَأَلْفٌ لِنَفَقَتِهِ، وَأَلْفٌ يُخَلِّفُهَا فِي أَهْلِهِ، وَأَلْفٌ لِكَذَا "، أَحْسِبُهُ قَالَ: " لِفَرَسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی کو کتنا دیں کہ اس کے لیے کافی ہو؟ میں نے کہا: اتنا اتنا۔ فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو میں آدمی کو دینے کے لیے چار ہزار رکھوں گا اور ایک ہزار اس کے اسلحے کے لیے اور ایک ہزار اس کے خرچے کے لیے اور ایک ہزار اس کے پیچھے اس کے اہل کے لیے اور ایک ہزار اس کے گھوڑے کے لیے۔
حدیث نمبر: 12974
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَسَنٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يَرْزُقُ الْعَبِيدَ وَالْإِمَاءَ وَالْخَيْلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ غلام، لونڈی اور گھوڑے کو بھی حصہ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 12975
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يَفْرِضُ لِلصَّبِيِّ إِذَا اسْتَهَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بچے کے لیے بھی حصہ رکھتے تھے جب وہ چیخ پڑتا تھا۔
حدیث نمبر: 12976
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ قَالَ: سَأَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمَوْلُودِ، فَقَالَ: " إِذَا اسْتَهَلَّ وَجَبَ عَطَاؤُهُ وَرِزْقُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
مبشر بن غالب کہتے ہیں: ابن زبیر نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا، مولود کے بارے میں فرمایا: ”جب وہ چیخ پڑے تو اس کو دینا اور اس کا حصہ واجب ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 12977
قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَوْ قَالَ: ابْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، أَنَّ أَبَاهَا انْطَلَقَ بِهَا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَفَرَضَ لَهَا فِي الْعَطَاءِ وَهِيَ صَغِيرَةٌ، وَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا الصَّبِيُّ الَّذِي أَكَلَ الطَّعَامَ، وَعَضَّ عَلَى الْكَسْرَةِ، بِأَحَقَّ بِهَذَا الْعَطَاءِ مِنَ الْمَوْلُودِ الَّذِي يَمُصُّ الثَّدْيَ " وَهَذِهِ الْآثَارُ مَعَ سَائِرِ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْمَعْنَى مَحْمُولَةٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُفْرَضُ لِلرَّجُلِ قَدْرَ كِفَايَتِهِ وَكِفَايَةِ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَعَبْدِهِ وَدَابَّتِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ام العلاء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور وہ چھوٹی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو بچہ کھانا کھائے اور دانتوں سے کچھ کاٹ لے تو وہ اس مولود سے زیادہ حق دار ہے جو ابھی دودھ پیتا ہے۔
یہ سارے آثار دلالت کرتے ہیں کہ وہ آدمی کے لیے اس کی گزر بسر کے بقدر اور اس کے اہل، غلام، اولاد اور اس کی سواری کے بقدر اس کا حصہ مقرر کرتے تھے۔
یہ سارے آثار دلالت کرتے ہیں کہ وہ آدمی کے لیے اس کی گزر بسر کے بقدر اور اس کے اہل، غلام، اولاد اور اس کی سواری کے بقدر اس کا حصہ مقرر کرتے تھے۔