کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف میم سے شروع ہونے والی احادیث
«من توضأ هكذا غفر له ما تقدم من ذنبه وكانت صلاته ومشيه إلى المسجد نافلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اس طرح وضو کرے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف چلنا نفل شمار ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عثمان.
«من توضأ يوم الجمعة فأحسن الوضوء ثم أتى الجمعة فدنا واستمع وأنصت غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى وزيادة ثلاثة أيام ومن مس الحصى فقد لغا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص جمعہ کے دن وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور قریب ہو کر خاموشی سے سنے تو اس کے اور اگلے جمعہ کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، مزید تین دن کا اضافہ بھی، اور جو کنکریوں سے کھیلے تو اس نے لغو کام کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6179
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت هـ] عن أبي هريرة.
«من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل أفضل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص جمعہ کے دن وضو کر لے تو یہی کافی اور اچھا ہے، اور جو غسل کرے تو غسل بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6180
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث المشكاة ٥٤٠، صحيح أبي داود ٣٨٠، صحيح الترغيب ١/٧٠.
«من تولى غير مواليه فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے آقاؤں کے سوا کسی اور کو اپنا سرپرست بنائے تو اس نے اسلام کا طوق اپنی گردن سے اتار پھینکا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6181
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم الضياء] عن جابر. الصحيحة ٢٣٢٩.
«من تولى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے آقاؤں کی اجازت کے بغیر کسی اور قوم کو اپنا سرپرست بنائے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ قیامت کے دن اس سے نہ کوئی نفل قبول کرے گا اور نہ کوئی فرض۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م د] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٨٩٩.
«من ثابر على اثنتي عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة: أربع ركعات قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل الفجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص سنتوں کی بارہ رکعتوں کی پابندی کرے، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے: ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن هـ] عن عائشة. صحيح الترغيب ٥٧٩.
«من جاء مسجدي هذا لم يأته إلا لخير يتعلمه أو يعلمه فهو في منزلة المجاهد في سبيل الله ومن جاءه لغير ذلك فهو بمنزلة الرجل ينظر إلى متاع غيره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص میری اس مسجد میں صرف اس بھلائی کے لیے آئے جسے وہ سیکھے یا سکھائے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے درجے میں ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی اور کے سامان کو دیکھ رہا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6184
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٨٣: حب.
«من جاء يعبد الله لا يشرك به شيئا ويقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويصوم رمضان ويتقي الكبائر فإن له الجنة قالوا: ما الكبائر؟ قال: الإشراك بالله وقتل النفس المسلمة وفرار يوم الزحف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اس حال میں آئے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتا ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو، رمضان کے روزے رکھتا ہو اور بڑے گناہوں سے بچتا ہو تو اس کے لیے جنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: بڑے گناہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی مسلمان جان کو قتل کرنا اور جنگ کے دن میدان سے بھاگ جانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6185
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن حب ك] عن أبي أيوب. الإرواء ١٢٠٢.
«من جامع المشرك وسكن معه فإنه مثله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہائش اختیار کرے تو وہ اسی جیسا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن سمرة. الصحيحة ٢٣٣٠: ك، أبو نعيم.
«من جر إزاره لا يريد بذلك إلا المخيلة فإن الله لا ينظر إليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنا تہبند صرف تکبر کی نیت سے لٹکائے تو اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6187
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن عمر.
«من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنا کپڑا تکبر کے ساتھ لٹکائے تو اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن ابن عمر. حجاب المرأة المسلمة ص ٣٦، غاية المرام ٩٠، الروض النضير ٥٥٨.
"من جعل الهموم هما واحدا هم المعاد كفاه الله سائر همومه ومن تشعبت به الهموم من أحوال الدنيا لم يبال الله في أي أوديتها هلك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنی تمام فکروں کو ایک ہی فکر بنا لے، یعنی آخرت کی فکر، تو اللہ اس کی باقی تمام فکروں کے لیے کافی ہو جاتا ہے، اور جو شخص دنیاوی معاملات کی فکروں میں بٹ جائے تو اللہ کو کوئی پروا نہیں کہ وہ ان میں سے کس وادی میں ہلاک ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث الترغيب ٤/٨٣: حل، ك، ابن عمر. حل - محمد بن المنكدر مرسلا.
«من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنایا جائے تو گویا اسے بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ ك] عن أبي هريرة. الروض النضير ١١٣٦، المشكاة ٣٧٣٣.
«من جلب على الخيل يوم الرهان فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص مقابلے کے دن گھوڑوں کو ناجائز طریقے سے ہانکے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6191
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ٢٢٣١: ابن أبي عاصم.
«من جلس في مجلس فكثر فيه لغطه فقال قبل أن يقوم من مجلسه ذلك: سبحانك اللهم ربنا وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك إلا غفر له ما كان في مجلسه ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں بہت سی فضول باتیں ہوں، پھر وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کہے: اے اللہ! ہمارے رب! تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں، تو اسے اس مجلس میں ہونے والی باتوں کی معافی مل جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6192
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت حب ك] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٤٣٣، حم.
«من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في سبيل الله في أهله بخير فقد غزا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اللہ کی راہ میں کسی مجاہد کو سامان مہیا کرے تو گویا اس نے خود جہاد کیا، اور جو کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ نگہداشت کرے تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٣] عن زيد بن خالد. مختصر مسلم ١٠٩٢.
«من جهز غازيا في سبيل الله كان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجر الغازي شيئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اللہ کی راہ میں کسی مجاہد کو سامان مہیا کرے تو اسے اسی جیسا اجر ملتا ہے، اور اس سے مجاہد کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6194
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن زيد بن خالد. صحيح الترغيب ١٠٧٢.
«من حافظ على أربع ركعات قبل الظهر وأربع بعدها حرم على النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار رکعتیں پابندی سے پڑھے تو وہ جہنم پر حرام ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث المشكاة ١١٦٧، ش ١١٥٢، صحيح الترغيب ٥٨٣.
" من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله في أمره ومن مات وعليه دين فليس بالدينار والدرهم ولكن بالحسنات والسيئات ومن خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع ومن قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال وليس بخارج"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنی سفارش کے ذریعے اللہ کی مقرر کردہ حدود میں سے کسی حد کے نفاذ میں رکاوٹ بنے تو اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی، اور جو شخص قرض دار ہونے کی حالت میں مر جائے تو اس کی ادائیگی دینار و درہم سے نہیں بلکہ نیکیوں اور گناہوں سے ہوگی، اور جو شخص جانتے بوجھتے باطل پر جھگڑا کرے وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک وہ باز نہ آ جائے، اور جو شخص کسی مومن کے بارے میں ایسی بات کہے جو اس میں نہیں ہے تو اللہ اسے جہنمیوں کی پیپ اور خون کے دلدل میں ٹھہرائے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے باہر نکلے، حالانکہ وہ اس سے نکل نہیں سکے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6196
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د طب ك هق] عن ابن عمر. الصحيحة ٤٣٨، الإرواء ٢٣١٨.
«من حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اللہ کے لیے حج کرے اور نہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ گناہ کرے تو وہ اس دن کی طرح واپس لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6197
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن هـ] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٥٠٧.
«من حج هذا البيت ... ، فليكن آخر عهده الطواف بالبيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اس گھر کا حج کرے… تو اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6198
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الضعيفة ٤٥٨٥.
«من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جسے وہ جھوٹی سمجھتا ہو تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث الضعيفة ١/١٢: حب - سمرة مختصر مسلم ١٨٦٣ - المغيرة.
«من حفر بئرا فله أربعون ذراعا عطنا لماشيته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ کی جگہ اس کے مویشیوں کے لیے چراگاہ کے طور پر اسی کی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن عبد الله بن مغفل. الصحيحة ٢٥١: الدارمي.
«من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ٢٠٩٨، الصحيحة ٥٨٢.
«من حفظ ما بين فقميه ورجليه دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اپنے جبڑوں کے درمیان اور اپنی ٹانگوں کے درمیان کی حفاظت کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن أبي موسى. الترغيب ٣/١٩٧: تخ، هب، طب - أبي رافع.
«من حلف بالأمانة فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن بريدة. الصحيحة ٩٤.
«من حلف بغير الله فقد أشرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائے تو اس نے شرک کیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن ابن عمر. الإرواء ٢٥٦١، الصحيحة ٢٠٤٢.
«من حلف على يمين آثمة عند منبري هذا فلتيبوأ مقعده من النار ولو على سواك أخضر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص میرے اس منبر کے پاس کوئی گناہ والی جھوٹی قسم کھائے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے بارے میں کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ك] عن جابر. الإرواء ٢٦٩٧، الترغيب ٣/٤٨: حب.
«من حلف فاستثنى فإن شاء مضى وإن شاء ترك غير حنث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قسم کھائے اور ان شاء اللہ کہہ دے تو اگر چاہے وہ اس پر عمل کرے اور اگر چاہے چھوڑ دے، اس پر قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن ابن عمر. الإرواء ٢٥٧٠، ٢٥٧١.
«من حلف على يمين صبر يقتطع بها مال امرئ مسلم هوفيها فاجر لقي الله وهو عليه غضبان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کوئی پکی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیائے جبکہ وہ اس میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن الأشعث بن قيس وابن مسعود. الروض النضير ٢٤٠و ٦٤٠، الإرواء ٢٦٣٨.
«من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هوخير وليكفر عن يمينه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قسم کھائے پھر اس سے بہتر کوئی اور بات دیکھے تو وہ بہتر بات پر عمل کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث مختصر مسلم ١٠١٩، الروض النصير ١٠٢٩، الإرواء ٢٠٨٤.
«من حلف على يمين فقال: إن شاء الله فقد استثنى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قسم کھائے اور کہے: ان شاء اللہ، تو اس نے استثنا کر لیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ن ك] عن ابن عمر. الإرواء ٢٥٧١.
«من حلف على يمين فقال: إن شاء الله فهو بالخيار إن شاء مضى وإن شاء ترك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قسم کھائے اور کہے: ان شاء اللہ، تو اسے اختیار ہے، اگر چاہے وہ اس پر عمل کرے اور اگر چاہے چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6210
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن] عن ابن عمر. المصدر نفسه.
«من حلف على يمين فقال: إن شاء الله فهو بالخيار إن شاء مضى وإن شاء ترك غير حنث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قسم کھائے اور کہے: ان شاء اللہ، تو اسے اختیار ہے، اگر چاہے وہ اس پر عمل کرے اور اگر چاہے چھوڑ دے، اس پر قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6211
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن هـ] عن ابن عمر. المصدر نفسه.
«من حلف على يمين فقال: إن شاء الله فلا حنث عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قسم کھائے اور کہے: ان شاء اللہ، تو اس پر قسم توڑنے کا کوئی گناہ نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6212
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن ابن عمر وعن أبي هريرة. المصدر نفسه.
«من حلف على يمين مصبورة كاذبا متعمدا ليقتطع بها مال أخيه المسلم فليتبوأ مقعده من النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص کسی پکی قسم پر جھوٹی اور جان بوجھ کر قسم کھائے تاکہ اس کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال ہتھیائے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك] عن عمران بن حصين. الصحيحة ٢٣٣٢: الطبري، حل.
«من حلف فليحلف برب الكعبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قسم کھانا چاہے تو وہ رب کعبہ کی قسم کھائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق] عن قتيلة بنت صيفي. الصحيحة ١١٦٦.
«من حلف في قطيعة رحم أو فيما لا يصلح فبره أن لا يتم على ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص قطع رحمی پر یا کسی ایسی بات پر قسم کھائے جو درست نہ ہو تو اس کی نیکی اسی میں ہے کہ وہ اسے پورا نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عائشة. الصحيحة ٢٢٣٤: الطحاوي - ابن عباس.
«من حلف منكم فقال في حلفه: واللات والعزى فليقل: لا إله إلا الله ومن قال لصاحبه: تعال أقامرك فليتصدق بشيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میں سے جو شخص قسم کھاتے ہوئے کہہ دے: لات اور عزیٰ کی قسم! تو وہ فوراً کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں)، اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ جوا کھیلیں، تو وہ اس کے کفارے میں کچھ صدقہ کر دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشافعي حم ق ٤] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٠١٣.
«من حمل علينا السلاح فليس منا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو شخص ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الميم / حدیث: 6217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ن هـ] عن ابن عمر. المشكاة ٣٥٢٠.