«الآيتان من آخر سورة البقرة من قرأهما في ليلة كفتاه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو شخص انہیں کسی رات میں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔“
”سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو شخص انہیں کسی رات میں پڑھ لے تو وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔“
"الأئمة من قريش أبرارها أمراء أبرارها وفجارها أمراء فجارها وإن أمرت عليكم قريش عبدا حبشيا مجدعا فاسمعوا له وأطيعوا ما لم يخير أحدكم بين إسلامه وضرب عنقه فإن خير بين
إسلامه وضرب عنقه فليقدم عنقه"
إسلامه وضرب عنقه فليقدم عنقه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام (یعنی حکمران) قریش میں سے ہوں گے، ان کے نیک لوگ نیکوں کے امیر ہوں گے اور ان کے بدکار بدکاروں کے امیر ہوں گے، اور اگر قریش کسی ایسے حبشی غلام کو بھی تم پر امیر بنا دیں جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، جب تک کہ تم میں سے کسی کو اس کے اسلام یا اس کی گردن اڑائے جانے کے درمیان اختیار نہ دیا جائے، پس اگر اسے اپنے اسلام یا گردن کٹوانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی گردن آگے کر دے (مگر دین نہ چھوڑے)۔“
”امام (یعنی حکمران) قریش میں سے ہوں گے، ان کے نیک لوگ نیکوں کے امیر ہوں گے اور ان کے بدکار بدکاروں کے امیر ہوں گے، اور اگر قریش کسی ایسے حبشی غلام کو بھی تم پر امیر بنا دیں جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، جب تک کہ تم میں سے کسی کو اس کے اسلام یا اس کی گردن اڑائے جانے کے درمیان اختیار نہ دیا جائے، پس اگر اسے اپنے اسلام یا گردن کٹوانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی گردن آگے کر دے (مگر دین نہ چھوڑے)۔“
«الأئمة من قريش ولهم عليكم حق ولكم مثل ذلك ما إن استرحموا رحموا وإن استحكموا عدلوا وإن عاهدوا وفوا فمن لم يفعل ذلك منهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام قریش میں سے ہوں گے، ان کا تم پر حق ہے اور اسی طرح تمہارا ان پر ویسا ہی حق ہے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، اور جب انہیں حاکم بنایا جائے تو وہ انصاف کریں، اور جب وہ کوئی عہد کریں تو اسے پورا کریں، پس ان میں سے جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، اس کی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔“
”امام قریش میں سے ہوں گے، ان کا تم پر حق ہے اور اسی طرح تمہارا ان پر ویسا ہی حق ہے، جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کریں، اور جب انہیں حاکم بنایا جائے تو وہ انصاف کریں، اور جب وہ کوئی عہد کریں تو اسے پورا کریں، پس ان میں سے جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، اس کی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔“
«الأبعد فالأبعد من المسجد أعظم أجرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو مسجد سے جتنا زیادہ دور ہوگا، اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ عظیم ہوگا۔“
”جو مسجد سے جتنا زیادہ دور ہوگا، اس کا اجر بھی اتنا ہی زیادہ عظیم ہوگا۔“
«الإبل عز لأهلها والغنم بركة والخير معقود في نواصي الخيل إلى يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اونٹ اپنے مالکوں کے لیے باعثِ عزت ہیں، اور بکریاں سراپا برکت ہیں، اور قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر و بھلائی باندھ دی گئی ہے۔“
”اونٹ اپنے مالکوں کے لیے باعثِ عزت ہیں، اور بکریاں سراپا برکت ہیں، اور قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر و بھلائی باندھ دی گئی ہے۔“
«الإثمد يجلو البصر وينبت الشعر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اثمد (سرمہ) نگاہ کو روشن کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“
”اثمد (سرمہ) نگاہ کو روشن کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“
«الإحسان أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔“
”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔“
«الأخوات الأربع ميمونة وأم الفضل وسلمى وأسماء بنت عميس أختهن لأمهن مؤمنات»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”چاروں بہنیں یعنی میمونہ، ام الفضل، سلمیٰ اور ان کی ماں شریک بہن اسماء بنت عمیس مومنات (پکے ایمان والی) ہیں۔“
”چاروں بہنیں یعنی میمونہ، ام الفضل، سلمیٰ اور ان کی ماں شریک بہن اسماء بنت عمیس مومنات (پکے ایمان والی) ہیں۔“
«الأذان تسع عشرة كلمة والإقامة سبع عشرة كلمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اذان کے انیس کلمات ہیں اور اقامت کے سترہ کلمات ہیں۔“
”اذان کے انیس کلمات ہیں اور اقامت کے سترہ کلمات ہیں۔“
«الأرض أرض الله والعباد عباد الله من أحيا مواتا فهي له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”زمین اللہ کی ہے اور بندے (بھی) اللہ ہی کے بندے ہیں، جس نے کسی بنجر (مردہ) زمین کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہے۔“
”زمین اللہ کی ہے اور بندے (بھی) اللہ ہی کے بندے ہیں، جس نے کسی بنجر (مردہ) زمین کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہے۔“
«الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قبرستان اور حمام (غسل خانے) کے سوا ساری زمین ہی مسجد (یعنی سجدہ گاہ اور نماز پڑھنے کی جگہ) ہے۔“
”قبرستان اور حمام (غسل خانے) کے سوا ساری زمین ہی مسجد (یعنی سجدہ گاہ اور نماز پڑھنے کی جگہ) ہے۔“
«الأرواح جنود مجندة فما تعارف منها ائتلف وما تناكر منها اختلف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”روحیں اکٹھے کیے گئے لشکروں کی مانند ہیں، عالمِ ارواح میں ان میں سے جن کی آپس میں پہچان ہو گئی وہ (دنیا میں بھی) گھل مل جاتی ہیں اور جو وہاں ایک دوسرے کے لیے ناآشنا رہیں وہ (یہاں بھی) آپس میں اختلاف رکھتی ہیں۔“
”روحیں اکٹھے کیے گئے لشکروں کی مانند ہیں، عالمِ ارواح میں ان میں سے جن کی آپس میں پہچان ہو گئی وہ (دنیا میں بھی) گھل مل جاتی ہیں اور جو وہاں ایک دوسرے کے لیے ناآشنا رہیں وہ (یہاں بھی) آپس میں اختلاف رکھتی ہیں۔“
«الإزار إلى نصف الساق أو إلى الكعبين لا خير في أسفل من ذلك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تہبند (ازار) آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے یا ٹخنوں تک، اس سے نیچے لٹکانے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“
”تہبند (ازار) آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے یا ٹخنوں تک، اس سے نیچے لٹکانے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“
«الإسبال في الإزار والقميص والعمامة من جر منها شيئا خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کپڑا لٹکانا تہبند، قمیص اور عمامے میں (ہوتا) ہے، جس شخص نے غرور و تکبر کی وجہ سے ان میں سے کسی بھی چیز کو (زمین پر) گھسیٹا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف (رحمت کی نگاہ سے) نہیں دیکھے گا۔“
”کپڑا لٹکانا تہبند، قمیص اور عمامے میں (ہوتا) ہے، جس شخص نے غرور و تکبر کی وجہ سے ان میں سے کسی بھی چیز کو (زمین پر) گھسیٹا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف (رحمت کی نگاہ سے) نہیں دیکھے گا۔“
«الاستئذان ثلاث فإن أذن لك وإلا فارجع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اجازت مانگنا (صرف) تین بار ہے، پھر اگر تمہیں اندر آنے کی اجازت مل جائے (تو ٹھیک ہے)، ورنہ تم واپس لوٹ جاؤ۔“
”اجازت مانگنا (صرف) تین بار ہے، پھر اگر تمہیں اندر آنے کی اجازت مل جائے (تو ٹھیک ہے)، ورنہ تم واپس لوٹ جاؤ۔“
«الاستجمار توٌّ ورمي الجمار توّ والسعي بين الصفا والمروة توٌّ والطواف توٌّ وإذا استجمر أحدكم فليستجمر بتوٍّ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پتھروں سے استنجاء کرنا طاق عدد پر ہے، جمرات کو کنکریاں مارنا طاق ہے، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا طاق ہے، اور بیت اللہ کا طواف کرنا طاق ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے چاہیے کہ طاق پتھر استعمال کرے۔“
”پتھروں سے استنجاء کرنا طاق عدد پر ہے، جمرات کو کنکریاں مارنا طاق ہے، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا طاق ہے، اور بیت اللہ کا طواف کرنا طاق ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے چاہیے کہ طاق پتھر استعمال کرے۔“
«الاستنجاء بثلاثة أحجار ليس فيهن رجيع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”استنجاء (کم از کم) تین پتھروں سے کرنا چاہیے بشرطیکہ ان میں گوبر (یا کوئی ناپاک چیز) نہ ہو۔“
”استنجاء (کم از کم) تین پتھروں سے کرنا چاہیے بشرطیکہ ان میں گوبر (یا کوئی ناپاک چیز) نہ ہو۔“
«الإسلام: إقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم شهر رمضان والاغتسال من الجنابة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام یہ ہے کہ: تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو اور جنابت کا غسل کرو۔“
”اسلام یہ ہے کہ: تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو اور جنابت کا غسل کرو۔“
«الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، اور تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہو تو اس کا حج کرو۔“
”اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، اور تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہو تو اس کا حج کرو۔“
«الإسلام أن تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤدي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان وتحج البيت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔“
”اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔“
«الإسلام يجب ما كان قبله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام اپنے سے پہلے کے تمام (کفریہ) اعمال و گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
”اسلام اپنے سے پہلے کے تمام (کفریہ) اعمال و گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
«الإسلام يعلو ولا يعلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام ہمیشہ غالب رہتا ہے اور اس پر غلبہ نہیں پایا جا سکتا۔“
”اسلام ہمیشہ غالب رہتا ہے اور اس پر غلبہ نہیں پایا جا سکتا۔“
«الأسنان سواء الثنية والضرس سواء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(دیت یعنی قصاص کے جرمانے میں) تمام دانت برابر ہیں، سامنے والے دانت اور داڑھ کی دیت ایک جیسی ہے۔“
”(دیت یعنی قصاص کے جرمانے میں) تمام دانت برابر ہیں، سامنے والے دانت اور داڑھ کی دیت ایک جیسی ہے۔“
«الأسنان سواء خمسا خمسا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(دیت کے معاملے میں) دانت برابر ہیں، ہر دانت کی دیت پانچ، پانچ (اونٹ) ہے۔“
”(دیت کے معاملے میں) دانت برابر ہیں، ہر دانت کی دیت پانچ، پانچ (اونٹ) ہے۔“
«الأشرة شر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اترانا (یعنی تکبر کرنا اور حد سے بڑھنا) بری بات ہے۔“
”اترانا (یعنی تکبر کرنا اور حد سے بڑھنا) بری بات ہے۔“
«الأصابع سواء عشر عشر من الإبل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(دیت میں تمام) انگلیاں برابر ہیں، ہر ایک کے بدلے دس دس اونٹ ہیں۔“
”(دیت میں تمام) انگلیاں برابر ہیں، ہر ایک کے بدلے دس دس اونٹ ہیں۔“
«الأصابع سواء كلهن فيهن عشر من الإبل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمام انگلیاں (قصاص اور دیت میں) برابر ہیں، ان میں سے ہر ایک کی دیت دس اونٹ ہے۔“
”تمام انگلیاں (قصاص اور دیت میں) برابر ہیں، ان میں سے ہر ایک کی دیت دس اونٹ ہے۔“
«الأصابع سواء والأسنان سواء الثنية والضرس سواء هذه وهذه سواء» - يعني الإبهام والخنصر -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انگلیاں برابر ہیں اور دانت بھی برابر ہیں، سامنے کا دانت اور داڑھ برابر ہیں، یہ اور یہ برابر ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں کہ اس سے مراد انگوٹھا اور چھنگلیا ہے)۔
”انگلیاں برابر ہیں اور دانت بھی برابر ہیں، سامنے کا دانت اور داڑھ برابر ہیں، یہ اور یہ برابر ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں کہ اس سے مراد انگوٹھا اور چھنگلیا ہے)۔
«الأكثرون هم الأسفلون يوم القيامة إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وكسبه من طيب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن زیادہ مالدار لوگ ہی سب سے نیچے (کم تر درجے میں) ہوں گے، سوائے اس شخص کے جس نے اپنے مال کو اس طرح اور اس طرح (یعنی دائیں بائیں، آگے پیچھے نیک کاموں میں) خرچ کیا اور اسے حلال و پاکیزہ کمائی سے حاصل کیا ہو۔“
”قیامت کے دن زیادہ مالدار لوگ ہی سب سے نیچے (کم تر درجے میں) ہوں گے، سوائے اس شخص کے جس نے اپنے مال کو اس طرح اور اس طرح (یعنی دائیں بائیں، آگے پیچھے نیک کاموں میں) خرچ کیا اور اسے حلال و پاکیزہ کمائی سے حاصل کیا ہو۔“
«الإمام ضامن فإن أحسن فله ولهم وإن أساء فعليه ولا عليهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام ضامن (یعنی ذمہ دار) ہوتا ہے، پس اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کا ثواب اسے بھی ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں۔“
”امام ضامن (یعنی ذمہ دار) ہوتا ہے، پس اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کا ثواب اسے بھی ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں۔“
«الإمام ضامن والمؤذن مؤتمن اللهم أرشد الأئمة واغفر للمؤذنين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے، «اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ» اے اللہ! اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنوں کی مغفرت فرما۔“
”امام ضامن ہے اور مؤذن امانت دار ہے، «اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ» اے اللہ! اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنوں کی مغفرت فرما۔“
«الأمراء من قريش ما عملوا فيكم بثلاث: ما رحموا إذا استرحموا وأقسطوا إذا قسموا وعدلوا إذا حكموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امیر (حکمران) قریش میں سے ہوں گے، جب تک وہ تمہارے درمیان تین باتوں پر عمل پیرا رہیں گے: جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو رحم کریں، جب مال تقسیم کریں تو انصاف کریں، اور جب فیصلہ کریں تو عدل سے کام لیں۔“
”امیر (حکمران) قریش میں سے ہوں گے، جب تک وہ تمہارے درمیان تین باتوں پر عمل پیرا رہیں گے: جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو رحم کریں، جب مال تقسیم کریں تو انصاف کریں، اور جب فیصلہ کریں تو عدل سے کام لیں۔“
«الأمر أسرع من ذاك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”معاملہ (یعنی موت کا وقت) اس (انسان کی امید) سے کہیں زیادہ تیزی سے آنے والا ہے۔“
”معاملہ (یعنی موت کا وقت) اس (انسان کی امید) سے کہیں زیادہ تیزی سے آنے والا ہے۔“
«الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔“
”انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔“
«الأنصار شعار والناس دثار ولو أن الناس استقبلوا واديا أو شعبا واستقبلت الأنصار واديا لسلكت وادي الأنصار ولولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انصار جسم سے لگے ہوئے اندرونی کپڑے (شعار) کی طرح ہیں اور باقی لوگ بیرونی کپڑے (دثار) کی طرح ہیں، اور اگر تمام لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی کی طرف چلیں اور انصار کسی دوسری وادی کا رخ کریں تو میں انصار کی وادی کے راستے پر چلوں گا، اور اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ہی ایک فرد ہوتا۔“
”انصار جسم سے لگے ہوئے اندرونی کپڑے (شعار) کی طرح ہیں اور باقی لوگ بیرونی کپڑے (دثار) کی طرح ہیں، اور اگر تمام لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی کی طرف چلیں اور انصار کسی دوسری وادی کا رخ کریں تو میں انصار کی وادی کے راستے پر چلوں گا، اور اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ہی ایک فرد ہوتا۔“
«الأنصار كرشي وعيبتي وإن الناس سيكثرون وهم يقلون فاقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انصار میرے رازدار اور میرے خاص لوگ ہیں، (آئندہ) لوگ تعداد میں بڑھتے جائیں گے اور یہ کم ہوتے جائیں گے، لہٰذا تم ان کے نیک لوگوں کی (نیکیاں) قبول کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرنا۔“
”انصار میرے رازدار اور میرے خاص لوگ ہیں، (آئندہ) لوگ تعداد میں بڑھتے جائیں گے اور یہ کم ہوتے جائیں گے، لہٰذا تم ان کے نیک لوگوں کی (نیکیاں) قبول کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرنا۔“
«الأنصار ومزينة وجهينة وغفار وأشجع ومن كان من بني عبد الدار موالي دون الناس والله ورسوله مولاهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو بنو عبد الدار میں سے ہیں، یہ سب دیگر لوگوں کے مقابلے میں میرے دوست ہیں، اور اللہ اور اس کا رسول ان کے دوست (اور مددگار) ہیں۔“
”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو بنو عبد الدار میں سے ہیں، یہ سب دیگر لوگوں کے مقابلے میں میرے دوست ہیں، اور اللہ اور اس کا رسول ان کے دوست (اور مددگار) ہیں۔“
«الأيدي ثلاثة فيد الله العليا ويد المعطي التي تليها ويد السائل السفلى فأعط الفضل ولا تعجز عن نفسك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہاتھ تین طرح کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اور دینے والے کا ہاتھ اس کے بعد (درجے میں) ہے، اور مانگنے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہے۔ پس تم (ضرورت سے) بچا ہوا زائد مال خرچ کرو اور اپنی جان کو عاجز نہ بناؤ (یعنی اپنے آپ کو محتاج نہ کرو)۔“
”ہاتھ تین طرح کے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر ہے، اور دینے والے کا ہاتھ اس کے بعد (درجے میں) ہے، اور مانگنے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہے۔ پس تم (ضرورت سے) بچا ہوا زائد مال خرچ کرو اور اپنی جان کو عاجز نہ بناؤ (یعنی اپنے آپ کو محتاج نہ کرو)۔“
«الإيمان: الصبر والسماحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایمان دراصل صبر اور سخاوت (وسعتِ ظرفی) کا نام ہے۔“
”ایمان دراصل صبر اور سخاوت (وسعتِ ظرفی) کا نام ہے۔“
…