حدیث نمبر: 2757
"الأئمة من قريش أبرارها أمراء أبرارها وفجارها أمراء فجارها وإن أمرت عليكم قريش عبدا حبشيا مجدعا فاسمعوا له وأطيعوا ما لم يخير أحدكم بين إسلامه وضرب عنقه فإن خير بين
إسلامه وضرب عنقه فليقدم عنقه"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”امام (یعنی حکمران) قریش میں سے ہوں گے، ان کے نیک لوگ نیکوں کے امیر ہوں گے اور ان کے بدکار بدکاروں کے امیر ہوں گے، اور اگر قریش کسی ایسے حبشی غلام کو بھی تم پر امیر بنا دیں جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، جب تک کہ تم میں سے کسی کو اس کے اسلام یا اس کی گردن اڑائے جانے کے درمیان اختیار نہ دیا جائے، پس اگر اسے اپنے اسلام یا گردن کٹوانے کے درمیان اختیار دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی گردن آگے کر دے (مگر دین نہ چھوڑے)۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك هق] عن علي. الروض النضير ٦٧٤، الإرواء ١٥٢٠.