کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن يمين الله ملأى لا يغيضها نفقة سحاء الليل والنهار أرأيتم ما أنفق منذ خلق السموات والأرض؟ فإنه لم يغض ما في يمينه وعرشه على الماء وبيده الأخرى القبض يرفع ويخفض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات مسلسل خرچ کرنا بھی اس میں کوئی کمی نہیں لاتا۔ بھلا تم غور تو کرو کہ جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، تب سے اس نے کس قدر خرچ کیا ہے؟ لیکن اس کے باوجود جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی، اور اس کا عرش پانی پر ہے، اور اس کے دوسرے ہاتھ میں قبضہ ہے جسے وہ بلند اور پست کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
"إن يوم الاثنين والخميس يغفر الله فيهما لكل
مسلم إلا مهتجرين يقول: دعهما حتى يصطلحا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک پیر اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے ان دو لوگوں کے جنہوں نے آپس میں قطع تعلقی کر رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرماتا ہے: ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. مسلم ٨/١١.
«إن يوم الجمعة سيد الأيام وأعظمها عند الله وهو أعظم عند الله من يوم الأضحى ويوم الفطر فيه خمس خلال: خلق الله فيه آدم وأهبط الله فيه آدم إلى الأرض وفيه توفى الله آدم وفيه ساعة لا يسأل الله فيها العبد شيئا إلا أعطاه إياه ما لم يسأل حراما وفيه تقوم الساعة وما من ملك مقرب ولا سماء ولا أرض ولا رياح ولا جبال ولا بحر إلا وهو يشفق من يوم الجمعة أن تقوم فيه الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ عظمت رکھتا ہے۔ اس دن میں پانچ خصلتیں (اہم باتیں) ہیں: اس دن اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، اسی دن اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا، اسی دن اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو وفات دی، اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں اللہ سے جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ اسے ضرور عطا فرماتا ہے بشرطیکہ وہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ کوئی بھی مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ اور سمندر ایسا نہیں ہے جو جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو کہ کہیں اس دن قیامت قائم نہ ہو جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم هـ] عن أبي لبابة بن عبد المنذر. صحيح الترغيب ٦٩٥.
«إنا آل محمد لا تحل لنا الصدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم آلِ محمد ہیں اور ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2280
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب] عن الحسن بن على. الإرواء ٨٧٩.
«إنا آل محمد لا تحل لنا الصدقة وإن مولى القوم من أنفسهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم آلِ محمد ہیں اور ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، اور یقیناً کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم کا حصہ شمار ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2281
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن حب ك] عن أبي رافع. الإرواء ٨٧٩.
«إنا أمة أمية لا نكتب ولا نحسب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم ایک اُمّی قوم ہیں، ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب لگاتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٥٧٦.
«إنا قد اتخذنا خاتما ونقشنا فيه نقشا فلا ينقش أحد على نقشه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک نقش کندہ کروایا ہے، لہٰذا کوئی دوسرا شخص اپنی انگوٹھی پر اس جیسا نقش ہرگز کندہ نہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2283
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن هـ] عن أنس.
"إنا كنا نهيناكم عن لحومها أن تأكلوها فوق
ثلاث لكي تسعكم فقد جاء الله بالسعة فكلوا وادخروا واتجروا ألا وإن هذه الأيام أيام أكل وشرب وذكر الله"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم نے تمہیں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ (رکھ کر) کھانے سے منع کیا تھا تاکہ وہ تم سب کے لیے کافی ہو جائے، پس اب اللہ تعالیٰ نے فراخی و وسعت عطا فرما دی ہے، لہٰذا اب تم اسے کھاؤ، ذخیرہ کرو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، اور سن لو! بے شک یہ دن کھانے، پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن نبيشة. الصحيحة ١٧١٣.
«إنا لن نستعمل على عملنا من أراده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم اپنے اس (حکومتی) کام پر ہرگز کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کریں گے جو اس کی خواہش (یا طلب) کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2285
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٢٠٥.
«إنا معشر الأنبياء أمرنا أن نعجل إفطارنا ونؤخر سحورنا ونضع أيماننا على شمائلنا في الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم گروہِ انبیاء کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار میں جلدی کریں، سحری میں تاخیر کریں اور نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2286
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي طب] عن ابن عباس. الروض النضير ٥٠٣، أحكام الجنائز ١١٧، حقيقة الصيام ٨٥: حب، قط، طص، طس – ابن عمر.
«إنا معشر الأنبياء تنام أعيننا ولا تنام قلوبنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم انبیاء کی جماعت ہیں، ہماری آنکھیں سوتی ہیں لیکن ہمارے دل نہیں سوتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2287
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن عطاء مرسلا. الصحيحة ١٧٠٥: خ - أنس.
«إنا معشر الأنبياء يضاعف علينا البلاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم انبیاء کا گروہ ہیں، ہم پر آزمائشیں اور تکالیف دوگنی کر دی جاتی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2288
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أخت حذيفة. الصحيحة ١٤٤: ابن ماجه، الطحاوي، ابن سعد، ك.
«إنا نخطب فمن أحب أن يجلس للخطبة فليجلس ومن أحب أن يذهب فليذهب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم (عید کا) خطبہ دینے لگے ہیں، پس جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے وہ بیٹھ جائے اور جو جانا چاہے وہ چلا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن عبد الله بن السائب. صحيح أبي داود ١٠٤٨.
«إنا نهينا أن ترى عوراتنا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہمارے ستر (شرمگاہیں) دیکھے جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2290
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن جابر بن صخر. الصحيحة ١٧٠٦.
"إنا والله لا نولي على هذا العمل أحدا سأله
ولا أحدا حرص عليه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی قسم! ہم اس (حکومتی) عہدے پر ہرگز کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کریں گے جس نے اسے مانگا ہو اور نہ ہی اسے جو اس کا لالچ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2291
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي موسى. مختصر مسلم ١٢٠٥، خ – أحكام.
«إنا لا نستعين بالمشركين على المشركين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2292
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم تخ] عن خبيب بن يساف. الصحيحة ١١٠١: ابن سعد، الطحاوي، ك عنه، وعن أبي حميد الساعدي والطبراني الكبير ٤١٩٤ وسماه ابن آساف.
«إنا لا نستعين بمشرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د هـ] عن عائشة. الصحيحة ١١٠١: م، د، الدارمي، ابن ماجه، الطحاوي، حب.
«إنا لا نقبل شيئا من المشركين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہم مشرکوں سے کوئی چیز (ہدیہ وغیرہ) قبول نہیں کرتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن حكيم بن حزام. الصحيحة ١٧٠٧.
«إنك إن اتبعت عورات الناس أفسدتهم أو كدت تفسدهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اگر تم لوگوں کے پوشیدہ عیوب کے پیچھے پڑو گے تو تم انہیں بگاڑ دو گے یا قریب ہے کہ تم انہیں بگاڑ دو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2295
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن معاوية. الترغيب ٣/١٧٧: حب، خل.
«إنك تقدم على قوم أهل كتاب فليكن أول ما تدعوهم إليه عبادة الله فإذا عرفوا الله فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم خمس صلوات في يومهم وليلتهم فإذا فعلوا فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم زكاة تؤخذ من أموالهم فترد على فقرائهم فإذا أطاعوا بها فخذ منهم وتوق كرائم أموال الناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، پس تم سب سے پہلے انہیں اللہ کی عبادت کی طرف بلانا۔ جب وہ اللہ کو پہچان لیں، تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ ایسا کرنے لگیں، تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں میں لوٹا دی جائے گی۔ پس جب وہ اس بات میں اطاعت کر لیں، تو ان سے (زکوٰۃ) وصول کرنا، البتہ لوگوں کے عمدہ اور بہترین مال (زکوٰۃ میں لینے) سے بچنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2296
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عباس. الإرواء ٨٥٥، مختصر مسلم ٥٠١.
«إنك دعوتنا خامس خمسة وهذا رجل قد تبعنا فإن شئت أذنت له وإن شئت رجع»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کی دعوت دی تھی اور ہم (اس میں) پانچویں تھے، اور یہ (چھٹا) آدمی ہمارے پیچھے آ گیا ہے۔ پس اگر تم چاہو تو اسے (اندر آنے کی) اجازت دے دو اور اگر چاہو تو یہ واپس چلا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن مسعود. مختصر مسلم ١٣٠٨.
«إنك ستأتي قوما أهل كتاب فإذا جئتهم فادعهم إلى أن يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فإن هم أطاعوا لك بذلك فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة فإن هم أطاعوا لك بذلك فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم فترد على فقرائهم فإن هم أطاعوا لك بذلك فإياك وكرائم أموالهم واتق دعوة المظلوم فإنه ليس بينها وبين الله حجاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ پس جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری اس بات کو مان لیں، تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پھر اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں، تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر صدقہ (زکوٰۃ) فرض کیا ہے جو ان کے امیروں سے لیا جائے گا اور ان کے غریبوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ پس اگر وہ تمہاری اس بات کی بھی اطاعت کر لیں، تو ان کے عمدہ اموال (بطور زکوٰۃ لینے) سے بچنا، اور مظلوم کی بددعا سے ڈرنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2298
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن ابن عباس. مختصر مسلم ٥٠١.
«إنك كالذي قال الأول: اللهم أبغني حبيبا هو أحب إلي من نفسي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم اس پہلے شخص کی طرح ہو جس نے کہا تھا: اے اللہ! مجھے ایسا دوست تلاش کر دے جو مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2299
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن سلمة بن الأكوع. مختصر مسلم ١١٧٦.
«إنك لن تخلف بعدي فتعمل عملا صالحا إلا ازددت به درجة ورفعة ثم لعلك أن تخلف حتى ينتفع بك أقوام ويضر بك آخرون اللهم أمض لأصحابي هجرتهم ولا تردهم على أعقابهم لكن البائس سعد بن خولة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اگر تم میرے بعد (مکہ میں) پیچھے رہ گئے اور کوئی بھی نیک عمل کیا تو اس کی وجہ سے تمہارے درجے اور بلندی میں ضرور اضافہ ہوگا۔ پھر شاید تم (دنیا میں کچھ عرصہ مزید) باقی رہو، یہاں تک کہ تمہارے ذریعے کچھ قوموں کو فائدہ پہنچے گا اور دوسروں کو نقصان ہوگا۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو مکمل فرما اور انہیں ان کی ایڑیوں کے بل (مرتد کر کے) واپس نہ لوٹا۔ لیکن قابل رحم (سعد بن خولہ) ہیں (کہ وہ مکہ میں ہی وفات پا گئے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ت] عن سعد.
«إنكم تتمون سبعين أمة أنتم خيرها وأكرمها على الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم ستر (70) امتوں کو مکمل کرتے ہو (یعنی تم سترویں امت ہو)، تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سب میں بہترین اور سب سے زیادہ معزز ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2301
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن معاوية بن حيدة. المشكاة ٦٢٩٤.
«إنكم تحشرون رجالا وركبانا وتجرون على وجوهكم هاهنا» - وأومأ بيده نحو الشام - "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم پیدل چلتے ہوئے، سواریوں پر سوار ہو کر، اور اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاتے ہوئے یہاں اکٹھے (میدانِ حشر میں جمع) کیے جاؤ گے، اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ملکِ شام کی طرف اشارہ فرمایا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2302
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت ك] عن معاوية بن حيدة. تخريج فضائل الشام حديث ١٣: ك.
«إنكم تنتظرون صلاة ما ينتظرها أهل دين غيركم ولولا أن يثقل على أمتي لصليت بهم هذه الساعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم ایک ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا انتظار تمہارے سوا کسی دوسرے دین والے نہیں کرتے، اور اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میری امت پر مشقت پڑ جائے گی تو میں انہیں اسی وقت (یعنی تاخیر سے عشاء کی) نماز پڑھاتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن ابن عمر. صحيح أبي داود ٤٤٦: م، د، هق.
«إنكم ستحرصون على الإمارة وإنها ستكون ندامة وحسرة يوم القيامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً تم عنقریب امارت (عہدے اور حکومت) کے حصول کی شدید حرص کرو گے، حالانکہ قیامت کے دن یہ ندامت اور حسرت کا باعث بنے گی، پس یہ (امارت) دودھ پلانے والی (یعنی ابتدا میں دنیاوی فائدے دینے والی) کے طور پر تو بہت اچھی ہے لیکن دودھ چھڑانے والی (یعنی معزولی یا موت کے وقت چھن جانے والی) کے اعتبار سے بہت بری ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2304
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ن] عن أبي هريرة.
«إنكم سترون بعدي أثرة وأمورا تنكرونها أدوا إليهم حقهم وسلوا الله حقكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم میرے بعد عنقریب حق تلفی (نا اہلوں کو اہل پر ترجیح دینے کا عمل) اور ایسے معاملات دیکھو گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ (اس وقت) تم ان (حکمرانوں) کا حق انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنا حق (صرف) اللہ تعالیٰ سے مانگنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2305
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ ت] عن ابن مسعود. مختصر مسلم ١٢٣٠نحوه عن أسيد.
«إنكم سترون ربكم كما ترون هذا القمر لا تضامون في رؤيته فإن استطعتم أن لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وصلاة قبل غروبها فافعلوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم عنقریب اپنے رب کا اسی طرح (واضح) دیدار کرو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیدار میں کسی قسم کی کوئی زحمت یا رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ پس اگر تم یہ کر سکو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے کی نماز (فجر) اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز (عصر) کی ادائیگی پر مغلوب نہ ہو (یعنی انہیں بروقت ادا کرو) تو ایسا ضرور کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2306
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن جرير.
«إنكم ستفتحون مصر وهي أرض يسمى فيها القيراط فإذا فتحتموها فاستوصوا بأهلها خيرا فإن لهم ذمة ورحما فإذا رأيت رجلين يختصمان في موضع لبنة فاخرج منها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم عنقریب مصر کو فتح کرو گے، اور یہ وہ سرزمین ہے جہاں قیراط (جیسے پیمانے) کا نام لیا جاتا ہے، پس جب تم اسے فتح کر لو تو وہاں کے رہنے والوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کو قبول کرنا (ان سے حسنِ سلوک کرنا)، کیونکہ ان کے لیے ذمہ (عہد و امان) اور (ہماری ان سے) رشتہ داری بھی ہے۔ اور جب تم (وہاں) دو آدمیوں کو ایک اینٹ (جتنی معمولی) جگہ پر جھگڑتے ہوئے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2307
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي ذر. الصحيحة ١٣٧٤: الطحاوي، مختصر مسلم ١٧٤٩.
«إنكم ستلقون العدو غدا فليكن شعاركم {حم} لا ينصرون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً کل تمہارا سامنا دشمن سے ہوگا، لہٰذا (پہچان کے لیے) تمہارا شعار اور نعرہ یہ ہونا چاہیے: «حٰمٓ، لَا يُنْصَرُونَ» (وہ ہرگز فتح یاب نہیں ہوں گے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن ك] عن البراء.
"إنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني غدا
علي الحوض"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم میرے بعد (حکومتی معاملات میں) اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیا جانا دیکھو گے، پس تم (اس پر) صبر کرنا یہاں تک کہ کل تم مجھ سے حوض (کوثر) پر آ ملو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن أسيد بن حضير [حم ق] عن أنس. مختصر مسلم ١٢٣٠.
«إنكم شكوتم جدب دياركم واستئخار المطر عن إبان زمانه عنكم وقد أمركم الله عز وجل ووعدكم أن يستجيب لكم {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم نے اپنے علاقوں کی قحط سالی اور بارش کے اپنے مقررہ وقت سے تاخیر ہو جانے کی شکایت کی ہے، حالانکہ اللہ عزوجل نے تمہیں (دعا کا) حکم دیا ہے اور تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 2 - 4] (سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے، روزِ جزا کا مالک ہے)۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» (اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو بے نیاز ہے اور ہم سب محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ تو ہم پر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے قوت کا باعث اور ایک وقت مقررہ تک کے لیے ذریعہِ گزر بسر بنا دے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2310
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د ك] عن عائشة. الكلم ١٥٢، صحيح أبي داود ١٠٦٤.
«إنكم لن تدركوا هذا الأمر بالمغالبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم اس (حکومت اور خلافت کے) معاملے کو زبردستی اور چھین کر ہرگز حاصل نہیں کر سکو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن سعد حم هب] عن ابن الأدرع. الصحيحة ١٧٠٩.
«إنكم لن تروا ربكم عز وجل حتى تموتوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً تم اپنے رب عزوجل کا ہرگز دیدار نہیں کر سکو گے، یہاں تک کہ تم وفات پا جاؤ (یعنی دنیا کی زندگی میں اللہ کا دیدار ممکن نہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب في السنة] عن أبي أمامة. مسلم ٨/١٩٣ – بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم١.
«إنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تم مسلسل نماز ہی کی حالت میں شمار کیے جاؤ گے جب تک تم (مسجد میں بیٹھ کر اگلی) نماز کا انتظار کرتے رہو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2313
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن] عن أنس. حم ٣/٢٦٧، مختصر البخاري ٣٦٣، م ٢/١١٦.
«إنكم مصبحوا عدوكم والفطر أقوى لكم فأفطروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یقیناً تم کل صبح اپنے دشمن کا سامنا کرنے والے ہو اور روزہ چھوڑ دینا تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہوگا، لہٰذا تم روزہ افطار کر لو (یعنی نہ رکھو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2314
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي سعيد. مختصر مسلم ٦٠١.
"إنما أجلكم فيما خلا من الأمم كما بين صلاة العصر إلى مغارب الشمس, وإنما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كمثل رجل استأجر أجراء فقال: من يعمل من غدوة إلى نصف النهار على قيراط قيراط؟ فعملت اليهود ثم قال: من يعمل من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط قيراط؟ فعملت النصارى ثم قال: من يعمل من العصر إلى أن
تغيب الشمس على قيراطين قيراطين؟ فأنتم هم فغضبت اليهود والنصارى وقالوا: ما لنا أكثر عملا وأقل عطاء؟ قال: هل ظلمتكم من حقكم شيئا؟ قالوا: لا. قال: فذلك فضلي أوتيه من أشاء"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پہلی گزر چکی امتوں کے مقابلے میں تمہاری (بقائے دنیا کی) مدت بس اتنی ہے جتنا عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔ یقیناً تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کچھ مزدور اجرت پر رکھے اور کہا: کون ہے جو صبح سے لے کر دوپہر تک ایک ایک قیراط (اجرت) پر میرا کام کرے گا؟ تو یہودیوں نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو دوپہر سے لے کر عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط (اجرت) پر میرا کام کرے گا؟ تو عیسائیوں نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط (اجرت) پر میرا کام کرے گا؟ تو یہ (کام کرنے والے) تم لوگ ہو۔ اس پر یہود و نصاریٰ غصے میں آ گئے اور کہنے لگے: ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم نے کام زیادہ کیا اور ہمیں اجرت کم ملی؟ اس (مالک) نے کہا: کیا میں نے تمہاری طے شدہ اجرت کا حق دینے میں تم پر کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اس (اللہ) نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم خ ت] عن ابن عمر.
«إنما أخاف على أمتي الأئمة المضلين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ گمراہ کرنے والے پیشواؤں (اور حکمرانوں) کا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2316
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن ثوبان. المشكاة ٥٣٩٤، الصحيحة ١٥٨٢.