حدیث نمبر: 2315
"إنما أجلكم فيما خلا من الأمم كما بين صلاة العصر إلى مغارب الشمس, وإنما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كمثل رجل استأجر أجراء فقال: من يعمل من غدوة إلى نصف النهار على قيراط قيراط؟ فعملت اليهود ثم قال: من يعمل من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط قيراط؟ فعملت النصارى ثم قال: من يعمل من العصر إلى أن
تغيب الشمس على قيراطين قيراطين؟ فأنتم هم فغضبت اليهود والنصارى وقالوا: ما لنا أكثر عملا وأقل عطاء؟ قال: هل ظلمتكم من حقكم شيئا؟ قالوا: لا. قال: فذلك فضلي أوتيه من أشاء"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پہلی گزر چکی امتوں کے مقابلے میں تمہاری (بقائے دنیا کی) مدت بس اتنی ہے جتنا عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔ یقیناً تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کچھ مزدور اجرت پر رکھے اور کہا: کون ہے جو صبح سے لے کر دوپہر تک ایک ایک قیراط (اجرت) پر میرا کام کرے گا؟ تو یہودیوں نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو دوپہر سے لے کر عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط (اجرت) پر میرا کام کرے گا؟ تو عیسائیوں نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط (اجرت) پر میرا کام کرے گا؟ تو یہ (کام کرنے والے) تم لوگ ہو۔ اس پر یہود و نصاریٰ غصے میں آ گئے اور کہنے لگے: ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم نے کام زیادہ کیا اور ہمیں اجرت کم ملی؟ اس (مالک) نے کہا: کیا میں نے تمہاری طے شدہ اجرت کا حق دینے میں تم پر کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو اس (اللہ) نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم خ ت] عن ابن عمر.