«إن لكل نبي ولاة من النبيين وإن وليي أبي وخليل ربي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہر نبی کے انبیاء میں سے کچھ ولی (دوست اور سرپرست) ہوتے ہیں، اور بے شک میرے ولی میرے والد اور میرے رب کے خلیل (حضرت ابراہیم علیہ السلام) ہیں۔“
”بے شک ہر نبی کے انبیاء میں سے کچھ ولی (دوست اور سرپرست) ہوتے ہیں، اور بے شک میرے ولی میرے والد اور میرے رب کے خلیل (حضرت ابراہیم علیہ السلام) ہیں۔“
«إن لك ما احتسبت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تمہارے لیے اسی قدر ثواب ہے جس کی تم نے (اللہ سے) نیت اور امید رکھی۔“
”بے شک تمہارے لیے اسی قدر ثواب ہے جس کی تم نے (اللہ سے) نیت اور امید رکھی۔“
«إن لك من الأجر على قدر نصبك ونفقتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تمہارے لیے تمہاری مشقت اور تمہارے خرچ کے بقدر اجر و ثواب ہے۔“
”بے شک تمہارے لیے تمہاری مشقت اور تمہارے خرچ کے بقدر اجر و ثواب ہے۔“
«إن لكم بكل خطوة درجة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تمہارے لیے (مسجد کی طرف اٹھنے والے) ہر قدم کے بدلے ایک درجہ (بلندی) ہے۔“
”بے شک تمہارے لیے (مسجد کی طرف اٹھنے والے) ہر قدم کے بدلے ایک درجہ (بلندی) ہے۔“
«إن للإسلام صوى ومنارا كمنار الطريق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اسلام کے بھی راستے کے نشانات کی طرح (رہنمائی کے لیے) کچھ روشن نشانات اور مینار ہیں۔“
”بے شک اسلام کے بھی راستے کے نشانات کی طرح (رہنمائی کے لیے) کچھ روشن نشانات اور مینار ہیں۔“
«إن لله تعالى آنية من أهل الأرض وآنية ربكم قلوب عباده الصالحين وأحبها إليه ألينها وأرقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک زمین والوں میں اللہ تعالیٰ کے کچھ برتن ہیں، اور تمہارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں، اور ان میں سے اللہ کو سب سے زیادہ وہ دل پسند ہیں جو سب سے زیادہ نرم اور رقیق ہوں۔“
”بے شک زمین والوں میں اللہ تعالیٰ کے کچھ برتن ہیں، اور تمہارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں، اور ان میں سے اللہ کو سب سے زیادہ وہ دل پسند ہیں جو سب سے زیادہ نرم اور رقیق ہوں۔“
«إن لله تعالى أقواما يختصهم بالنعم لمنافع العباد ويقرها فيهم ما بذلوها فإذا منعوها نزعها منهم فحولها إلى غيرهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں وہ دوسرے بندوں کے فائدے کے لیے خاص نعمتوں سے نوازتا ہے، اور وہ نعمتیں ان کے پاس تب تک برقرار رکھتا ہے جب تک وہ انہیں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ پس جب وہ انہیں روک لیتے ہیں، تو وہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جنہیں وہ دوسرے بندوں کے فائدے کے لیے خاص نعمتوں سے نوازتا ہے، اور وہ نعمتیں ان کے پاس تب تک برقرار رکھتا ہے جب تک وہ انہیں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ پس جب وہ انہیں روک لیتے ہیں، تو وہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔“
«إن لله تعالى أهلين من الناس: أهل القرآن هم أهل الله وخاصته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک لوگوں میں سے کچھ اللہ تعالیٰ والے ہیں، (صحابہ نے پوچھا وہ کون ہیں؟ تو فرمایا:) قرآن والے ہی اللہ والے اور اس کے خاص بندے ہیں۔“
”بے شک لوگوں میں سے کچھ اللہ تعالیٰ والے ہیں، (صحابہ نے پوچھا وہ کون ہیں؟ تو فرمایا:) قرآن والے ہی اللہ والے اور اس کے خاص بندے ہیں۔“
«إن لله تعالى تسعة وتسعين اسما مائة إلا واحدا من أحصاها دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے، یعنی ایک کم سو نام ہیں۔ جس شخص نے انہیں یاد کیا (اور ان کے تقاضوں پر عمل کیا) تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے، یعنی ایک کم سو نام ہیں۔ جس شخص نے انہیں یاد کیا (اور ان کے تقاضوں پر عمل کیا) تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
«إن لله تعالى تسعة وتسعين اسما مائة غير واحد لا يحفظها أحد إلا دخل الجنة وهو وتر يحب الوتر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے، یعنی ایک کم سو نام ہیں۔ جو کوئی بھی انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور وہ طاق (ایک) ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے، یعنی ایک کم سو نام ہیں۔ جو کوئی بھی انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور وہ طاق (ایک) ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔“
«إن لله تعالى عبادا يعرفون الناس بالتوسم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو لوگوں کو فراست (اور ان کے چہرے کے آثار) سے پہچان لیتے ہیں۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو لوگوں کو فراست (اور ان کے چہرے کے آثار) سے پہچان لیتے ہیں۔“
«إن لله تعالى عتقاء في كل يوم وليلة لكل عبد منهم دعوة مستجابة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ہر دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کے (جہنم سے) آزاد کردہ بندے ہوتے ہیں، اور ان میں سے ہر بندے کی ایک دعا ضرور قبول کی جاتی ہے۔“
”بے شک ہر دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کے (جہنم سے) آزاد کردہ بندے ہوتے ہیں، اور ان میں سے ہر بندے کی ایک دعا ضرور قبول کی جاتی ہے۔“
«إن لله تعالى عند كل فطر عتقاء من النار وذلك في كل ليلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر افطار کے وقت لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے، اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر افطار کے وقت لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جاتا ہے، اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔“
«إن لله تعالى ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو اس نے لے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے عطا کیا، اور اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔“
”بے شک اللہ تعالیٰ کا ہی ہے جو اس نے لے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے عطا کیا، اور اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔“
«إن لله مائة رحمة أنزل منها رحمة واحدة بين الجن والإنس والبهائم والهوام فبها يتعاطفون وبها يتراحمون وبها تعطف الوحوش على ولدها وأخر تسعا وتسعين رحمة يرحم بها عباده يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ کی سو رحمتیں ہیں۔ اس نے ان میں سے صرف ایک رحمت جنوں، انسانوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی ہے۔ اسی کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے شفقت کرتے ہیں، اسی کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور اسی کے ذریعے وحشی جانور اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔ اور اس نے ننانوے رحمتیں مؤخر (محفوظ) کر رکھی ہیں، جن کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“
”بے شک اللہ کی سو رحمتیں ہیں۔ اس نے ان میں سے صرف ایک رحمت جنوں، انسانوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی ہے۔ اسی کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے شفقت کرتے ہیں، اسی کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور اسی کے ذریعے وحشی جانور اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔ اور اس نے ننانوے رحمتیں مؤخر (محفوظ) کر رکھی ہیں، جن کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“
"إن لله ملائكة سياحين في الأرض فضلا عن
كتاب الناس يطوفون في الطرق يلتمسون أهل الذكر فإذا وجدوا قوما يذكرون الله تنادوا: هلموا إلى حاجاتكم فيحفونهم بأجنحتهم إلى السماء الدنيا فيسألهم ربهم وهو أعلم منهم: ما يقول عبادي؟ فيقولون: يسبحونك ويكبرونك ويحمدونك ويمجدونك فيقول: هل رأوني؟ فيقولون: لا والله ما رأوك فيقول: كيف لو رأوني؟ فيقولون: لو رأوك كانوا أشد لك عبادة وأشد لك تمجيدا وأكثر لك تسبيحا فيقول: فما يسألوني؟ فيقولون: يسألونك الجنة فيقول: وهل رأوها؟ فيقولون: لا والله يا رب ما رأوها فيقول: فكيف لو أنهم رأوها؟ فيقولون: لو أنهم رأوها كانوا أشد عليها حرصا وأشد لها طلبا وأعظم فيها رغبة قال: فمم يتعوذون؟ فيقولون: من النار فيقول الله: هل رأوها؟ فيقولون: لا والله يا رب ما رأوها فيقول: فكيف لو رأوها؟ فيقولون: لو رأوها كانوا أشد منها فرارا وأشد لها مخافة فيقول: فأشهدكم أني قد غفرت لهم فيقول ملك من الملائكة: فيهم فلان ليس منهم إنما جاء لحاجة! فيقول: هم القوم لا يشقى بهم جليسهم"
كتاب الناس يطوفون في الطرق يلتمسون أهل الذكر فإذا وجدوا قوما يذكرون الله تنادوا: هلموا إلى حاجاتكم فيحفونهم بأجنحتهم إلى السماء الدنيا فيسألهم ربهم وهو أعلم منهم: ما يقول عبادي؟ فيقولون: يسبحونك ويكبرونك ويحمدونك ويمجدونك فيقول: هل رأوني؟ فيقولون: لا والله ما رأوك فيقول: كيف لو رأوني؟ فيقولون: لو رأوك كانوا أشد لك عبادة وأشد لك تمجيدا وأكثر لك تسبيحا فيقول: فما يسألوني؟ فيقولون: يسألونك الجنة فيقول: وهل رأوها؟ فيقولون: لا والله يا رب ما رأوها فيقول: فكيف لو أنهم رأوها؟ فيقولون: لو أنهم رأوها كانوا أشد عليها حرصا وأشد لها طلبا وأعظم فيها رغبة قال: فمم يتعوذون؟ فيقولون: من النار فيقول الله: هل رأوها؟ فيقولون: لا والله يا رب ما رأوها فيقول: فكيف لو رأوها؟ فيقولون: لو رأوها كانوا أشد منها فرارا وأشد لها مخافة فيقول: فأشهدكم أني قد غفرت لهم فيقول ملك من الملائكة: فيهم فلان ليس منهم إنما جاء لحاجة! فيقول: هم القوم لا يشقى بهم جليسهم"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہیں، جو زمین میں گھومتے پھرتے ہیں۔ وہ راستوں میں چکر لگاتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں۔ پس جب وہ کسی ایسی قوم کو پاتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو تو وہ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنی ضرورت کی طرف آؤ۔ پھر وہ انہیں اپنے پروں سے آسمانِ دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ پس ان کا رب ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے: میرے بندے کیا کہہ رہے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ تیری تسبیح، تیری تکبیر، تیری حمد اور تیری بزرگی بیان کر رہے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو تیری اس سے بھی زیادہ عبادت کرتے، اس سے بھی زیادہ تیری بزرگی بیان کرتے اور اس سے بھی زیادہ تیری تسبیح کرتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب، انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس کے اور بھی زیادہ حریص ہوتے، اسے اور بھی زیادہ طلب کرتے اور اس میں اور بھی زیادہ رغبت رکھتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: آگ (جہنم) سے۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب، انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس سے اور بھی زیادہ دور بھاگتے اور اس سے اور بھی زیادہ ڈرتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے۔ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے: ان میں فلاں شخص بھی ہے جو ان میں سے نہیں ہے، وہ تو محض کسی کام سے آیا تھا! اللہ فرماتا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جن کا ہم نشین بھی بدبخت نہیں ہوتا۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہیں، جو زمین میں گھومتے پھرتے ہیں۔ وہ راستوں میں چکر لگاتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں۔ پس جب وہ کسی ایسی قوم کو پاتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو تو وہ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنی ضرورت کی طرف آؤ۔ پھر وہ انہیں اپنے پروں سے آسمانِ دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ پس ان کا رب ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے: میرے بندے کیا کہہ رہے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ تیری تسبیح، تیری تکبیر، تیری حمد اور تیری بزرگی بیان کر رہے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو تیری اس سے بھی زیادہ عبادت کرتے، اس سے بھی زیادہ تیری بزرگی بیان کرتے اور اس سے بھی زیادہ تیری تسبیح کرتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب، انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس کے اور بھی زیادہ حریص ہوتے، اسے اور بھی زیادہ طلب کرتے اور اس میں اور بھی زیادہ رغبت رکھتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: آگ (جہنم) سے۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب، انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس سے اور بھی زیادہ دور بھاگتے اور اس سے اور بھی زیادہ ڈرتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے۔ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے: ان میں فلاں شخص بھی ہے جو ان میں سے نہیں ہے، وہ تو محض کسی کام سے آیا تھا! اللہ فرماتا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جن کا ہم نشین بھی بدبخت نہیں ہوتا۔“
«إن لله تعالى ملائكة سياحين في الأرض يبلغوني من أمتي السلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے ہیں، وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے ہیں، وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔“
«إن لله تعالى ملائكة في الأرض تنطق على ألسنة بني آدم بما في المرء من الخير والشر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں ایسے ہیں جو بنی آدم کی زبانوں پر انسان کے اندر موجود بھلائی اور برائی کو جاری کر دیتے ہیں۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں ایسے ہیں جو بنی آدم کی زبانوں پر انسان کے اندر موجود بھلائی اور برائی کو جاری کر دیتے ہیں۔“
"إن لله تعالى ملكا أعطاه سمع العباد فليس من أحد يصلي علي إلا أبلغنيها وإني سألت ربي أن لا يصلي علي عبد صلاة إلا صلى عليه عشر أمثالها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جسے اس نے بندوں کی آوازیں سننے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، پس کوئی بھی شخص مجھ پر درود نہیں بھیجتا مگر وہ مجھے پہنچا دیتا ہے۔ اور میں نے اپنے رب سے یہ دعا کی ہے کہ جو بندہ بھی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے، تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے بدلے میں دس رحمتیں نازل فرمائے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جسے اس نے بندوں کی آوازیں سننے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، پس کوئی بھی شخص مجھ پر درود نہیں بھیجتا مگر وہ مجھے پہنچا دیتا ہے۔ اور میں نے اپنے رب سے یہ دعا کی ہے کہ جو بندہ بھی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے، تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے بدلے میں دس رحمتیں نازل فرمائے۔“
«إن للتوبة بابا عرض ما بين مصراعيه ما بين المشرق والمغرب لا يغلق حتى تطلع الشمس من مغربها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک توبہ کا ایک دروازہ ہے جس کے دو کواڑوں کے درمیان اتنی چوڑائی ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ یہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔“
”بے شک توبہ کا ایک دروازہ ہے جس کے دو کواڑوں کے درمیان اتنی چوڑائی ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ یہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔“
«إن للصلاة أولا وآخرا وإن أول وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس وآخر وقتها حين يدخل وقت العصر وإن أول وقت العصر حين يدخل وقتها وإن آخر وقتها حين تصفر الشمس وإن أول وقت المغرب حين تغرب الشمس وإن آخر وقتها حين يغيب الشفق وإن أول وقت العشاء الآخرة حين يغيب الشفق وإن آخر وقتها حين ينتصف الليل وإن أول وقت الفجر حين يطلع الفجر وإن آخر وقتها حين تطلع الشمس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ نماز کا ایک ابتدائی وقت ہے اور ایک آخری وقت ہے۔ ظہر کی نماز کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت داخل ہو جائے۔ عصر کا اول وقت وہ ہے جب اس کا وقت داخل ہو جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد پڑ جائے۔ مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج غروب ہو جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب شفق (سرخی) غائب ہو جائے۔ عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب آدھی رات ہو جائے۔ اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر (صادق) طلوع ہو اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل آئے۔“
”بلاشبہ نماز کا ایک ابتدائی وقت ہے اور ایک آخری وقت ہے۔ ظہر کی نماز کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت داخل ہو جائے۔ عصر کا اول وقت وہ ہے جب اس کا وقت داخل ہو جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد پڑ جائے۔ مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج غروب ہو جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب شفق (سرخی) غائب ہو جائے۔ عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب آدھی رات ہو جائے۔ اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر (صادق) طلوع ہو اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل آئے۔“
«إن للطاعم الشاكر من الأجر مثل ما للصائم الصابر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ شکر ادا کر کے کھانے والے کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہے جتنا ثواب صبر کرنے والے روزہ دار کے لیے ہوتا ہے۔“
”بلاشبہ شکر ادا کر کے کھانے والے کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہے جتنا ثواب صبر کرنے والے روزہ دار کے لیے ہوتا ہے۔“
«إن للقبر ضغطة لو كان أحد ناجيا منها نجا سعد بن معاذ»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قبر کی ایک دباہٹ (بھینچنا) ہے، اگر کوئی شخص اس سے بچنے والا ہوتا تو سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ) اس سے ضرور بچ جاتے۔“
”بلاشبہ قبر کی ایک دباہٹ (بھینچنا) ہے، اگر کوئی شخص اس سے بچنے والا ہوتا تو سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ) اس سے ضرور بچ جاتے۔“
«إن للقرشي مثل قوة الرجلين من غير قريش»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قریشی شخص میں غیر قریش کے دو آدمیوں کے برابر قوت ہوتی ہے۔“
”بلاشبہ قریشی شخص میں غیر قریش کے دو آدمیوں کے برابر قوت ہوتی ہے۔“
«إن للمؤمن في الجنة لخيمة من لؤلؤة واحدة مجوفة طولها ستون ميلا للمؤمن فيها أهلون يطوف عليهم المؤمن فلا يرى بعضهم بعضا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مومن کے لیے جنت میں ایک ہی کھوکھلے موتی کا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی۔ اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی، مومن ان سب کے پاس باری باری جائے گا لیکن وہ (وسعت کی وجہ سے) ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گی۔“
”بلاشبہ مومن کے لیے جنت میں ایک ہی کھوکھلے موتی کا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی۔ اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی، مومن ان سب کے پاس باری باری جائے گا لیکن وہ (وسعت کی وجہ سے) ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گی۔“
«إن للموت فزعا فإذا رأيتم جنازة فقوموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ موت میں ایک گھبراہٹ ہے، پس جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔“
”بلاشبہ موت میں ایک گھبراہٹ ہے، پس جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔“
«إن لهذا الحجر لسانا وشفتين يشهد لمن استلمه يوم القيامة بحق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس پتھر (حجرِ اسود) کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں، قیامت کے دن یہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“
”بلاشبہ اس پتھر (حجرِ اسود) کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں، قیامت کے دن یہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“
«إن لهذه الإبل أوابد كأوابد الوحش فإذا غلبكم منها شيء فافعلوا به هكذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ان اونٹوں میں جنگلی جانوروں جیسی وحشت اور بپھرنے کی عادت ہوتی ہے، پس اگر ان میں سے کوئی تم پر غالب آ جائے (یعنی قابو سے باہر ہو جائے) تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرو (یعنی تیر مار کر قابو کر لیا کرو)۔“
”بلاشبہ ان اونٹوں میں جنگلی جانوروں جیسی وحشت اور بپھرنے کی عادت ہوتی ہے، پس اگر ان میں سے کوئی تم پر غالب آ جائے (یعنی قابو سے باہر ہو جائے) تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرو (یعنی تیر مار کر قابو کر لیا کرو)۔“
«إن لهذه البيوت عوامر فإذا رأيتم شيئا منها فحرجوا عليها ثلاثا فإن ذهب وإلا فاقتلوه فإنه كافر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ان گھروں میں کچھ آباد رہنے والے (جنات) ہوتے ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی (سانپ وغیرہ) کو دیکھو تو ان پر تین دن تک سختی سے پابندی لگاؤ (تنبیہ کرو)، اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک، ورنہ اسے مار ڈالو کیونکہ وہ کافر (سرکش شیطان) ہے۔“
”بلاشبہ ان گھروں میں کچھ آباد رہنے والے (جنات) ہوتے ہیں، پس جب تم ان میں سے کسی (سانپ وغیرہ) کو دیکھو تو ان پر تین دن تک سختی سے پابندی لگاؤ (تنبیہ کرو)، اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک، ورنہ اسے مار ڈالو کیونکہ وہ کافر (سرکش شیطان) ہے۔“
«إن له دسما - يعني اللبن -»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔“ (راوی کے مطابق اس سے مراد دودھ ہے)۔
”بلاشبہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔“ (راوی کے مطابق اس سے مراد دودھ ہے)۔
«إن له مرضعا في الجنة» - يعني ولده إبراهيم -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے۔“ (اس سے مراد آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ہیں)۔
”بلاشبہ جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے۔“ (اس سے مراد آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ہیں)۔
«إن لي خمسة أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الحاشر: الذي يحشر الناس على قدمي وأنا الماحي: الذي يمحو الله بي الكفر وأنا العاقب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اکٹھے کیے جائیں گے، میں ماحی ہوں کہ اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا، اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں۔“
”بلاشبہ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اکٹھے کیے جائیں گے، میں ماحی ہوں کہ اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا، اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں۔“
«إن ما بين مصراعين في الجنة لمسيرة أربعين سنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جنت کے دروازے کے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔“
”بلاشبہ جنت کے دروازے کے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔“
«إن ما قد قدر في الرحم سيكون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ رحمِ مادر میں جس چیز کا فیصلہ (مقدر) کر دیا گیا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔“
”بلاشبہ رحمِ مادر میں جس چیز کا فیصلہ (مقدر) کر دیا گیا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔“
«إن مثل الذي يعمل السيئات ثم يعمل الحسنات كمثل رجل كانت عليه درع ضيقة قد خنقته ثم عمل حسنة فانفكت حلقة ثم عمل أخرى فانفكت الأخرى حتى يخرج إلى الأرض»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس شخص کی مثال جو برائیاں کرتا ہے اور پھر نیکیاں کرتا ہے، اس آدمی جیسی ہے جس پر ایک تنگ زرہ ہو جس نے اس کا گلا گھونٹ رکھا ہو، پھر وہ ایک نیکی کرتا ہے تو اس (زرہ) کی ایک کڑی کھل جاتی ہے، پھر وہ دوسری نیکی کرتا ہے تو دوسری کڑی کھل جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ (مکمل طور پر کھل کر) زمین پر گر جاتی ہے (یعنی وہ گناہوں کے بوجھ سے مکمل آزاد ہو جاتا ہے)۔“
”بلاشبہ اس شخص کی مثال جو برائیاں کرتا ہے اور پھر نیکیاں کرتا ہے، اس آدمی جیسی ہے جس پر ایک تنگ زرہ ہو جس نے اس کا گلا گھونٹ رکھا ہو، پھر وہ ایک نیکی کرتا ہے تو اس (زرہ) کی ایک کڑی کھل جاتی ہے، پھر وہ دوسری نیکی کرتا ہے تو دوسری کڑی کھل جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ (مکمل طور پر کھل کر) زمین پر گر جاتی ہے (یعنی وہ گناہوں کے بوجھ سے مکمل آزاد ہو جاتا ہے)۔“
«إن مثل الذي يعود في عطيته كمثل الكلب أكل حتى إذا شبع قاء ثم عاد في قيئه فأكله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس شخص کی مثال جو اپنا ہدیہ (عطیہ) دے کر واپس لے لیتا ہے، اس کتے کی طرح ہے جس نے کھایا، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر گیا تو اس نے قے کر دی، پھر اپنی قے کی طرف لوٹا اور اسے دوبارہ کھا لیا۔“
”بلاشبہ اس شخص کی مثال جو اپنا ہدیہ (عطیہ) دے کر واپس لے لیتا ہے، اس کتے کی طرح ہے جس نے کھایا، یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر گیا تو اس نے قے کر دی، پھر اپنی قے کی طرف لوٹا اور اسے دوبارہ کھا لیا۔“
«إن مسح الحجر الأسود والركن اليماني يحطان الخطايا حطا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ حجر اسود اور رکن یمانی کا مسح کرنا (یعنی انہیں چھونا) گناہوں کو پوری طرح جھاڑ دیتا ہے۔“
”بلاشبہ حجر اسود اور رکن یمانی کا مسح کرنا (یعنی انہیں چھونا) گناہوں کو پوری طرح جھاڑ دیتا ہے۔“
«إن مطعم ابن آدم قد ضرب مثلا للدنيا وإن قزحه وملحه فانظر إلى ما يصير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ابن آدم کی خوراک کو دنیا کے لیے ایک مثال بنایا گیا ہے، چاہے وہ اس میں کتنا ہی مصالحہ اور نمک ملا لے (اسے کتنا ہی لذیذ بنا لے)، پھر ذرا دیکھو کہ انجام کار وہ کس چیز (یعنی غلاظت) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔“
”بلاشبہ ابن آدم کی خوراک کو دنیا کے لیے ایک مثال بنایا گیا ہے، چاہے وہ اس میں کتنا ہی مصالحہ اور نمک ملا لے (اسے کتنا ہی لذیذ بنا لے)، پھر ذرا دیکھو کہ انجام کار وہ کس چیز (یعنی غلاظت) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔“
«إن مع الدجال إذا خرج ماء ونارا فأما الذي يرى الناس أنها النار فماء بارد وأما الذي يرى الناس أنها ماء بارد فنار تحرق فمن أدرك منكم فليقع في الذي يرى أنها نار فإنه عذب بارد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی۔ پس جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ درحقیقت ٹھنڈا پانی ہوگا، اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جلانے والی آگ ہوگی۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی اس کا زمانہ پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس میں کود پڑے جسے وہ آگ دیکھ رہا ہو، کیونکہ وہ دراصل میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔“
”بلاشبہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی۔ پس جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ درحقیقت ٹھنڈا پانی ہوگا، اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جلانے والی آگ ہوگی۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی اس کا زمانہ پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس میں کود پڑے جسے وہ آگ دیکھ رہا ہو، کیونکہ وہ دراصل میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا۔“
«إن مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك بها دما ولا يعضد بها شجرة فإن أحد ترخص لقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا: إن الله قد أذن لرسوله ولم يأذن لكم وإنما أذن لي ساعة من نهار ثم عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالأمس وليبلغ الشاهد الغائب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا بنایا ہے، لوگوں نے اسے حرمت نہیں دی، لہٰذا کسی ایسے شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے اور نہ ہی اس کا کوئی درخت کاٹے۔ پس اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے مکہ میں قتال کرنے کی وجہ سے اس کی رخصت نکالے، تو اس سے کہہ دو: بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی۔ اور مجھے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے اجازت دی گئی تھی، پھر آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ اور حاضر شخص کو چاہیے کہ وہ یہ بات غائب تک پہنچا دے۔“
”بلاشبہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا بنایا ہے، لوگوں نے اسے حرمت نہیں دی، لہٰذا کسی ایسے شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے اور نہ ہی اس کا کوئی درخت کاٹے۔ پس اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے مکہ میں قتال کرنے کی وجہ سے اس کی رخصت نکالے، تو اس سے کہہ دو: بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی۔ اور مجھے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے اجازت دی گئی تھی، پھر آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ اور حاضر شخص کو چاہیے کہ وہ یہ بات غائب تک پہنچا دے۔“
…