حدیث نمبر: 2173
"إن لله ملائكة سياحين في الأرض فضلا عن
كتاب الناس يطوفون في الطرق يلتمسون أهل الذكر فإذا وجدوا قوما يذكرون الله تنادوا: هلموا إلى حاجاتكم فيحفونهم بأجنحتهم إلى السماء الدنيا فيسألهم ربهم وهو أعلم منهم: ما يقول عبادي؟ فيقولون: يسبحونك ويكبرونك ويحمدونك ويمجدونك فيقول: هل رأوني؟ فيقولون: لا والله ما رأوك فيقول: كيف لو رأوني؟ فيقولون: لو رأوك كانوا أشد لك عبادة وأشد لك تمجيدا وأكثر لك تسبيحا فيقول: فما يسألوني؟ فيقولون: يسألونك الجنة فيقول: وهل رأوها؟ فيقولون: لا والله يا رب ما رأوها فيقول: فكيف لو أنهم رأوها؟ فيقولون: لو أنهم رأوها كانوا أشد عليها حرصا وأشد لها طلبا وأعظم فيها رغبة قال: فمم يتعوذون؟ فيقولون: من النار فيقول الله: هل رأوها؟ فيقولون: لا والله يا رب ما رأوها فيقول: فكيف لو رأوها؟ فيقولون: لو رأوها كانوا أشد منها فرارا وأشد لها مخافة فيقول: فأشهدكم أني قد غفرت لهم فيقول ملك من الملائكة: فيهم فلان ليس منهم إنما جاء لحاجة! فيقول: هم القوم لا يشقى بهم جليسهم"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہیں، جو زمین میں گھومتے پھرتے ہیں۔ وہ راستوں میں چکر لگاتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں۔ پس جب وہ کسی ایسی قوم کو پاتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو تو وہ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ اپنی ضرورت کی طرف آؤ۔ پھر وہ انہیں اپنے پروں سے آسمانِ دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ پس ان کا رب ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے: میرے بندے کیا کہہ رہے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ تیری تسبیح، تیری تکبیر، تیری حمد اور تیری بزرگی بیان کر رہے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ تجھے دیکھ لیتے تو تیری اس سے بھی زیادہ عبادت کرتے، اس سے بھی زیادہ تیری بزرگی بیان کرتے اور اس سے بھی زیادہ تیری تسبیح کرتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب، انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس کے اور بھی زیادہ حریص ہوتے، اسے اور بھی زیادہ طلب کرتے اور اس میں اور بھی زیادہ رغبت رکھتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: آگ (جہنم) سے۔ اللہ فرماتا ہے: کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب، انہوں نے اسے نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتا ہے: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ فرشتے کہتے ہیں: اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اس سے اور بھی زیادہ دور بھاگتے اور اس سے اور بھی زیادہ ڈرتے۔ اللہ فرماتا ہے: پس میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے۔ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے: ان میں فلاں شخص بھی ہے جو ان میں سے نہیں ہے، وہ تو محض کسی کام سے آیا تھا! اللہ فرماتا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جن کا ہم نشین بھی بدبخت نہیں ہوتا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٨٩٠.