حدیث نمبر: 2197
«إن مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك بها دما ولا يعضد بها شجرة فإن أحد ترخص لقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا: إن الله قد أذن لرسوله ولم يأذن لكم وإنما أذن لي ساعة من نهار ثم عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالأمس وليبلغ الشاهد الغائب»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا بنایا ہے، لوگوں نے اسے حرمت نہیں دی، لہٰذا کسی ایسے شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے اور نہ ہی اس کا کوئی درخت کاٹے۔ پس اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے مکہ میں قتال کرنے کی وجہ سے اس کی رخصت نکالے، تو اس سے کہہ دو: بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی۔ اور مجھے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے اجازت دی گئی تھی، پھر آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ اور حاضر شخص کو چاہیے کہ وہ یہ بات غائب تک پہنچا دے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2197
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن] عن أبي شريح. مختصر البخاري ٨٨٧، مختصر مسلم ٧٦٦ نحوه.