کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أما بعد يا معشر قريش! فإنكم أهل هذا الأمر ما لم تعصوا الله فإذا عصيتموه بعث عليكم من يلحاكم كما يلحى هذا القضيب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”حمد و ثنا کے بعد! اے قریش کی جماعت! بے شک تم اس معاملے (یعنی خلافت و امارت) کے اس وقت تک حق دار ہو جب تک تم اللہ کی نافرمانی نہ کرو۔ پس جب تم اس کی نافرمانی کرو گے تو وہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو تمہیں اس طرح چھیل دیں گے جیسے اس ٹہنی کو چھیلا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٥٥٢: أبويعلى، طس.
«أما خروجك من بيتك تؤم البيت الحرام فإن لك بكل وطأة تطؤها راحلتك يكتب الله لك بها حسنة ويمحو عنك بها سيئة; وأما وقوفك بعرفة فإن الله عز وجل ينزل إلى السماء الدنيا فيباهي بهم الملائكة فيقول: هؤلاء عبادي جاءوني شعثا غبرا من كل فج عميق يرجون رحمتي ويخافون عذابي ولم يروني فكيف لو رأوني؟ فلو كان عليك مثل رمل عالج، أو مثل أيام الدنيا أو مثل قطر السماء ذنوبا غسلها الله عنك; وأما رميك الجمار فإنه مدخور لك; وأما حلقك رأسك فإن لك بكل شعرة تسقط حسنة فإذا طفت بالبيت خرجت من ذنوبك كيوم ولدتك أمك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہاں تک تمہارے اپنے گھر سے نکل کر بیت اللہ کا قصد کرنے کا تعلق ہے، تو تمہاری سواری جو قدم بھی زمین پر رکھتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہارے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کے بدلے تمہارا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ اور جہاں تک تمہارے میدانِ عرفات میں ٹھہرنے کی بات ہے، تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان (حاجیوں) پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ میرے بندے ہیں جو بکھرے بالوں، غبار آلود حالت میں دور دراز کے ہر راستے سے میرے پاس آئے ہیں، یہ میری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور میرے عذاب سے ڈرتے ہیں، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے۔ پس اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ چنانچہ اگر تم پر عالج (مخصوص جگہ) کی ریت کے ذروں کے برابر، یا دنیا کے دنوں کے برابر، یا آسمان سے برسنے والے قطروں کے برابر بھی گناہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ انہیں تم سے دھو دے گا (یعنی معاف فرما دے گا)۔ اور جہاں تک تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کا تعلق ہے تو وہ تمہارے لیے ذخیرہ کر لیا گیا ہے۔ اور جہاں تک تمہارے سر منڈوانے کی بات ہے، تو گرنے والے ہر بال کے بدلے تمہارے لیے ایک نیکی ہے۔ پھر جب تم بیت اللہ کا طواف کر لیتے ہو، تو تم اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر نکلتے ہو جیسے تم اس دن تھے جب تمہاری ماں نے تمہیں جنم دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن ابن عمر. تخريج الترغيب ٢/١٢٩ - ١٣٠: حب، البزار.
"أما فتنة الدجال فإنه لم يكن نبي إلا قد حذر أمته وسأحذركموه بحديث لم يحذره نبي أمته إنه أعور وإن الله ليس بأعور مكتوب بين عينيه كافر يقرأه كل مؤمن; وأما فتنة القبر فبي تفتنون وعني تسألون فإذا كان الرجل الصالح
أجلس في قبره غير فزع ثم يقال له: ما هذا الرجل الذي كان فيكم؟ فيقول: محمد رسول الله جاءنا بالبينات من عند الله فصدقناه فيفرج له فرجة قبل النار فينظر إليها يحطم بعضها بعضا فيقال له: انظر إلى ما وقاك الله ثم يفرج له فرجة إلى الجنة فينظر إلى زهرتها وما فيها فيقال له: هذا مقعدك منها ويقال له: على اليقين كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله، وإذا كان الرجل السوء أجلس في قبره فزعا فيقال له: ما كنت تقول؟ فيقول: لا أدري فيقال: ما هذا الرجل الذي كان فيكم؟ فيقول: سمعت الناس يقولون قولا فقلت كما قالوا فيفرج له فرجة من قبل الجنة فينظر إلى زهرتها وما فيها فيقال له: انظر إلى ما صرف الله عنك ثم يفرج له فرجة قبل النار فينظر إليها يحطم بعضها بعضا ويقال: هذا مقعدك منها على الشك كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله ثم يعذب"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دجال کے فتنے کا حال یہ ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو اس سے نہ ڈرایا ہو، لیکن میں تمہیں ایک ایسی بات بتا کر اس سے ڈراتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی، وہ یہ کہ دجال کانا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان 'کافر' لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا۔ اور جہاں تک عذابِ قبر (قبر کی آزمائش) کا تعلق ہے، تو میری ہی وجہ سے تمہاری آزمائش ہوگی اور میرے ہی بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا۔ پس جب نیک آدمی کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو وہ بغیر کسی خوف کے بیٹھتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ کون شخص ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: دیکھو، اللہ نے تمہیں کس چیز سے بچا لیا۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی رونق اور ان نعمتوں کو دیکھتا ہے جو اس میں ہیں، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے۔ اور اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے: تم اسی کامل یقین پر قائم رہے، اسی پر تمہیں موت آئی، اور ان شاء اللہ اسی پر تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ اور جب برے شخص کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو وہ گھبرایا ہوا ہوتا ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: تم کیا کہا کرتے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم۔ پھر پوچھا جاتا ہے: یہ کون شخص ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی رونق اور نعمتوں کو دیکھتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: دیکھو، اللہ نے تم سے کس چیز کو پھیر دیا۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا ہے، اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے۔ تم اسی شک پر رہے، اسی پر تمہیں موت آئی، اور ان شاء اللہ اسی شک پر تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، پھر اسے عذاب دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن عائشة. المسند ٦/١٤٠.
"أما قطع السبيل فإنه لا يأتي عليك إلا قليل حتى يخرج العير إلى مكة بغير خفير; وأما العيلة فإن الساعة لا تقوم حتى يطوف أحدكم بصدقته ولا يجد من يقبلها منه; ثم ليقفن أحدكم بين يدي الله ليس بينه وبينه حجاب ولا ترجمان يترجم له ثم ليقولن له: ألم أوتك مالا؟ فليقولن: بلى، ثم ليقولن: ألم أرسل إليك رسولا؟ فليقولن: بلى فينظر عن يمينه فلا يرى إلا النار ثم ينظر عن شماله فلا يرى إلا النار فليتقين أحدكم
النار ولوبشق تمرة فإن لم يجد فبكلمة طيبة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہاں تک راستوں کے کٹنے (بدامنی) کا تعلق ہے، تو تم پر تھوڑا ہی وقت گزرے گا کہ تجارتی قافلے بغیر کسی محافظ کے مکہ کی طرف جایا کریں گے۔ اور جہاں تک فقر و محتاجی کا تعلق ہے، تو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم میں سے کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر نہ گھومے اور اسے کوئی ایسا شخص نہ ملے جو اس سے وہ صدقہ قبول کرے۔ پھر تم میں سے ہر شخص اللہ کے سامنے ضرور کھڑا ہوگا، اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان جو اس کی بات کا ترجمہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ پھر فرمائے گا: کیا میں نے تیری طرف رسول نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ پھر وہ شخص اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا، پھر وہ اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پس تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے، خواہ وہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو، اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو ایک اچھی اور میٹھی بات ہی کے ذریعے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عدي بن حاتم. خ – الزكاة.
«أما ما ذكرت من آنية أهل الكتاب فإن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها وإن لم تجدوا غيرها فاغسلوها وكلوا فيها وما صدت بقوسك وذكرت اسم الله عليه فكله وما صدت بكلبك المعلم وذكرت اسم الله عليه فكل وما صدت بكلبك غير المعلم فأدركت ذكاته فكل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم نے جو اہل کتاب کے برتنوں کا ذکر کیا ہے، تو اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن مل جائیں تو ان میں مت کھاؤ، اور اگر کوئی اور برتن نہ ملے تو انہیں اچھی طرح دھو لو اور ان میں کھا لو۔ اور تم نے اپنی کمان سے جو شکار کیا اور اس پر اللہ کا نام لیا تو اسے کھا لو، اور تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے جو شکار کیا اور اس پر اللہ کا نام لیا اسے بھی کھا لو، اور جو شکار تم نے اپنے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا لیکن تم نے اسے زندہ پا کر ذبح کر لیا، تو اسے بھی کھا لو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1363
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن أبي ثعلبة. الإرواء ٣٧.
«أمامكم حوض كما بين جرباء وأذرح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے سامنے ایک ایسا حوض ہے جس کی چوڑائی اتنی ہے جتنا جرباء اور اذرح (دو مقامات) کے درمیان فاصلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد] عن ابن عمر. خ ١١/٣٩٦ - فتح، م ٧/٩٦، حم ٢/٢١، ١٣٤,١٢٥.
«أمثل ما تداويتم به الحجامة والقسط البحري»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم جن چیزوں سے علاج کرتے ہو، ان میں سب سے بہترین پچھنے لگوانا (حجامہ) اور قسط بحری (ایک جڑی بوٹی) کا استعمال ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1365
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم ق ت ن] عن أنس. مختصر مسلم ٩٣٦ نحوه.
«أمر ابن آدم أن يسجد على سبعة أعظم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابن آدم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ (نماز میں) سات ہڈیوں (یعنی اعضاء) پر سجدہ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1366
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الروض النضير ٣٩٨.
«أمرت الرسل أن لا تأكل إلا طيبا ولا تعمل إلا صالحا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”رسولوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف پاکیزہ چیزیں کھائیں اور صرف نیک اعمال کریں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1367
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أم عبد الله بنت أخت شداد بن أوس. الصحيحة ١١٣٦.
«أمرت أن أبشر خديجة ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيها ولا نصب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو جنت میں ایک خول دار موتی کے گھر کی خوشخبری دوں، جس میں نہ کوئی شور و غل ہوگا اور نہ کوئی تھکن اور مشقت ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب ك] عن عبد الله بن جعفر. الصحيحة ١٥٥٤: ق - عائشة، أبي هريرة، عبد الله بن أبي أوفى.
«أمرت أن أسجد على سبعة أعظم: على الجبهة واليدين والركبتين وأطراف القدمين ولا نكفت الثياب ولا الشعر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے سات ہڈیوں (اعضاء) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر، دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کناروں پر، اور یہ (بھی حکم دیا گیا ہے) کہ ہم نماز میں کپڑوں اور بالوں کو اکٹھا نہ کریں (یعنی نہ سمیٹیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1369
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن هـ] عن ابن عباس. الروض ٣٩٨، صحيح أبي داود ٨٢٩، الإرواء ٣١٠.
«أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیا، سوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا (باطنی) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٤] عن أبي هريرة وهومتواتر١. الصحيحة ٤٠٧.
«أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأني رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پس جب وہ یہ کام کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیا، سوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1371
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن ابن عمر [ن] عن أبي بكرة [هـ ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٠٨.
«أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله ويؤمنوا بي وبما جئت به فإذا فعلوا ذلك فقد عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور مجھ پر اور اس شریعت پر ایمان نہ لائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔ پس جب وہ ایسا کر لیں گے تو یقیناً انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیا، سوائے اس کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1372
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٠٧.
«أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» نہ کہہ لیں۔ پس جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہہ لیا تو یقیناً اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کر لیا، سوائے اس کے حق کے، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1373
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن أبي هريرة. الصحيحة ٤٠٨.
«أمرت أن أقرأ القرآن على سبعة أحرف كل شاف كاف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن مجید کو سات حروف (یعنی قراءت کے سات مختلف لہجوں) پر پڑھوں، ان میں سے ہر ایک شفا دینے والا اور کفایت کرنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن جرير] عن ابن مسعود. الصحيحة ٨٤٣ صحيح أبي داود ١٢٢٧: حم، ن، الطحاوي –أبي.
«أمرت بالسواك حتى خشيت أن أدرد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے مسواک کرنے کا اس قدر تاکید کے ساتھ حکم دیا گیا، یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں (کثرتِ استعمال سے) میرے دانت ہی نہ جھڑ جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البزار] عن أنس. الصحيحة ١٥٥٦.
«أمرت بالسواك حتى خشيت أن يكتب علي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے مسواک کرنے کا اس قدر تاکید کے ساتھ حکم دیا گیا، یہاں تک کہ مجھے یہ خوف محسوس ہونے لگا کہ کہیں یہ مجھ پر فرض ہی نہ کر دی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن واثلة. الصحيحة ١٥٥٦.
«أمرت بالسواك حتى خفت على أسناني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے مسواک کرنے کا اس قدر تاکید کے ساتھ حکم دیا گیا، یہاں تک کہ مجھے اپنے دانتوں کے بارے میں اندیشہ ہونے لگا (کہ گھس نہ جائیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1377
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. الصحيحة ١٥٥٦: الضياء.
«أمرت بقرية تأكل القرى يقولون يثرب وهي المدينة تنفي الناس كما ينفي الكير خبث الحديد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے ایک ایسی بستی (کی طرف ہجرت) کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (یعنی ان پر غالب آ جائے گی)، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ وہ مدینہ ہے۔ یہ برے لوگوں کو اپنے اندر سے اس طرح نکال باہر کرتی ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1378
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٧٤.
«أمركن مما يهمني بعدي ولن يصبر عليكن إلا الصابرون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرے بعد تمہارا معاملہ ان چیزوں میں سے ہے جو مجھے فکر مند کرتا ہے، اور تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملے میں صرف صبر کرنے والے ہی ثابت قدم رہ سکیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1379
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن عائشة. الصحيحة ١٥٩٤.
«أمرنا بإسباغ الوضوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہمیں وضو کو مکمل اور اچھی طرح (پوری طرح اعضاء کو دھو کر) کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1380
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الدارمي] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ١٣٠.
«أمرنا بالتسبيح في أدبار الصلوات ثلاثا وثلاثين تسبيحة وثلاثا وثلاثين تحميدة وأربعا وثلاثين تكبيرة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہمیں نمازوں کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ»، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» اور چونتیس مرتبہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1381
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. مجمع الزوائد ١٠/١٠١ وفتح الباري ٢/٢٧٢: ن – ابن عمر.
«أمرني جبريل أن أكبر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جبریل (علیہ السلام) نے حکم دیا ہے کہ میں تکبیر کہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1382
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الحكيم حل] عن ابن عمر. الصحيحة ١٥٥٥: حم طس، هق.
«أمرني جبريل بالسواك حتى ظننت أني سأدرد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جبریل (علیہ السلام) نے مسواک کرنے کا اس قدر تاکید کے ساتھ حکم دیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ (کثرتِ استعمال سے) میں اپنے دانتوں سے محروم ہو جاؤں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن سهل بن سعد. الصحيحة ١٥٥٦.
«أمرني جبريل برفع الصوت في الإهلال فإنه من شعار الحج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھے جبریل (علیہ السلام) نے احرام باندھ کر تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یقیناً یہ حج کے نمایاں شعائر میں سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هق] عن أبي هريرة. الصحيحة ٨٣٠.
«امسحوا رغام الغنم وطيبوا مراحها وصلوا في جانب مراحها فإنها من دواب الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بکریوں کا رینٹ صاف کیا کرو، ان کے باڑوں کو پاکیزہ رکھو اور ان کے باڑے کے ایک جانب نماز پڑھ لیا کرو، کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هق في المعرفة] عن أبي هريرة. الصحيحة ١١٢٨.
«امسحوا على الخفاف ثلاثة أيام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موزوں پر مسح تین دن تک کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1386
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن خزيمة بن ثابت. الصحيحة ١٥٥٩: حم، حب.
«أمسك عليك بعض مالك فهو خير لك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے مال میں سے کچھ حصہ اپنے پاس محفوظ رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٣] عن كعب بن مالك. مختصر مسلم ١٩١٨.
"أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها فإنه من
أعمر عمرى فهي للذي أعمرها حيا وميتا ولعقبه"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے اموال کو اپنے پاس محفوظ رکھو اور انہیں ضائع نہ کرو، کیونکہ جو شخص کسی کو زندگی بھر کے لیے کوئی عطیہ (عُمریٰ) دے، تو وہ مال جیتے جی اور مرنے کے بعد اسی شخص کا اور اس کی اولاد کا ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1388
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن جابر. الإرواء ١٦٠٧.
«امشوا أمامي خلوا ظهري للملائكة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم لوگ میرے آگے چلا کرو اور میری پیٹھ (والا حصہ) فرشتوں کے لیے خالی چھوڑ دیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1389
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن جابر. الصحيحة ١٥٥٧.
«أمط الأذى عن الطريق فإنه لك صدقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو، کیونکہ یہ بھی تمہارے لیے ایک صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1390
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خد] عن أبي برزة. الصحيحة ١٥٥٨.
«املك عليك لسانك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی زبان کو اپنے قابو میں رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن نافع طب] عن الحارث بن هشام. الصحيحة ٨٩٠: الضياء في [المختارة] .
«املك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی زبان کو اپنے قابو میں رکھو، تمہارا گھر تمہارے لیے کشادہ ہونا چاہیے (یعنی بلاوجہ گھر سے باہر نہ نکلو) اور اپنے گناہوں پر رویا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ٨٩٠.
«املك يدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے ہاتھ کو اپنے قابو میں رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1393
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [تخ] عن أسود بن أصرم. الصحيحة ١٥٦٠: طب.
«أم القرآن هي: السبع المثاني والقرآن العظيم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) ہی سبع مثانی (بار بار پڑھی جانے والی سات آیات) اور قرآنِ عظیم ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1394
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي بكر١.
«أمتي الغر المحجلون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے لوگ (قیامت کے دن وضو کے باعث) روشن چہروں اور چمکتے ہوئے اعضاء والے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1395
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [سمويه الضياء] عن جابر. ق، حم – عن أبي هريرة٢.
«أمتي هذه أمة مرحومة ليس عليها عذاب في الآخرة إنما عذابها في الدنيا الفتن والزلازل والقتل والبلايا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری یہ امت ایک ایسی امت ہے جس پر رحم کیا گیا ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا، اس کا عذاب صرف دنیا میں فتنوں، زلزلوں، قتل و غارت اور آزمائشوں کی صورت میں ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1396
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د طب ك هب] عن أبي موسى. الصحيحة ٩٥٩.
«أمتي يوم القيامة غر من السجود محجلون من الوضوء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن میری امت کے لوگ سجدوں کی کثرت کی وجہ سے روشن چہروں والے اور وضو کے باعث چمکتے ہوئے اعضاء والے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1397
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن عبد الله بن بسر. الصحيحة ١٠٣٠: حم.
«أم قومك ومن أم قوما فليخفف فإن فيهم الكبير وإن فيهم المريض وإن فيهم الضعيف وإن فيهم ذا الحاجة فإذا صلى أحدكم وحده فليصل كيف شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی قوم کی امامت کرو، اور جو شخص لوگوں کی امامت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بوڑھے، بیمار، کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں، البتہ جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو وہ جیسے چاہے لمبی نماز پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1398
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عثمان بن أبي العاص.