حدیث نمبر: 1361
"أما فتنة الدجال فإنه لم يكن نبي إلا قد حذر أمته وسأحذركموه بحديث لم يحذره نبي أمته إنه أعور وإن الله ليس بأعور مكتوب بين عينيه كافر يقرأه كل مؤمن; وأما فتنة القبر فبي تفتنون وعني تسألون فإذا كان الرجل الصالح
أجلس في قبره غير فزع ثم يقال له: ما هذا الرجل الذي كان فيكم؟ فيقول: محمد رسول الله جاءنا بالبينات من عند الله فصدقناه فيفرج له فرجة قبل النار فينظر إليها يحطم بعضها بعضا فيقال له: انظر إلى ما وقاك الله ثم يفرج له فرجة إلى الجنة فينظر إلى زهرتها وما فيها فيقال له: هذا مقعدك منها ويقال له: على اليقين كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله، وإذا كان الرجل السوء أجلس في قبره فزعا فيقال له: ما كنت تقول؟ فيقول: لا أدري فيقال: ما هذا الرجل الذي كان فيكم؟ فيقول: سمعت الناس يقولون قولا فقلت كما قالوا فيفرج له فرجة من قبل الجنة فينظر إلى زهرتها وما فيها فيقال له: انظر إلى ما صرف الله عنك ثم يفرج له فرجة قبل النار فينظر إليها يحطم بعضها بعضا ويقال: هذا مقعدك منها على الشك كنت وعليه مت وعليه تبعث إن شاء الله ثم يعذب"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دجال کے فتنے کا حال یہ ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو اس سے نہ ڈرایا ہو، لیکن میں تمہیں ایک ایسی بات بتا کر اس سے ڈراتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی، وہ یہ کہ دجال کانا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان 'کافر' لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا۔ اور جہاں تک عذابِ قبر (قبر کی آزمائش) کا تعلق ہے، تو میری ہی وجہ سے تمہاری آزمائش ہوگی اور میرے ہی بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا۔ پس جب نیک آدمی کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو وہ بغیر کسی خوف کے بیٹھتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ کون شخص ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، وہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے: دیکھو، اللہ نے تمہیں کس چیز سے بچا لیا۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی رونق اور ان نعمتوں کو دیکھتا ہے جو اس میں ہیں، پھر اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے۔ اور اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے: تم اسی کامل یقین پر قائم رہے، اسی پر تمہیں موت آئی، اور ان شاء اللہ اسی پر تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ اور جب برے شخص کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو وہ گھبرایا ہوا ہوتا ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے: تم کیا کہا کرتے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم۔ پھر پوچھا جاتا ہے: یہ کون شخص ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ تو وہ کہتا ہے: میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی رونق اور نعمتوں کو دیکھتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: دیکھو، اللہ نے تم سے کس چیز کو پھیر دیا۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا ہے، اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے۔ تم اسی شک پر رہے، اسی پر تمہیں موت آئی، اور ان شاء اللہ اسی شک پر تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، پھر اسے عذاب دیا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1361
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن عائشة. المسند ٦/١٤٠.