حدیث نمبر: 1362
"أما قطع السبيل فإنه لا يأتي عليك إلا قليل حتى يخرج العير إلى مكة بغير خفير; وأما العيلة فإن الساعة لا تقوم حتى يطوف أحدكم بصدقته ولا يجد من يقبلها منه; ثم ليقفن أحدكم بين يدي الله ليس بينه وبينه حجاب ولا ترجمان يترجم له ثم ليقولن له: ألم أوتك مالا؟ فليقولن: بلى، ثم ليقولن: ألم أرسل إليك رسولا؟ فليقولن: بلى فينظر عن يمينه فلا يرى إلا النار ثم ينظر عن شماله فلا يرى إلا النار فليتقين أحدكم
النار ولوبشق تمرة فإن لم يجد فبكلمة طيبة"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہاں تک راستوں کے کٹنے (بدامنی) کا تعلق ہے، تو تم پر تھوڑا ہی وقت گزرے گا کہ تجارتی قافلے بغیر کسی محافظ کے مکہ کی طرف جایا کریں گے۔ اور جہاں تک فقر و محتاجی کا تعلق ہے، تو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم میں سے کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر نہ گھومے اور اسے کوئی ایسا شخص نہ ملے جو اس سے وہ صدقہ قبول کرے۔ پھر تم میں سے ہر شخص اللہ کے سامنے ضرور کھڑا ہوگا، اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان جو اس کی بات کا ترجمہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ پھر فرمائے گا: کیا میں نے تیری طرف رسول نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ پھر وہ شخص اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا، پھر وہ اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پس تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے، خواہ وہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو، اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو ایک اچھی اور میٹھی بات ہی کے ذریعے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن عدي بن حاتم. خ – الزكاة.