کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«أشد الناس عذابا يوم القيامة: المصورون يقال لهم: أحيوا ما خلقتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب (جانداروں کی) تصویریں بنانے والوں کو ہوگا، ان سے کہا جائے گا: جو تم نے پیدا کیا تھا اسے زندہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 999
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عمر. غاية المرام١٢١.
«أشد الناس عذابا يوم القيامة رجل قتل نبيا أو قتله نبي أو رجل يضل الناس بغير علم أو مصور يصور التماثيل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو، یا اسے کسی نبی نے قتل کیا ہو، یا وہ شخص جو بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کرتا ہو، یا وہ مصور جو (جانداروں کے) مجسمے بناتا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1000
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم] عن ابن مسعود١. الصحيحة ٢٨١: طب.
«أشد الناس يوم القيامة عذابا إمام جائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب ظالم حکمران کو ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1001
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ع طس حل] عن أبي سعيد. الروض ٩٦٥.
«أشد أمتي حياء: عثمان بن عفان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں سب سے زیادہ حیا والے عثمان بن عفان ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1002
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن ابن عمر. الصحيحة ١٢٢٤، ابن شاهين: ١٩.
«أشد أمتي لي حبا قوم يكونون بعدي يود أحدهم أنه فقد أهله وماله وأنه رآني»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے، ان میں سے ہر ایک کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش وہ اپنا اہل و عیال اور مال و دولت سب کچھ قربان کر دے اور مجھے ایک نظر دیکھ لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1003
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي ذر. الصحيحة ١٤١٨.
«أشعر كلمة تكلمت بها العرب كلمة لبيد: ألا كل شيء ما خلا الله باطل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عربوں کی کہی ہوئی سب سے بہترین شاعرانہ بات لبید کا یہ مصرع ہے: سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل (فنا ہونے والی) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1004
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن أبي هريرة.
«اشفع الأذان وأوتر الإقامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اذان کے کلمات جفت (دو دو بار) کہو اور اقامت کے کلمات طاق (ایک ایک بار) کہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1005
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط] عن أنس [الدارقطني في الأفراد] عن جابر. الصحيحة ١٢٧٦.
«اشفعوا تؤجروا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(جائز کاموں میں) سفارش کیا کرو، تمہیں ثواب ملے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1006
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن معاوية. الصحيحة ١٤٦٤: د، ن، الخرائطي.
«اشفعوا تؤجروا ويقضي الله على لسان نبيه ما شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سفارش کیا کرو تاکہ تمہیں ثواب ملے، اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر وہی فیصلہ جاری فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1007
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق ٣] عن أبي موسى. الصحيحة ١٤٤٦: حم، الخرائطي، خط.
«أشكر الناس لله أشكرهم للناس»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں اللہ کا سب سے زیادہ شکر ادا کرنے والا وہ ہے جو لوگوں کا سب سے زیادہ شکر گزار ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1008
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب هب الضياء] عن الأشعث بن قيس [طب هب] عن أسامة بن زيد [عد] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٤٥٨.
«أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله لا يلقى الله بهما عبد غير شاك فيهما إلا دخل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو بندہ بھی ان دونوں باتوں پر بغیر کسی شک و شبہ کے یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملاقات کرے گا، وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة.
«أشيدوا النكاح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نکاح کا اعلان (اور تشہیر) کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن السائب بن يزيد. الصحيحة ١٤٦٣.
«أشيدوا النكاح وأعلنوه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نکاح کا اعلان کرو اور اسے مشتہر کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1011
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [الحسن بن سفيان طب] عن هبار بن الأسود. الصحيحة ١٤٦٣: ابن مردويه.
«أصابع اليدين والرجلين سواء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں (کی دیت یا قصاص) برابر ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عباس. الإرواء ٢٢٧١.
«أصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد: ألا كل شيء ما خلا الله باطل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی شاعر کی کہی ہوئی سب سے سچی بات لبید کا یہ مصرع ہے: سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل (فانی) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1013
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم.
«اصرف بصرك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنی نگاہ پھیر لیا کرو (یعنی اچانک کسی غیر محرم پر نظر پڑنے پر نگاہ ہٹا لو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1014
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ٣] عن جرير. غاية المرام ١٨٨.
«اصنعوا لآل جعفر طعاما فإنه قد أتاهم ما يشغلهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسا غم آ پڑی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1015
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت هـ ك] عن عبد الله بن جعفر. الجنائز.
«اصنعوا ما بدا لكم فما قضى الله تعالى فهو كائن وليس من كل الماء يكون الولد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جو تمہارا دل چاہے کرو (یعنی عزل کے حوالے سے)، مگر جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور ویسے بھی ہر پانی (نطفے) سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1016
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٤٦٢: م.
«أضل الله عن الجمعة من كان قبلنا فكان لليهود يوم السبت وكان للنصارى يوم الأحد فجاء الله بنا فهدانا الله ليوم الجمعة فجعل الجمعة والسبت والأحد، وكذلك هم تبع لنا يوم القيامة نحن الآخرون من أهل الدنيا والأولون يوم القيامة المقضي لهم قبل الخلائق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں کو جمعہ کے دن سے غافل کر دیا، چنانچہ یہودیوں کے لیے ہفتہ کا دن ہوا اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا اور ہمیں جمعہ کے دن کی ہدایت نصیب فرمائی، یوں اس نے جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی ترتیب بنا دی۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ ہمارے پیچھے ہوں گے، ہم دنیا والوں میں سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، جن کا فیصلہ تمام مخلوق سے پہلے کر دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1017
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن هـ] عن حذيفة وأبي هريرة. التعليق على بداية السول١٧ وصحيح الترغيب ٧٠١.
«اضمنوا لي ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة اصدقوا إذا حدثتم وأوفوا إذا وعدتم وأدوا إذا ائتمنتم واحفظوا فروجكم وغضوا أبصاركم وكفوا أيديكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم مجھے اپنی طرف سے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو اسے پورا کرو، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو (ظلم و زیادتی سے) روکے رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1018
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم حب ك هب] عن عبادة بن الصامت. الصحيحة ١٤٧٠.
"أطب الكلام وأفش السلام وصل الأرحام وصل
بالليل والناس نيام ثم ادخل الجنة بسلام"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اچھی اور پاکیزہ گفتگو کیا کرو، سلام کو رواج دو، صلہ رحمی کرو، اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز (تہجد) پڑھا کرو، پھر تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1019
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب حل] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٦٩ و١٤٦٦، الضعيفة ١٣٢٤، الإرواء ٧٧٧.
«أطت السماء ويحق لها أن تئط، والذي نفس محمد بيده ما فيها موضع شبر إلا وفيه جبهة ملك ساجد يسبح لله بحمده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آسمان چرچرا رہا ہے (یعنی بوجھ سے آواز دے رہا ہے) اور اس کا چرچرانا حق بجانب ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! آسمان میں ایک بالشت کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کسی فرشتے کی پیشانی سجدے میں نہ ہو اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1020
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن مردويه] عن أنس. الصحيحة ٨٥٢.
«أطعموا الطعام وأطيبوا الكلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(لوگوں کو) کھانا کھلایا کرو اور پاکیزہ گفتگو کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1021
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن الحسن بن علي. الصحيحة ١٤٦٥: طب – الحسن بن علي.
«أطعموا الطعام وأفشوا السلام تورثوا الجنان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(غریبوں اور مسکینوں کو) کھانا کھلاؤ اور سلام کو رواج دو، تم جنتوں کے وارث بنا دیے جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1022
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عبد الله بن الحارث. الصحيحة ١٤٦٦، الضعيفة ١٣٢٤، الإرواء ٧٧٧: الضياء.
«أطفال المؤمنين في جبل في الجنة يكفلهم إبراهيم وسارة حتى يردهم إلى آبائهم يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں کے (نابالغ فوت شدہ) بچے جنت کے ایک پہاڑ پر ہیں، ابراہیم اور سارہ (علیہما السلام) ان کی کفالت کر رہے ہیں یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن انہیں ان کے والدین کے حوالے کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1023
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك هق في البعث] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٦٧.
«أطفال المشركين خدم أهل الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مشرکین کے (نابالغ فوت شدہ) بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1024
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن أنس [ص] عن سلمان موقوفا. الصحيحة ١٤٦٨: أبو يعلى، البزار، أبو نعيم - أنس. الزار، طب، طس، سمرة.
«أطفئوا المصابيح إذا رقدتم وأغلقوا الأبواب وأوكئوا الأسقية وخمروا الطعام والشراب ولو بعود تعرضه عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو، دروازے بند کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، اور کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دیا کرو خواہ اس کے اوپر لکڑی کا کوئی تنکا ہی کیوں نہ رکھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1025
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن جابر.
«اطلبوا استجابة الدعاء عند التقاء الجيوش وإقامة الصلاة ونزول الغيث»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دعا کی قبولیت کو لشکروں کے ٹکرانے (جہاد کے وقت)، نماز کھڑی ہونے اور بارش برسنے کے وقت تلاش کیا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1026
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الشافعي هق في المعرفة] عن مكحول مرسلا. الصحيحة ١٤٦٩.
«اطلبوا ليلة القدر في العشر الأواخر فإن غلبتم فلا تغلبوا في السبع البواقي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو (رمضان کے) آخری عشرے میں تلاش کرو، پھر اگر تم (بیماری یا نیند کے باعث) کمزور پڑ جاؤ تو باقی بچ جانے والی سات راتوں میں ہرگز سستی نہ کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عم] عن علي. الصحيحة ١٤٧١.
«اطلبوا ليلة القدر في العشر الأواخر في تسع يبقين وسبع يبقين وخمس يبقين وثلاث يبقين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، جب نو راتیں باقی رہ جائیں، جب سات راتیں باقی رہ جائیں، جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں، اور جب تین راتیں باقی رہ جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1028
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٤٧١.
«اطلبوا ليلة القدر في العشر الأواخر من رمضان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ١٢٥٠: حم، م، د.
«اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء واطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثر رہنے والے فقراء تھے، اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثر رہنے والی عورتیں تھیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1030
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت] عن ابن عباس [خ ت] عن عمران بن حصين. الضعيفة ٢٨٠٠: حم –عمران بن حصين. الضعيفة ٢٨٠٠: حم –عمران وأبي هريرة.
«أطول الناس أعناقا يوم القيامة المؤذنون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن لوگوں میں سب سے لمبی گردن والے موذن ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1031
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أنس. مختصر مسلم ١٩٧ - معاوية.
«أطيب الطيب المسك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین خوشبو کستوری ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1032
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ن] عن أبي سعيد.
«أطيب الكسب عمل الرجل بيده وكل بيع مبرور»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے پاکیزہ کمائی انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر وہ تجارت ہے جس میں دھوکہ دہی اور گناہ نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1033
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك] عن رافع بن خديج [طب] عن ابن عمر. تخريج الترغيب ٣/٣.
«أطيعوني ما كنت بين أظهركم وعليكم بكتاب الله أحلوا حلاله وحرموا حرامه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں میری اطاعت کرو، اور تم پر اللہ کی کتاب کو لازم پکڑنا واجب ہے، اس کے حلال کردہ کو حلال جانو اور اس کے حرام کردہ کو حرام سمجھو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1034
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عوف بن مالك. الصحيحة ١٤٧٢: تمام. حم –ابن عمرو. الديلمي، أنجى.
«أظلتكم فتن كقطع الليل المظلم أنجى الناس منها صاحب شاهقة يأكل من رسل غنمه أو رجل من وراء الدروب أخذ بعنان فرسه يأكل من ظل سيفه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم پر تاریک رات کے ٹکڑوں جیسی فتنوں نے سایہ کر لیا ہے، ان میں لوگوں میں سب سے زیادہ محفوظ وہ شخص ہوگا جو پہاڑ کی چوٹی پر ہو اور اپنی بکریوں کے دودھ پر گزارہ کرتا ہو، یا وہ شخص جو سرحدوں پر اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہو اور اپنی تلوار کے سائے سے رزق حاصل کرتا ہو (یعنی جہاد میں مشغول ہو)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1035
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٧٨.
«أظنكم قد سمعتم أن أبا عبيدة قدم بشيء من البحرين فأبشروا وأملوا ما يسركم فوالله ما الفقر أخشى عليكم ولكن أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من كان قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها فتهلككم كما أهلكتهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ بحرین سے کچھ مال لے کر آئے ہیں، پس تم خوش ہو جاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر و فاقہ کا ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے تم پر اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی، پھر تم بھی اس کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے جیسے انہوں نے کی تھی، اور یہ (دنیا کی حرص) تمہیں اسی طرح ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے انہیں ہلاک کر دیا تھا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1036
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت هـ] عن عمرو بن عوف الأنصاري. الإرواء ١٢٤٩.
«اعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك واحسب نفسك مع الموتى واتق دعوة المظلوم فإنها مستجابة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو (یہ یقین رکھو کہ) وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے، اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1037
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حل] عن زيد بن أرقم. الصحيحة ١٤٧٤.
«اعبد الله كأنك تراه وعد نفسك في الموتى وإياك ودعوات المظلوم فإنهن مجابات وعليك بصلاة الغداة وصلاة العشاء فأشهدهما فلو تعلمون ما فيهما لأتيتموهما ولو حبوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اور مظلوم کی بددعاؤں سے بچو کیونکہ وہ یقیناً قبول کی جاتی ہیں، اور تم پر فجر اور عشاء کی نماز لازم ہے پس ان دونوں میں حاضر ہوا کرو، کیونکہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ ان دونوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو تم ان میں ضرور آؤ خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل چل کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1038
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. الصحيحة ١٤٧٤: ابن عساكر.